لائیو, اپنی شکست کو معاہدہ نہ کہیں، آپ خود سے ہی مذاکرات کر رہے ہیں: ایرانی فوج کے ترجمان کا ٹرمپ کو پیغام
ابراہیم ذوالفقاری نے آج ایرانی میڈیا پر نشر ہونے والے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ ’کیا آپ کے اندرونی اختلافات اس حد تک پہنچ چکے ہیں کہ آپ خود ہی اپنے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں؟‘ انھوں نے کہا کہ ’ہم جیسے لوگ آپ جیسے لوگوں سے کبھی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ نہ اب، نہ کبھی۔‘
خلاصہ
ایرانی فوج کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے صدر ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’کیا آپ کے اندرونی اختلافات اس حد تک پہنچ چکے ہیں کہ آپ خود ہی اپنے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں؟‘
اسرائیلی دفاعی افواج نے ایک حالیہ بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے تہران میں کروز میزائل تیار کرنے والے اہم مقامات اور تنصیبات کو کامیابی سے نشانہ بنایا ہے
انٹرنیٹ مانیٹرنگ گروپ نیٹ بلاکس کے مطابق ایران میں انٹرنیٹ کی بندش کو 26 دن گزر گئے ہیں ہے
پاکستان نے مارچ اور اپریل کے لیے ملک میں پٹرول کی فراہمی کے لیے درآمدی کارگوز حاصل کر لیے ہیں، جبکہ مزید سپلائیز بھی یقینی بنانے کے اقدامات جاری ہیں
روس نے یوکرین کے ساتھ جاری جنگ کے آغاز کے بعد گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سب سے بڑا فضائی حملہ کیا ہے، جس میں یوکرین کے متعدد شہروں کو 948 ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا گیا ہے۔
امریکی و اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکہ نے ایران کو 15 نکاتی منصوبہ پاکستان کے ذریعے پہنچایا ہے۔
صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ ایران میں ’درست لوگوں‘ سے بات کر رہا ہے اور ایرانی مذاکرات کاروں نے امریکہ کو تیل اور گیس سے متعلق ایک ’بہت اہم تحفہ‘ دیا ہے۔
لائیو کوریج
سعودی عرب کا تین اور کویت کا چھ ڈرونز تباہ کرنے کا دعویٰ
،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images
سعودی عرب کی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ اس نے ملک کے مشرقی حصے میں تین ڈرونز کو تباہ کیا ہے۔
ملک میں محکمہ شہری دفاع کے حکام کا کہنا ہے کہ تباہ شدہ میزائل کا ایک ٹکڑا دو گھروں کی چھت پر گِرا لیکن اس کے سبب کسی کے زخمی ہونے کی اطلاعات نہیں ملیں۔
کویت کے نیشنل گارڈ کے ترجمان کا بھی کہنا ہے کہ انھوں نے علی الصبح چھ ڈرونز کو تباہ کیا ہے۔ گذشتہ رات ایک ڈرون کویت کے ایئرپورٹ سے ٹکرایا تھا، جس کے بعد وہاں آگ بھڑک اٹھی تھی۔
دوسری جانب اسرائیلی فون نے آج ایران کی طرف سے پانچ میزائل فائر کیے جانے کا دعویٰ کیا ہے، تاہم اس سے ہونے والے نقصان کے حوالے سے کوئی تفصیلات موجود نہیں ہے
ٹرمپ کا ایران کے ساتھ مذاکرات کا دعویٰ، تہران کا انکار: کس پر یقین کیا جائے؟, فرینک گارڈنر، نامہ نگار برائے سکیورٹی امور
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایک فریق امریکہ کہتا ہے
کہ مذاکرات جاری ہیں جبکہ دوسران فریق ایران کہتا ہے کہ ایسا نہیں ہے‘ تو پھر کس
پر یقین کیا جائے؟
قطر کا امریکہ کے ساتھ قریبی
دفاعی اور سکیورٹی اتحاد ہے اور ایک ماہ قبل تک اس کے ایران کے ساتھ بھی اچھے تعلقات
تھے۔ تاہم اب اس کے حکام کہہ رہے ہیں کہ وہ امریکہ یا ایران کے درمیان مذاکرات کا
حصہ نہیں ہیں۔
اس خطے میں سب سے بڑا
