غصے سے بھرا جشن، جوتے کی جانب اشارہ اور شکست پر انڈین کرکٹ بورڈ کی ٹویٹ: ’تم میرا نام کیوں نہیں لیتیں‘

،تصویر کا ذریعہPCB/Getty Images
حالیہ مہینوں میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان ہونے والے کرکٹ میچوں میں ’نو ہینڈ شیک‘ اور میچ کے دوران ہونے والی تلخیاں تو اب ’نیو نارمل‘ بن چکی ہیں اور اتوار کو ایشیا کپ کے فائنل میں پاکستان سے شکست کے بعد انڈین کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) کی جانب سے ’ایکس‘ پر کی گئی ٹویٹ اسی سلسلے کی کڑی ہے۔
اتوار کو دبئی میں کھیلے جانے والے فائنل میں بھی ٹاس کے دوران دونوں کپتانوں نے ہاتھ نہیں ملایا اور میچ کے اختتام پر بھی دونوں ٹیموں کے درمیان ہینڈ شیک نہیں ہوا۔
تاہم اتوار کے روز دبئی میں ایشین کرکٹ کونسل انڈر 19 ایشیا کپ کے فائنل میں پاکستان کی انڈیا کے خلاف کامیابی کے بعد پیر کے روز وزیرِ اعظم پاکستان شہباز شریف نے ٹیم کے کھلاڑیوں کے اعزاز میں ظہرانہ دیا۔
وزیرِ اعظم کی جانب سے انڈیا کے خلاف انڈر 19 ایشیا کپ کا فائنل جیتنے پر کرکٹ ٹیم کے ہر کھلاڑی کو ایک کروڑ روپے کا انعام دینے کا اعلان کیا جبکہ ٹیم کے سپورٹ سٹاف کے ہر فرد کے لیے 25 لاکھ کا اعلان کیا۔
وزیر اعظم نے کھلاڑیوں سے کہا کہ 'اُمید کرتا ہوں کہ آپ کارکردگی کے تسلسل کو برقرار رکھیں گے اور آپ بہت جلد انڈر 19 ورلڈ کپ بھی پاکستان لائیں گے، چیئرمین پی سی بی کو کہتا ہوں کہ تمام کھلاڑیوں کا بھرپور خیال رکھا جائے، تمام کھلاڑیوں کو ہر طرح کی سہولت فراہم کی جائیں۔'
جہاں وزیر اعظم کی جانب سے ٹیم کے لیے انعامات کا اعلان کیا گیا وہیں اسی تقریب میں موجود چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ محسن نقوی نے گزشتہ روز میچ کے دوران پیش آنے والے چند نا خوشگور واقعات کا ذکر بھی کیا اُن کا کہنا تھا کہ 'انڈین انڈر 19 کرکٹ ٹیم نے بھی اپنی نیشنل ٹیم کی طرح روایات کو برقرار رکھا اور میچ کے دوران پاکستانی کھلاڑیوں کو مختلف مواقع پع اُکسانے کی کوشش کی گئی مگر ٹیم کے کھلاڑیوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔'
اُن کا کہنا تھا کہ 'ہمارے کھلاڑیوں نے اپنی توجہ صرف میچ پر اور فائنل ٹرافی جیتنے پر مرکوز کیے رکھی اور محنت جاری رکھی جس کا پھل ہمیں انڈر 19 ایشیا کپ کی ٹرافی کی صورت میں ملا۔'

،تصویر کا ذریعہ@TheRealPCB
واضح رہے کہ پاکستان انڈر 19 نے اتوار کے روز دبئی میں ہونے والے فائنل میں انڈیا انڈر 19 کو 191 رنز کے بڑے مارجن سے شکست دی، جس میں اہم کردار پاکستانی بیٹر سمیر منہاس نے ادا کیا جنھوں نے 113 گیندوں پر نو چھکوں اور 17 چوکوں کی مدد سے 172 رنز بنائے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
میچ کے دوران بھی دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں کے جذبات عروج پر رہے اور وکٹیں لینے کے بعد پاکستانی بولرز کے جارحانہ انداز اور انڈین بلے بازوں کے ساتھ نوک جھونک کا بھی چرچا رہا۔
ایسے میں میچ کے بعد جب انڈین کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) نے میچ میں انڈیا کی شکست سے متعلق ٹویٹ کی تو اُس میں صرف یہ لکھا گیا کہ ’انڈر 19 ایشیا کپ کے فائنل میں انڈیا کو 191 رنز سے شکست۔‘
عام طور پر کرکٹ بورڈز اس نوعیت کی اپ ڈیٹس میں جیتنے والی ٹیم کا بھی نام لکھتے ہیں، اور جیتنے والی ٹیم کو مبارکباد دینے کی بھی روایت رہی ہے۔ لیکن بی سی سی آئی کی اس ٹویٹ میں پاکستان کا نام نہیں تھا۔
تو ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ پاکستانی سوشل میڈیا صارفین یہ بات نوٹ نہ کرتے۔ اس ٹویٹ کے نیچے پاکستانی صارفین جہاں بی سی سی آئِی کو ٹیگ کر کے جیتنے والی ٹیم کا نام پوچھتے رہے تو وہیں انڈین صارفین اپنی ٹیم کی کارکردگی سے ناخوش دکھائی دیے۔
’تم میرا نام کیوں نہیں لیتیں‘

