آیت اللہ خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد پرتشدد واقعات میں مرنے والے کون تھے؟: ’کال آئی کزن زخمی ہے، ہسپتال پہنچا تو بھائی اور کزن دونوں مر چکے تھے‘

Zeeshan Ali

،تصویر کا ذریعہZeeshan Ali

،تصویر کا کیپشنمحمد عدیل، رفان علی اور ساجد علی (دائیں سے بائیں)
    • مصنف, ریاض سہیل، زبیر خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام
  • مطالعے کا وقت: 17 منٹ

’عدیل عباس کی دوسال پہلے ہی شادی ہوئی تھی، رہبر اعلیٰ خامنہ ای کی ہلاکت کا سن کر عدیل احتجاج ریکارڈ کرانے گیا تھا۔ وہاں پرکیا کچھ ہوا، کس طریقے سے کیا ہوا، اس کا نہیں پتہ، مجھے تو بس یہ پتا چلا کہ میرا اکلوتا بچہ اس سب میں جان سے چلا گیا۔‘

کراچی کے رہائشی محمد عباس بی بی اردو سے بات کرتے ہوئے اس دن کی روداد سنا رہے تھے جب امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے نتیجے میں ایرانی رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کی کے بعد کراچی سمیت ملک کے دیگر حصوں میں احتجاج کے دوران درجنوں افراد ہلاک ہو گئے تھے اور انھی میں ان کا اکلوتا بیٹا بھی چل بسا۔

استور سے تعلق رکھنے والے رفان علی بھی اس ہنگامہ آرائی کے دوران ہلاک ہونے والوں میں سے ایک ہیں جو کچھ عرصے سے گلگت میں مقیم تھے اور یکم مارچ کو ایرانی رہبر اعلیٰ کی موت کے بعد دیگر افراد کے ہمراہ احتجاج کے لیے نکلے تھے۔

رفان کے چچا حیدر علی نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’رفان علی کی المناک موت نے نہ صرف ہمارے خاندان کو دھچکا پہنچایا ہے بلکہ وہ مستقبل میں پاکستان کی فوج میں شمولیت اختیار کرنا چاہتا تھا مگر افسوس وہ گولی کا نشانہ بن گیا۔‘

یاد رہے یکم مارچ کی علی الصبح ایران کی جانب سے آیت اللہ خامنہ ای کے قتل کی تصدیق کے بعد پاکستان کے مختلف شہروں اور پاکستان کے زیر انتظام خطے گلگت بلتستان میں بڑے پیمانے پر احتجاجی جلسوں اور مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔

کراچی یو ایس کانسلیٹ

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

پاکستان کے زیرِانتظام خطے گلگت بلتستان میں پُرتشدد مظاہروں میں ہلاکتوں کے بعد گلگت اور سکردو کے اضلاع میں تین روز کے لیے کرفیو نافذ کرنے کے علاوہ فوج کو بھی طلب کیا گیا تھا۔

خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد کراچی، سکردو، گلگت اور اسلام آباد میں مظاہروں اور احتجاج کے دوران پرتشدد واقعات کے دوران 32 افراد ہلاک ہوئے۔

گلگت بلتستان میں حکام نے اعلان کیا ہے کہ حالیہ فوجی تنصیبات پر حملوں میں ملوث ملزمان کا ٹرائل فوجی عدالتوں میں کیا جائے گا۔

انسپکٹر جنرل پولیس ڈاکٹر ناصر اکبر خان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ گلگت اور سکردو میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت پر پُرتشدد مظاہروں کے بعد انسدادِ دہشت گردی قوانین کے تحت مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

حکام کے مطابق ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔ حکام نے 18 ہلاکتوں اور درجنوں زخمیوں کی تصدیق کی ہے، جن میں پولیس اور فوجی اہلکار بھی شامل ہیں۔

گلگت بلتستان کی نگران حکومت کے ترجمان شبیر میر نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ علما کی مشاورت کے ساتھ فیصلہ ہوا ہے کہ ایک جوڈیشنل کمیشن قائم کیا جائے گا جو ان واقعات کے ذمہ داران کا تعین کرئے گا۔

