لائیو, جاپان اور آسٹریلیا کا آبنائے ہرمز کی سکیورٹی کے لیے اپنے جنگی بحری جہاز بھیجنے سے انکار، چین کا تمام فریقین سے فوجی کارروائیاں روکنے کا مطالبہ

آسٹریلیا کا کہنا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں اپنے بحری جنگی جہاز نہیں بھیجے گا جبکہ جاپانی وزیر دفاع نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ ایران کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر ہم میری ٹائم سکیورٹی آپریشن شروع کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ دوسری جانب چین نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ میں ملوث تمام فریقین سے فوجی کارروائیاں فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ ہے۔

خلاصہ

  • جاپان اور آسٹریلیا کا آبنائے ہرمز کی سکیورٹی کے لیے اپنے جہاز بھیجنے سے انکار
  • خامنہ ای بیٹے کے اقتدار میں آنے سے متعلق شکوک و شبہات رکھتے تھے: امریکی انٹیلی جنس رپورٹس میں دعویٰ
  • آیران کے ساتھ براہ راست بات چیت کے بعد دو بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت ملی: انڈین وزیرِ خارجہ جے شنکر
  • 'ڈرون سے متعلقہ واقعے' کے بعد فیول ٹینک میں آگ لگنے سے دبئی ایئر پورٹ پر پروازیں معطل
  • امریکہ کا آبنائے ہرمز کے تحفظ کے لیے چین سمیت 'سات ممالک' سے رابطہ، 'ہم منصبوں سے کہا ہے کہ اگر اُنھوں نے مدد نہ کی تو ہم یاد رکھیں گے'، صدر ٹرمپ

لائیو کوریج

  1. ایرانی وزیرِ خارجہ کا ’امریکہ اور صہیونی رجیم کی جارحیت‘ کے خلاف حمایت پر پاکستان کا شکریہ

    عباس عراقچی

    ،تصویر کا ذریعہLightRocket via Getty Images

    ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے امریکہ اور صہیونی رجیم کی جارحیت کے مقابلے میں حمایت پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا ہے۔

    عباس عراقچی کے ایکس اکاؤنٹ سے اردو زبان میں جاری ایک پیغام میں کہا گیا ہے کہ ’ان بابرکت، الٰہی اور روحانی دنوں اور گھڑیوں میں، میں حکومت اور عوامِ پاکستان کا تہہِ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انھوں نے امریکہ اور صہیونی رجیم کی جارحیت کے مقابلے میں عوام اور حکومتِ اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ اپنی یکجہتی اور حمایت کا بھرپور اظہار کیا۔‘

    عباس عراقچی

    ،تصویر کا ذریعہx/araghchi

  2. ٹرمپ کی شی جنپنگ کے ساتھ ملاقات ملتوی کرنے کی دھمکی کے بعد چین کا مشرقِ وسطیٰ میں فوجی کارروائیاں روکنے کا مطالبہ

    ٹرمپ شی

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اپنے چینی ہم منصب شی جنپنگ کے ساتھ سربراہی ملاقات ملتوی کرنے کی دھمکی کے بعد چین نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ میں ملوث تمام فریقین سے فوجی کارروائیاں فوری بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    اس سے قبل صدر ٹرمپ نے برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں دھمکی دی تھی کہ اگر بیجنگ آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے کے لیے مدد نہیں بھیجتا تو وہ صدر شی جن پنگ کے ساتھ سربراہی ملاقات ملتوی کر سکتے ہیں۔

    امریکی صدر کے بیان کے متعلق ایک سوال پر چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ سربراہوں کی سطح پر ہونے والی سفارت کاری چین امریکہ تعلقات میں ایک ناقابل تلافی سٹریٹجک رہنمائی کا کردار ادا کرتی ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ ’دونوں فریقین کے درمیان صدر ٹرمپ کے دورے کے حوالے سے رابطے برقرار ہیں۔‘

