لائیو, حوثی باغیوں کی اسرائیل پر میزائل حملے کی تصدیق، امریکہ کا ایک اور طیارہ بردار بحری بیڑا مشرقِ وسطیٰ کی جانب روانہ

یمن میں ایران کی حمایت یافتہ حوثیوں نے تصدیق کی ہے کہ انھوں نے امریکہ اور اسرائیل کے ایران کے ساتھ جنگ کے آغاز کے بعد پہلی بار اسرائیل پر حملہ کیا ہے۔ بی بی سی کے امریکی پارٹنر سی بی ایس نیوز کو متعدد ذرائع نے بتایا ہے کہ ایک اور امریکی طیارہ بردار بحری بیڑا یو ایس ایس جارج ایچ ڈبلیو بش مشرقِ وسطیٰ کی جانب روانہ کر دیا گیا ہے۔

خلاصہ

  • ایران پر حملے ٹرمپ کی سفارت کاری کے لیے دی گئی مہلت کے منافی ہیں: عراقچی
  • جی سیون کا عام شہریوں پر حملے روکنے اور آبنائے ہرمز کی بحالی کا مطالبہ
  • یمن کے حوثی باغیوں کی بھی جنگ میں شامل ہونے کی دھمکی
  • امریکہ اور ایران کے نمائندے 'بہت جلد' پاکستان میں ملاقات کر رہے ہیں: جرمن وزیرِ خارجہ
  • اقوامِ متحدہ کا ایران میں بچیوں کے سکول پر حملے کی شفاف تحقیقات جلد مکمل کرنے اور نتائج عام کرنے کا مطالبہ
  • اسرائیل کا ایران کی سمندری بارودی سرنگیں بنانے کی فیکٹری تباہ کرنے کا دعویٰ
  • امریکی صدر نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ 'ایرانی حکومت کی درخواست پر' ایران میں انرجی پلانٹس پر حملے مزید 10 دن تک مؤخر کر رہے ہیں

لائیو کوریج

  1. پاکستانی وزیرِ اعظم اور ایرانی صدر کا رابطہ: امید ہے اجتماعی کوششوں سے کشیدگی کے خاتمے کی راہ نکلے گی، شہباز شریف

    شہباز، مسعود

    ،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images

    پاکستان کے وزیرِاعظم شہباز شریف اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا۔

    وزیرِاعظم کے دفتر سے جاری ایک بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان گفتگو ایک گھنٹے سے زائد جاری رہی جس میں خطے میں جاری کشیدگی اور امن کی کوششوں پر تفصیلی تبادلہ ہوا۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم نے ایران پر اسرائیل کے مسلسل حملوں، بالخصوص گذشتہ روز شہری تنصیبات پر ہونے والے تازہ حملوں کی شدید مذمت کا اعادہ کیا۔

    انھوں نے ان مشکل حالات میں ایرانی عوام کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی اور 1900 سے زائد قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔

    گفتگو کے دوران وزیراعظم نے ایرانی صدر کو اپنی، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جانب سے امریکہ، برادر خلیجی اور اسلامی ممالک کے ساتھ جاری سفارتی رابطوں کے متعلق سے آگاہ کیا، جن کا مقصد امن مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا ہے۔

    وزیرِ اعظم نے پاکستان کے امن اقدام کی بھرپور حمایت کا ذکر کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اجتماعی کوششوں سے کشیدگی کے خاتمے کی کوئی مؤثر راہ نکلے گی۔

    ایرانی صدر نے پاکستان کی سفارتی کاوشوں کو سراہتے ہوئے ایران کے خلاف اسرائیلی اقدامات کے حوالے سے اپنا مؤقف بیان کیا۔

    انھوں نے مذاکرات اور ثالثی کے لیے اعتماد سازی کی ضرورت پر زور دیا اور اس ضمن میں پاکستان کے مثبت کردار کی تعریف کی۔

    وزیراعظم نے ایرانی صدر کو یقین دلایا کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کے فروغ کے لیے اپنا تعمیری کردار جاری رکھے گا۔

  2. سعودی عرب، ترکی اور مصر کے وزرائے خارجہ 29 اور 30 مارچ کو پاکستان آئیں گے: وزارتِ خارجہ

    پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ ترکی، مصر اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ 29 اور 30 مارچ کو اسلام آباد پہنچ رہے ہیں۔

    وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود، ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان اور مصر کے وزیر خارجہ ڈاکٹر بدر عبدالعاطی اسلام آباد آئیں گے۔

    بیان کے مطابق یہ وزارئے خارجہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں سمیت دیگر اُمور پر تفصیلی بات چیت کریں گے۔ وزرائے خارجہ پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف سے بھی ملاقات کریں گے۔

  3. ایران کے ساتھ امریکہ اور اسرائیل کی جنگ میں حوثیوں کی مداخلت پر جنگ پھیلنے کے خدشات

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ایران کے ساتھ امریکہ اور اسرائیل کی جنگ میں حوثیوں کی مداخلت سے بحیرہ احمر کے قریب تنازع کے پھیلنے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

    حوثیوں نے سات اکتوبر 2023 کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد شروع ہونے والی لڑائی کے دوران بھی اسرائیل کی جانب میزائل داغے تھے۔

    حوثیوں نے بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں کو ڈرونز، میزائلوں اور ہیلی کاپٹرز کے ذریعے نشانہ بنایا تھا۔ اس کی وجہ سے کمپنیوں نے یہ روٹ اختیار کرنے کے بجائے افریقہ کا طویل روٹ اپنانے کو ترجیح دی تھی۔

    حوثیوں نے جنوری 2024 میں برطانوی اور امریکی جنگی جہازوں پر بھی حملے کیے تھے۔

    برطانیہ اور امریکہ نے جواب میں یمن میں حوثی اہداف کے خلاف متعدد حملے کیے اور حوثی باغیوں کے حملوں سے جہاز رانی کی حفاظت کے لیے رائل نیوی کا ایک ڈسٹرائر تعینات کیا۔

    مشرق وسطیٰ میں جنگ میں حوثیوں کی مداخلت آبنائے ہرمز، جہاں متعدد ٹینکروں پر حملہ کیا گیا ہے، ایران کی جانب سے مؤثر طریقے سے بند کیے جانے کے بعد جہاز رانی کے لیے مزید خدشات پیدا کر سکتے ہیں۔

    حوثی باغیوں نے 2014 سے شمال مغربی یمن کے زیادہ تر حصے پر کنٹرول کر رکھا ہے، جب اُنھوں نے دارالحکومت صنعا سے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کو بے دخل کیا اوراس کے بعد خانہ جنگی شروع ہو گئی تھی۔

  4. ’اگر حوثیوں نے بحیرہ احمر میں بھی ناکہ بندی کی تو یہ ایک ڈراؤنا خواب ہو گا‘

    چتھم ہاؤس کے ریسرچ فیلو فاریہ المسلمی کا کہنا ہے کہ حوثیوں کی تنازع میں ​​شمولیت ’بڑی اہمیت‘ کی حامل ہے کیونکہ وہ ایک اور اہم بین الاقوامی تجارتی بحیرہ احمر پر بیٹھے ہیں۔

    بی بی سی ریڈیو 4 سے گفتگو کرتے ہوئے اُنھوں نے بتایا کہ حوثیوں نے ابھی تک یہ نہیں کہا ہے کہ وہ بحیرہ احمر پر حملہ کریں گے۔ ان کے خیال میں، وہ ’خود کو ایک اور امریکی حملے سے بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

    خیال رہے کہ 2025 میں بحیرہ احمر میں حوثیوں کے حملے روکنے کے لیے برطانیہ کے ساتھ مل کر بمباری کی تھی۔

    آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد بحیرہ احمر کی ممکنہ بندش کے سوال پر المسلمی کا کہنا تھا کہ ’یہ ایک ڈراؤنا خواب ہے۔ ہمارے پاس پہلے سے ہی ایک ڈراؤنا خواب ہے، اور یہ اسے مزید خوفناک بنا دے گا۔‘

