آئل ٹینکر کے ہمراہ ’طغرل کلاس‘ جنگی جہاز: پاکستان بحریہ کے ’آپریشن محافظ البحر‘ کا مقصد کیا ہے؟

پاکستانی بحریہ، آپریشن محافظ البحر

،تصویر کا ذریعہPAKISTAN NAVY

    • مصنف, عمیر سلیمی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • مطالعے کا وقت: 7 منٹ

ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش کے دوران پاکستان کی بحریہ نے سمندری راستوں کے ذریعے تجارت کے تحفظ اور تیل کی بلارکاوٹ ترسیل کے لیے ’آپریشن محافظ البحر‘ شروع کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپریشن کا مقصد ’سی لائنز آف کمیونیکیشن (ایس ایل او سی) کا تحفظ اور بلا رکاوٹ نیشنل شپنگ ہے۔‘

ایس ایل او سی سے مراد بندرگاہوں کے بیچ واقع اہم بحری راستے ہیں جو تجارت اور بحری آپریشنز وغیرہ کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔

پاکستانی بحریہ کے مطابق ملک میں 90 فیصد تجارت سمندری راستوں کے ذریعے ہوتی ہے لہذا مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (پی این ایس سی) کے تعاون سے تجارتی جہازوں کی سکیورٹی پر پاکستانی بحریہ کے جہازوں کو مامور کیا جائے گا اور بحری ٹریفک کی نگرانی کی جائے گی۔

بحریہ نے سوشل میڈیا پر ایک آئل ٹینکر کے ہمراہ اپنے جنگی جہاز کی تصاویر شیئر کی ہیں۔ پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے اپنے بیان میں سمندری تجارت کو لاحق ’ملٹی ڈائمنشن خطرات‘ کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ دو ٹینکروں کے ہمراہ بحریہ کے جنگی جہاز مامور کیے گئے ہیں۔

امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف کارروائیوں اور تہران کی خلیجی ممالک پر جوابی حملوں کے دوران تیل کی سپلائی کے لیے اہم سمجھی جانے والی آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز سے آئل ٹینکروں کی آمد و رفت متاثر ہوئی ہے۔

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں توانائی کی اکثر مصنوعات آبنائے ہرمز کے ذریعے پہنچتی ہیں مگر سعودی عرب کی جانب سے متبادل راستوں کے ذریعے تین آئل ٹینکر بھجوائے گئے ہیں۔

گذشتہ ہفتے پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں 55، 55 روپے کا اضافہ کیا گیا تھا جبکہ تیل کی کھپت میں کمی کے لیے پیر کو ملک بھر میں تعلیمی اداروں کی بندش اور دفاتر میں اضافی چھٹے جیسے حفاظتی حقدامات کیے گئے تھے۔

پاکستانی بحریہ، آپریشن محافظ البحر

،تصویر کا ذریعہPAKISTAN NAVY

پاکستانی بحریہ کو کن چیلنجز کا سامنا ہے؟

ایڈمرل ریٹائرڈ جاوید اقبال کا کہنا ہے کہ ’خطے میں جنگ چھڑنے سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی سپلائی چین متاثر ہوئی ہے جس کے بعد تیل متبادل راستوں کے ذریعے پاکستان آ رہا ہے۔‘

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے سری لنکا کی سمندری حدود کے قریب ایرانی جنگی جہاز پر امریکی آبدوز کے حملے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ’ٹارگٹنگ اور مس کیلکولیشن کہیں بھی ہو سکتی ہے۔‘

وہ بتاتے ہیں کہ ماضی میں پاکستانی بحریہ نے 71 کی جنگ کے دوران ’باغ کراچی‘ نامی تجارتی جہاز کو سکیورٹی فراہم کی تھی جبکہ خطے میں تجارتی سرگرمیوں کے تحفظ کے لیے حوثیوں کے حملوں کے دوران بھی بحریہ نے اسی نوعیت کے اقدامات کیے تھے۔

ایسے میں ان کے بقول تیل اور گیس لانے والے جہازوں کو سکیورٹی دینا اہم ہے۔

دفاعی امور کے محقق بلال حسین خان کا کہنا ہے کہ ’پاکستانی بحریہ نے تجارتی سرگرمیوں کی سلامتی اور ممکنہ علاقائی کشیدگی کے تناظر میں ریجنل میریٹائم پیٹرول (آر ایم پی) کا منصوبہ قائم کر رکھا ہے۔‘

ٹورنٹو میں قائم ڈیفنس نیوز اینڈ اینالسس گروپ قوة کے بانی نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ جن ’ملٹی ڈائمنشن خطرات‘ کا ذکر کیا گیا ہے ان میں ایران جنگ کے علاوہ نان سٹیٹ تھریٹس جیسے ٹریفکنگ اور مجرمانہ سرگرمیاں بھی شامل ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ پاکستانی بحریہ پہلے سے اپنے ریجنل میریٹائم پیٹرولز منصوبے کے ذریعے ٹریفکنگ اور مجرمانہ سرگرمیوں کو روکنی کی کوشش کی رہی تھی ’مگر اب بظاہر ایسا پہلی بار ہو رہا ہے کہ ایک جنگ کے دوران تجارتی جہازوں کی سکیورٹی کے لیے پاکستانی جنگی جہازوں کو تعینات کیا گیا ہے۔‘