امریکی اڈہ العدید ایئربیس بھی قطر میں ہی موجود ہے، جو کہ دارالحکومت دوحہ کے
باہر واقع ہے۔ اس کے حکام نے بھی عوامی طور پر ایران کے خلاف جنگ کی مخالفت کی
تھی۔
قطر کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان
ماجد الانصاری کا کہنا ہے کہ: ’ہم امریکیوں سے روزانہ بات کرتے ہیں، لیکن اس وقت
ہماری ترجیح اپنی سرزمین کا دفاع اور تحفظ ہے۔‘
اس وقت واشنگٹن اور خطے کے
دوسرے ممالک ترکی، پاکستان اور مصر میں سفارتی ذرائع متحرک ہیں اور فریقین تک
پیغامات پہنچا رہے ہیں۔
لیکن یہ مذاکرات نہیں ہیں۔
ایران کی اسلامی حکومت اپنی جگہ برقرار ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس کے مطالبات مزید
سخت ہوگئے ہیں۔
اب اسے امید ہے کہ وہ آبنائے
ہرمز پر مزید کنٹرول بڑھا سکے گی۔ واشنگٹن جتنی بار دنیا کو بتائے گا کہ ایران کسی
معاہدے کے لیے بیتاب ہے، تہران اتنا ہی کم کسی معاہدے کی طرف راغب ہوگا۔
ایران کی اسٹیبلشمنٹ اب تک اپنی جگہ پر کیسے موجود ہے؟, غنچے حبیبی آزاد، بی بی سی فارسی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایران میں جنگ کی شروعات
اور آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت کو تقریباً ایک مہینہ گزر چکا ہے۔
ایران میں جن لوگوں سے میں
بات کر رہی ہوں انھیں امید تھی کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت کے دن ہی یہ جنگ
ختم ہو جائے گی، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ تہران میں اسٹیبلشمنٹ اب بھی اپنی جگہ برقرار
ہے۔
ایران کا نظامِ اقتدار بہت
پیچیدہ ہے۔ اگرچہ رہبرِ اعلی کو ملک میں سب سے زیادہ اختیارات حاصل ہیں لیکن اس
ریاست کے اندر بھی ایک ریاست ہے، جسے پاسدارانِ انقلاب کہا جاتا ہے اور اس کی طاقت
کسی بھی دوسری فوج کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔
گذشتہ موسمِ گرما اور اس
موجودہ تنازع میں اس کے متعدد سینیئر کمانڈر ہلاک ہو چکے ہیں۔ لیکن پاسدارانِ
انقلاب کا کہنا ہے کہ جب بھی اس کا کوئی اہلکار ہلاک ہوگا، اس کی جگہ دوسرا شخص
مقرر کر دیا جائے گا۔
پاسدارانِ انقلاب کو بسیج
کا بھی کنٹرول حاصل ہے۔ یہ ایک رضاکار فورس ہے جس کے اراکین کی تعداد تقریباً 10
لاکھ ہے اور اسے اکثر سڑکوں پر اختلاف رائے رکھنے والوں کے خلاف طاقت کے استعمال
کے لیے تعینات کیا جاتا ہے۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس
نے بسیج کے متعدد چیک پوائنٹس کو نشانہ بنایا ہے، لیکن رواں ہفتے تہران سے مجھے لوگوں
نے بتایا ہے کہ اس فورس کے اہلکار اب بھی سڑکوں پر موجود ہیں، گاڑیوں کو روک رہے
ہیں اور تلاشی لے رہے ہیں۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
جہاں تک احتجاجی مظاہروں کی بات ہے، ایرانی حکومت نے بیانات اور پیغامات کے ذریعے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ سڑکوں پر نہ نکلیں۔
ملک میں انٹرنیٹ کی بندش ہے، جس کے سبب احتجاجی مظاہروں کا انعقاد مشکل ہے۔ اس جنگ کی ابتدا کے بعد ہم نے ایران میں کوئی بڑے حکومت مخالف احتجاجی مظاہرے نہیں دیکھے، تاہم سرکاری میڈیا پر ضرور اسٹیبلشمنٹ کے حامیوں کی ریلیوں کی خبریں نشر ہوتی ہیں۔
ایران کے نئے رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای اپنی تقرری کے بعد سے منظرِ عام پر نہیں آئے ہیں۔ اب تک ہم نے صرف سرکاری میڈیا پر ان کے تحریری پیغامات ہی دیکھے ہیں۔
اسرائیل نے انھیں بھی نشانہ بنانے کا اعلان کر رکھا ہے۔
