ایران سے واپس آنے والے پاکستانی طلبا کی روداد: ’ہاسٹل کے کمرے سے دیکھا تو سامنے والی عمارت سے شعلے بلند ہو رہے تھے‘

،تصویر کا ذریعہBalochistanGovt.
- مصنف, محمد کاظم
- عہدہ, بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
- مطالعے کا وقت: 6 منٹ
'تہران پر ہونے والے میزائل حملوں کے باعث پیدا ہونے والے دھماکوں کی شدت بہت زیادہ تھی۔ ایسی صورتحال میں انسان کا خوفزدہ ہونا ایک فطری بات ہے۔ اس صورتحال کے باعث ہم نے فوری طور پر وہاں سے نکلنے کا فیصلہ کیا۔'
یہ کہنا ہے پیر کے روز ایران سے پاکستان پہنچنے والے میڈیکل کے طالبعلم محمد رضا کا۔ رضا کے مطابق وہ تہران میں واقع ایک میڈیکل کالج میں زیر تعلیم ہیں جہاں اُن کا آنے والے دنوں میں ایک اہم امتحان ہونا تھا جس کا شاید وہ اب حصہ نہ بن سکیں۔
ایران میں جاری جنگ کے باعث بہت سے پاکستانی اب اپنے وطن واپس لوٹ رہے ہیں۔
ایران میں تعینات پاکستانی سفیر مدثر ٹیپو نے پیر کے روز بتایا تھا کہ گذشتہ 48 گھنٹوں کے دوران ایران بھر سے تقریباً 650 پاکستانی شہریوں کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ محفوظ مقام پر منتقل کیے گئے پاکستانیوں میں زیادہ تر طلبہ ہیں۔
پاکستانی سفیر کے مطابق 'ہم ہر اُس پاکستانی شہری کی رہنمائی کر رہے ہیں اور انھیں سہولت فراہم کر رہے ہیں جو پیچیدہ سکیورٹی صورتحال کے دوران مختلف مسائل پر ہماری مشاورت چاہتا ہے۔'
ایران میں پھنسے پاکستانی چاہ بہار اور زاہدان کے راستے گوادر اور تفتان پہنچ رہے ہیں۔
جبکہ چند افراد آذربائیجان کے راستے سے بھی وطن واپس پہنچ رہے ہیں۔ آذربائیجان میں پاکستانی سفارتخانے نے ایسے افراد کو مطلع کیا ہے کہ اگر وہ ایران سے آذربائیجان بذریعہ آستارا (آذربائیجان) کراسنگ آ رہے ہیں تو اپنے ساتھ گرم کپڑے رکھیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
سفارتخانے کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ اس وقت استارا میں رات کے اوقات میں شدید سردی ہوتی ہے چنانچہ اس کے حساب سے لباس اور گرم کپڑوں کا انتخاب کیا جائے۔
پاکستان واپس آنے والے ایک اور طالبعلم عبدالغفار نے بتایا کہ وہ زنجان میں واقع میڈیکل یونیورسٹی میں پانچویں سمسٹر میں زیر تعلیم ہیں۔ ان کے مطابق وہ ایک ضروری ٹیسٹ کے سلسلے ایران میں رکے ہوئے تھے لیکن امریکی اور اسرائیلی حملوں کے باعث پیدا ہونے والی خوفناک صورتحال کی وجہ سے وہ اس ٹیسٹ (جو پانچ مارچ کو ہونا ہے) میں شمولیت اختیار نہیں کر سکیں گے کیونکہ اُن کے لیے وہاں مزید ٹھہرنا ممکن نہیں رہا تھا۔
انھوں نے کہا کہ وہ زنجان شہر میں ہونے والے بڑے حملے کے بعد دیگر پاکستانی طلبا کے ہمراہ وہاں سے نکل پڑے تھے۔
عبدالغفار کا تعلق پاکستان میں صوبہ سندھ سے ہے۔ انھوں نے بتایا کہ اس سے قبل اُن کے چند پاکستانی ساتھی اور ہاسٹل فیلوز جنوری میں ایران میں مہنگائی کے خلاف بڑے پیمانے اور حکومتی کریک ڈاؤن کے نتیجے میں پاکستان واپس آئے تھے۔
انھوں نے بتایا کہ 'میں زنجان شہر میں یونیورسٹی کی جانب سے ایک نجی عمارت میں قائم ہاسٹل میں مقیم تھا۔ مجھے زرودار دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں اور دھماکوں کی شدت زیادہ ہونے کی وجہ سے ہم ہل کر رہ گئے تھے۔جب میں نے اپنے کمرے کی کھڑکی کھول کر دیکھا تو ایک عمارت سے آگ کے شعلے بلند ہونے کے علاوہ اس سے دھواں اور گردوغبار اٹھ رہا تھا۔
انھوں نے بتایا کہ ہاسٹل میں موجود اُن کا ایک جونیئر پاکستانی ساتھی سخت خوفزدہ تھا اور وہ بار بار اُن سے پوچھ رہا تھا کہ اب کیا ہو گا اور کیا انھیں واپس پاکستان جانا ہو گا؟

