حملوں کی تصاویر پر پابندی اور فوج کی منظوری سے رپورٹنگ: اسرائیل، ایران اور خلیجی ریاستیں میڈیا اور انٹرنیٹ کو کیسے کنٹرول کر رہی ہیں؟

،تصویر کا ذریعہJaap Arriens/NurPhoto via Getty Images
- مصنف, مانیٹرنگ سیکشن
- عہدہ, بی بی سی
- مطالعے کا وقت: 6 منٹ
ایران کے ساتھ جنگ سے براہ راست متاثر ہونے والے ممالک نے فوجی کارروائیوں اور دُشمن کے حملوں سے متعلق رپورٹنگ کو محدود کرنے کے لیے متعدد اقدامات نافذ کیے ہیں۔
ایران میں جہاں میڈیا کو پہلے ہی سختی سے کنٹرول کیا گیا تھا، اب انٹرنیٹ تقریباً مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ جنگ سے متعلق رپورٹنگ بھی محدود ہے اور حکومت خود ایسا بیانیہ تشکیل دے رہی ہے جس سے یہ تاثر ملے کہ وہ کامیاب آپریشن کر رہی ہے۔
اسرائیل میں جو چیز سب سے زیادہ حیران کن ہے، وہ ان مقامات کی تصاویر یا ویڈیوز کی کمی ہے، جہاں ایران اور حزب اللہ کے میزائل اور ڈرون گر رہے ہیں۔
کئی خلیجی ریاستوں نے بھی خبردار کیا ہے کہ ’قومی مفادات‘ کو نقصان پہنچانے والی معلومات شائع کرنے کے قانونی نتائج ہو سکتے ہیں اور اس سلسلے میں گرفتاریوں کی بھی اطلاعات ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایران
جب ایران کے ساتھ اسرائیل اور امریکہ کی جنگ شروع ہوئی تو حملے کی ابتدائی اطلاعات آتے ہی انٹرنیٹ تک رسائی تقریباً بند کر دی گئی۔
تمام ملکی میڈیا اور سرکاری ویب سائٹس تک رسائی بھی بند کر دی گئی، جنوری میں مظاہرین کو دبانے کے بعد تقریباً تین ہفتوں تک انٹرنیٹ بند رہا تھا۔
ایرانی حکومت عام طور پر انٹرنیٹ کی بندش کو سکیورٹی برقرار رکھنے کے لیے ایک ہنگامی اقدام کے طور پر بیان کرتی ہے۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ اس کے وسیع تر مقاصد ہیں۔
ان میں سائبر حملوں کو روکنے، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی حفاظت، بیانے کو کنٹرول کرنے اور بدامنی کو روکنے جیسے اقدامات شامل ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایرانی حکام بڑی حد تک انٹرنیٹ کو ’میدان جنگ‘ قرار دیتے ہیں۔ وہ بیرون ملک ایرانیوں، غیر ملکی حکومتوں اور اپوزیشن گروپوں پر حکومت کو کمزور کرنے کے لیے مربوط آن لائن مہم چلانے کا الزام لگاتے ہیں۔
بہت سے ایرانیوں کے لیے انٹرنیٹ غیر ملکی میڈیا یا آزادانہ تجزیے تک رسائی کے چند طریقوں میں سے ایک رہا ہے۔ انٹرنیٹ تک رسائی میں رکاوٹ کا مقصد ایسے مواد کی اشاعت کو روکنا ہے۔ خاص طور پر ایسی تصاویر یا تبصرے جو سرکاری بیانیے سے متصادم ہوں۔
ایرانی حکومت نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ حملوں کی تصاویر یا ویڈیوز بھی غیر ملکی میڈیا کو نہ بھیجیں ورنہ اُنھیں قانونی چارہ جوئی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
صحافیوں کی تنظیم ’رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز‘ نے مقامی صحافیوں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد صحافیوں پر پابندیاں مزید بڑھ گئی ہیں۔
تنظیم کے مطابق آزاد صحافیوں کو حملوں کے مقام تک رسائی نہیں دی جا رہی اور انٹرنیٹ تک رسائی عام طور پر حکومت کے قریب سمجھے جانے والے صحافیوں تک محدود ہے۔
اسرائیل
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