  5. حوثیوں نے اسرائیل پر میزائل حملے کی تصدیق کر دی

    یمن میں ایران کی حمایت یافتہ حوثیوں نے تصدیق کی ہے کہ انھوں نے امریکہ اور اسرائیل کے ایران کے ساتھ جنگ کے آغاز کے بعد پہلی بار اسرائیل پر حملہ کیا ہے۔

    گروپ کا کہنا ہے کہ اس نے ’حساس اسرائیلی فوجی مقامات کو نشانہ بنانے‘ کے لیے بیلسٹک میزائل داغے ہیں اور یہ اقدام ایران، لبنان، عراق اور فلسطینی علاقوں میں ہدف بنائے جانے کے جواب میں کیا گیا۔‘

    گروپ نے مزید کہا کہ اس کے آپریشنز تب تک جاری رہیں گے جب تک تمام محاذوں پر ’جارحیت‘ ختم نہیں ہو جاتی۔

  6. جنوبی لبنان میں جھڑپوں میں دو اسرائیلی فوجی شدید زخمی

    gettyimages

    ،تصویر کا ذریعہgettyimages

    اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) کا کہنا ہے کہ جنوبی لبنان میں جھڑپوں کے دوران دو فوجی شدید زخمی ہوئے ہیں۔

    آئی ڈی ایف نے ایکس پر کہا کہ جمعے کو راکٹ حملے کے دوران ایک افسر شدید زخمی ہوا اور چھ دیگر فوجی معمولی زخمی ہوئے۔

    اس کے علاوہ ایک اور افسر اینٹی ٹینک میزائل فائرنگ میں شدید زخمی اور ایک دوسرے افسر کو معمولی چوٹیں آئیں۔

  7. ابوظہبی میں میزائل کا ملبہ گرنے سے پانچ انڈین شہری زخمی

    getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ابوظہبی میں فضائی دفاع کے ذریعے بیلسٹک میزائل کو ناکارہ بنانے کے دوران پانچ افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

    ابوظہبی میڈیا آفس کے مطابق خلیفہ اکنامک زون کے قریب میزائل کا ملبہ گرنے سے پانچ انڈین شہری زخمی ہو گئے ہیں۔

    میڈیا آفس نے ایکس پر ایک پوسٹ میں مزید بتایا کہ ملبہ گرنے سے دو مقامات پر آگ لگی ہے جسے بجھایا جا رہا ہے۔

  8. یمن کے حوثی باغی کون ہیں؟

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اسرائیلی ڈیفنس فورسز نے تصدیق کی ہے کہ یمن سے اسرائیل کی جانب میزائل داغا گیا ہے۔ خبر رساں اداروں روئٹرز اور اے ایف پی کے مطابق جنگ شروع ہونے کے بعد یمن سے داغا جانے والا یہ پہلا میزائل ہے۔

    یہ یمن کے ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے ترجمان کے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے کہ اگر ایران میں حملے جاری رہے تو وہ مشرق وسطیٰ میں جنگ میں داخل ہو جائیں گے۔

    یمن کے حوثی باغی ایک مسلح سیاسی اور مذہبی گروہ ہیں جو یمن کی شیعہ مسلم اقلیت کی نمائندگی کرتے ہیں۔

    وہ خود کو حماس اور لبنان کی حزب اللہ تحریک جیسے مسلح گروپوں کے ساتھ اسرائیل، امریکہ اور وسیع تر مغرب کے خلاف ایرانی قیادت میں ’مزاحمت کے محور‘ کا حصہ ہونے کا اعلان کرتے ہیں۔

    باضابطہ طور پر انھیں انصار اللہ (خدا کے فریقین) کے نام سے جانا جاتا ہے، یہ گروپ 1990 کی دہائی میں ابھرا اور اس کا نام تحریک کے مرحوم بانی حسین الحوثی سے منسوب ہے۔ گروپ کے موجودہ رہنما ان کے بھائی عبدالمالک الحوثی ہیں۔

    سنہ 2000 کی دہائی کے اوائل میں انھوں نے یمن کے طاقتور حکمرانوں کے خلاف کئی جنگیں لڑیں۔ جب یمن کی حکومت عرب سپرنگ کے مظاہروں کی بدولت اقتدار سے ہٹی تو حوثیوں نے دارالحکومت صنعا کی طرف پیش قدمی کی اور 2014 پر اقتدار پر اپنا قبضہ جما لیا۔