    ٹرمپ کی جانب سے آبنائے میں جنگی جہاز بھیجنے کے مطالبے کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں لن جیان کا کہنا تھا کہ حالیہ کشیدگی نے تجارتی راستوں کو متاثر کیا ہے اور اس سے علاقائی اور عالمی امن کو نقصان پہنچا ہے۔

    ترجمان کا کہنا ہے کہ ’چین تمام فریقوں سے فوری طور پر فوجی کارروائیاں بند کرنے کے اپنے مطالبے کا اعادہ کرتا ہے۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم کشیدگی کم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔‘

  3. رحیم یار خان: ریٹیلر شاپ کی چھت گرنے سے پانچ خواتین ہلاک، 30 زخمی

    پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر رحیم یار خان میں عمارت کی چھت گرنے سے پانچ خواتین ہلاک جبکہ 30 زخمی ہو گئی ہیں۔

    ریسکیو 1122 کے مطابق رحیم یار خان کے چک 125 پی میں یہ واقعہ پیر کو اُس وقت پیش آیا جب کئی خواتین بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت امدادی رقوم لینے کے لیے ایک ریٹیلر شاپ کی چھت موجود تھیں۔

    ریسکیو 1122، ایدھی اور دیگر امدادی اداروں کی ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا۔

    ترجمان ضلعی انتظامیہ کے مطابق زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں جبکہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔

    ریسکیو 1122 کے مطابق بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت قسط وصول کرنے کے لیے 200 سے زائد خواتین چھت پر موجود تھیں جو کمزور ہونے کی وجہ سے گر گئی۔

    زخمی خواتین کو شیخ زید ہسپتال منتقل کیا گیا ہے اور ہسپتال میں ایمرجنسی بھی نافذ کر دی گئی ہے۔

  4. سعودی وزارتِ دفاع کا 60 سے زائد ڈرونز روکنے کا دعویٰ

    سعودی وزارتِ دفاع کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ اتوار اور پیر کی درمیانی شب سعودی عرب نے اپنی سرزمین پر 60 سے زائد ڈرونز کو روکا ہے۔

    ایکس پر جاری کیے گئے بیان میں سعودی وزارت دفاع کا کہنا تھا کہ ان تمام ڈرونز کو ملک کے مشرق میں روکا گیا۔

    دوسری جانب حکام کا کہنا ہے کہ دبئی انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر لگنے والی آگ پر قابو پا لیا گیا ہے جبکہ ڈرون کے فیول ٹینک سے ٹکرانے کے بعد کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    ایران نے جنگ کے دوران متحدہ عرب امارات پر دو ہزار کے قریب میزائل اور ڈرون فائر کیے ہیں، جن میں سے زیادہ تر کو فضائی دفاعی نظام نے روکا ہے۔

  5. جاپان اور آسٹریلیا کا آبنائے ہرمز کی سکیورٹی کے لیے اپنے جہاز بھیجنے سے انکار

    دبئی

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    ،تصویر کا کیپشن11 مارچ 2026 کو دبئی کی بندرگاہ کے نزدیک کھڑے تجارتی جہازوں کی تصویر۔

    آسٹریلیا اور جاپان نے آبنائے ہرمز کی سکیورٹی کے لیے اپنے جنگی بحری جہاز بھیجنے سے انکار کر دیا ہے۔

    آسٹریلیا کی وزیر ٹرانسپورٹ کیتھرین کنگ نے پیر کو ایک بیان میں کہا کہ اُن کا ملک آبنائے ہرمز میں اپنے بحری جنگی جہاز نہیں بھیجے گا۔

    وزیر ٹرانسپورٹ نے نشریاتی ادارے اے بی سی کو بتایا کہ ’ہم آبنائے ہرمز میں جہاز نہیں بھیجیں گے۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ کتنا اہم ہے، لیکن یہ وہ چیز نہیں ہے جس کے لیے ہم سے کہا گیا ہے اور یہ ایسی چیز نہیں ہے جس میں ہم اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔‘

    جاپانی وزیر دفاع شنجیرو کوئزومی نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ ایران کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر ہم میری ٹائم سکیورٹی آپریشن شروع کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔

    خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو اور اتحادی ممالک سے کہا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کی سکیورٹی کے لیے اپنے بحری جنگی جہاز بھیجیں۔

  6. لائن آف کنٹرول: انڈین فوج کا اُوڑی سیکٹر میں ’پاکستانی‘ درانداز کی ہلاکت کا دعویٰ, ریاض مسرور، بی بی سی اُردو، سرینگر

    لائن آف کنٹرول اُوڑی سیکٹر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کے اُوڑی قصبے میں فوج نے مسلح درانداز کی ہلاکت اور بھاری مقدار میں اسلحہ برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

    انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں مقیم انڈین آرمی کی 15 ویں پندرہویں کور نےایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ بارہمولہ ضلع کے سرحدی قصبہ اُوڑی میں لائن آف کنٹرول کے قریب بوچھار علاقے میں ’آپریشن ڈِگی‘ کے تحت مسلح دراندازی کی ایک کوشش ناکام بنا دی گئی۔

    فوجی ترجمان کے مطابق گذشتہ ہفتے کشمیر پولیس کی طرف سے ممکنہ دراندازی سے متعلق ملی خفیہ اطلاعات کے بعد اس سرحدی پٹی میں’آپریشن ڈِگی‘ شروع کیا گیا جس کے دوران گذشتہ شب بوچھار کے پاس ایل او سی کے اُس پار سے آ رہے ایک مسلح ’درنداز‘ کی حرکت کو مانیٹر کیا گیا۔

    ترجمان کے مطابق فورسز نے اسے روکا تو اس نے فائرنگ کر دی اور جوابی کارروائی یہ ’پاکستانی درانداز‘ مارا گیا۔

    فوج کا دعویٰ ہے کہ مارے گئے عسکریت پسند کا تعلق پاکستان کے ساتھ ہے تاہم اس کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔ فوج کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں آپریشن ابھی جاری ہے۔

    کشمیر کو انڈیا اور پاکستان کے درمیان تقسیم کرنے والی 740 کلومیٹر طویل اور 35 کلومیٹر چوڑی عبوری سرحد یعنی لائن آف کنٹرول کا اُوڑی سیکٹر کئی دہائیوں سے اس سرحد کا حساس ترین سیکٹر رہا ہے۔

    فوج کا کہنا ہے کہ پاکستانی کنٹرول والے علاقوں سے انڈین علاقے میں دراندازی کے لیے مسلح عسکریت پسند اکثر اوقات اسی راستے کا استعمال کرتے ہیں۔

    گذشتہ برس 22 اپریل کو سیاحتی مقام پہلگام میں 24 انڈین سیاحوں کی مسلح حملے میں ہلاکت کے بعد انڈیا نے پاکستان میں مبینہ دہشت گرد ٹھکانوں کے خلاف آپریشن سندُور شروع کیا تو پاکستانی ردِعمل کے نتیجہ میں دونوں مملکوں کے درمیان ایک مختصر جنگ ہوئی۔

    اس کشیدگی کے بعد سرحدی علاقوں میں گشت مزید بڑھا دیا گیا تھا۔ دراندازی کے تازہ واقعہ سمیت اس سال فروری سے ابھی تک ایسے چار واقعات رونما ہوئے ہیں جن میں سے تین راجوری اور پونچھ اضلاع کے سیکٹروں میں ہوئے۔

  7. خامنہ ای بیٹے کے اقتدار میں آنے سے متعلق شکوک و شبہات رکھتے تھے: امریکی انٹیلی جنس رپورٹس میں دعویٰ

    مجتبی خامنہ ای

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    متعدد ذرائع نے بی بی سی کے امریکی میڈیا پارٹنر سی بی ایس نیوز کو بتایا ہے کہ امریکہ کی جانب سے نئی انٹیلی جنس سے پتہ چلتا ہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اپنے بیٹے کو اپنا جانشین بنانے سے متعلق شکوک و شبہات رکھتے تھے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خامنہ ای کو اپنے بیٹے مجتبی خامنہ ای کے اقتدار سنبھالنے کے بارے میں خدشات تھے کیونکہ انھیں لیڈر بننے کے لیے ’نااہل‘ سمجھا جاتا تھا۔

