کیا چین میں بننے والا پاکستانی جنگی بحری جہاز ’پی این ایس طغرل‘ انڈیا کی بحری قوت کا مؤثر جواب ہے؟

،تصویر کا ذریعہPakistan Navy
- مصنف, عمر فاروق
- عہدہ, دفاعی تجزیہ کار
حال ہی میں چینی ساختہ بحری جنگی جہاز 'طغرل' کی پاکستانی بحریہ میں شمولیت کی خبر کو انڈین ذرائع ابلاغ میں کافی نمایاں جگہ ملی ہے اور دفاعی ماہرین یہ سوال پوچھتے دکھائی دیے کہ کیا یہ ’فریگیٹ‘ چین اور پاکستان کے درمیان بحری تعاون کی مثال ہونے کے ساتھ ساتھ انڈیا کی پاکستان پر روایتی بحری سبقت کو چیلنج تو نہیں کر دے گی؟
پاکستان بحریہ نے چند روز قبل ہی چینی ساختہ 054 اے پی بحری جنگی جہاز حاصل کیے ہیں جو بحریہ کے حکام کے مطابق یہ زمین سے زمین، زمین سے فضا اور زیرآب جنگی کارروائیوں میں کارگر ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
پاکستانی بحریہ کی اعلی کمان کی طرف سے ان جنگی بحری جہازوں کو ’پی این ایس طغرل‘ کا نام دیاگیا ہے۔
’طغرل‘ جنگی بحری جہاز ’کارکردگی کا شاہکار‘
رابطہ کرنے پر پاکستانی بحریہ کے میڈیا ونگ کے ڈائریکٹر جنرل کیپٹن راشد نے کہا کہ طغرل کلاس کا پہلا بحری جنگی جہاز 'ایچ زیڈ' شپ یارڈ، شنگھائی (چین) میں تیار ہوا ہے۔ تین مزید بحری جنگی جہاز اسی قسم کے ہیں جو آئندہ سال کے آخر تک پاکستانی بحریہ کے زیراستعمال آئیں گے۔ ان کے مطابق ان جہازوں کی بحری بیٹرے میں شمولیت سے بحریہ کی قوت میں اضافہ ہو گا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اس بحری جنگی جہاز پر نصب اسلحہ اور ’سینسر‘ (سراغ لگانے والے آلات) کی وجہ سے یہ ’کارکردگی کا شاہکار‘ ہیں جو سمندر میں کی جانے والی کئی قسم کی کارروائیاں کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اِن میں زمین پر، فضا میں اور زیر آب آبدوزوں کو نشانہ لگانے کی صلاحیت شامل ہے۔
’چار ہزار ٹن وزنی بحری جنگی جہازوں کے ملنے سے مطلوبہ ’ڈیٹیرنس‘ (دفاعی صلاحیت) حاصل ہوگا جس کا مطلب سمندری سرحدوں اور ساحلی علاقوں میں ممکنہ خطرات کو دور کرنا ہوگا جبکہ سمندری و بحری ذرائع آمد و رفت کو محفوظ بنانے میں بھی مدد ملے گی۔‘

،تصویر کا ذریعہ@PakistanNavy
کیپٹن راشد نے بتایا کہ پی این ایس طغرل کا چین سے اپنے سفر کا آغاز کل سے ہوگا اور یہ علاقائی اڈوں جن میں منیلا، ملائیشیا اور سری لنکا شامل ہیں سے ہوتے ہوئے ایک ماہ کی مدت میں پاکستان پہنچے گا۔
کیپٹن راشد کے مطابق ’054 اے پی قسم کاایک اور 'فریگیٹ' (بحری جنگی جہاز) آئندہ چھ ماہ میں پاکستان کو مل جائے گا اور اگلے مزید چھ ماہ بعد تیسرا بحری جہاز بھی ہمارے بیڑے میں شامل ہو جائے گا جبکہ چوتھے سال کے آخر تک ہمیں کل چار فریگیٹس کے حصول کا عمل مکمل ہو جائے گا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پاکستانی بحریہ کے حکام کا کہنا ہے کہ خطے کی سلامتی کے پہلوؤں کے تناظر میں طغرل درجہ کے فریگیٹ پاکستانی بحریہ کی سمندری و بحری قوت کو مضبوط بنائیں گے اور سمندری محاذ پر دفاع کو یقینی بنانے اور درپیش چیلنجز سے نمٹنے میں معاون ہوں گے۔
حکام کے مطابق یہ بحرہند کے خطے میں طاقت کا توازن ٹھیک کرنے اور امن واستحکام کے قیام کو یقینی بنائیں گے۔
پاکستانی بحریہ سے متعلق امور کے ماہرین کے مطابق طغرل کلاس کے فریگیٹ اب تک کی پاکستانی بحریہ کی جنگی فہرست میں سب سے جدید ترین بحری جنگی جہاز کی صورت میں شامل ہوئے ہیں۔