    جب سے سب سے غریب عرب ممالک میں سے ایک یمن میں حوثیوں نے اقتدار سنبھالا ہے یہاں خانہ جنگی سے کافی نقصان ہوا ہے۔

    قریب ڈیڑھ لاکھ لوگوں کی ہلاکت ہوئی ہے جبکہ لاکھوں لوگ خوراک کے لیے امداد پر انحصار کرتے ہیں۔

  9. امریکہ کا ایک اور طیارہ بردار بحری بیڑا یو ایس ایس جارج ایچ ڈبلیو بش مشرقِ وسطیٰ کے لیے روانہ

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بی بی سی کے امریکی پارٹنر سی بی ایس نیوز کو متعدد ذرائع نے بتایا ہے کہ ایک اور امریکی طیارہ بردار بحری بیڑا یو ایس ایس جارج ایچ ڈبلیو بش مشرقِ وسطیٰ کی جانب روانہ کر دیا گیا ہے۔

    یہ طیارہ بردار بحری بیڑا 80 سے زائد طیارے لیجا سکتا ہے اور اسے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی سینٹرل کمانڈ میں تعینات کیا جائے گا۔

    امریکی حکام نے سی بی ایس کو بتایا کہ بڑے پیمانے پر کیریئر اور اس کے سٹرائیک گروپ نے اس ماہ کے شروع میں تعیناتی سے پہلے کی تربیت مکمل کی تھی اور اب وہ ایران میں امریکی کارروائیوں میں شامل ہو سکتے ہیں۔

    اس سے قبل دو گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائر - یو ایس ایس ڈونلڈ کک اور یو ایس ایس میسن بھی اس ہفتے ایران میں امریکی کارروائیوں میں شامل ہونے کے لیے امریکہ سے روانہ ہوئے تھے۔

    گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائر یو ایس ایس راس بھی اس ہفتے امریکہ سے روانہ ہوا ہے، تاہم اس کی منزل کو ظاہر نہیں کیا گیا۔

  10. حوثیوں کی جنگ میں شامل ہونے کی دھمکی کے بعد یمن سے اسرائیل پر میزائل حملہ

    gettyimages

    ،تصویر کا ذریعہgettyimages

    اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) کا کہنا ہے کہ اس نے یمن سے اسرائیلی حدود کی جانب داغے گئے ایک میزائل کی نشاندہی کی ہے۔ خبر رساں اداروں روئٹرز اور اے ایف پی کے مطابق جنگ کے آغاز کے بعد یمن سے داغا جانے والا یہ پہلا میزائل ہے۔

    اسرائیلی فوج نے ٹیلیگرام پر لکھا کہ ’آئی ڈی ایف نے یمن سے اسرائیلی علاقے کی جانب میزائل داغے جانے کی نشاندہی کی ہے اور فضائی دفاعی نظام اس خطرے کو روکنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔‘

    پندرہ منٹ سے بھی کم وقت بعد آئی ڈی ایف نے اعلان کیا کہ ملک بھر میں لوگ محفوظ پناہ گاہوں سے باہر آ سکتے ہیں۔

    یہ پیش رفت اس بیان کے بعد سامنے آئی ہے جس میں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے ترجمان نے کہا تھا کہ اگر ایران پر حملے جاری رہے تو وہ مشرق وسطیٰ کی جنگ میں شامل ہو جائیں گے۔

    یمنی مسلح افواج (حوثی دھڑے) کے ترجمان یحییٰ سریع نے ٹیلیگرام پر بیان میں کہا کہ ’براہِ راست فوجی مداخلت کے لیے ہماری انگلیاں ٹریگر پر ہیں‘ اور یہ اقدامات درج ذیل صورتوں میں کیے جائیں گے:

    • اگر کوئی اور ملک امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ ایران کے خلاف شامل ہوتا ہے
    • اگر بحیرۂ احمر کو ’امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران یا کسی بھی مسلم ملک کے خلاف دشمنانہ کارروائیوں‘ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے
    • اگر ایران کے خلاف کشیدگی میں مزید اضافہ ہوتا ہے

    بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ مؤقف ’امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران، فلسطین و غزہ، عراق اور لبنان کے خلاف جاری جارحیت‘ کے ردعمل میں اختیار کیا گیا ہے۔

  11. سعودی ایئر بیس پر حملے میں 12 امریکی فوجی زخمی ہوئے: امریکی میڈیا

    اس سے پہلے ہم نے امریکہ میں بی بی سی کے پارٹنر ادارے سی بی ایس کے حوالے سے بتایا تھا کہ سعودی ایئر بیس پر حملے میں 10 امریکی فوجی زخمی ہوئے ہیں۔ تاہم اب امریکی میڈیا کے مطابق اس حملوں میں کم از کم 12 امریکی فوجی زخمی ہوئے ہیں۔

    امریکی جریدے وال سٹریٹ جرنل کے مطابق کم از کم دو فوجی بہت شدید زخمی ہیں اور یہ حملہ اُس وقت ہوا جب وہ یہ فوجی سعودی ایئر بیس میں ایک عمارت کے اندر موجود تھے۔

    ذرائع نے نیویارک ٹائمز اور وال سٹریٹ جرنل کو بتایا کہ یہ حملہ ایک میزائل اور کئی ڈرونز کے ذریعے کیا گیا اس میں کئی فضائی ایندھن بھرنے والے طیاروں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

    پینٹاگون اور امریکی سینٹرل کمانڈ نے اس معاملے پر تبصرے کے لیے میڈیا اداروں کی درخواست پر تاحال کوئی جواب نہیں دیا۔

  12. ’ہو سکتا ہے کہ ضرورت پڑنے پر ہم بھی نیٹو کی مدد نہ کریں:‘ صدر ٹرمپ کا ایک بار پھر فوجی اتحاد پر ناراضگی کا اظہار

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے کے لیے فوجی مدد بھیجنے سے انکار پر ایک بار پھر فوجی اتحاد نیٹو پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ ضرورت پڑنے پر ہم بھی نیٹو کی مدد نہ کریں۔

    جمعے کو میامی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’ایسا لگتا ہے کہ اُن (نیٹو) کا کوئی وجود ہی نہیں ہے۔ حالانکہ ہم نیٹو پر سالانہ سینکڑوں ارب ڈالرز خرچ کرتے ہیں اور ہمیشہ ان کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں، لیکن اب ان کے اقدامات کی بنیاد پر میں سمجھتا ہوں کہ اب ہم ایسا کرنے کے پابند نہیں ہے۔‘

    صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’اگر وہ ہمارے ساتھ نہیں ہیں تو پھر ہم ان کے لیے یہاں کیوں ہیں؟‘

  13. تہران میں جمعے کی شب اور سنیچر کی صبح ہونے والے دھماکوں کی تصاویر

    ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ تہران میں رات بھر زبردست حملے ہوتے رہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق دارالحکومت کے فضائی دفاعی نظام کو فعال کر دیا گیا ہے اور دھماکوں کی آوازیں اب بھی سنائی دے رہی ہیں۔

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images

  14. یمن کے حوثی باغیوں کی بھی جنگ میں شامل ہونے کی دھمکی

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    یمن میں حوثی باغیوں نے جمعے کو دھمکی دی ہے کہ اگر ایران پر حملے جاری رہے تو وہ جنگ میں شامل ہو جائیں گے۔

    حوثی باغیوں نے اسرائیل اور امریکہ کو مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے دوران حملوں کے لیے بحیرہ احمر کو استعمال کرنے کے خلاف خبردار بھی کیا ہے۔

    انصار اللہ گروپ کے فوجی ترجمان، بریگیڈیئر جنرل یحییٰ ساری نے ایک ویڈیو بیان میں تصدیق کی کہ اگر امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف کارروائیاں جاری رکھیں تو وہ بھی جنگ میں شامل ہو سکتے ہیں۔

    اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ بحیرہ احمر کے ذریعے اسلامی جمہوریہ ایران اور کسی بھی مسلم ملک کے خلاف کارروائیاں کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

