چوری کی انوکھی واردات جس کے بعد راولپنڈی پولیس کباڑ خانوں پر چھاپے مار رہی ہے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پیسے چوری ہو گئے، چور گھر کا سامان لے گئے، موٹر سائیکل چوری ہو گئی۔۔۔ آپ نے چوری کی بہت سی وارداتوں کے بارے میں ضرور سنا ہو گا اور یہ کوئی انوکھی بات بھی نہیں لیکن آج ہم آپ کو ایک انتہائی انوکھی چوری کی واردات کے بارے میں بتائیں گے۔
پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے جڑواں شہر راولپنڈی مییں چور سیلاب کی پیشگی اطلاع دینے والا سسٹم ہی اٹھا کر لے گئے۔
یہ سسٹم جاپان نے پاکستان کے محکمہ موسمیات کو سنہ 2004 میں تحفے میں دیا تھا اور اسے نالہ لئی میں کٹاریاں کے مقام پر لگایا گیا تھا۔
راولپنڈی کے تھانہ نیو ٹاؤن پولیس نے چوری کا مقدمہ محکمہ موسمیات کے الیکٹریکل انجینیئر کی مدعیت میں نامعلوم افراد کے خلاف درج کر لیا۔
ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ چور تالے توڑ کر قیمتی بیٹریاں، سولر پلیٹس، کاپر کیبلز، بورڈز اور باکس لے اڑے۔
ایف آئی آر کے مطابق اس جدید سسٹم کی چوری کے بعد خودکار سسٹم سے پانی کی سطح کی معلومات سے متعلق ایک ایس ایم ایس بھی موصول ہوا۔
پولیس کے کباڑ خانوں پر چھاپے
اس مقدمے کے تفتیشی افسر سید عدنان حیدر نے بی بی سی کو بتایا کہ تفتیش میں کچھ پیشرفت ہوئی ہے اور اس ضمن میں سی سی ٹی وی فوٹیج کی بھی مدد لی گئی ہے۔
انھوں نے کہا کہ اہل محلہ سے بھی پوچھ گچھ کی گئی اور ان کے بقول کچھ ایسے افراد کے ملوث ہونے کا بھی احتمال ہے جو نشہ کرتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا کہ پولیس اس چوری شدہ سسٹم کی بازیابی کے لیے شہر کے مختلف علاقوں میں واقع کباڑ خانوں پر بھی چھاپے مار رہی ہے لیکن ابھی تک اس سسٹم کو ریکور نہیں کیا جا سکا۔
عدنان حیدر کے مطابق اس سسٹم کی کل مالیت تین سے چار لاکھ روپے کے درمیان ہے۔
’اس طرح کے سسٹم نالہ لئی میں اور مقامات پر بھی ہیں‘
پاکستان میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ کے سابق سربراہ قمر زمان چوہدری کا کہنا ہے کہ لاہور میں نیشنل فلڈ فورکاسٹنگ سسٹم موجود ہے اور یہ سسٹم واپڈا کے علاوہ دریاؤں میں پانی کی صورتحال کے بارے میں آگاہ کرنے والے اہلکاروں اور محکمہ انہار کے ساتھ بھی مسلسل رابطے میں ہوتا ہے اور بارشوں کی وجہ سے سیلاب کی ممکنہ آمد کے بارے میں متعقلہ حکام کو آگاہ کر دیا جاتا ہے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ نالہ لئی سے جو سسٹم چوری ہوا، وہ بھی نیشنل فلڈ فورکاسٹنگ سسٹم کے ساتھ منسلک تھا جس کی وجہ سے سیلاب کی پیشگی اطلاع مل جاتی تھی۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ حالیہ بارشوں کی وجہ سے سیلاب کا خطرہ ہے تو ایسی صورتحال میں ضلعی انتظامیہ کو کیسے آگاہ کیا جائے گا تاکہ وہ لوگوں کو سیلاب کی ممکنہ تباہ کاریوں سے بچانے کے لیے بروقت انتظامات کر سکیں تو قمر چوہدری کا کہنا تھا کہ ’اس طرح کے سسٹم نالہ لئی میں اور مقامات پر بھی لگائے گئے ہیں لیکن وہ شہری حدود سے باہر ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہBabar Malik
’سسٹم کی چوری کے بعد سیلاب کی درست پیشنگوئی ممکن نہ ہو گی‘
پاکستانی حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ راولپنڈی سے اربن فلڈنگ کا پتا دینے والے جاپانی سسٹم کی چوری کے بعد اس برس مون سون میں نالہ لئی میں سیلابی صورتحال کا درست اندازہ نہیں لگایا جا سکے گا۔
محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر جنرل صاحبزاد خان نے بی بی سی کو بتایا کہ جاپانی سسٹم اربن فلڈنگ سے متعلق درست پتا دے دیتا تھا جسے ’رئیل ٹائم ڈیٹا‘ کہا جاتا ہے مگر اب اس کی جگہ جو نظام اب نصب کیا ہے یہ اندازے کی حد تک معلومات دے سکے گا جسے ’ایسٹیمیٹڈ ڈیٹا‘ کہا جاتا ہے۔
ان کے مطابق پاکستان نے ایک بار پھر جاپان سے اس ٹیکنالوجی سے متعلق درخواست کی ہے تا کہ تمام بڑے شہروں میں بھی اربن فلڈنگ پر قابو پایا جا سکے۔ صاحبزاد خان کے مطابق اس وقت راولپنڈی پولیس صرف ایک اسسٹنٹ سب انسپکٹر سے چوری ہونے والے اس نظام کی تلاش کی کوششیں کر رہی ہے۔ ان کے مطابق چوروں کو پکڑنے کے لیے سنجیدہ کوششیں کرنا ہوں گی کیونکہ یہ لاکھوں شہریوں کی زندگی کا مسئلہ ہے۔