ایران کی موجود اسٹیبلشمنٹ نے ہلاک ہونے والے قائدین کے متبادل لا کر کھڑے کر دیے ہیں اور چیک پوائنٹس بڑھا دیے ہیں، لیکن ابھی تک اس نے یہ ثانت نہیں کیا ہے کہ وہ ایک ایسی قوم پر مزید حکمرانی کر سکتی ہے جو اس کے اختیارات کو نہیں مانتی بلکہ طاقت کے استعمال کے سبب خاموش ہے۔
ایران میں انٹرنیٹ کی بندش کو 26 دن گزر چُکے ہیں: نیٹ بلاکس کا دعویٰ
،تصویر کا ذریعہNetBlocks
انٹرنیٹ مانیٹرنگ گروپ نیٹ بلاکس کے مطابق ایران
میں حکومت کی جانب سے نافذ کردہ انٹرنیٹ بندش اپنے 26 ویں دن میں داخل ہو گئی ہے
اور 600 گھنٹوں کی حد عبور کر چکی ہے۔
نیٹ بلاکس کا کہنا ہے کہ ’اس اقدام کے باعث ایران
کے لوگ بین الاقوامی نیٹ ورکس سے کٹ گئے ہیں، جو ’جنگ کے دوران معلومات تک رسائی
کے ان کے حق کی خلاف ورزی‘ ہے۔‘
کچھ ایرانیوں کو وقفے وقفے سے انٹرنیٹ تک رسائی حاصل
ہو رہی ہے اور بی بی سی فارسی جنگ کے دوران ان میں سے کچھ سے بات کرنے میں کامیاب
رہا ہے۔
ایک خاتون نے پہلے بتایا تھا کہ وہ ’بس چاہتی ہیں
کہ پلک جھپکنے میں جنگ کا یہ ماحول ختم ہو جائے۔‘
اسرائیل کا تہران میں کروز میزائل بنانے والی اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسرائیلی دفاعی افواج نے ایک حالیہ بیان میں دعویٰ
کیا ہے کہ انھوں نے تہران میں کروز میزائل تیار کرنے والے اہم مقامات اور تنصیبات
کو کامیابی سے نشانہ بنایا ہے۔
اسرائیلی دفاعی افواج کے مطابق انھوں نے ایرانی
دارالحکومت تہران میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے بحری کروز میزائل تیار کرنے کے
دو اہم مقامات پر حملے کیے ہیں۔
آئی ڈی ایف نے ٹیلیگرام پر ایک بیان میں کہا کہ ان ’اہم
حملوں‘ سے حالیہ دنوں میں ان مقامات کو شدید نقصان پہنچا ہے اور یہ میزائل ’سمندر
اور زمین پر اہداف کو تیزی سے نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے تھے۔‘
بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ حملے ’حکومت کے فوجی
پیداواری ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان کو مزید گہرا کرنے کی ایک اور کڑی ہیں۔‘
بریکنگ, اپنی شکست کو معاہدہ نہ کہیں، آپ خود سے ہی مذاکرات کر رہے ہیں: ترجمان ایرانی فوج کا ٹرمپ کو پیغام
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایران کے خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈکوارٹر کے ترجمان جو
ملک کی مرکزی فوجی کمان ہے نے (امریکہ اور ٹرمپ کا نام لیے بغیر) ’خود ساختہ عالمی
سپر پاور‘ کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’اپنی شکست کو معاہدہ نہ کہیں۔‘
ابراہیم ذوالفقاری نے آج ایرانی میڈیا پر نشر ہونے
والے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ ’کیا آپ کے اندرونی اختلافات اس حد تک پہنچ چکے
ہیں کہ آپ خود ہی اپنے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں؟‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’آپ نہ تو خطے میں اپنی سرمایہ
کاری دوبارہ دیکھیں گے اور نہ ہی توانائی اور تیل کی وہ پرانی قیمتیں، جب تک آپ یہ
نہ سمجھ لیں کہ خطے کا استحکام ہماری مسلح افواج کے طاقتور ہاتھ سے یقینی بنتا ہے۔
استحکام طاقت سے آتا ہے۔‘
ابراہیم ذوالفقاری نے کہا کہ ’ہم جیسے لوگ آپ جیسے لوگوں سے کبھی
سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ نہ اب، نہ کبھی۔‘
ایران امریکہ مذاکرات: ٹرمپ کے 15 نکاتی امن منصوبے میں مبینہ طور پر کیا ہے؟
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ہم نے وہ 15 نکاتی منصوبہ نہیں دیکھا جس کے بارے
