’606 تولے سونا اور ہیرے غائب‘: کراچی پولیس نے کروڑوں کی چوری کا سراغ کیسے لگایا؟

،تصویر کا ذریعہKarachi Police
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
- مطالعے کا وقت: 4 منٹ
کراچی پولیس نے سونے کے زیورات کی ایک دکان میں ہونے والی چوری کی واردات میں مبینہ طور پر ملوث تمام ملزمان کو گرفتار کر کے 30 کروڑ روپے سے زیادہ مالیت کا سامان برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
یہ واردات 13 فروری 2026 کو کراچی کے علاقے اورنگی کی اقبال مارکیٹ میں واقع پرنس جیولرز کی دکان میں ہوئی تھی۔
اقبال مارکیٹ تھانے میں 14 فروری کو دکان کے مالک محمد ایوب خان نے مقدمہ درج کروایا تھا۔
ایوب خان نے درج مقدمے میں کہا کہ ان کی اقبال مارکیٹ میں پرنس جیولرز کے نام سے دکان ہے اور جب صبح پونے نو بجے کے قریب ان کے کاریگر نے دکان کھولی تو اس نے فون پر اطلاع دی کہ چوری ہو گئی ہے، جس پر وہ دکان پہنچے۔
ایوب خان کی جانب سے درج مقدمے کے مطابق ’دکان کے دروازے سے اندر جا کر دیکھا تو پیچھے والے حصے سے دیوار ٹوٹی ہوئی تھی اور دکان کے اندر سامان چیک کیا تو باکس خالی تھے۔‘
درج مقدمے کے مطابق 606 تولے سونا اور 20 سے 25 لاکھ روپے مالیت کے مختلف اقسام کے ہیرے موجود نہیں تھے۔
تاہم آج کراچی پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے اس چوری میں شامل تمام ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے لیکن پولیس ملزمان تک پہنچی کیسے، اس حوالے سے ڈی آئی جی عرفان بلوچ نے پریس کانفرنس میں اس حوالے سے تفصیلات سے آگاہ کیا۔
’چھ ماہ قبل دکان کی چابی کی نقل تیار کروائی گئی‘

،تصویر کا ذریعہKarachi Police
ڈی آئی جی عرفان بلوچ نے آج پریس کانفرنس میں بتایا کہ اس واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں سامنے آیا کہ ملزمان دکان کے تالے نہیں توڑ رہے بلکہ چابی سے تالا کھول رہے ہیں جس سے یہ شبہ پیدا ہوا کہ یا تو دکان کا کوئی ملازم اس واردات میں شامل ہے یا کسی ملازم نے چوروں کو چابی بنا کر دی اور سہولت کاری کی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
ڈی آئی جی عرفان بلوچ کے مطابق پولیس نے دکان میں گزشتہ 14 سال سے کام کرنے والے ایک ملازم کو گرفتار کیا جس نے واردات میں ملوث ماسٹر مائنڈ اور دیگر ساتھیوں کی نشاندہی کی۔
جس کے بعد پولیس نے چھ ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا اور ان کی نشاندہی پر مسروقہ مال اور واردات میں استعمال ہونے والے سامان کو بھی برآمد کر لیا گیا۔
پولیس نے ملزمان سے جدید ڈرل مشین، چھینی، ہتھوڑا، دو پستول اور واردات میں استعمال ہونے والی موٹر سائیکل اور ملزمان کے زیر استعمال 10 موبائل فونز بھی برآمد کر لیے ہیں۔
عرفان بلوچ نے بتایا کہ دکان کے ملازم نے ماسٹر مائنڈ کے ساتھ مل کر واردات کی منصوبہ بندی کی اور تقریباً چھ ماہ قبل دکان کی چابی کی نقل تیار کروائی۔
ایس ایچ او اقبال مارکیٹ شہباز یوسف کا کہنا تھا کہ جمعے کو یہ مارکیٹ بند ہوتی ہے اور اس کا فائدہ اٹھا کر ملزم پیچھے سے دیوار توڑ کر داخل ہوئے جہاں باہر کوئی سی سی ٹی وی کیمرہ نہیں لگا ہوا تھا تاہم اندر لگے کیمرے میں اس واردات کے مناظر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئے۔
اس واردات کی سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک شخص لیٹ کر دیوار میں موجود ایک سوراخ سے دکان میں داخل ہوتا ہے۔
وائرل ویڈیو کے مطابق اس سوراخ سے پہلے ایک شخص کے پیر نکلتے ہیں، پھر ٹانگیں اور پھر وہ خود نیچے اتر کر چابی سے تالے کھولتا ہے۔
دکان کے مالک محمد ایوب نے بھی یہ ہی نشاندہی کی تھی کہ ملزمان کے پاس چابی تھی۔