بلال حسین خان کہتے ہیں کہ ’ایسے میں دو چیلنجز درپیش ہو سکتے ہیں۔ پہلا یہ کہ تجارتی جہازوں کو یقین دہانی کرائی جائے کہ اِن اقدامات کے ذریعے وہ ایران جنگ کے باوجود پُرخطر راستوں سے گزر سکیں گے۔ دوسرا یہ کہ امریکہ اور ایران دونوں کے ساتھ تعاون جاری رکھنا تاکہ کسی جھڑپ میں پاکستانی جنگی یا تجارتی جہاز متاثر نہ ہوں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ یہ چیلنج بھی درپیش ہے کہ ایران ’آبنائے ہرمز پر سرنگیں بچھا رہا ہے اور امریکہ ایرانی بحریہ کو نشانہ بنا رہا ہے۔‘

منگل کی شب امریکی سنٹرل کمانڈ (سینٹکام) کا کہنا تھا کہ امریکی فورسز نے آبنائے ہرمز کے قریب ایسے 16 ایرانی جہاز تباہ کیے ہیں جو بارودی سرنگیں بچھا رہے تھے۔

بی بی سی کے شراکت دار سی بی ایس نیوز کے مطابق امریکی انٹیلیجنس کا خیال ہے کہ ایران آبنائے ہرمز پر بحری سرنگیں بجھانے کی تیاری کر رہا ہے۔

گذشتہ روز ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے متنبہ کیا تھا کہ اگر امریکہ اور اسرائیل کے حملے جاری رہے تو تہران ’خطے سے ایک لیٹر تیل بھی برآمد ہونے نہیں دے گا۔‘

بلال حسین خان کا کہنا ہے کہ اگر ان حالات میں پاکستانی بحریہ ملکی سمندری تجارت کا تحفظ یقینی بنا پاتی ہے تو یہ علاقائی اعتبار سے اس کی بڑی کامیابی ہو گی۔

پاکستانی بحریہ، آپریشن محافظ البحر

،تصویر کا ذریعہPAKISTAN NAVY

اس آپریشن کے لیے پاکستانی بحریہ کے پاس کیا صلاحیتیں ہیں؟

پاکستانی بحریہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ بحری راستوں پر بدلتی صورتحال کے تناظر میں اس آپریشن کا مقصد پاکستان کی توانائی کی ضروریات اور سمندری تجارت کی سکیورٹی کو یقینی بنانا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کے لیے آپریشنل ضروریات کے تحت مختلف جگہوں پر فریگیٹس اور ڈسٹرائرز استعمال ہو رہے ہیں۔

اگرچہ پاکستانی بحریہ نے یہ نہیں بتایا کہ کون سے جنگی جہازوں کو سمندری تجارت کی سکیورٹی کے لیے مامور کیا گیا ہے تاہم سوشل میڈیا پر اس کی جانب سے جاری تصویر کی مدد سے ایک فریگیٹ کی نشاندہی کی جا سکتی ہے۔

بلال حسین خان کا کہنا ہے کہ تصاویر میں نظر آنی والی فریگیٹ ’طغرل کلاس‘ ہے۔ یہ ایک جدید چینی ساختہ 054 اے پی بحری جنگی جہاز ہے جسے پاکستان نے 2021 میں حاصل کیا تھا۔

دفاعی ماہرین کے مطابق یہ ایک مختلف طرح کے آپریشنز کے لیے استعمال ہونے والا جنگی جہاز ہے جس میں فضائی، زمینی اور آبدوز کے حملوں سے لڑنے کی صلاحیتیں ہیں۔

بلال حسین خان کا کہنا ہے کہ طغرل کلاس فریگیٹ میں سپر سونک کروز میزائل لانچ کرنے کی بھی صلاحیت ہے جو اس کی سمندری لڑائیوں میں قابلیت بڑھاتی ہے۔

نومبر 2021 کے دوران ماہرین نے 054 اے/ پی بحری جنگی جہازوں کی شمولیت کو بڑی پیشرفت قرار دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے قبل پاکستان نے 90 کی دہائی میں برطانوی شاہی بحریہ سے چار فریگیٹ (پی این ایس بدر، ٹیپو سلطان، بابر اور شاہجہان) حاصل کیے تھے جو اپنی پیشہ وارانہ طبعی مدت پوری ہونے پر بیڑے سے ہٹا دیے گئے تھے۔

تاہم بحریہ کے اہلکار کا کہنا تھا کہ ایسا نہیں کہ اس آپریشن کے لیے صرف طغرل کلاس فریگیٹس استعمال ہو رہی ہیں بلکہ بحریہ کے دیگر جدید پلیٹ فارمز جیسے فریگیٹس اور ڈسٹرائرز بھی تعینات کیے گئے ہیں۔

ادھر ایڈمرل ریٹائرڈ جاوید اقبال بتاتے ہیں کہ تجارتی جہازوں کی سکیورٹی کے لیے سطح سمندر پر تیرنے والے جنگی جہاز ناگریز ہوتے ہیں۔ ’یہ جہاز ہر وقت خطے میں موجود رہتے ہیں اور یہ اینٹی شپ میزائل سے لیس ہوتے ہیں تاکہ میزائل حملوں کا ناکارہ بنایا جا سکے، خودکش حملہ آور کشتیوں یا بحری قزاقوں کے خطرے سے نمٹنے کے لیے ریڈار کی مدد لی جا سکے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے پاس بحری پلیٹ فارمز میں چینی ساختہ طغرل کلاس کے علاوہ ترک ساختہ ملجم کلاس ڈسٹرائر بھی ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان کے پاس آف شور پیٹرول ویسلز کہلائے جانے والے درمیانے اور چھوٹے جنگی جہاز بھی موجود ہیں جنھیں ’مسلسل اور طریل وقت تک چلانا قدرے سستا ہوتا ہے۔‘ ان میں یرموک کلاس او پی ویز شامل ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ فضائی نگرانی کے لیے ہیلی کاپٹر اور میریٹائم پیٹرولنگ کے لیے استعمال ہونے والے اے ٹی آر طیارے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