لائیو, ایران کے حمایت یافتہ گروہ کا عراق میں امریکی طیارہ مار گرانے کا دعویٰ، جہاز گرنے کے بعد ریسکیو کا عمل جاری: سینٹ کام

ایران کے حمایت یافتہ ایک گروہ نے عراق میں امریکی فوجی طیارے پر حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اپنے بیان میں کہا ہے کہ امریکی فوجی طیارے کو ’عراق کی قومی خودمختاری اور فضائی حدود کے دفاع‘ میں نشانہ بنایا دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ کا دعویٰ ہے کہ اس واقعے میں ’دوستانہ یا دشمن کے فائر کا کوئی عمل دخل نہیں‘ ہے۔

خلاصہ

  • امریکی فوج نے تصدیق کی ہے کہ عراق میں اس کا ایک طیارہ گِر کر تباہ ہو گیا
  • اسرائیل کی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ ایرانی میزائل حملوں کے پیشِ نظر یروشلم کے مقدس مقامات پر عبادات 'عارضی طور پر معطل' کر دی گئی ہیں
  • امریکی صدر نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال 'بہت تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے' اور 'بہت اچھی ہے۔'
  • امریکہ کو ایران پر حملے کے لیے فضائی و علاقائی حدود نہیں استعمال کرنے دیں گے: اماراتی وزیر
  • وزیرِ اعظم شہباز شریف نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات میں مملکت سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی اور بھرپور حمایت کا اعادہ کیا ہے

لائیو کوریج

  1. امریکہ نے عارضی طور پر روسی تیل خریدنے کی اجازت دے دی

    تیل

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکہ نے عارضی طور پر دیگر ممالک کو پابندیوں کے تحت آنے والے روسی تیل اور پیٹرولیم مصنوعات خریدنے کی اجازت دے دی ہے تاہم شرط یہ ہے کہ وہ تیل پہلے سے جہازوں پرلدا ہوا ہو اور سمندر میں موجود ہو۔

    امریکی محکمۂ خزانہ کے سیکریٹری سکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ یہ ایک عارضی اقدام ہے جس کا مقصد جنگ کے دوران ’عالمی توانائی منڈیوں میں استحکام کو فروغ دینا‘ ہے۔

    صدر ٹرمپ کی یہ اجازت 11 اپریل تک برقرار رہے گی۔

    سکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ ’یہ محدود اور قلیل مدتی اقدام صرف اس تیل پر لاگو ہوتا ہے جو پہلے سے ترسیل کے مراحل میں ہے اور اس سے روسی حکومت کو کوئی نمایاں مالی فائدہ نہیں پہنچے گا۔‘

    یاد رہے کہ جمعرات کو تیل کی قیمتیں دوبارہ 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی تھیں اور سٹاک مارکیٹس میں کمی دیکھی گئی۔

    سکاٹ بیسنٹ نے مزید کہا کہ ’تیل کی قیمتوں میں یہ عارضی اضافہ ایک مختصر اور وقتی خلل ہے، جو طویل مدت میں ہمارے ملک اور معیشت کے لیے بڑے فائدے کا باعث بنے گا۔‘

    اس سے قبل بیسنٹ نے کہا تھا کہ جیسے ہی عسکری طور پر ممکن ہو امریکی حکومت آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو حفاظتی سکواڈ کے ساتھ لے جانا شروع کر دے گی۔

    سکائی نیوزسے بات چیت میں ان کا کہنا تھا کہ فوجی سکواڈ کی ممکنہ ضرورت ’ہماری منصوبہ بندی کا ہمیشہ حصہ رہی ہے۔ جیسے ہی محفوظ گزرگاہ کو یقینی بنانا ممکن ہوا، ہم یہ کام کر دیں گے۔‘

  2. اسرائیلی فوج کا بیروت میں ’حزب اللہ کے مراکز‘ پر متعدد حملوں کا دعویٰ

    اسرائیلی فوج نے بیروت میں حزب اللہ کے کمانڈ مراکز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے شہر بیروت میں حزب اللہ کے کمانڈ مراکز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ جنوبی لبنان میں ’حزب اللہ کے انفرسٹرکچر‘ کو نشانہ بناتے ہوئے متعدد حملے کیے ہیں۔