    ذرائع نے سی بی ایس کو یہ بھی بتایا کہ خامنہ ای جانتے تھے کہ ان کے بیٹے کی ’ذاتی زندگی میں مسائل‘ ہیں۔

    سی بی ایس نے اطلاع دی ہے کہ یہ معلومات پہلے ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے قریبی حلقوں کو پہنچا دی گئی تھیں۔

    56 سالہ آیت اللہ مجبتی خامنہ ای کو گذشتہ ہفتے کے آخر میں ایران کا سپریم لیڈر منتخب کیا گیا تھا۔

  8. ایران کے ساتھ براہ راست بات چیت کے بعد دو بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت ملی: انڈین وزیرِ خارجہ جے شنکر

    انڈین وزیرِ خارجہ جے شنکر

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    انڈیا کے وزیرِ خارجہ جے شنکر کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ براہ راست بات چیت کی وجہ سے انڈین بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے میں مدد ملی ہے۔

    فنانشل ٹائمز کو دیے گئے انٹرویو میں جے شنکر کا کہنا تھا کہ نئی دہلی اور تہران کے مابین ہونے والے مذاکرات میں سنیچر کو دو انڈین پرچم بردار گیس ٹینکرز کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی گئی۔

    اُن کا کہنا تھا کہ میں ایرانی حکام کے ساتھ بات چیت کے کچھ نتائج برآمد ہوئے ہیں۔

    واضح رہے کہ انڈیا گھروں میں استعمال ہونے والی مائع پیٹرولیم گیس کا لگ بھگ 60 فیصد درآمد کرتا ہے۔ ان میں 90 فیصد سپلائی خلیجی ممالک بشمول سعودی عرب اور محتدہ عرب امارات سے آتی ہے۔ اس ایندھن کی زیادہ ترسیل آبنائے ہرمز سے ہوتی ہے۔

    30 کروڑ سے زائد انڈین گھرانے کھانا پکانے کے لیے ایل پی جی سلنڈر استعمال کرتے ہیں۔

    سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں کئی انڈین شہروں میں گیس ڈیلروں کے باہر لمبی قطاریں دکھائی دیتی ہیں، کیونکہ سپلائی میں خلل کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ کچھ ریستوران بھی قلت کی وجہ سے عارضی طور پر بند ہو گئے ہیں۔

  9. ’ڈرون سے متعلقہ واقعے‘ کے بعد فیول ٹینک میں آگ لگنے سے دبئی ایئر پورٹ پر پروازیں معطل

    دبئی ایئر پورٹ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    دبئی میں حکام نے ’ڈرون سے متعلقہ واقعے‘ کے بعد مسافروں اور عملے کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے احتیاطی اقدام کے طور پر دبئی انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر پروازیں عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    حکام کے مطابق ’ڈرون سے متعلقہ واقعے‘ کے بعد لگنے والی آگ پر ردعمل دے رہے ہیں جس کی وجہ سے ایک فیول ٹینک متاثر ہوا ہے۔

    مسافروں کو مشورہ دیا جا رہا ہے کہ وہ پروازوں سے متعلق معلومات کے لیے ایئر لائنز سے رابطہ کریں۔

    دبئی ایئر پورٹ کا شمار دُنیا کے مصروف ترین ہوائی اڈوں میں ہوتا ہے۔ سنہ 2025 میں اس کے ذریعے نو کروڑ مسافروں نے سفر کیا تھا۔

  10. امریکہ کا آبنائے ہرمز کے تحفظ کے لیے چین سمیت ’سات ممالک‘ سے رابطہ، ’ہم منصبوں سے کہا ہے کہ اگر اُنھوں نے مدد نہ کی تو ہم یاد رکھیں گے‘، صدر ٹرمپ

    صدر ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی ’پولیسنگ‘ کے لیے ’تقریباً سات‘ ممالک سے بات چیت ہوئی ہے۔