پاکستانی دفاعی تجزیہ کار شاہد رضا نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 54 اے پی قسم کے بحری جنگی جہاز پاکستان کی بحریہ کے اب تک کے بیڑے میں شامل بحری جہازوں میں جدید ترین جنگی صلاحیت کے حامل ہیں۔
ان کے مطابق ان جنگی بحری جہازوں کے آنے سے پاکستانی بحریہ کی آپریشنل (جنگی کارروائی) صلاحیت میں کئی گنا اضافہ ہوگیا ہے اور اس کا دائرہ اثر بھی بڑھ گیا ہے۔ یہ جنگی بحری جہاز چینی بحریہ کے اس وقت زیراستعمال جدید ترین فریگیٹ درجے سے تعلق رکھتے ہیں۔
بحریہ کے ایک سینیئر افسر کے مطابق ’ان جنگی بحری جہازوں کے پاکستانی بحریہ کے بیڑے میں شامل ہونے اور ان کے چینی ساختہ موجودہ ایف 22 پی فریگیٹ کے ملنے سے پاکستانی بحریہ کی چینی بحریہ کے ساتھ اشتراک عمل کی قوت کئی گنا بڑھ جائے گی اور پاکستانی بحریہ چینی بحریہ کی ایک بڑی شراکت دار بن جائے گی۔‘
حالیہ عرصے میں پاکستانی بحریہ نے اپنے بحری بیڑے کو جدید خطوط پر استوار کرنے پر خاصی توجہ دی ہے اور اس حوالے سے ایک جامع پروگرام پر عمل کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہPakistan Navy
انڈیا اور پاکستان کی بحری قوت کا موازنہ
چند حالیہ انڈین میڈیا رپورٹس پر اگر انحصار کیا جائے تو فی الوقت انڈیا کے پاس 17 آبدوزیں (16 ڈیزل سے اور ایک جوہری قوت سے چلنے والی) ہیں۔ جبکہ پاکستانی حکام کے مطابق پاکستان کے پاس ڈیزل سے چلنے والی نو آبدوزیں ہیں۔ فریگیٹ کا موازنہ کیا جائے تو انڈیا کو پاکستان پر واضح برتری حاصل ہے۔
لیکن اگر چین کے تناظر سے دیکھا جائے تو معاملہ بالکل الگ دکھائی دیتا ہے۔ امریکی محکمہ دفاع کے ایک بیان کے مطابق اگر بحری جہازوں کے لحاظ سے دیکھا جائے تو چین دنیا میں سب سے بڑی بحریہ کا مالک ہے۔
سنہ 2020 کے آخر میں چینی بحریہ کے پاس 70 سے زائد آبدوزیں (ایس ایس بی این) تھیں جن میں سات جوہری طاقت کی حامل ہیں اور میزائلوں سے لیس ہیں۔ 12 جوہری حملہ آور آبدوزیں (ایس ایس این) الگ سے موجود ہیں جبکہ 50 ڈیزل سے چلنے والی حملہ آور آبدوزیں بھی چین کے بحری بیڑے میں موجود ہیں۔
پاکستانی بحریہ سے متعلق امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ 054 اے/ پی بحری جنگی جہازوں کی قسم 'ایک بڑی پیش رفت تصور کی جاسکتی ہے۔ سنہ 1970 کے سابق برطانوی قسم 21 کے فریگیٹس جو 1990 میں پاکستان کو ملے تھے، اُن کا موازنہ کیا جائے تو خاص طور پر آبدوزوں کے خلاف جنگ میں مہارت واستعداد کے پہلو سے یہ جہاز نہایت کارآمد اور کارگر ہیں۔
تاہم ان ماہرین کے مطابق انڈین بحریہ نے استعداد اور تعداد کے لحاظ سے پاکستان پر برتری برقرار رکھی ہے۔ اسلحہ کی عالمی منڈی میں انڈیا کو جدید ہتھیاروں کا زیادہ پرکشش خریدار سمجھا جاتا ہے اور اس حقیقت نے یورپ، امریکہ اور روس کے اسلحہ سازوں کو انڈیا کی طرف مائل کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
انڈین ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی خبروں کے مطابق انڈین حکومت نے اگلے دس سال میں 56 جنگی بحری جہاز خریدنے کے منصوبے کی منظوری دی ہے۔
ایک دفاعی ماہر کے مطابق دوسری طرف پاکستانی معیشت سرمائے کی قلت کا شکار ہے، اس لیے فریگیٹ اور آبدوزوں سمیت جدید اسلحہ کے حصول کے لیے پاکستان نے اپنے فوجی اتحادی چین کی طرف رجوع کیا ہے۔
عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ چینی اسلحہ ساز کمپنیاں خصوصی قیمت پر پاکستان کو ہتھیار فروخت کرتی ہیں۔