میں صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ ایران کو بھیجا گیا ہے۔ اس کے مندرجات کی کوئی
سرکاری تصدیق نہیں ہوئی، تاہم اسرائیلی اور امریکی میڈیا میں کچھ تفصیلات سامنے آ
رہی ہیں۔
اسرائیل کے چینل 12 کے مطابق منصوبے میں درج ذیل
مطالبات شامل ہیں:
نطنز، اصفہان اور فردو میں جوہری تنصیبات کو غیر
فعال کر کے ختم کیا جائے گا
ایران کی سرگرمیوں پر بین الاقوامی جوہری توانائی
ایجنسی کی شفاف
نگرانی اور جائزہ ہوگا
ایران خطے میں مسلح پراکسیز کا استعمال ترک کرے گا
اور علاقائی گروہوں کو فنڈنگ اور اسلحہ فراہم کرنا بند کرے گا
پہلے سے جمع شدہ جوہری صلاحیتوں کو ختم کیا جائے گا
جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے کا عہد کیا جائے گا
ایرانی سرزمین پر یورینیم کی افزودگی نہیں کی جائے
گی اور تمام افزودہ مواد بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے حوالے کیا جائے گا
آبنائے ہرمز پرکسی بھی قسم کی پابندی نہیں ہوگی اور
اسے ’آزاد بحری زون‘ قرار دیا جائے گا
ایران کے میزائلوں سے متعلق فیصلہ بعد میں کیا جائے
گا، تاہم ان کی تعداد اور حد مقرر کی جائے گی اور انھیں صرف دفاعی مقاصد تک محدود
رکھا جائے گا
منصوبے کے تحت ایران کو کیا ملے گا:
بوشہر میں بجلی کی پیداوار کے لیے سویلین جوہری
منصوبے کی ترقی میں امریکی مدد
ایران پر تمام پابندیوں کا خاتمہ
پابندیوں کے دوبارہ نفاذ کے خطرے کا خاتمہ
یہ بھی اطلاعات ہیں کہ مذاکرات کے دوران ممکنہ طور
پر ایک ماہ کی جنگ بندی ہو سکتی ہے تاہم اس کی بھی کوئی سرکاری تصدیق نہیں ہوئی
اور وائٹ ہاؤس کی جانب سے کوئی تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔
تہران سمیت خطے کے مختلف علاقوں میں رات بھر ہونے والے حملوں کی تصاویر
رات بھر اسرائیل اور ایران کی جانب سے ایک دوسرے پر
میزائل داغے جانے کا سلسلہ جاری رہا، جبکہ لبنان کے جنوبی بیروت کے
رہائشیوں کو اسرائیلی دفاعی افواج کی جانب سے خبردار کیا گیا کہ وہ شہر خالی کر
دیں۔
کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ
پر بھی ڈرون حملہ ہوا، جس سے آگ لگ گئی لیکن کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور کُچھ ہی
دیر کے بعد آگ پر بھی قابو پا لیا گیا۔
سعودی عرب
نے بھی رات بھر ڈرونز کو ناکام بنائے جانے کا دعویٰ کیا، جبکہ بحرین کی
وزارت داخلہ نے شہریوں کو مُمکنہ حملوں سے محفوظ رہنے کے لیے سائرن بجئے اور انھیں
محفوظ مقام پر جانے کی ہدایت کی۔
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا کیپشنبیروت، لبنان
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا کیپشنبیروت، لبنان
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنتہران، ایران
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا کیپشناسرائیل
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشناسرائیل
پاکستان نے مارچ اور اپریل کے لیے پیٹرول کی فراہمی کو یقینی بنانے کا انتظام کر لیا ہے: وفاقی حکومت, تنویر ملک، صحافی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان نے مارچ اور اپریل کے لیے ملک میں پٹرول کی
فراہمی کے لیے درآمدی کارگوز حاصل کر لیے ہیں، جبکہ مزید سپلائیز بھی یقینی بنانے کے
اقدامات جاری ہیں۔
وزارت خزانہ نے اپنے ایک اعلامیہ میں کہا ہے کہ ’ملک
میں پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی کی صورتحال مستحکم ہے اور عالمی منڈی میں اتار چڑھاؤ