اسرائیل جنگ کے دوران معلومات کو کنٹرول کرنے کے لیے کئی تہوں والا نظام استعمال کرتا ہے، جس میں فوجی سنسر شپ، قانونی پابندیاں جبکہ ملکی اور غیر ملکی صحافیوں تک رسائی کو محدود کرنا شامل ہے۔
تمام فیلڈ رپورٹرز پر لازم ہے کہ قومی سلامتی سے متعلق اپنی سٹوریز نظرِِ ثانی کے لیے فوج کو بھیجیں۔ ملکی میڈیا میں فوجی ہلاکتوں کی رپورٹس میں بھی تاخیر ہو سکتی ہے۔
جو چیز سب سے زیادہ قابلِ توجہ ہے وہ ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کے مقامات کی تصاویر یا ویڈیوز کی کمی ہے۔ حساس فوجی تنصیبات کی تصاویر یا ویڈیوز کو نشر کرنا بھی ممنوع ہے۔
گذشتہ برس اسرائیل نے غیر ملکی صحافیوں پر بڑے پیمانے نئے ضوابط نافذ کیے تھے، جن کے تحت بین الاقوامی رپورٹرز کو جنگی علاقوں سے رپورٹنگ کرنے کے لیے پہلے سے فوج سے تحریری منظوری لینا پڑتی تھی۔
جون 2025 میں اسرائیل اور ایران کے مابین 12 روزہ جنگ کے دوران فلسطینی، اسرائیلی اور غیر ملکی صحافیوں نے پولیس اور یہاں تک کہ شہریوں کی جانب سے میڈیا کے کام میں مداخلت کی شکایت کی۔
غزہ جیسے جنگی علاقے میں غیر ملکی صحافیوں کو آزادانہ طور پر کام کرنے کی اجازت نہ دینے پر اسرائیلی حکام کو بارہا تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ فوج بھی صحافیوں کو جو دورے کرواتی ہے، اس میں زمینی صورتحال کا ٹھیک طریقے سے ادراک بھی نہیں ہو پاتا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
خلیج فارس کے ممالک
خلیجی ریاستیں، ایرانی ڈرونز اور میزائل حملوں سے نبرد آزما ہیں۔ ان ریاستوں میں میڈیا رپورٹنگ اور سوشل میڈیا پوسٹنگ پر سخت ضابطے ہیں جس میں ایرانی حملوں کا نشانہ بننے والی جگہوں کی تصاویر یا ویڈیوز پوسٹ کرنے پر مکمل پابندی بھی شامل ہے۔
متحدہ عرب امارات کے اٹارنی جنرل حماد سیف الشمسی نے چھ مارچ کو متحدہ عرب امارات پر ایرانی حملوں سے متعلق تصاویر یا ویڈیوز شائع کرنے کے خلاف خبردار کیا تھا۔
اُنھوں نے مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تصاویر یا ایسا مواد جو عوام میں خوف و ہراس پھیلا سکتا ہے کو پوسٹ کرنے سے منع کیا تھا۔
کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کے مطابق متحدہ عرب امارات نے ایکس سوشل نیٹ ورک پر متعدد اکاؤنٹس تک رسائی کو بھی بلاک کر دیا ہے جن میں سعودی ملکیت والا العربیہ نیٹ ورک بھی شامل ہے۔
قطری وزارتِ داخلہ نے نو مارچ کو اعلان کیا کہ اس نے مختلف قومیتوں کے 300 سے زائد افراد کو ’گمراہ کن معلومات فلمانے، شائع کرنے اور پھیلانے‘ کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔
وزارت نے سوشل میڈیا پر جنگ سے متعلق ’افواہوں‘ کو فلمانے یا پھیلانے کے خلاف بھی خبردار کیا ہے۔
کویت میں حکام نے ’جعلی خبریں پھِیلانے‘ کے الزام میں تین افراد کو گرفتار کیا ہے۔ یہ الزام بظاہر ایک ویڈیو کے اشتراک سے متعلق ہے جس میں مبینہ طور پر ملک کی ’تضحیک‘ کی گئی ہے۔
کویت کی وزارتِ داخلہ نے متنبہ کیا ہے کہ ’ریاست کے مفادات کو نقصان پہنچانے والا‘ مواد شائع کرنے کے قانونی نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
بحرینی حکام نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر ’اہم مراکز اور سہولیات‘ کی تصاویر شائع کرنا جسے تہران استعمال کر سکتا ہے کو ملک سے غداری تصور کیا جائے گا۔













