امریکہ نے عارضی طور پر روسی تیل خریدنے کی اجازت دے دی

،تصویر کا ذریعہReuters
امریکہ نے عارضی طور پر دیگر ممالک کو پابندیوں کے تحت آنے والے روسی تیل اور پیٹرولیم مصنوعات خریدنے کی اجازت دے دی ہے تاہم شرط یہ ہے کہ وہ تیل پہلے سے جہازوں پرلدا ہوا ہو اور سمندر میں موجود ہو۔
امریکی محکمۂ خزانہ کے سیکریٹری سکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ یہ ایک عارضی اقدام ہے جس کا مقصد جنگ کے دوران ’عالمی توانائی منڈیوں میں استحکام کو فروغ دینا‘ ہے۔
صدر ٹرمپ کی یہ اجازت 11 اپریل تک برقرار رہے گی۔
سکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ ’یہ محدود اور قلیل مدتی اقدام صرف اس تیل پر لاگو ہوتا ہے جو پہلے سے ترسیل کے مراحل میں ہے اور اس سے روسی حکومت کو کوئی نمایاں مالی فائدہ نہیں پہنچے گا۔‘
یاد رہے کہ جمعرات کو تیل کی قیمتیں دوبارہ 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی تھیں اور سٹاک مارکیٹس میں کمی دیکھی گئی۔
سکاٹ بیسنٹ نے مزید کہا کہ ’تیل کی قیمتوں میں یہ عارضی اضافہ ایک مختصر اور وقتی خلل ہے، جو طویل مدت میں ہمارے ملک اور معیشت کے لیے بڑے فائدے کا باعث بنے گا۔‘
اس سے قبل بیسنٹ نے کہا تھا کہ جیسے ہی عسکری طور پر ممکن ہو امریکی حکومت آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو حفاظتی سکواڈ کے ساتھ لے جانا شروع کر دے گی۔
سکائی نیوزسے بات چیت میں ان کا کہنا تھا کہ فوجی سکواڈ کی ممکنہ ضرورت ’ہماری منصوبہ بندی کا ہمیشہ حصہ رہی ہے۔ جیسے ہی محفوظ گزرگاہ کو یقینی بنانا ممکن ہوا، ہم یہ کام کر دیں گے۔‘