آیت اللہ خامنہ ای کی ہلاکت کے خلاف گلگت اور اسکردو میں بڑے پیمانے ہر مظاہرے ہوئے تھے۔

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

،تصویر کا کیپشنآیت اللہ خامنہ ای کی ہلاکت کے خلاف گلگت اور سکردو میں بڑے پیمانے ہر مظاہرے ہوئے تھے۔

دوسری جانب کراچی میں پیش آنے والے واقعات کے بعد سندھ پولیس کی جانب سے ایک جے آئی ٹی تشکیل دی گئی ہے جبکہ غلفت برتنے پر ایس ایس پی کیماڑی امجد شیخ کو ہٹایا گیا ہے جبکہ تین دیگر پولیس افسران ہیں۔

سندھ پولیس نے امریکی سفارتخانے پر حملے اور ہنگامہ آرائی کے الزامات میں تین الگ الگ مقدمات درج کیے ہیں لیکن شیعہ تنظیموں کی جانب سے یہ مقدمات واپس لینے اور امریکی سفارتخانہ بند کرنے کے مطالبات کیے جارہے ہیں۔

’سول ہسپتال پہنچا تو بھائی مر چکا تھا‘

کراچی کے علاقے گلستان جوہر کے رہائشی مبارک جب خامنہ ای کی موت پر ہونے والے احتجاج میں شرکت کے لیے گئے تو ان کے اہل خانہ کو اس بات کا علم بھی نہ تھا۔

،تصویر کا ذریعہMubarak Shah's Family

،تصویر کا کیپشنکراچی کے علاقے گلستان جوہر کے رہائشی مبارک جب خامنہ ای کی موت پر ہونے والے احتجاج میں شرکت کے لیے گئے تو ان کے اہل خانہ کو اس بات کا علم بھی نہ تھا۔

بی بی سی نے عدیل عباس اور رفان کے اہل خانہ کے علاوہ ان مظاہروں میں ہلاک ہونے والے دیگرافراد کے لواحقین سے بھی بات کی ہے جو ان دِنوں اپنے پیاروں کے مرنے پر غم و غصے سے نڈھال ہیں۔

کراچی کے علاقے گلستان جوہر کے رہائشی مبارک جب خامنہ ای کی موت پر ہونے والے احتجاج میں شرکت کے لیے گئے تو ان کے اہل خانہ کو اس بات کا علم بھی نہ تھا۔ جب مبارک کے بڑے بھائی احمد شاہ نے انھیں فون کیا تب انھیں پتا چلا کہ ان کے بھائی کو گولی لگ چکی ہے۔

احمد شاہ کے مطابق ان کا ایک چھوٹا سا کاروبار ہے اور مبارک ان کے ساتھ کام کرتا تھا۔ اتوار کے روز صبح گیارہ دکان سے فون آیا کہ مبارک ابھی تک دکان پر نہیں پہنچا۔

’میں نے کال کی تو بھائی کا موبائل کسی اور نے اٹھایا اور بولا کہ اسے یہ موبائل پڑا ملا ہے، اس کے کوئی دس پندرہ بیس منٹ کے بعد مجھے اس کے دوستوں کا فون آیا کہ آپ کے بھائی کو گولی لگی ہے پھر یہاں سے میں سول ہسپتال پہنچا تو بھائی مر چکا تھا۔‘

سندھ پولیس نے امریکی سفارتخانے پر حملے اور ہنگامہ آرائی کے الزامات میں تین الگ الگ مقدمات درج کیے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

،تصویر کا کیپشنسندھ پولیس نے امریکی سفارتخانے پر حملے اور ہنگامہ آرائی کے الزامات میں تین الگ الگ مقدمات درج کیے ہیں۔

عدیل عباس زیدی کی دوسال قبل شادی ہوئی تھی۔ انھوں نے کمپویٹر کے شعبے میں تعلیم حاصل کر رکھی تھی۔ انھیں کوئی باضابطہ ملازمت نہیں ملی تھی جس کی وجہ سے وہ آن لائن کام کیا کرتے تھے۔

ایران کے رہبر اعلیٰ کی ہلاکت کے خلاف ہونے والے پُرتشدد مظاہروں کے دوران کراچی میں واقع امریکی قونصل خانے میں فائرنگ کے نتیجے میں نو افراد ہلاک ہوئے۔