    یہ بیانات حوثی رہنما عبدالمالک الحوثی کی جانب سے اس اعلان کے ایک روز بعد سامنے آئے ہیں جس میں اُنھوں نے کہا تھا کہ اگر مشرق وسطیٰ میں جنگ کے دوران ضرورت پڑی تو وہ ’فوجی کارروائی‘ میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کریں گے۔

    حوثیوں سے وابستہ المسیرہ ٹی وی سے نشر کی گئی ایک تقریر میں اُنھوں نے کہا: ’ہم بطور یمنی عوام، وفاداری کا بدلہ دیتے ہیں۔ یمن کی آزمائش میں، سرکاری سطح پر ہمارے ساتھ یکجہتی کرنے والا واحد ایران تھا اور عمومی سطح پر وہ مزاحمت کا محور تھا۔‘

  15. سعودی ایئر بیس پر ایرانی حملے میں 10 امریکی فوجی زخمی ہوئے ہیں: رپورٹ

    ذرائع نے بی بی سی کے امریکی میڈیا پارٹنر ’سی بی ایس نیوز‘ کو بتایا ہے کہ سعودی عرب کے شہزادہ سلطان ایئربیس پر ایرانی حملے میں 10 امریکی فوجی زخمی ہوئے ہیں۔

    ذرائع نے بتایا کہ یہ حملے میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے کیے گئے۔

    ان میں سے دو امریکی فوجی ’بہت شدید‘ زخمی ہوئے جبکہ آٹھ ’شدید‘ زخمی ہوئے ہیں۔

  16. اب معاملہ آنکھ کے بدلے آنکھ کا نہیں رہے گا: پاسداران انقلاب کے کمانڈر

    ایران میں شہری عمارتوں پر حملوں کے بعد پاسدارانِ انقلاب کے ایرو سپیس کمانڈر مجید موسوی کے ایکس اکاؤنٹ سے پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ ’اب معاملہ آنکھ کے بدلے آنکھ کا نہیں رہے گا، انتظار کریں اور دیکھیں۔‘

    پوسٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل سے منسلک صنعتی کمپنیوں کے ملازمین ’اپنی جانوں کو خطرے میں ڈالنے سے بچنے کے لیے فوراً اپنے دفاتر سے نکل جائیں۔‘

    موسوی کے اکاؤنٹ نے مزید لکھا کہ ’آپ پہلے بھی ہمیں آزما چکے ہیں۔ دنیا نے دوبارہ دیکھ لیا کہ آپ نے ہی آگ سے کھیلنا شروع کیا اور انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا۔‘

    ایک الگ پوسٹ میں ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ’ایران اسرائیلی جرائم کی بھاری قیمت وصول کرے گا۔‘

    ایرانی میڈیا نے آج رپورٹ کیا ہے کہ مرکزی اصفہان میں واقع مبارکہ سٹیل پلانٹ کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اصفہان گورنریٹ کے ڈپٹی سکیورٹی اینڈ لا انفورسمنٹ آفیسر نے بتایا کہ اس حملے میں ایک شخص ہلاک اور دو زخمی ہوئے۔

    اسی طرح ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق جنوبی ایران میں خوزستان سٹیل کمپنی پر بھی حملہ کیا گیا۔ خوزستان گورنریٹ کے ڈپٹی سکیورٹی اینڈ لا انفورسمنٹ آفیسر کے مطابق اس حملے میں 16 افراد زخمی ہوئے۔

  17. ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے، ٹرمپ کا دعویٰ

    ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    فلوریڈا میں میامی پہنچنے پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ سے ایران کی تازہ صورتِ حال کے بارے میں سوال کیا گیا۔

    ٹرمپ نے کہا کہ ’وہ تباہ ہو رہے ہیں۔ ہم ان سے بات کر رہے ہیں، وہ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’بہت سادہ سی بات ہے، ہماری فوج دنیا کی سب سے بہترین فوج ہے، وہ سب سے بہت آگے ہے۔‘

  18. ’ایران، امریکہ مذاکرات ابھی ابتدائی مراحل میں ہیں‘, برنڈ ڈبسمین جونیئر، نامہ نگار برائے وائٹ ہاؤس

