پنجاب پولیس کی وردی میں ویڈیو پر تنازع، صبا قمر کا ناقدین کو جواب: ’شہرت کے لیے کچھ اور تلاش کریں‘

،تصویر کا ذریعہ@sabaqamarzaman/instagram
پاکستان میں ٹیلی وژن اور فلم کی مقبول اداکارہ صبا قمر نے اپنے ناقدین کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ بحیثیت اداکار اُن کے کام کی غلط تشریح نہ کی جائے اور نہ ہی محض توجہ حاصل کرنے کے لیے اُن کا استحصال کیا جائے۔
صبا قمر اکثر اپنے بیانات اور انداز کے سبب سوشل میڈیا صارفین کی بحث کا موضوع بن جاتی ہیں۔
کبھی انتخاب کرنا ہو لاہور یا کراچی کا، تو صبا کا جواب کراچی والوں پسند نہیں آتا لیکن اس بار پنجاب پولیس کے یونیفارم میں صبا قمر کی تصویراور ویڈیو نے سوشل میڈیا پر بحث کو جنم دیا۔
ہوا کچھ یوں کے صبا قمر کے انسٹا گرام کی ایک پرانی پوسٹ وائرل ہو گئی جس میں انھوں نے پنجاب پولیس کا یونیفارم پہنا ہوا تھا۔ یہ تصاویر اُن کے 2023 میں ریلیز ہونے والے ٹی وی ڈرامہ ’سیریل کلر‘ کی تھی۔
اس ڈرامے کے کردار کی تصاویر ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر اکتوبر 2021 میں پوسٹ کی گئی۔
گذشتہ کچھ دن سے پنجاب پولیس کے یونیفارم میں ملبوس اُن کی ویڈیو بھی وائرل ہوئی جس میں وہ یونیفارم پہنے ڈریسنگ روم میں بال بنوا رہی ہیں۔
اس وقت خود صبا قمر کے اپنے انسٹا گرام اکاؤنٹ پر صرف تصویر اور ڈرامے کے کلپس موجود ہیں تاہم مختلف پلیٹ فارمز پر ان کی ڈریسنگ روم میں وائرل ہونے والی یونیفارم پہنے ویڈیو موجود نہیں۔
یاد رہے کہ ان ویڈیوز کے وائرل ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ لاہور کے ایک شہری نے صبا قمر کے خلاف پولیس سٹشین میں درخواست دائر کی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ صبا قمر نے ایک تصویر میں پنجاب پولیس کا یونیفارم پہنا ہوا ہے جبکہ حکومت نے عام افراد کا پولیس کا یونیفارم پہنے پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
صبا قمر کے خلاف دائر کی گئی درخواست میں کہا گیا کہ اگرچہ یہ تصویر ایک ڈرامے کے کردار کی ہے لیکن اس طرح کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر جاری کرنے کا مقصد عوام کو ’گمراہ‘ کرنا ہے۔

،تصویر کا ذریعہSocial Media
’شہرت کے لیے کچھ اور تلاش کریں‘
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
پولیس میں جمع کروائی گئی اس شکایت کے جواب میں صبا قمر نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ بحیثیت اداکار اُن کے کام کی غلط تشریح نہ کی جائے اور نہ ہی محض توجہ حاصل کرنے کے لیے اُن کا استحصال کیا جائے۔
اپنے انسٹا گرام اکاؤنٹ پر پوسٹ میں صبا قمر نے وہ اجازت نامہ بھی شیئر کیا جس میں ڈرامے کی شوٹنگ سے قبل یونیفارم پہننے کے لیے پنجاب پولیس سے تحریری اجازت لی گئی تھی۔
صبا قمر کی پوسٹ میں جو تحریری اجازت نامہ شیئر کیا گیا اُس میں2021 میں ڈی آئی جی آپریشنز پنجاب سے کہا گیا کہ پاکستان کی بہتری اور اُس کی ساکھ بہتر کرنے کے سلسلے میں ایک پراجیکٹ میں ہم پنجاب پولیس کا یونیفارم استعمال کرنا چاہتے ہیں جس کے لیے باقاعدہ اجازت درکار ہے۔
اس تحریری اجازت نامہ پر ہاتھ سے ’Allowed‘ درج ہے۔
صبا قمر نے انسٹا گرام میں اپنے پوسٹ میں لکھا کہ ’برائے مہربانی شہرت کے لیے کچھ اور تلاش کریں، میں نے اب تک جو بھی حاصل کیا، وہ میری محنت کا نتیجہ ہے۔ میں آپ کی حوصلہ افزائی کروں گی کہ آپ اپنے کام پر توجہ دیں۔ آپ کا وقت بھی آئے گا۔ گڈ لک‘
صبا قمر کی پولیس یونیفارم کی ویڈیو اور تصویر وائرل ہونے پر اُن کی خلاف شکایت درج کروانے والے وکیل موجدد آفتاب باوجوہ نے مختلف یوٹیوب چینلز کو دیے گئے انٹرویوز میں بتایا کہ ’پولیس کی جانب سے ڈرامے میں یونیفارم پہنے کی اجازت یا این او سی مل سکتا ہے لیکن یونیفارم پہنے ہوئے شوٹنگ کے وقت ٹریسنگ روم میں میک اپ کرواتے ہوئے ویڈیوز بنانے کی اجازت نہیں ملتی۔‘
اُن کا موقف ہے کہ غیر قانونی طور پر یونیفارم پہننا جرم ہے۔
یاد رہے کہ صبا قمر نے پہلی بار کسی ڈرامے میں پولیس افسر کا کردار ادا نہیں کیا۔ وہ اس سے پہلے ایک کامیڈی ڈرامے ’ایس ایچ ای‘ میں بھی پولیس افسر بنی تھیں۔ اس ڈرامے میں انھوں نے پنجاب پولیس کی پرانی ملشیا اور خاکی رنگ کی وردی پہنی تھی۔

،تصویر کا ذریعہ@sabaqamarzaman/instagram
’صبا ہمار فخر ہیں اُن کا پچھا چھوڑ دیں‘: سوشل میڈیا پر ردعمل
پرانی تصویر پر عدالت سے رجوع کرنے کا معاملہ اور صبا قمر کے جواب نے پاکستان کے سوشل میڈیا پر نئی بحث کو جنم دیا۔
کئی افراد نے فنکاروں کو ملنے والی آزادی، حقیقی زندگی اور پرفارمنس کے درمیان حد مقرر کرنے پر بات کی جبکہ بعض افراد کا کہنا تھا کہ پنجاب کی وزیراعلیٰ نے بھی پولیس کا یونیفارم پہنا ہوا ہے۔
سوشل میڈیا سائٹ ’فیس بک‘ پر شہزاد یوسف نامی ایک صارف نے لکھا کہ نا انصافی اپنے عروج پر ہے، مریم نواز نے حقیقی زندگی کے سٹیج ڈرامے میں پولیس کا یونیفارم پہنا تھا۔ پچھلے سال تو اِنھوں نے کوئی پٹیش دائر نہیں کی تھی۔
فیس بک پر ہی ایک صارف حماد شاہ نے لکھا کہ ’یہ صرف اور صرف مارکیٹنگ ہے اور کچھ نہیں۔‘
فیس بک پر ایک صارف نجم لطیف نے لکھا کہ یونیفارم کا غلط استعمال جرم ہے لیکن اس معاملے میں اگر کیس درج ہوتا بھی ہے تو یہ ڈرامے یا فلم کے پروڈیوسر کے خلاف ہونا چاہیے نہ کہ ایکٹر کے خلاف کیونکہ ایکٹر تو صرف ہدایت پر عمل کرتا ہے۔
ڈرامہ انڈسٹری سے وابستہ ایک ایکٹر عمر عالم نے اس معاملے پر صبا قمر کا ساتھ دیتے ہوئے کہا ’خدا کے لیے صبا کا پیچھا چھوڑ دیں وہ اس ملک کا فخر ہیں۔ سب اُن کے پیچھے ہی پڑ گئے ہیں۔‘