    ٹیلیگرام پر جاری ایک تازہ بیان میں آئی ڈی ایف نے کہا کہ ااسرائیل کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی اور عمل درآمد کے لیے استعمال ہونے والے متعدد کمانڈ سینٹرز کو نشانہ بنایا ہے۔

  3. عراق میں ایک فرانسیسی فوجی ہلاک اور متعدد زخمی: فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کی تصدیق

    فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے عراق کے شہر اربیل میں ایک فرانسیسی فوجی مارے جانے کی تصدیق کی ہے۔

    فرانسیسی صدر میکرون نےسوشل نیٹ ورک ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’مسلح افواج کا یہ رکن ایک حملے میں مارا گیا ہے جبکہ کئی دیگر فوجی زخمی بھی ہوئے۔‘

    کچھ دیر قبل فرانسیسی فوج نے اعلان کیا تھا کہ تربیتی کارروائی کے دوران اس کے متعدد فوجیوں کو ڈرون حملے میں نشانہ بنایا گیا ہے۔

    ایمانوئل میکرون نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ’میں ان کے خاندان اور ان کے ساتھیوں کے لیے پوری قوم کی جانب سے محبت اور یکجہتی کا اظہار کرنا چاہتا ہوں۔ ہمارے کئی فوجی زخمی ہوئے ہیں۔ فرانس ان کے ساتھ اور ان کے اہلِ خانہ کے ساتھ کھڑا ہے۔‘

    ایمانوئل میکرون نے خطے میں شدت پسندی کے خلاف لڑنے والی فرانسیسی فورسز پر ہونے والے حملوں کو ناقابلِ قبول قرار دیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ عراق میں ان کی موجودگی دہشت گردی کے خلاف جنگ کے سخت فریم ورک کا حصہ ہے۔ ایران میں جنگ ایسے حملوں کا جواز نہیں بن سکتی۔‘

    ایران کے ساتھ امریکہ اسرائیل جنگ کے آغاز کے بعد مشرق وسطیٰ میں مارا جانے والا یہ پہلا فرانسیسی فوجی ہے۔

  4. ایران کے حمایت یافتہ عسکریت پسند گروہ کا عراق میں امریکی طیارہ مار گرانے کا دعویٰ

    امریکی فوجی جہاز

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ایران کے حمایت یافتہ ایک عسکریت پسند گروہ نے عراق میں امریکی فوجی طیارے پر حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق عراق میں موجود ایک عسکریت پسند گروہ(جسے ایران کی حمایت حاصل ہے) نے امریکی فوجی ری فیولنگ طیارے پر حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ اس نے امریکی فوجی طیارے کو ’عراق کی قومی خودمختاری اور فضائی حدود کے دفاع‘ میں نشانہ بنایا۔

    یاد رہے کہ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے مغربی عراق میں امریکی فوج کے ایک KC-135 طیارے کے تباہ ہونے کی تصدیق کی تھی۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ فوج کا ایک کے سی 135 ایندھن بردار جہاز دو طیاروں کے درمیان پیش آنے والے ایک واقعے کے بعد گِر کر تباہ ہو گیا ہے۔

    تاہم سینٹرل کمانڈ کا کہنا تھا کہ اس واقعے میں ’دوستانہ یا دشمن کے فائر کا کوئی عمل دخل نہیں‘ ہے۔

    سینٹ کام کی جانب سے طیارے کے حادثے کی تصدیق کے چند منٹ بعد ہی ایران کے اندر موجود خبر رساں اداروں نے بھی دعویٰ کیا کہ طیارے کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق اس واقعے میں شامل دوسرا طیارہ بحفاظت لینڈ کر گیا ہے۔