عدیل عباس کے چچا سید عمران زیدی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’عدیل عباس ٹاؤن گئے ہوئے تھے۔ فجر کے بعد جیسے ہی مسجد میں اعلان ہوئے تو عدیل وہاں نماز کے لیے موجود تھے۔ جب اعلان ہوا کہ احتجاج کے لیے سڑک پر نکلیں، اس کے بعد یہ وہاں سے احتجاج کرنے کے لیے امریکی سفارتخانے کی طرف چلے گئے کہ پر امن احتجاج کیا جائے گا۔‘

’تقریباً گیارہ بجے کے قریب اطلاع ملی ہے کہ ہمارے بھتیجے (عدیل عباس) کو ہلاک کر دیا گیا۔ وہاں پر ایک اور شخص کاظم بھی موجود تھے جن کی فوری طور پہ اطلاع پہنچ چکی تھی، اور جب میرے بھائی وہاں پہنچے تو اس کی لاش وہاں موجود تھی۔‘

’کراچی میں بھائی کے ساتھ گلگت سے آیا کزن بھی ہلاک ہوا‘

کراچی میں قونصل خانے کے باہر ہونے والے پرتشدد واقعات میں ہلاک ہونے والوں میں محمد عدیل اور ان کے کزن ساجد علی بھی شامل ہیں۔ ساجد گلگت سے آئے تھے۔

محمد عدیل کے بھائی محمد شریف نے بتایا کہ وہ سب بشمول عدیل افطاری کر کے بیٹھے تھے جس کے بعد میں عدیل اپنے کام پر چلا گیا۔ شریف کے مطابق، عدیل کام کے ساتھ ساتھ پڑھائی بھی کر رہے تھے۔

’مجھے کال آئی کہ آپ کا کزن ساجد زخمی ہے۔ میں لیاقت ہسپتال پہنچا تو سوچا کہ اپنے بھائی عدیل کو بھی کال کرلوں۔ جیسے میں نے کال کی تو کسی اور لڑکے نے فون اٹھایا۔ میں نے پوچھا عدیل کہاں ہے؟ تو اس نے کہا کہ عدیل زخمی ہو گیا تھا، سول ہپستال آجائیں۔ وہاں پہنچا توعدیل اور کزن دونوں مر چکے تھے۔‘

کراچی میں قونصل خانے کے باہر ہونے والے پرتشدد واقعات میں ہلاک ہونے والوں میں محمد عدیل (دائیں) اور ان کے کزن ساجد علی (بائیں) بھی شامل ہیں۔

،تصویر کا ذریعہPhoto courtesy Adeel and Sajid's family

،تصویر کا کیپشنکراچی میں قونصل خانے کے باہر ہونے والے پرتشدد واقعات میں ہلاک ہونے والوں میں محمد عدیل (دائیں) اور ان کے کزن ساجد علی (بائیں) بھی شامل ہیں۔

’روکنے کے ہزار طریقے تھے لیکن نہیں کیا گیا‘

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

محمد شریف کے مطابق سول ہسپتال میں صورتحال بہت خراب تھی۔ ان کا دعویٰ ہے کہ نہ کوئی ڈاکٹر تھا نہ ہی کوئی سٹاف، لڑکے خود زخمیوں کو گھسیٹ رہے تھے۔

عدیل عباس کے چچا سید عمران زیدی کا کہنا تھا کہ ’پرامن احتجاج تھا۔ ظاہر سی بات ہے ایک عظیم لیڈر مارا گیا ہے ہے۔ ہم کہاں جاتے، سندھ گورنمنٹ کے پاس جا کے بیٹھ جاتے دھرنے کے لیے؟ ظاہر سی بات ہے امریکیوں جنھوں نے ظلم کیا، وہاں جا کے بیٹھے۔‘

محمد شریف کہتے ہیں کہ جوان بچے تھے، رہبر اعلیٰ کی موت برداشت نہیں کر سکے اور جوش میں آگے نکل گئے۔

انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’امریکی میرین فوج نے گولی چلائی۔‘ وہ کہتے ہیں کہ ’اس سے پہلے بھی احتجاج ہوئے تھے، ان کی طرح کنیٹینر لگا دیتے تو آگے امریکی سفارتخانے تک جانے کی نوبت ہی نہ آتی۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’اگر مظاہرین اندر چلے گئے تھے تو اندر جانے کے بعد بھی کچھ قائدے قانون ہوتے ہیں۔۔ واٹر کینن چلاتے، ربڑ کی گولیاں فائر کرتے یا آنسو گیس کے شیل چلاتے، روکنے کے ہزار طریقے تھے لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔‘

خبر رساں ادارے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے امریکی میرینز نے تصدیق کی ہے کہ ان کی جانب سے فائرنگ کی گئی تاہم وہ یہ نہیں بتا سکتے کہ لوگ کس کی جانب سے فائرنگ کے نتیجے میں ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔ اس بارے میں سٹیٹ ڈپارٹمنٹ کا تاحال کوئی موقف سامنے نہیں آیا ہے۔

سکردو کیڈٹ کالج کے طالبعلم رفان علی جو فوجی بننا چاہتے تھے

’ریاست تو ماں کی طرح ہوتی ہے۔ بچوں پر گولی نہیں چلانا چاہیے تھا۔ اگر حالات خراب ہورہے تھے تو ان کو آنسو گیس، لاٹھی چارج، ربڑ کی گولیوں کے زریعے کنٹرول کرتے۔ ریاست کے پاس تو ایسے حالات سے نمٹنے کی صلاحیت، طاقت اور طریقے ہوتے ہیں۔‘

گلگت میں یکم مارچ کو پر تشدد ہنگاموں میں مارے جانے والے سکردو کیڈٹ کالج کے طالب علم رفان علی کے چچا حیدر علی نے یہ بات بی بی سی اردو سے گفتگو میں کہی۔ رفان علی ان مظاہروں کے دوران زخمی ہوئے تھے اور بعد ازاں پانچ مارچ کو وہ دم توڑ گئے۔

رفان علی سکردو کیڈٹ کالج کے طالب علم تھے۔

،تصویر کا ذریعہZeeshan Ali

،تصویر کا کیپشنرفان علی سکردو کیڈٹ کالج کے طالب علم تھے۔

حیدر علی کہتے ہیں کہ ’سوچا بھی نہیں تھا کہ اتنا بڑا سانحہ ہوجائے گا۔ علما کرام نے آیت اللہ خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد اقوام متحدہ کے دفاتر تک پر امن احتجاج کی کال دی تھی۔ جس میں کوئی مسئلہ نہیں تھا مگر وہاں پہنچ کر جو ہوا وہ انتہائی افسوسناک ہے۔‘

حیدر علی کے مطابق رفان علی نے سوگواروں میں چھوٹی بہن اور ماں باپ چھوڑے ہیں۔

’ہم لوگ استور کے رہائشی ہیں مگر بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیے گلگت میں رہائش رکھی ہوئی ہے۔ رفان علی کیڈٹ کالج سکردو میں میٹرک کا طالب علم تھا۔ اس سے پہلے اس نے آرمی پبلک سکول سکردو سے تعلیم حاصل کی تھی۔‘

انھوں نے مطالبہ کیا کہ ہمیں بتایا جائے کہ کیا ہوا اور کیوں ہوا۔ ’گولی مارنا تو مسئلے کا حل نہیں تھا۔ رفان علی جیسے نوجوان لڑکوں کو قانون نافذ کرنے والے ادارے کسی بھی طرح قابو میں کرسکتے تھے۔‘

’اقوام متحدہ کا دفتر جلنے کے بعد فائرنگ ہوئی‘

انجمن امامیہ گلگت بلتستان کے جنرل سیکرٹری غلام عباس نے بتایا کہ ’لوگوں میں غم وغصہ تھا۔ اس غم وغصہ کا اظہار کرنے کے لیے ہم نے فیصلہ کیا کہ ہم اقوام متحدہ کے دفتر کے باہر مظاہرہ کریں گے۔۔۔۔ ہم لوگ ساڑھے دس بجے کے بعد وہاں پہنچے تو اس سے پہلے ہی اقوام متحدہ کا دفتر جلایا جا چکا تھا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اس کے ساتھ پاکستان فوج کی عمارتیں ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ جب اقوام متحدہ کا دفتر جلا تو اس وقت فوج کی عمارتوں سے فائرنگ ہوئی تھی۔