    میں نے ابھی اُن حکام کی بریفنگ میں شرکت کی ہے جو ایران جنگ کے خاتمے کے لیے ممکنہ مذاکرات سے باخبر ہیں۔

    ان حکام نے واضح کیا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان کسی بھی باضابطہ مذاکرات میں ابھی کافی وقت لگے گا اور فی الحال فریقین کی بات چیت صرف پاکستان، ترکی اور مصر کے ثالثوں کے ذریعے بالواسطہ ہو رہی ہے۔

    حکام کے مطابق فریقین نے تجاویز کا تبادلہ تو کیا ہے لیکن وہ اب تک ’زیادہ سے زیادہ مطالبات‘ پر مبنی ہیں۔ امریکہ اور ایران کے درمیان اعتماد کی کمی اب بھی بہت گہری ہے۔

    انھوں نے یہ بھی بتایا کہ صورتِ حال تیزی سے بدل رہی ہے لیکن ابھی تک کوئی بھی فریق یہ نہیں سمجھتا کہ براہِ راست بات چیت کے لیے مشترکہ بنیاد موجود ہے۔

    اگر اور جب یہ بات چیت ہوتی ہے تو اس کا انعقاد ممکنہ طور پر پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد، یا استنبول، یا قاہرہ میں ہو سکتا ہے، یا پھر اگر متعدد مرحلے ضروری ہوں تو تینوں جگہوں پر۔

    قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ حکام نے تسلیم کیا کہ یہ تعین کرنا مشکل ہے کہ ایرانی حکومت کی روزمرہ کمان کس کے ہاتھ میں ہے کیونکہ حکومت کو رابطے میں مشکلات کا سامنا ہے اور اعلیٰ قیادت میں ہونے والے جانی نقصان نے فیصلہ سازی پر اثر ڈالا ہے۔

  19. امریکہ کو ’رواں ہفتے‘ ایران کے ساتھ ملاقاتوں کی امید ہے: وٹکوف

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف کا کہنا ہے کہ امریکہ ایران کے ساتھ ’رواں ہفتے‘ ملاقاتوں کے لیے پُرامید ہے۔

    میامی میں ایف 11 پرائیوریٹی ایونٹ سے خطاب کرتے ہوئے وٹکوف نے کہا کہ امریکہ کی ایران سے بات چیت جاری ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’ہمیں لگتا ہے کہ رواں ہفتے ملاقاتیں ہوں گی اور ہم اس بارے میں خاصے پُرامید ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’بحری جہاز گزر رہے ہیں جو کہ اچھی علامت ہے۔‘

    اپنی گفتگو جاری رکھتے ہوئے وٹکوف نے کہا کہ ٹرمپ ایک امن معاہدہ چاہتے ہیں۔ ’ہمارے پاس 15 نکاتی منصوبہ موجود ہے جو ایرانیوں کے پاس کچھ عرصے سے ہے۔ ہم ان کے جواب کے منتظر ہیں۔‘

  20. ایران پر حملے ٹرمپ کی سفارت کاری کے لیے دی گئی مہلت کے منافی ہیں: عراقچی

    ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے ’ایران کے دو بڑے سٹیل کے کارخانوں، ایک پاور پلانٹ اور سویلین جوہری تنصیبات سمیت متعدد شہری عمارتوں پر حملہ کیا ہے۔‘

    ایکس پر جاری اپنے پیغام میں انھوں نے کہا کہ ’اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ اس نے یہ کارروائی امریکہ کے ساتھ ہم آہنگی کے بعد کی اور یہ حملہ ’امریکی صدر کی سفارت کاری کے لیے دی گئی اضافی مہلت کے منافی ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ایران اس کی ’بھاری قیمت‘ وصول کرے گا۔

    یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی توانائی کے انفراسٹرکچر پر کسی بھی حملے کو مزید 10 دن کے لیے روکنے کا اعلان کیا تھا اور اس اعلان کو 24 گھنٹے سے بھی کم وقت گزرا ہے۔

    اسی دوران اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ اس نے مرکزی ایران میں اراک ہیوی واٹر پلانٹ کو نشانہ بنایا ہے۔