کے باوجود سپلائی کو یقینی بنانے کے لیے نگرانی جاری ہے۔‘
اعلامیے کے مطابق پیٹرول کی قیمتوں کی نگرانی کرنے والی
کابینہ کمیٹی کا اجلاس وفاقی وزیرِ خزانہ و
محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب کی صدارت میں ہوا جس میں توانائی کی فراہمی اور عالمی
تیل و گیس مارکیٹ کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ ملک میں خام تیل اور ریفائن
شدہ پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر تسلی بخش سطح پر ہیں، جنھیں درآمدی معاہدوں اور مقامی
پیداوار کی مدد حاصل ہے۔
حکام کے مطابق درآمدی ٹرمینلز سے لے کر ریفائنریوں،
ذخائر اور پٹرول پمپس تک سپلائی کا نظام معمول کے مطابق اور بغیر کسی خلل کے جاری ہے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
کمیٹی کو بریفنگ میں آگاہ کیا گیا کہ پیٹرول کی درآمدی کھیپ مارچ اور اپریل کے لیے بڑی حد تک حاصل کر لی گئی ہے جبکہ مزید سپلائیز کا بھی منصوبہ بنایا جا رہا ہے تاکہ ذخائر کو مزید مستحکم بنایا جا سکے۔
مزید یہ کہ ریفائنریاں بھی معمول کے مطابق کام کر رہی ہیں اور خام تیل کی مؤثر پراسیسنگ کو یقینی بنانے کے اقدامات جاری ہیں۔
اجلاس میں عالمی توانائی منڈی میں ہونے والی تبدیلیوں اور قیمتوں کے رجحانات کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ حکام نے بتایا کہ حکومت عالمی اور مقامی قیمتوں کے فرق کا مسلسل جائزہ لے رہی ہے تاکہ بروقت اور متوازن پالیسی مرتب کی جا سکے۔
کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ ملک کے اندر توانائی کے نظام کو مکمل طور پر فعال رکھا جائے اور ریفائنریاں اپنی بہترین استعداد پر کام جاری رکھیں تاکہ کسی ممکنہ بحران سے بچا جا سکے۔ اس موقع پر عالمی سیاسی صورتحال اور اس کے توانائی کی فراہمی پر اثرات کا بھی جائزہ لیا گیا۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اعلامیے کے مطابق حکومت مختلف ممالک کے ساتھ سرکاری سطح پر رابطوں کے ذریعے تیل کی سپلائی کو مزید مستحکم بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان اقدامات میں خام تیل اور ریفائن شدہ مصنوعات کی متنوع ذرائع سے فراہمی، ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں اضافہ اور درآمدی و مالیاتی طریقہ کار میں لچک پیدا کرنا شامل ہے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ خزانہ نے کہا کہ پیشگی منصوبہ بندی، متنوع خریداری حکمتِ عملی اور اداروں کے درمیان قریبی رابطے کی بدولت عالمی غیر یقینی صورتحال کے باوجود پاکستان میں توانائی کی فراہمی مستحکم رہی ہے۔ انھوں نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ عالمی حالات، ذخائر اور سپلائی چین پر کڑی نظر رکھی جائے۔
انھوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور توانائی کے شعبے میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے مربوط حکمت عملی پر عمل جاری رکھا جائے گا۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
وزیراعظم پاکستان کا سعودی ولی عہد سے ٹیلیفونک رابطہ: خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے بدھ کی صبح سعودی
عرب کے ولی عہد اور وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فون پر بات چیت کی۔
وزیر اعظم ہاؤس کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں
کہا گیا ہے کہ ’اس ٹیلیفونک رابطے کے دوران وزیرِاعظم شہباز شریف نے شہزادہ محمد بن
سلمان کو عید کی مبارکباد دی اور سعودی عرب پر حالیہ حملوں کی شدید مذمت کی۔‘