،تصویر کا ذریعہAli Raza Rind
عبدالغفار بتاتے ہیں کہ اس واقعے کے بعد انھوں نے پریشانی کے عالم میں پاکستانی سفارتخانے سے رابطہ کیا اور وہاں سے ملنے والی ہدایات کی روشنی میں انھوں نے فی الفور ایران سے نکلنے کا پروگرام بنایا۔
لاہور سے تعلق رکھنے والے طالبعلم جمیل انور نے بتایا کہ وہ تہران میں ایک نجی ہاسٹل میں رہائش پزیر تھے جب اُن کے گردونواح کے علاقوں میں حملے ہوئے۔
بلوچستان کے ایران سے ملحقہ سرحدی شہر تفتان پہنچنے پر میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ '28 مارچ کو ہونے والے حملوں کے بعد ہم نے تہران میں پاکستانی سفارتخانے سے رابطہ کیا۔ انھوں نے پاکستانیوں کے لیے آٹھ بسوں کا انتظام کر رکھا تھا جن میں بیٹھ کر ہم تفتان کے لیے روانہ ہوئے اور الحمدللہ خیریت سے یہاں پہنچ گئے ہیں۔'
اگرچہ محفوظ طریقے سے پاکستان واپس پہنچنے والے طالبعلم خوش تو ہیں مگر انھیں اپنے تعلیمی مستقبل کے حوالے سے خدشات اور پریشانی بھی لاحق ہے۔
نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک میڈیکل کے طالبعلم نے بتایا کہ 'وہاں (ایران) اگر ایک طالب علم دو سمسٹرز میں فیل ہو یا امتحانات میں شریک نہ ہو تو اُس کو فیل قرار دیا جاتا ہے اور اس کے بعد سارے سیمسٹر کی فیس دوبارہ ادا کرنی پڑتی ہے۔'
ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ نے بتایا کہ پیر کی شام تک مختلف ایرانی جامعات میں زیر تعلیم 58 طلبا سمیت 104 پاکستانی شہری گوادر کے راستے واپس پاکستان پہنچے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان واپس آنے والے طلبا و طالبات میں بڑی تعداد زنجان یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز ، المصطفیٰ یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز ، ارزمگان اور کرمان یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز میں زیر تعلیم تھے۔
انھوں نے بتایا گبد ریمدان بارڈر عبور کر کے پاکستان پہنچنے والوں میں چند کارروباری افراد، زائرین اور سیاح بھی شامل ہیں ۔
اسی طرح تفتان کے راستے واپس پہنچنے والوں کی تعداد 441 ہے، جن میں اکثریت طلبا اور طالبات کی ہے۔
تفتان میں وفاقی حکومت کے ایک اہلکار نے بتایا کہ تفتان میں دو روز کے دوران پہنچنے والوں میں 395 طلبا، 28 بزنس مین اور 18 سیاح شامل ہیں۔
وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا کہنا ہے پاکستان، ایران سرحد سے ملحقہ اضلاع کی انتظامیہ کو ہدایات کی گئی ہے کہ وہ واپس آنے والے پاکستانیوں کو ہر ممکن سہولیات، رہنمائی اور ضروری معاونت فراہم کریں تاکہ انھیں کسی پریشانی کا سامنا نہ ہو۔
سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر اپنے ایک پیغام میں وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ سرحدی مقامات پر امیگریشن حکام چوبیس گھنٹے ڈیوٹی سرانجام دے رہے ہیں تاکہ آمد و رفت کے عمل کو مؤثر اور منظم بنایا جا سکے اور کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ ہو۔
پاکستانی طلبا میڈیکل کی تعلیم کے لیے ایران کیوں جاتے ہیں؟

،تصویر کا ذریعہShahidBahesti
ہر سال پاکستان سے سینکڑوں نوجوان ایران میں تعلیم کے حصول کے لیے جاتے ہیں، اور ان طلبا کی ایک بہت بڑی تعداد وہاں میڈیکل کی تعلیم حاصل کرتی ہے۔
ماضی میں اس حوالے سے بات کرتے ہوئے پاکستانی میڈیکل سٹوڈنٹ زرناب کمیل کا کہنا تھا کہ ایران میں میڈیکل کی تعلیم نسبتاً سستی ہے جبکہ داخلے کے لیے میرٹ بھی زیادہ درکار نہیں ہوتا۔
انھوں نے بتایا کہ دیگر ممالک کی نسبت ایران تک بذریعہ سڑک بھی جایا جا سکتا ہے اور بیشتر طلبا اسی آپشن کا انتخاب کرتے ہیں اور آمد و رفت انتہائی کم کرائے پر ممکن ہو سکتی ہے۔
انھوں نے کہا کہ جس طرح دنیا کے بعض دیگر ممالک کی نجی یونیورسٹیوں میں پاکستانی طلبا کو دھوکہ دہی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ایران میں ایسی کوئی بات نہیں ہے کیونکہ ایران میں یونیورسٹیاں حکومت کے زیر کنٹرول ہیں جس کی وجہ سے کسی یونیورسٹی کا عملہ دھوکہ دہی نہیں کرتا۔
انھوں نے بتایا کہ ایران میں خوراک اور رہائش کے اخراجات بھی زیادہ نہیں ہیں۔ 'کسی اور ملک کے مقابلے میں انتہائی کم خرچ پر ایک طالب علم اچھا اور معیاری کھانا کھا سکتا ہے اور رہائش اختیار کر سکتا ہے۔'
یہ گذشتہ آٹھ ماہ میں پاکستان طلبا اور کاروباری افراد کی بڑے پیمانے پر تیسری واپسی ہے۔
اس سے قبل جون 2025 میں ایران پر اسرائیل کے حملوں کی وجہ سے پاکستانی شہریوں کی بڑی تعداد نے عارضی طور پر وطن واپسی کی تھی۔
جبکہ اس کے بعد رواں سال جنوری کے مہینے میں مہنگائی کے خلاف ایران میں بڑے پیمانے پر ہونے والے احتجاج کی وجہ سے طلبا سمیت دیگر شہریوں کی بڑی تعداد میں زمینی راستوں سے واپسی ہوئی تھی۔