    اتوار کو فلوریڈا سے واشنگٹن واپسی کی پرواز میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’میں نے چین سے پوچھا کہ کیا آپ آنا پسند کریں گے؟ اور ہم دیکھیں گے کہ وہ کیا فیصلہ کرتے ہیں۔‘

    صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ چین تیل کی ترسیل کے لیے آبنائے ہرمز پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔

    ٹرمپ نے یہ نہیں بتایا کہ چین کے علاوہ اُن کی کس ملک سے اس حوالے سے بات چیت ہوئی ہے۔ لیکن اُن کا کہنا تھا کہ نیٹو اور دوسرے ممالک جو اس علاقے کے ذریعے اپنی توانائی کی ضروریات حاصل کرتے ہیں اُنھیں بھی ’اپنی اپنی سرزمین‘ کا دفاع کرنے کی ضرورت ہے۔

    صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’میں نے اپنے ہم منصبوں سے کہا ہے کہ اگر وہ مدد نہیں کرتے تو ہم یاد رکھِیں گے۔‘ امریکی صدر کا مزید کہنا تھا کہ کچھ ممالک کے پاس بارودی سرنگیں رکھنے اور ایک خاص قسم کی کشتی ہے جو ہماری مدد کر سکتی ہے۔

    واضح رہے کہ سنیچر کو بھی صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا تھا کہ وہ امید کرتے ہیں چین، فرانس، جاپان، جنوبی کوریا اور برطانیہ آبنائے ہرمز میں جنگی بحری جہاز بھیجیں گے تاکہ ایران وہاں کسی قسم کا خطرہ نہ پیدا کر سکے۔

    اس پر مختلف ممالک کی جانب سے ردعمل بھی سامنے آیا تھا۔ برطانوی وزارتِ دفاع کے ترجمان نے کہا تھا کہ 'جیسا کہ ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ ہم خطے میں جہازرانی کا تحفظ یقینی بنانے کے لیے اپنے اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ متعدد آپشنز پر بات چیت کر رہے ہیں۔'

    واشنگٹن میں چینی سفارت خانے کے ترجمان نے سی این این کو بتایا تھا کہ چین فوری طور پر جنگ بندی کا مطالبہ کرتا ہے۔

    ترجمان نے یہ نہیں بتایا کہ بیجنگ ٹرمپ کی اپیل پر عمل کرے گا یا نہیں لیکن یہ ضرور کہا تھا کہ توانائی کی مسلسل اور مستحکم فراہمی کو یقینی بنانا تمام فریقوں کی ذمہ داری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چین متعلقہ فریقوں کے ساتھ رابطوں کا سلسلہ جاری رکھے گا۔

    ٹرمپ نے اپنے اس دعوے کو دہرایا کہ ایران بے چینی کے ساتھ معاہدہ چاہتا ہے، سفارتی بات چیت کے بارے میں صدر کا کہنا تھا کہ ’ہم ان سے بات کر رہے ہیں لیکن مجھے نہیں لگتا کہ وہ تیار ہیں، لیکن وہ کافی قریب آ رہے ہیں۔‘

    جب صدر ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا وہ ایران کے خلاف فتح کا اعلان کرنے کے لیے تیار ہیں؟ تو اس پر امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’ہم نے اُنھیں بہت زیادہ نقصان پہنچایا ہے اور اگر ہم نے انھیں ابھی چھوڑ دیا تو انھیں تعمیر نو کے لیے 10 سال لگیں گے۔‘

  11. مشرقِ وسطیٰ میں لڑائی کا سولہواں روز: اب تک ہم کیا جانتے ہیں؟, فرییا سکاٹ ٹرنر، بی بی سی