  5. امریکہ نے ایران میں 6,000 اہداف کو نشانہ بنایا ہے: سینٹکام کی رپورٹ

    ایران میں حملے

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے جاری کیے گئے نئے اعداد و شمار کے مطابق ایران کے خلاف جاری آپریشن ایپک فیوری کے دوران امریکہ نے مجموعی طور پر 6,000 اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔

    سینٹکام کے مطابق ان میں تقریباً 60 بحری جہاز اور 30 بارودی سرنگیں بچھانے والی کشتیوں کو نقصان پہنچایا گیا یا تباہ کر دیا گیا۔

    دیگر اہداف میں ایران کے کمانڈ سینٹرز، اسلحہ سازی کے مراکز، بیلسٹک میزائل سائٹس، آبدوزیں اور فضائی دفاعی نظام شامل تھے۔

    دوسری جانب امریکی میڈیا نے بعض فوجی تحقیق کاروں کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا ہے کہ امریکی۔اسرائیلی مشترکہ کارروائی کے آغاز میں فضائی حملوں کے دوران ایران میں ایک سکول کو غیر ارادی طور پر نشانہ بنایا گیا تاہم ابھی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچا گیا۔

  6. نریندر مودی کی ایرانی صدر سے بات چیت میں مکالمے اور سفارت کاری پر زور

    نریندر مودی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ انھوں نے علاقائی کشیدگی کے پیشِ نظر ایرانی صدر سے بات کی ہے جس میں انھوں نے مکالمے اور سفارت کاری پر زور دیا۔

    سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر کی گئی ایک پوسٹ میں انڈین وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ’ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کے ساتھ خطے کیسنگین صورتحال پر گفتگو کی۔ کشیدگی میں اضافے، شہری جانوں کے ضیاع اور شہری انفراسٹرکچر کو پہنچنے والے نقصان پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’انڈین شہریوں کی حفاظت اور سلامتی، ساتھ ہی اشیا اور توانائی کی بلا رکاوٹ ترسیل کو یقینی بنانا، انڈیا کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’انڈیا نے امن و استحکام کے عزم کو دہرایا۔‘

  7. گذشتہ روز کی اہم خبروں کا خلاصہ:

    • جنیوا میں اقوامِ متحدہ کے لیے ایران کے سفیر نے بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ہے کہ ملک کے نئے رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای محفوظ ہیں اور اس وقت ملک کا انتظام چلا رہے ہیں۔
    • متحدہ عرب امارات کی وزیرِ مملکت لانا نسیبہ نے خطے کے ممالک پر ایران کے ’ گھناؤنے، غیرقانونی اور بلا اشتعال حملوں‘ کی مذمت کی ہے۔ انھوں نے کہا متحدہ عرب امارات کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے، تاہم امریکہ کو ایران پر حملہ کرنے کے لیے متحدہ عرب امارات کی فضائی حدود یا علاقے کا استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
    • پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے جدہ میں سعودی عرب کے ولی عہد سے ملاقات کی ہے۔ سرکاری بیان کے مطابق شہباز شریف نے محمد بن سلمان کو یقین دلایا کہ پاکستان ہمیشہ سعودی عرب کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا رہے گا اور خطے میں امن کے مشترکہ حصول کے لیے ہر ممکن کوشش جاری رکھے گا۔
    • اسرائیل کی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ ایرانی میزائل حملوں کے پیشِ نظر یروشلم کے مقدس مقامات پر عبادات ’عارضی طور پر معطل‘ کر دی گئی ہیں۔
    • امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ فوج کا ایک کے سی 135 ایندھن بردار جہاز دو طیاروں کے درمیان پیش آنے والے ایک واقعے کے بعد گِر کر تباہ ہو گیا ہے۔ تاہم سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ اس واقعے میں ’دوستانہ یا دشمن کے فائر کا کوئی عمل دخل نہیں‘ ہے۔
    • ایرانی نائب وزیرِ خارجہ ماجد تخت روانچی نے ایران کی طرف سے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے کی تردید کی ہے۔ اس سے قبل امریکہ نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے کچھ ایرانی کشتیوں کو نشانہ بنایا ہے جو اس مقصد کے لیے وہاں موجود تھیں۔