بیان کے مطابق شہباز شریف نے اس مشکل وقت میں مملکت
اور اس کے عوام کے لیے پاکستان کی مکمل یکجہتی اور حمایت کا اظہار کیا اور موجودہ بحران
میں غیر معمولی تحمل کا مظاہرہ کرنے پر قیادت کو سراہا۔
وزیراعظم نے فوری طور پر جنگ کے خاتمے اور معمول پر
آنے پر زور دیا تاکہ علاقائی صورتحال کو مستحکم کیا جا سکے۔
انھوں نے سعودی ولی عہد کو تمام فریقین تک پاکستان کی
تعمیری سفارتی رسائی کے بارے میں آگاہ کیا جس میں کشیدگی کو کم کرنے اور اختلافات کو
مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا گیا ہے۔
وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے جاری بیان میں مزید کہا
گیا ہے کہ ’سعودی ولی عہد کی جانب سے نے پاکستان کی امن کوششوں کو سراہا اور دونوں
رہنماؤں نے دونوں ممالک کے درمیان ہر سطح پر قریبی رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔‘
ہمیں نہیں لگتا کہ وہ مذاکرات کریں گے: ایرانی عوام کا امریکی مذاکراتی عمل پر ردِعمل
،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی فارسی نے ایران اور امریکہ کے درمیان
مذاکرات سے متعلق متضاد خبروں پر ایرانی عوام سے بات کی ہے۔
زیادہ تر افراد نے ان خبروں پر اپنے عدم یقین کا
اظہار کیا۔
تہران کے قریب واقع شہر کرج سے تعلق رکھنے والے ایک
فرد نے کہا ہے کہ ’مجھے نہیں لگتا کہ وہ (امریکہ) مذاکرات کریں گے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’چاہے جنگ رک بھی جائے، یہ
کسی نہ کسی وقت دوبارہ شروع ہو جائے گی،‘ اور یہ بھی کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران ’اس
وقت مضبوطی سے قائم ہے۔‘
تہران میں ایک خاتون نے بھی اسی طرح کی رائے دی ان
کا کہنا تھا کہ ’ٹرمپ مذاکرات کی بات کر کے وقت کے حصول کی کوشش میں ہیں تاکہ جنگ
کو ایک اور مرحلے میں لے جا سکیں۔۔۔ مجھے نہیں لگتا کہ وہ ان کے ساتھ کوئی معاہدہ
کریں گے۔‘
20 سالہ ایک خاتون نے کہا کہ وہ ’بس چاہتی
ہیں کہ ایک پلک جھپکیں اور یہ سب ختم ہو جائے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’مجھے نہیں معلوم کہ یہ سب کیا ہو
رہا ہے اور میں کیسا محسوس کر رہی ہوں،‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’میں اگلے مراحل کے
بارے میں سوچنا بھی نہیں چاہتی۔‘
تاہم ایرانی حکومت کی جانب سے انٹرنیٹ بند کیے جانے
کے باعث ایران کے لوگ بڑی حد تک دنیا سے کٹے ہوئے ہیں۔
پاسدارانِ انقلاب کا اسرائیل، بحرین، کویت اور اردن پر میزائل داغنے کا اعلان: ایرانی ٹی وی کا دعویٰ
اب سے کُچھ دیر قبل تک ہمارے پاس اسرائیلی فوج کی
جانب سے تہران کے متعدد علاقوں پر حملوں کی اطلاعات موجود تھیں تاہم اب ایرانی ٹی
وی یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ ایران نے متعدد مُمالک پر اپنے ایک تازہ حملے میں میزائل داغے ہیں۔
پاسدارانِ انقلاب کے حوالے سے ایرانی میڈیا یہ
خبریں دے رہا ہے کہ پاسدارانِ انقلاب نے اسرائیل، بحرین، کویت اور اردن کی جانب
میزائل داغنے کا اعلان۔
تاہم اس اعلان کے حوالے سے بی بی سی آزاد ذرائع سے
تصدیق نہیں کر سکا ہے۔
روس کا یوکرین پر 24 گھنٹوں میں 948 ڈرونز سے اب تک کا سب سے بڑا حملہ
،تصویر کا ذریعہAndriy Sadovyi/Telegram
روس نے یوکرین کے ساتھ جاری جنگ کے آغاز کے بعد گزشتہ
24 گھنٹوں کے دوران سب سے بڑا فضائی حملہ کیا ہے، جس میں یوکرین کے متعدد شہروں کو
948 ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا گیا ہے۔