اس الزام پر گلگت بلتستان کی نگران حکومت کے ترجمان شبیر میر کا دعویٰ ہے کہ مشتعل مظاہرین نے پہلے اقوام متحدہ دفاتر کو آگ لگائی، اس کے بعد سکیورٹی اداروں کی عمارات میں گھسے اور وہاں پر تشدد کیا اور فائرنگ کی۔

شبیر میر کے مطابق مظاہرین نے پہلے اقوام متحدہ کے دفاتر کو آگ لگائی اور بعد ازاں سکیورٹی اداروں یا فوج کی عمارتوں میں گھس کر فائرنگ کی، جس پر پولیس نے پہلے ہوائی فائرنگ کی اور پھر اپنے اور سکیورٹی اہلکاروں کے دفاع میں کارروائی کی۔

سکردو میں واقع قوام متحدہ کے دفتر سے دھواں اٹھتا دکھائی دے رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

،تصویر کا کیپشنسکردو میں واقع اقوام متحدہ کے دفتر سے دھواں اٹھتا دکھائی دے رہا ہے۔

عظمت علی ایڈووکیٹ گلگت میں رہائش پذیر ہیں اور وہیں وکالت کرتے ہیں۔

عظمت علی کہتے ہیں کہ ’جب تصدیق ہوئی کہ رہبر اعلیٰ ہلاک ہو چکے ہیں تو لوگوں کی بڑی تعداد باہر نکل آئی۔ جبکہ انجمن امامیہ کی جانب سے سب لوگوں کو 10 بجے مرکز جامع امامیہ گلگت پہچنے کی کال دی گئی تھی اور وہاں سے ساڑھے دس بجے اقوام متحدہ کے دفتر جانا تھا۔‘

’میں دس بجے چائنہ چوک پہنچا جہاں پر عوام کی بڑی تعداد اکھٹی تھی۔ میں نے وہاں پر تقریر بھی کی اور لوگوں کو بتایا کہ ہمارا احتجاج پر امن ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’اس کے بعد میں ساڑھے دس بجے یو این کے دفتر پہنچا تو وہاں سے دھواں اٹھا رہا تھا۔ اس وقت تک اس عمارت کو آگ لگا دی گئی تھی۔ وہاں پر دو، تین سو نوجوان کھڑے تھے جو کسی کو بھی آگے جانے نہیں دے رہے تھے۔ صورتحال پچیدہ تھی۔ قائدین کی جانب سے بار بار پرامن رہنے کی اپیل کی جارہی تھی۔‘

’مشتعل نوجوانوں کی ٹولی‘ کے متعلق عینی شاہد کا بیان

سکردو سے تعلق رکھنے والے تاجر محمد نواز اس سارے واقعہ کے عینی شاہد ہیں۔

محمد نواز کا کہنا ہے کہ قائدین اور مذہبی علما کی جانب سے اعلان کیا گیا تھا دس بجے مرکز میں پہنچنا ہے۔

’ہم دیکھ رہے تھے کہ دس بجے سے پہلے ہی مشتعل نوجوانوں کی بڑی تعداد اقوام متحدہ کے دفتر کے باہر جمع ہو گئی تھی۔ ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے نوجوان اقوام متحدہ کے دفتر کے اندر داخل ہوئے۔ پولیس نے مزاحمت کی کوشش کی مگر کامیاب نہ ہو سکی۔‘

گلگت بلتستان کی نگران حکومت کے ترجمان شبیر میر کا دعویٰ ہے کہ جب ایران کے سرکاری میڈیا نے آیت اللہ کی ہلاکت کی تصدیق کی تو اس وقت یہ پیغامات نشر ہونا شروع ہو گئے کہ مرکزی امام بارگاہوں میں پہنچا جائے۔ جس کے بعد گلگت اور سکردو میں عوام کی بڑی تعداد ان امام بارگاہوں میں پہنچ گئی جہاں سے وہ اقوام متحدہ کے دفاتر کے لیے روانہ ہوئے۔

