’دو دن میں دو بار چوری‘: سندھی گلوکار بیدل مسرور کے گھر میں گھی کے ڈبوں میں موجود لاکھوں روپے غائب

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو، کراچی
ہم میں سے اکثر لوگ گھر میں موجود نقدی اور زیورات کو مختلف جگہوں پر سنبھال کر رکھتے ہیں تاکہ وہ چوری نہ ہو جائیں اور ایسا ہی کراچی کے ایک شخص نے کیا لیکن وہ پھر بھی اپنے پیسے نہ بچا پائے۔
سندھ کے نامور گائیک اور پی ٹی وی کے سابق پروڈیوسر بیدل مسرور نے اپنی جمع پونجی گھی کے ڈبوں میں چھپا کر رکھی تھی لیکن اس کے باوجود وہ اسے چوروں سے نہ بچا سکے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ ’چور کو پتا تھا کہ رقم گھی کے ڈبوں میں موجود ہے اس لیے ان ہی ڈبوں کو نشانہ بنایا اور 70 لاکھ روپے چوری کر لیے۔‘
بیدل مسرور کراچی کے علاقے سچل گوٹھ میں رہتے ہیں جہاں سے گذشتہ دو روز میں ان کے گھر دو بار چوری ہوئی۔
پہلے 30 لاکھ والا ڈبہ، پھر 40 لاکھ والا ڈبہ چوری ہوا
بیدل مسرور نے بتایا کہ ان کی اہلیہ کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی اور اسی لیے انھوں نے علاج کے لیے اپنا ایک پلاٹ فروخت کیا جس کی رقم وہ گھی کے دو ڈبوں میں لائے تھے۔
ان کا خیال تھا کہ رقم لے جانے کا یہ طریقہ محفوظ ہے اور کسی کا اس پر دھیان نہیں جائے گا۔
بیدل مسرور کے مطابق ان کے گھر میں چار کمرے ہیں جن میں سے ایک کمرہ ان کے پاس ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ان کا کمرہ سڑک کی طرف ہے جہاں سے چور داخل ہوئے۔
’دوسرے کمرے میں ان کی بیمار بیوی کی صحتیابی کے لیے قرآن کا ورد جاری تھا، اس لیے وہ کوئی آواز نہیں سن سکیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے مزید بتایا کہ ’آرٹس کونسل میں جاری ڈرامہ فیسٹیول میں میرے بیٹے کا ڈرامہ پیش ہو رہا تھا۔ یہ ڈرامہ میں نے تحریر کیا تھا تو اس لیے شام کو میں یہ ڈرامہ دیکھنے چلا گیا۔ رات کو واپس آیا تو سامان بکھرا تھا اور دیکھا تو ایک ڈبہ جس میں 30 لاکھ رپے تھے وہ لاپتہ تھا۔‘
انھوں نے بتایا کہ وہ 13 نومبر یعنی اگلے روز چوری کی ایف آئی آر درج کروانے چلے گئے۔ ’جب میں تھانے سے واپس آیا تو دیکھا کہ دوسرا ڈبہ بھی موجود نہیں تھا جس میں 40 لاکھ روپے موجود تھے۔‘
بیدل مسرور کا خیال ہے کہ ان کے گھر میں منصوبہ بندی سے چوری کی گئی اور چور نے ان کی ریکی کر رکھی تھی۔

،تصویر کا ذریعہBaidal Masroor
پولیس کی تحقیقات جاری
سچل تھانے میں واقعے کی جو پہلی ایف آئی آر درج ہوئی، اس میں بیدل مسرور نے بیان کیا کہ وہ 12 نومبر کی شام 6 چھ بجے اپنا کمرہ بند کر کے چلے گئے۔ ’رات کو واپس آئے اور دروازہ کھولا تو دیکھا سامان بکھرا ہوا پڑا تھا۔ کمرے میں 30 لاکھ نقد نہیں تھے جو کوئی نامعلوم چور لے گیا۔‘
پولیس کو شبہ ہے کہ اس چوری میں کوئی قریبی شخص ملوث ہے، جو بیدل مسرور کو جانتا ہے۔
ڈی ایس پی صادق اوڈھو کا کہنا ہے کہ چور عقبی گیٹ سے داخل ہوا اور جو ڈبے پڑے تھے، صرف وہ ہی چوری کر کے گیا۔
ان کا کہنا ہے کہ ’کچھ شواہد ملے ہیں اور ہم جلد چور تک پہنچ جائیں گے۔‘
صوبائی وزیر ثقافت سید ذوالفقار علی شاہ نے بھی بیدل مسرور سے رابطہ کیا اور انھیں مکمل تفیش اور پیسوں کی ریکوری کی یقین دہانی کروائی ہے۔

،تصویر کا ذریعہBaidal Masroor
بیدل مسرور کون ہیں؟
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
بیدل مسرور 2007 میں پاکستان ٹیلی ویژن سے ریٹائر ہوئے۔ وہ کچھ عرصہ پی ٹی وی نیشنل کے پروگرام مینیجر بھی رہے۔
انھوں نے سندھی، اردو اور براہوی زبان میں پروگرام پیش کیے۔ موسیقی اور ڈراموں کے پروگرامز پر اُنھیں چار گولڈ میڈل اور تین پی ٹی وی ایوارڈ بھی ملے۔
بیدل مسرور کے مشہور ڈراموں میں کوئٹہ سینٹر کا ڈرامہ ’مم‘ اور سندھی کا ڈرامہ ’ہتھین گل مہندی‘ ( یعنی ہاتھوں پر مھندی) اور محبتوں کے سفیر (سندھی شاعروں کے اردو کلام پر مبنی) شامل ہیں۔
وہ درجن کے قریب کتابیں بھی لکھ چکے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ سندھ کے پہلے میوزیکل بینڈ ’سندھ وائسز‘ کے بانی بھی ہیں۔
ان کی 1980 میں شناخت ایک انقلابی گائیک کی طور پر تھی۔ انھوں نے شیخ ایاز اور دیگر ترقی پسند شعرا کے گیت گائے۔
سندھی لینگوئج اتھارٹی کے چیئرمین اور نقاد اسحاق سمیجو کہتے ہیں کہ بیدل مسرور انقلابی اور پسے ہوئے طبقوں کو گانے والے فنکار بیں، جنھوں نے جنرل ضیا کے زمانے میں شیخ ایاز، فیض اور دوسرے ترقی پسند شعرا کی باغیانہ شاعری کو نئی اور جدید موسیقی میں ڈھالا۔
اسحاق سمیجوک کا کہنا ہے کہ بیدل مسرور نے شیخ ایاز کی نظمیں اور گیت گا کر آمریت کے خلاف ایک تخلیقی آگ بھڑکائی. ’جب وہ ایاز کی نظم ’میرے دیدہ ورو میرے دانشورو‘ گاتے تھے تو ایک پورا دور تلاطم میں آ جاتا تھا۔‘