یوکرین کی فضائیہ کے مطابق منگل کو مقامی وقت کے
مطابق صبح نو بجے سے 556 ڈرونز داغے گئے، جو دن کے وقت ہونے والا ایک انتہائی غیر
معمولی حملہ تھا، جس میں کم از کم تین افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے۔
مقامی حکام کے مطابق مغربی شہر لویف میں 16ویں صدی
کی برنارڈائن خانقاہ جو شہر کے مرکز میں واقع یونیسکو عالمی ورثہ سائٹ کا حصہ ہے کو
نقصان پہنچا۔
یوکرین انتظامیہ کے مطابق دو کے بعد رات میں 392
ڈرونز اور 34 میزائل داغے گئے۔
تاہم روسی فوج یا انتظامیہ کی جانب سے یورکیں کے ان
دعوں کے حوالے سے کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
لبنان میں اسرائیلی فوج کے حملے چھ افراد ہلاک درجنوں زخمی: سرکاری میڈیا کا دعویٰ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
لبنان کی نیشنل نیوز ایجنسی کی جانب سے سامنے آنے
والی خبروں میں یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ بدھ کی صبح صیدا کے جنوبی علاقے میں
اسرائیلی دفاعی افواج کے حملوں میں کم از کم چھ افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے
ہیں۔
لبنان کی وزارتِ صحت کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ
عدلون قصبے پر ’اسرائیلی فوج کے حملوں میں چار افراد جان سے گئے جبکہ میہ میہ پناہ
گزین کیمپ میں ایک کثر منزلہ عمارت پر حملے میں مزید دو افراد ہلاک اور کئی افراد
زخمی ہوئے۔
اسی طرح جنوبی لبنان کے شہر صور میں شہر کے العلم
چوک پر اسرائیلی فوج کے حملے میں 24 افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔
بدھ کے روز ایشیا میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
بدھ کے روز ایشیا میں ابتدائی کاروباری اوقات کے دوران
خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ہوئی ہے، جس کی وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اُن
بیانات کو قرار دیا جا رہا ہے کہ جن میں اُن کا کہنا ہے کہ ایران جنگ کے خاتمے کے
لیے مذاکرات ’ابھی‘ جاری ہیں۔
برینٹ کروڈ کی قیمت چھ اعشاریہ پانچ فیصد کم ہو کر
97 اعشاریہ 65 ڈالر فی بیرل ہو گئی ہے، جبکہ ایک دن پہلے یہ 100 ڈالر سے تجاوز کر
گئی تھی۔
امریکہ میں ٹریڈ ہونے والے تیل کی قیمت چھ فیصد کم
ہو کر 86 اعشاریہ 77 ڈالر تک آ گئی ہے۔
قیمتوں میں کمی کے باوجود یہ اب بھی ایران جنگ کے
آغاز سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں کافی زیادہ ہیں۔
فلپائن میں توانائی ایمرجنسی کا اعلان، عوام میں بے چینی بڑھنے لگی, سورنجنا تیواریایشیا بزنس رپورٹر، منیلا
،تصویر کا ذریعہGetty Images
فلپائین کے صدر فرڈینینڈ مارکوس جونیئر کی جانب سے
قومی توانائی ایمرجنسی کے اعلان کے اگلے ہی دن منیلا بھر میں فضا بے چینی کا شکار
ہے۔
حکومت نے خبردار کیا ہے کہ ایندھن کی فراہمی کو ’فوری
خطرات‘ لاحق ہیں، کیونکہ مشرقِ وسطیٰ میں تنازع نے عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافہ
کر دیا ہے اور ترسیل کو متاثر کیا ہے۔
فلپائن اس خطے سے درآمد شدہ ایندھن پر بہت زیادہ
انحصار کرتا ہے، جس کی وجہ سے حالات کا اثر شدید ہو سکتا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ استعمال کے مطابق ملک کے
پاس تقریباً 45 دن کا ایندھن موجود ہے اور وہ اضافی سپلائی حاصل کرنے کے لیے تیزی
سے اقدامات کر رہے ہیں۔
یہ ایمرجنسی، جو ایک سال تک جاری رہ سکتی ہے حکام
کو زیادہ وقت فراہم کرتی ہے جس میں ایندھن کی درآمدات کو تیز کرنا، پبلک ٹرانسپورٹ