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • پیر کو مشرقِ وسطیٰ میں جاری لڑائی 16 ویں روز میں داخل ہو چکی ہے۔ امریکہ اور ایران کی جانب سے اس جنگ کے مستقبل کے حوالے سے متضاد بیانات کے بعد اس جنگ کے خاتمے کے لیے کسی بھی معاہدے کا امکان بہت دُور دکھائی دے رہا ہے۔
    • ایرانی وزیرِ خارجہ نے امریکی صدر کے ان دعوؤں کی تردید کی ہے کہ ایران معاہدہ چاہتا ہے۔ امریکہ میں بی بی سی کے پارٹنر ادارے سی بی ایس کو دیے گئے انٹرویو میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ’تہران نے کبھی بھی جنگ بندی کے لیے نہیں کہا اور نہ ہی ہم نے مذاکرات کی درخواست کی ہے۔‘
    • ایران میں شہریوں نے بی بی سی سے گفتگو میں اس خوف کا اظہار کیا ہے کہ ’اگر لڑائی جاری رہی تو ان کا ملک برباد ہو جائے گا۔‘ اسرائیل کی جانب سے ’مزید وسیع پیمانے‘ پر حملوں کے بعد دارالحکومت تہران میں ملبے کے ڈھیر نظر آ رہے ہیں۔ انٹرنیٹ کی بندش کے دوران مواصلائی رابطوں کی لائن بھی منہدم ہو گئی ہے۔
    • مشرقِ وسطیٰ کے مختلف ممالک میں بھی ایران کی جانب سے ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
    • امریکی صدر کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کے تحفظ کے لیے اُن کا چین سمیت سات ممالک سے رابطہ ہوا۔
    • اسرائیل میں ایمرجنسی سروسز کا کہنا ہے کہ تنازع کے بعد سے لے کر اب تک ہلاکتوں کی تعداد 15 ہو گئی ہے۔ کلسٹر بموں نے تل ابیب کے کچھ حصوں کا نقصان پہنچایا ہے۔ اسرائیلی فوج کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ ایران کے خلاف اپنے حملوں کا دائرہ کار مزید بڑھا رہی ہے اور اس کے پاس اب بھی ’ہزاروں اہداف‘ ہیں۔
    • لبنان میں وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ یہاں اب تک ہلاکتوں کی تعداد 850 ہو گئی ہے۔ اسرائیل نے جنوبی لبنان پر حملوں کے بعد دارالحکومت بیروت کے مختلف علاقوں میں انخلا کے احکامات جاری کیے ہیں۔
    • اسرائیلی وزیر خارجہ نے بھی مذاکرات کے کسی بھی امکان کو مسترد کیا ہے۔
    • برطانیہ کے وزیر اعظم سر کیئر سٹارمر نے آبنائے ہرمز کو کھولنے کے معاملے پر صدر ٹرمپ سے ٹیلی فون پر بات کی ہے۔ برطانوی وزیر اعظم کے مطابق وہ اس جنگ کے حوالے سے پیر کو کینیڈا کے وزیر اعظم سے ملاقات کریں گے۔
    • بین الاقوامی توانائی ایجنسی کا کہنا ہے کہ اس کی جانب سے جاری کردہ تیل کے ہنگامی ذخائر ایشیا اور اوشیانا میں فوری طور پر دستیاب ہوں گے۔ دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ حکومت آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت سے متعلق انفرادی سطح پر ممالک سے بات چیت کے لیے تیار ہے۔
  12. گذشتہ روز کی اہم خبریں

    • اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے خارجہ پالیسی کے مشیر نے لبنان اور اسرائیل کے درمیان امن مذاکرات کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک حزب اللہ کو غیر مسلح نہیں کیا جاتا، بات چیت ممکن نہیں۔
    • امریکہ نے ایران کے ان دعوؤں کو ’جھوٹا‘ قرار دیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ اسرائیل اور امریکہ خلیجی ممالک پر ڈرون حملوں میں ملوث ہیں۔
    • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر کیون ہیسٹ کا کہنا ہے کہ امریکہ اب تک ایران کے خلاف جنگ پر 12 ارب ڈالر خرچ کر چکا ہے۔
    • یران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ ایران کے جوہری مراکز ملبے تلے دبے ہیں اور ’فی الحال ہمارے پاس کوئی پروگرام نہیں اور نہ ہی ان کی دوبارہ بحالی کا کوئی منصوبہ ہے۔‘
    • اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ایران میں بمباری کے لیے اس کے پاس ابھی ’ہزاروں اہداف‘ موجود ہیں۔
  13. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