’فائرنگ دو طرفہ تھی‘

محمد نواز کا کہنا ہے کہ اس وقت وہاں انتہائی خطرناک مناظر تھے۔

اقوام متحدہ کا دفتر (سابقہ پریشان چوک اور موجودہ حسن سدپارہ چوک) کے اردگرد سکیورٹی اداروں کی عمارات اور دفاتر کے علاوہ مختلف این جی اوز کے دفاتر بھی واقع ہیں۔ محمد نواز کا دعویٰ ہے کہ مشتعل افراد ان عمارتوں میں گھسنے کی کوشش کر رہے تھے۔

ان کے مطابق، پولیس ان کو روکنے کی کوشش کررہی تھی مگر مشتعل افراد پولیس پر پتھراؤ کررہے تھے۔

’اس موقع پر پولیس ڈی ایس پی اور کئی اہلکار زخمی ہوگئے۔ یہ لوگ سکیورٹی عمارات کے قریب پہنچ گئے تھے۔ جہاں پر سیکورٹی اہلکاروں نے مشتعل مظاہریں سے بڑے تحمل سے بات کی اور کہا کہ اپنا احتجاج پر امن طریقے سے ریکارڈ کروائیں مگر مظاہرین اندر گھسنے کی کوشش میں مصروف تھے۔‘

محمد نواز کہتے ہیں کہ اس موقع پر پولیس نفری نے اپنی جان پر کھیل کر اقوام متحدہ کے دفتر سے عملے کو محفوظ مقام پر منتقل کیا۔ ’کافی دیر تک یہ سلسلہ چلتا رہا اور پھر فائرنگ شروع ہوگئی۔‘ ان کا دعویٰ ہے کہ ’یہ فائرنگ دوطرفہ تھی۔‘

دوسری جانب عظمت علی ایڈووکیٹ کا دعویٰ ہے کہ ’میں اقوام متحدہ کے چوک میں کھڑا تھا اور کوشش کررہا تھا کہ یہ تشدد ختم ہو جائے مگر میں بے بس تھا، پولیس بھی بے بس نظر آرہی تھی۔ اتنے میں فائرنگ کی آوازیں آنا شروع ہوئیں اور تھوڑی دیر بعد میں نے دیکھا کہ کچھ زخمی نیچے آرہے تھے، شاہد ان کے ساتھ کچھ لاشیں بھی تھیں۔‘

سکردو میں اقوامِ متحدہ کا دفتر

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

،تصویر کا کیپشنسکردو میں اقوامِ متحدہ کا دفتر

انھوں نے دعویٰ کیا کہ اس موقع پر ایک شخص نے انھیں بتایا کہ جب اقوام متحدہ کے دفتر کو آگ لگائی گئی تو اس کے بعد یہ مشتعل افراد جنھیں پہلے نہیں دیکھا تھا، سکیورٹی ادارے کی عمارت کی طرف بڑھنے لگے تو انھیں روکتے روکتے اور منع کرتے کرتے ہم بھی وہاں پہنچ گئے۔ جہاں پر سکیورٹی اہلکاروں نے ان لوگوں کی منتیں کیں، ان کو بہت سمجھایا مگر یہ لوگ باز نہیں آئے۔‘

شبیر میر کا کہنا ہے کہ 11 بجے کے قریب ہمیں اطلاعات ملنا شروع ہوئیں کہ گلگت اور سکردو سے مشتعل اور مشکوک افراد قوام متحدہ کے دفاتر کو آگ لگا کر آگے بڑھنا شروع ہوگئے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ان دونوں جگہوں پر جب پولیس نے ان افراد کا راستہ روکا تو انھوں نے پولیس پر فائرنگ شروع کردی۔

’اپنے چہرہ ڈھانپے لوگ فائرنگ کرتے رہے‘

عظمت علی ایڈووکیٹ کہتے ہیں کہ جب اوپر سے زخمی آرہے تھے تو ان کے ساتھ ایک ایسا شخص بھی تھا جس نے اپنا چہرہ ڈھانپا ہوا تھا اور اس کے ہاتھ میں پستول تھی۔

’میں نے وہاں پر اپنے ایک جاننے والے سے پوچھا کہ یہ کون ہے اور کیا کرتا رہا تو انھوں نے بتایا کہ اس شخص نے اقوام متحدہ کے دفتر سے آگے حساس ادارے کی عمارت کے پاس جا کر تین ہوائی فائر کیے اور ایک فائر زمین پر کیا تھا۔‘

عظمت علی کہتے ہیں کہ انھوں نے اس شخص کو پکڑا لیکن وہ اس کو نہیں جانتے تھے۔ ’اس دوران میں نے کوشش کی میں اس کا شناختی کارڈ لوں یا اس کی کوئی شناخت حاصل کر لوں مگر وہ میرے ساتھ گھتم گھتا ہوگیا۔‘

ان کا مزید دعویٰ ہے اس دوران میں کچھ اور لوگ بھی وہاں آئے جن کو انھوں نے پہلے نہیں دیکھا تھا، وہ مذکورہ شخص کو چھڑا کر لے گئے۔

محمد نواز بھی کہتے ہیں کہ ہم نے بھی سکردو میں مشکوک لوگ دیکھے ہیں جنھوں نے چہرہ ڈھانپا ہوا تھا اور وہ فائرنگ کر رہے تھے۔

آیت اللہ خامنہ ای کی ہلاکت کے خلاف سکردو میں ہونے والے مظاہرے کا ایک منظر

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

،تصویر کا کیپشنآیت اللہ خامنہ ای کی ہلاکت کے خلاف سکردو میں ہونے والے مظاہرے کا ایک منظر

’کم عمر لڑکوں کو کوئی کیسے دہشت گرد کہہ سکتا ہے؟‘

انجمن امامیہ گلگت بلتستان کے جنرل سیکرٹری غلام عباس اس صورتحال پر افسردہ ہیں۔

’ہمیں اس پر بے انتہا افسوس ہے۔ جذبات اس سطح کے تھے کہ اس میں ہنگامے ہو گئے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’جب بینظیر ہلاک ہوئیں، تو کیا ہوا تھا؟ ایسا ہو جاتا ہے مگر(غلام عباس کے دعوے کے مطابق) فائرنگ کرنا اور سیدھی گولی مارنا یہ تو بہت زیادہ زیادتی ہے۔ ٹانگوں پر گولی ماری جا سکتی تھی۔‘

’آنسو گیس کا استعمال کیا جاسکتا تھا۔ پولیس کی اتنی بڑی نفری موجود ہے۔ اس کو استعمال کیا جاتا۔‘

انھوں نے الزام لگایا کہ کہ ’گلگت میں اقوام متحدہ کا دفتر جلائے جانے کے بعد سکیورٹی فورس (فوج) کی عمارت سے براہ راست فائرنگ کی گئی۔ اس کی زد میں کم عمر بچے، طالب علم آئے۔ ہلاک ہونے والوں میں تمام کم عمر بچے شامل ہیں۔ ان کم عمر لڑکوں کو کوئی کیسے دہشت گرد کہہ سکتا ہے؟‘

غلام عباس کا کہنا تھا کہ ’ہمیں سکیورٹی اہلکاروں کی موت پر بھی بہت افسوس ہے۔ مگر یہ تو تحقیقات کے بعد ہی پتا چلے گا کہ کیا واقعہ ہوا ہے۔ کون مظاہرین کو آگے لے کر گیا۔‘

ہلاکتوں کی تعداد

ایران کے رہبر اعلیٰ سید علی خامنہ ای کی ہلاکت کے خلاف ہونے والے پُرتشدد مظاہروں کے دوران کراچی میں واقع امریکی قونصل خانے کے باہر فائرنگ اور پرتشدد مظاہروں کے نتیجے میں پولیس سرجن کے دفتر کے مطابق کُل 11 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ان میں سے نو افراد موقع پر ہی ہلاک ہوئے جبکہ دیگر دو افراد ہسپتال میں دم توڑ گئے۔

کراچی میں ان پرتشدد واقعات میں 97 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