کے لیے معاونت فراہم کرنا اور خوراک جیسی ضروری اشیاء کی ذخیرہ اندوزی کے خلاف
کارروائی شامل ہے۔
بجلی کی قیمتوں میں مزید اضافے کو روکنے کے لیے
کوئلے پر زیادہ انحصار کرنے کے منصوبے بھی بنائے گئے ہیں۔ وزراء نے عارضی طور پر
ایک سستا لیکن زیادہ آلودہ ایندھن محدود پیمانے پر استعمال کرنے کی بھی اجازت دی
ہے۔
سڑکوں پر دباؤ پہلے ہی واضح ہے۔ جیپنی ڈرائیورز کا
کہنا ہے کہ ایندھن کی قیمتیں بڑھنے سے ان کی آمدنی کم ہو گئی ہے، جبکہ مسافر بڑھتے
ہوئے کرایوں کے لیے تیار ہو رہے ہیں۔
مزدور تنظیم ’کیلسانگ مایو اونو‘ نے اس اقدام پر
تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حکومت کی ناکامی کا ثبوت ہے اور خبردار کیا ہے کہ
احتجاج پر پابندیاں مزدوروں کی آواز کو دبا سکتی ہیں۔
ہزاروں ٹرانسپورٹ ورکرز، جن میں رائیڈ ہیلنگ
ڈرائیورز بھی شامل ہیں اس ہفتے کے آخر میں ہڑتال کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور ان
کا کہنا ہے کہ فی الحال یہ منصوبے تبدیل نہیں ہوئے۔
ایران کے جوہری بجلی گھر پر دوبارہ حملے کے بعد جوہری نگران ادارے کی ’انتہائی تحمل‘ کی اپیل
،تصویر کا ذریعہReuters
بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی آئی اے ای اے کا
کہنا ہے کہ ایران نے ادارے کو آگاہ کیا کہ ایک اور میزائل نے ایران کے بوشہر
نیوکلیئر پاور پلانٹ کے احاطے کو ’نشانہ بنایا‘ ہے۔
ادارے کے مطابق ’ایران کے مطابق پاور پلانٹ کو کوئی
نقصان نہیں پہنچا اور عملے کے اراکین بھی اس حملے میں محفوظ رہے ہیں۔ ایرانی
انتظامیہ کے مطابق پاور پلانٹ بھی معمول کے مطابق کام کر رہا ہے۔‘
آئی اے ای اے کے سربراہ رافیل گروسی نے تنازع کے
دوران جوہری تنصابات کے خطرات کی حفاظت کو یقینی بنانے اور ساری صورتحال میں ’انتہائی
تحمل‘ سے کام لینے کی اپنی اپیل کو دہرایا ہے۔
گزشتہ ہفتے بھی ایران کے اس واحد فعال جوہری بجلی گھر جو جنوبی شہر بوشہر
میں نشانہ بنایا گیا تھا، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی تھی۔
ایئرپورٹ پر ڈرون حملے کے بعد کوئی جانی نقصان نہیں: کویتی حکام
،تصویر کا ذریعہReuters
شہری ہوا بازی کے ادارے کے مطابق ڈرونز نے کویت
انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا، جس سے ہوایی اڈے کے ایک حصے میں آگ بھڑک اٹھی
لیکن کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
بیان کے مطابق آگ بجھانے والے عملے کی بروقت
کارروائی کی وجہ سے آگ پر کُچھ ہی دیر میں قابو پا لیا گیا۔
اسرائیلی فوج کی تہران میں نئی کارروائیوں کی تصدیق
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسرائیلی دفاعی افواج کا کہنا ہے کہ انھوں نے تہران میں
نئے حملوں کا آغاز کر دیا ہے، جس میں دارالحکومت تہران بھر میں ’ایرانی دہشت گرد
حکومت‘ کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
بی بی سی نے ابھی شہر کے اندر موجود ذرائع سے سنا
ہے جو تہران کے مشرق، شمال اور مرکز میں دھماکوں کی اطلاعات دے رہے ہیں۔
تہران سے موصول ہونے والی تازہ تصاویر میں شہر کے مرکز سے اُٹھتے دھوئیں کے سیاہ بادل دیکھے جا سکتے ہیں۔
بریکنگ, تہران میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں, غنچہ حبیب زادہ، بی بی سی فارسی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
تہران کے مشرقی اور شمالی علاقوں میں موجود ذرائع نے بتایا ہے کہ شہر میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔
شہر کے وسطی حصے میں موجود ایک اور ذریعے نے بھی یہی اطلاع دی ہے۔