پاکستانی بحریہ کے بیڑے میں شامل بعض بحری جنگی جہاز جدید میزائل نظام کے خطرے سے نمٹنے کے قابل نہیں لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستانی بحریہ میں طغرل فریگیٹ شامل ہونے سے اب اس صورتحال میں بہتری بھی آ سکتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
’طغرل‘ کی آمد اور ’خطرے کی گھنٹی‘
پاکستانی بحریہ میں ’طغرل‘ کی شمولیت کو انڈین ذرائع ابلاغ میں واضح جگہ ملی ہے اور بظاہر انڈیا کو پاکستانی بحریہ کی صلاحیت میں اضافے سے زیادہ خوف اور خطرہ چینی بحریہ کی بحر ہند میں موجودگی سے ہے۔
انڈین اخبار ’ٹائمز آف انڈیا‘ کے مطابق ’پاکستانی بحریہ کو جدید بنانے اور بحری اڈوں کے حصول سے بحرہند اور بحیرہ عرب میں چینی بحریہ کی موجودگی بڑھ جائے گی۔ علاوہ ازیں چین سے جدید ترین بحری جنگی جہازوں کو حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان چین سے آٹھ آبدوزیں بھی لینے جا رہا ہے جو پاکستانی بحریہ کو جدید بنانے کا حصہ ہے۔‘
جون 2020 میں بروکنگ انسٹیٹیوٹ کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق ’گذشتہ تین دہائیوں کے دوران چین نے بحر ہند کے خطے میں اپنی موجودگی اور سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ کیا ہے، چین کی بحری قوت میں اس اضافے اور 'قرض میں پھنسانے' کی نام نہاد سفارتی کاری سے امریکہ اور انڈیا کے جنگی منصوبہ سازوں میں خوف و خدشات بڑھے ہیں۔ جس سے وہ (چین) اپنی سمندری حدوں سے آگے بامعنی فوجی قوت کا ایک اضافی صلاحیت حاصل کر لے گا۔‘
بحرہند کے خطے میں پی ایل اے نیوی کی بڑھتی ہوئی موجودگی اور پاکستانی بحریہ کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعاون پر خاص طور پر انڈیا میں تشویش اور فکر مندی بڑھی ہے۔
انڈین ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق پاکستانی اور انڈین بحریہ میں بہت بڑا خلا ہے۔ انڈین میڈیا نے گلوبل فائر انڈیکس نامی ویب سائٹ کا حوالہ دیا ہے، یہ ویب سائٹ دنیا بھر کی افواج کی قوت کا تجزیہ کرتی ہے۔ ان کے مطابق انڈیا کے پاس فی الوقت 285 بحری جنگی جہاز ہیں جبکہ پاکستان کے پاس اس کے مقابلے میں صرف 100 جنگی بحری جہاز ہیں۔
بروکنگ انسٹیٹیوٹ کی رپورٹ کے مطابق ’آئی او آر (انڈین اوشن رِم ایسوسی ایشن) میں ’پی ایل اے این‘ کے حالیہ برسوں میں زیادہ تر دورے پاکستان کے ہی ہوئے ہیں، چینی بحری جنگی جہازوں کے بارے میں یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ کراچی شپ یارڈ (جہازوں کی مرمت کی جگہ) میں مکمل سہولیات سے استفادہ کر رہے ہیں۔‘
’پاکستان کی بحریہ اب چین کی بحر ہند کی حکمت عملی کا ایک حصہ بن گئی ہے‘
انڈیا کے مشہور بحری اور سٹرٹیجک امور کے ماہر سی راجہ موہن نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 'ان جنگی بحری جہازوں (فریگیٹس) یا دیگر سازوسامان کے مل جانے سے پاکستان اور انڈیا کی بحریہ کے درمیان توازن میں کوئی تبدیلی واقع ہونے کا امکان نہیں ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’انڈیا کے لیے تشویش کی بات یہ ہونی چاہیے کہ پاکستان کی بحریہ اب چین کی بحر ہند کی حکمت عملی کا ایک حصہ بن گئی ہے۔ بحر ہند میں چین کی بحری قوت کے اظہار کا حصہ اب پاکستان بھی بن چکا ہے۔‘
پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ پی این ایس ارطغرل کے آنے سے پیپلز لبریشن آرمی اور پاکستانی بحریہ کی اطلاعات کے باہمی تبادلے اور ایک مشترکہ نظام کے تحت امور کار انجام دینے کی صلاحیت میں کئی گنا اضافہ ہو جائے گا۔ دونوں ممالک کی بحریہ نے کئی مشترکہ مشقیں کی ہیں تاکہ اس وسیع تر اشتراک عمل کے ہدف کو حاصل کیا جا سکے۔
پاکستانی بحریہ کے حکام کے مطابق 54 اے پی قسم کے پی این ایس طغرل بحری جنگی جہاز کئی قسم کے کام کرنے کی صلاحیت کے حامل ہیں۔ ’پاکستانی بحریہ کے مرکزی بیڑے میں انھیں بنیادی ستون کی اہمیت حاصل ہوگی جبکہ پاکستان کی بحری محاذ پر دفاعی صلاحیت مزید قوت پائے گی۔‘
پاکستانی بحریہ نے چار فریگیٹ (بحری جنگی جہاز) برطانوی شاہی بحریہ سے سنہ 1993 سے سنہ 1994 کے دوران حاصل کیے تھے۔ چار بحری جہاز پی این ایس بدر، پی این ایس ٹیپو سلطان، پی این ایس بابر اور پی این ایس شاہ جہان اپنی پیشہ وارانہ طبعی مدت پوری ہونے پر بیڑے سے ہٹا دیے گئے تھے۔
پاکستانی بحریہ نے 054 اے پی قسم کے فریگیٹ چین سے حاصل کیے اور انھیں برطانیہ سے حاصل کیے گئے اس طرح 21 قسم کے فری گیٹ کی جگہ استعمال کرنے شروع کیے کیونکہ یہ بحری جہاز بھی اپنی مدت پوری کر چکے تھے۔
مزید پڑھیے
جون 2017 میں پاکستان نے 054 اے قسم کے فیریگیٹ کے لیے آرڈر دیا تھا جو چینی بحریہ کے زیراستعمال اسلحہ اور سینسرز (سراغ لگانے والے آلات) سے لیس تھے۔
بروکنگ انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے جون 2020 میں 'بحرہند میں چین کے عزائم' کے عنوان سے شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق پیپلز لبریشن آرمی خطے کے ممالک کی بحریہ کے ساتھ مل کر اشتراک عمل کی صلاحیت بڑھانے کے وسیع منصوبے پر کام کر رہی ہے اور اس کی بنیادی توجہ بحرہند میں انسداد دہشت گردی کی کارروائیاں ہیں۔
فروری 2021 میں چین کی پیپلز لبریشن آرمی اور پاکستانی بحریہ نے مسلسل آٹھویں مرتبہ پاکستانی قیادت میں بحری مشقیں کی ہیں جن کا بنیادی مقصد پاکستانی بحریہ کی صلاحیت اور قوت کو خطے اور دنیا کی بحری طاقتوں کے برابر لانا اور مشترکہ امور کام کی انجام دہی کے قابل بنانا ہے۔
فروری 2021 میں ان مشقوں میں سے آخری مشق میں امریکہ اور نیٹو فوجی اتحاد میں شامل متعدد ممالک کی بحریہ نے بھی شرکت کی تھی تاکہ اس تاثر کو دور کیا جا سکے کہ پاکستان اور چین کی بحریہ کے درمیان تعاون کو بڑھانے پر ہی ان مشقوں کی توجہ مرکوز ہے۔
تاہم امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے چینی فوجی طاقت میں اضافے سے متعلق جاری ہونے والی حالیہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چینی بحریہ کا بیرونی دنیا میں اگلا اڈہ پاکستان میں قائم ہو سکتا ہے۔ 'پی ایل اے این' کا پہلا بیرونی دنیا میں اڈہ اس وقت جبوتی میں زیرتعمیر ہے جس کا مقصد مغربی بحر ہند کے علاقے میں بحری قذاقوں کے خلاف کارروائیاں کرنا ہے۔
پاکستانی بحریہ کے 054 اے پی قسم کے جنگی بحری جہاز کے حصول کے تناظر اور پی ایل اے بحریہ کے ساتھ مشترکہ بحری مشقوں کے تناظر میں پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ آخری بحری مشق میں 'دونوں ممالک کی بحریہ میں پیشہ وارانہ امور پر بات چیت ہوئی جس میں اشتراک عمل اور بحری شعبے میں شراکت کار میں اضافے پر توجہ مرکوز کی گئی۔ آپریشنل تربیت سے متعلق سرگرمیوں، مشترکہ میل جول کی نشستیں، پیشہ وارانہ موضوعات پر مباحث اور سماجی سرگرمیاں بھی ترتیب دی گئی ہیں، دونوں ممالک کی بحریہ اپنے اشتراک عمل کو وسعت دینے کے لیے ان سرگرمیوں کو آگے بڑھائے گی۔'