دوسری جانب گلگت اور سکردو میں پر تشدد مظاہروں میں ہلاک ہونے والوں کی مجموعی تعداد 18 ہے۔

گلگت بلتستان نگران حکومت کے ترجمان شبیر میر نے بی بی سی کو بتایا کہ دس گلگت جبکہ پانچ سکردو میں ہلاک ہوئے ہیں۔ سکردو میں پر تشدد مظاہروں میں تین سکیورٹی اہلکار بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

زخمیوں کی تعداد 35 ہے جس میں چھ سکیورٹی اہلکار شامل ہیں۔

اس کے علاوہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بھی تین ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی ہے۔

گلگت بلتستان میں نقصانات اور کارروائیاں

گلگت بلتستان کی نگران حکومت کے ترجمان شبیر میر نے بتایا کہ ’جوڈیشنل کمیشن کے نتائج کے مطابق جو بھی ذمہ دار ہوگا، کوئی بھی اس کی مدد کو نہیں آئے گا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’اپنی تاریخ کی بدترین ہنگامہ آرائی میں ناقابل تلافی جانی و مالی اور انفراسٹرکچر کا نقصان ہوا ہے۔ سکول تک کو جلا دیا گیا۔ کوشش کی جائے گی کہ اس انفراسٹرکچر کے نقصانات کا جلد ازالہ کیا جائے لیکن یہ شاید اتنی جلدی ممکن نہ ہو۔‘

انسپکٹر جنرل آف پولیس گلگت بلتستان کے دفتر سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس ساری ہنگامہ آرائی کے حوالے سے قانونی کاروائی اپیکس کمیٹی کے فیصلے کی روشنی میں آگے بڑھائی جائے گی۔ جس میں ایک جوڈیشنل کمیشن تمام محرکات اور پہلووں کا جائزہ لے گا۔

انجمن امامیہ گلگت بلتستان کے جنرل سیکرٹری غلام عباس کا بھی کہنا ہے کہ جوڈیشنل کمیشن بنانے پر اتفاق ہوا ہے۔

بی بی سی اردو کو صوبائی حکومت کی جانب سے حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق یکم مارچ کو ان پر تشدد ہنگاموں میں سب سے زیادہ مالی اور انفراسٹریکچر کا نقصاں سکردو میں ہوا۔ جہاں پر تین سکیورٹی اہلکار بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

شبیر میر کے مطابق سکردو میں پاک فوج کا 62 برگیڈ کے دفاتر اور 62 برگیڈ ہاؤس بھی مکمل طور پر تباہ ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ کا دفتر اور رہائشی عمارت بھی مکمل تباہ ہو گئی ہے۔ آئی ٹی پارک مکمل طور پر خاکستر ہو گیا ہے۔ ایس ایس پی ہاوس ختم جبکہ ایس ڈی پی او ہاؤس بھی جل چکا ہے۔ آرمی پبلک سکول جو کہ اس علاقے کا ایک بڑا سکول ہے وہ بھی اب مکمل طور پر ناقابل استعمال ہو چکا ہے۔‘

ان سرکاری املاک کے علاوہ نجی اور غیر سرکاری اداروں کی املاک کو بھی نقصاں پہنچا ہے۔

سابقہ پی ٹی ڈی سی ہوٹل جو کہ اب گرین گیسٹ ہاوس ہے وہ بھی جل چکا ہے۔ یہ ایک تاریخی عمارت تھی۔ آغا خان رورل سپورٹ پروگرام کا نہ صرف ہیڈ آفس جلا بلکہ اس میں موجود 29 گاڑیاں بھی جل چکی ہیں۔ معارفی فاؤنڈیشن کے دفاتر پر بھی پتھراؤ کیا گیا۔

گلگت میں اقوام متحدہ کا دفتر اور یو این ڈی پی کا دفتر بھی جلایا گیا ہے۔

شبیر میر کا کہنا تھا کہ ان میں لوٹ مار بھی ہوئی ہے۔ یہ بڑے نقصانات ہیں جبکہ اس کے علاوہ جو سرکاری اور پرائیوٹ املاک کو جزوی نقصانات پہنچے ہیں ان کی تفصیل الگ ہے جو کہ اکھٹی کی جارہی ہے۔