،تصویر کا ذریعہBBCI
بی سی سی آئی سے یہ سوال پوچھنے والوں میں عام صارفین کے ساتھ ساتھ پاکستان کے سینیئر صحافی حامد میر بھی شامل ہیں۔
حامد میر نے ایکس پر بی سی سی آئی کی پوسٹ پر ردعمل دیتے ہوئے لکھا کہ ’کس نے ہرایا، کوئی نام؟‘
ایک صارف شاہد عباسی نے اس موقع پر جون ایلیا کی شاعری کا سہارا لیا اور لکھا ’آپ وہ جی مگر یہ سب کیا ہے، تم مرا نام کیوں نہیں لیتیں۔‘
سبحان نے بی سی سی آئی کو ٹیگ کیا اور مشورہ دیا کہ ’کس نے ہرایا۔۔۔ کوئی نام۔۔۔ نام یاد رکھنا، پاکستان۔‘
پاکستان کے سابق وکٹ کیپر بلے باز عتیق الزمان نے لکھا کہ ’آنے کا شکریہ لیکن ٹرافی ایشیئن کرکٹ کونسل ہیڈ آفس سے بہتر جگہ پر ہے۔‘
انڈین صارفین جہاں اپنی ٹیم کی ناقص کارکردگی پر ناخوش ہیں تو وہیں کچھ پاکستان ٹیم کی شاندار کارکردگی کی بھِی تعریف کر رہے ہیں۔
سوریا ونشی پر تنقید: ’ہر گیند پر چھکا مارنا ضروری نہیں ہوتا‘
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
انڈین صارفین اپنی ٹیم کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے، فائنل میں بڑے ہدف کے تعاقب میں ٹیم کی حکمت عملی پر سوال اُٹھا رہے ہیں۔
آکاش سارن نامی صارف اوپنر سوریا ونشی پر تنقید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ ایک باصلاحیت کھلاڑی ہیں، لیکن اُنھیں اپنے ذہن کا بھی استعمال کرنا چاہیے۔ ’ہر گیند پر باونڈری نہیں لگائی جا سکتی، چاہے آپ کتنے بھی بہترین بلے باز ہی کیوں نہ ہوں۔‘
انڈین کرکٹ ٹیم کو اوپنر سوریا ونشی سے بہت سی اُمیدیں وابستہ تھیں، لیکن وہ فائنل میں جلد ہی پویلین لوٹ گئے تھے۔
ہرش نامی صارف لکھتے ہیں کہ ’سب سے پہلے تو کوچ سنیل جوشی کو فارغ کریں، دسرا ٹیم کا انتخاب صحیح نہیں ہے۔ ٹیم میں ایک بھی رسٹ سپنر نہیں ہے۔ سارے بیٹرز سڑوک پلیئر ہیں، کوئی بھی اننگز کو آگے بڑھانے والا کھلاڑی نہیں ہے۔‘
ایک صارف نے لکھا کہ سوریا ونشی کو ڈومیسٹک کرکٹ میں بھیجیں اور اُس وقت تک بین الاقوامی کرکٹ نہ کھیلنے دیں، جب تک کہ وہ بلے بازی کی بنیادی تکنیک نہ سیکھ لیں۔ ہر گیند پر چھکا مارنا ضروری نہیں ہوتا۔
پراوین لکھتے ہیں کہ ’یہ ایک مایوس کن اور بڑی شکست ہے۔ ہماری انڈر 19 ٹیم بہت اچھی ہے۔۔ بی سی سی آئی کو شکست کی وجوہات کا پتہ لگانا چاہیے۔‘
بعض انڈین صارفین ٹاس جیت کر پہلے پاکستان کو بیٹنگ کی دعوت دینے کے فیصلے پر بھی تنقید کرتے نظر آئے۔

،تصویر کا ذریعہX/@VaddepallyPrav
غصے سے بھرا جشن اور جوتے کی طرف اشارہ
پاکستان اور انڈیا کے درمیان مئی میں ہونے والی لڑائی کے بعد جہاں دونوں ملکوں کے تعلقات انتہائی کشیدہ ہیں تو اس کا اثر اب کھیل کے میدانوں میں بھی واضح نظر آتا ہے۔
ستمبر میں ہونے والے ایشیا کپ کے میچز میں نو ہینڈ شیک اور ٹرافی تنازع کا تسلسل، انڈر 19 ایشیا کپ کے فائنل میں بھی نظر آیا۔
انڈیا کی اننگز کے دوران جب پاکستان پیسر علی رضا نے انڈیا کی اُمیدوں کے مرکز 14 سالہ سوریا ونشی کی وکٹ لی تو اُن کا غصے سے بھرا جشن، سوریا ونشی کو پسند نہ آیا۔
سوریا ونشی نے علی رضا کی جانب دیکھتے ہوئے، اپنے جوتوں کی طرف اشارہ کیا۔ اس سے قبل جب انڈیا انڈر 19 کے کپتان ایوش ماترے کی وکٹ لینے پر بھی علی رضا نے بھرپور جوش دکھایا اور اس پر ماترے اور اُن کے درمیان جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔













