مردوں کے سپرم کی کوالٹی موسمِ گرما میں زیادہ بہتر کیوں ہوتی ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, جو مک فیڈن
- عہدہ, بی بی سی نیوز
- مطالعے کا وقت: 4 منٹ
ایک نئی تحقیق کے مطابق موسم کا براہ راست اثر مردوں کے تولیدی خلیوں پر پڑتا ہے اور اسی لیے موسم گرما میں نطفے (سپرم) کا معیار سب سے بہتر اور سردیوں میں یہ سب سے کم سطح پر ہوتا ہے۔
اس تحقیق کے لیے برطانیہ، کینیڈا اور ڈنمارک کے سائنسدانوں نے 18 سے 45 برس کے 15 ہزار سے زائد مردوں کے سپرم کے نمونوں کا تجزیہ کیا ہے۔
نتائج سے ظاہر ہوا کہ سپرم کی مؤثر طریقے سے حرکت کرنے کی صلاحیت جون اور جولائی کے مہینوں میں مسلسل سب سے زیادہ رہی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سپرم کی کوالٹی پر موسم کے اثرات کو سمجھنے سے تولیدی صحت سے متعلق علاج کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ اس سے علاج اور ٹیسٹنگ کے وقت کوبھی بہتر انداز میں ترتیب دیا جا سکتا ہے اور اُن جوڑوں کو زیادہ مؤثر رہنمائی فراہم کی جا سکتی ہے جو اولاد کے خواہش مند ہوتے ہیں۔
’ری پروڈکٹیو بائیولوجی اینڈ اینڈوکرائنولوجی‘ نامی جریدے میں چھپنے والی اس تحقیق میں مزید بتایا گیا ہے کہ مرد کے سپرم کی حرکت کرنے کی صلاحیت مختلف ملکوں یا آب و ہوا میں تقریباً ایک جیسی رہتی ہے، تاہم سپرم کی حرکت میں فرق صرف موسموں کے بدلنے سے پیدا ہوتا ہے۔
یعنی چاہے موسم گرم ہو یا سرد، سپرم کی تعداد اور مقدار میں فرق نہیں آتا لیکن اُن کی حرکت کرنے کی صلاحیت گرمیوں میں بہتر اور سردیوں میں کمزور پڑ جاتی ہے۔
تحقیق کے مطابق دسمبر اور جنوری میں سپرم کی حرکت کی رفتار سب سے کم پائی گئی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سائنس دانوں نے یہ بھی نتیجہ اخذ کیا کہ سپرم کی مجموعی تعداد یا سیکس کے دوران خارج ہونے والے مادے منویہ کی مقدار میں موسم کے لحاظ سے کوئی فرق نہیں آیا تاہم موسمی تغیرات اور درجہ حرارت کے فرق سے مردانہ زرخیزی پر زیادہ اثر پڑ سکتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
سائنسدانوں کے مطابق مردانہ خصیوں کا درجہ حرارت عام جسمانی درجہ حرارت (37 ڈگری) سے تقریباً دو سے چار ڈگری کم ہونا چاہیے۔ تاہم اگر یہ درجہ حرارت اس تناسب سے زیادہ یا کم ہو جائے تو سپرم کی حرکت کرنے کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے جس سے زرخیزی پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔
یعنی سپرم کے لیے موزوں ماحول وہی ہے جہاں خصیوں کا درجہ حرارت جسم سے تھوڑا کم ہو، ورنہ سپرم کی کارکردگی کمزور ہو سکتی ہے۔
یاد رہے کہ یہ تحقیق فلوریڈا اور ڈنمارک کے ساڑھے 15 ہزار سے زائد مردوں پر کی گئی۔
یونیورسٹی آف مانچسٹر کے پروفیسر ایلن پیسی اس تحقیق کے شریک مصنف ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ ’ہم اس بات پر حیران ہوئے کہ دو بالکل مختلف آب و ہوا والے علاقوں میں پیٹرن کس قدر یکساں تھا۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’فلوریڈا جیسے علاقے میں بھی، جہاں سال کے زیادہ مہینے گرمی رہتی ہے، سپرم کی حرکت گرمیوں میں بہتر اور سردیوں میں کمزور رہی۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ صرف باہر کا درجہ حرارت ان تبدیلیوں کی وجہ نہیں ہو سکتا۔‘ یعنی سادہ الفاظ میں موسم کا اثر سپرم کی حرکت پر پڑتا ہے، چاہے علاقے کا درجہ حرارت مستقل گرم ہی کیوں نہ ہو۔
پروفیسر ایلن پیسی نے کہا کہ ’ہماری تحقیق اس بات کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے کہ نطفے کے معیار کا جائزہ لیتے وقت موسم کے حالات کو مدِنظر رکھا جائے۔
ان کے مطابق ’اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ سپرم کی حرکت میں موسم کی بنیاد پر پڑنے والا فرق گرم علاقوں میں بھی موجود ہوتا ہے۔ یہ نتائج مردانہ تولیدی صحت کو سمجھنے میں مزید مواقع فراہم کرتے ہیں اور زرخیزی کے بہتر نتائج حاصل کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔‘













