ابرار احمد اور ہسرنگا کی ’سپورٹس مین سپرٹ‘ کا چرچا: ’یہ وہ چیز ہے جو انڈین کرکٹ ٹیم کبھی نہیں سیکھ سکتی‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
متحدہ عرب امارات میں جاری کرکٹ کے ایشیا کپ میں ’سپورٹس مین سپرٹ‘ یا کھیل کی روح پر سب سے زیادہ بات ہو رہی ہے۔
گذشتہ رات ابوظہبی میں کھیلے جانے والے پاکستان اور سری لنکا کے درمیان ہونے والے میچ میں ایسے واقعات پیش آئے جس نے ایک بار پھر اس بحث کو آگے بڑھایا جو انڈیا اور پاکستان کے درمیان ہونے والے میچ سے شروع ہوئے تھے۔
لیکن اس بار سوشل میڈیا پر میدان میں نظر آنے والی مسابقت اور پھر میدان کے باہر کے دوستانہ رویے کی تعریف ہو رہی ہے اور اسے ’سپورٹس مین شپ‘ سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔
جبکہ بعض جگہ اس مقابلے میں بھی انڈیا اور پاکستان کے درمیان جاری کشیدگی کا سایہ نظر آ رہا ہے اور لوگ صفر-چھ کا بھی ذکر کر رہے ہیں۔
یہ باتیں دراصل انڈیا اور پاکستان کے درمیان 14 ستمبر کو ہونے والے لیگ میچ سے شروع ہوئی تھی جس میں دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں نے ایک دوسرے سے رسمی طور پر بھی ہاتھ ملانے سے گریز کیا تھا۔
ایشیا کپ سپر فور مرحلے میں منگل کے روز ہونے والے تیسرے میچ میں پاکستان نے سری لنکا کو پانچ وکٹوں سے شکست دی جس کے بعد سری لنکا ایشیا کپ سے قریباً باہر ہی ہو گیا اور پاکستان کی فائنل تک پہچنے کی امیدیں برقرار رہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کی بولنگ کی تعریفیں
منگل کی شام شروع ہونے والے پاکستان اور سری لنکا کے درمیان والے اہم میچ میں پاکستان نے ٹاس جیت کر پہلے بولنگ کا فیصلہ کیا جو اس وقت درست ثابت ہوا جب شاہین شاہ آفریدی نے اپنے پہلے اوور کی دوسری ہی گیند پر اوپنر کُسال مینڈس کو آوٹ کر دیا۔
انھوں نے پھر اپنے دوسرے اوور کی دوسری گیند پر دوسرے اوپنر پتھُن نِسنکا کو بھی پویلین کی راہ دکھائی۔ سری لنکن ٹیم ان دو ابتدائی نقصان نے سنبھل نہ سکی اور وکٹیں وقفے وقفے سے گرتی رہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کھیل میں اس وقت ایک دلچسپ مرحلہ آيا جب ابرار احمد نے ونندو ہسرنگا کو بولڈ کر دیا اور پھر ان کے ہی انداز میں وکٹ لینے کا جشن منایا۔
ناظرین ان کے اس انداز سے بہت لطف اندوز ہوئے۔ سری لنکا نے مقررہ 20 اوورز میں آٹھ وکٹوں کے نقصان پر 133 رنز بنائے اور اس طرح پاکستان کو ایک آسان ہدف ملا۔
پاکستان کی جانب سے قدرے بہتر آغاز ہوا لیکن جب ہسرنگا نے تھیکشنا کی گیند پر فخر زمان کا ایک ناقابل یقین کیچ لیا تو انھوں نے ابرار احمد کے انداز میں کھڑے ہو کر کھلاڑی کو سر ہلا ہلا کر میدان سے باہر جانے کا اشارہ کیا جو کہ ناظرین کے لیے لطف دوبالا کرنے والا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پھر اگلے ہی اوور میں انھوں نے صائم ایوب کو بولڈ کرنے کے بعد ایک بار پھر ابرار احمد کے انداز میں وکٹ کی خوشی منائی۔
80 رنز پر پاکستان کے پانچ کھلاڑی آؤٹ ہو گئے لیکن پھر پلیئر آف دی میچ قرار دیے جانے والے حسین طلعت اور محمد نواز نے بغیر کسی مزید نقصان کے 12 گیند قبل ہی مطلوبہ ہدف حاصل کر لیا اور اس طرح پاکستان کو ایک اہم کامیابی سے ہمکنار کیا۔
اس میچ کے ساتھ ہی پاکستان کی فائنل میں پہنچنے کی امید تازہ ہو گئی ہے۔ واضح رہے کہ اس سپر فور مرحلے میں اس وقت انڈیا اور بنگلہ دیش دونوں کے ہی دو دو پوائنٹس ہیں جبکہ پاکستان اور سری لنکا کے لیے یہ میچ اہم تھا کیونکہ دونوں ٹیموں کو سپر فور مرحلے کے اپنے پہلے پہلے میچ میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ سری لنکا کو بنگلہ دیش جبکہ پاکستان کو انڈیا نے شکست دی تھی۔
بہرحال میچ کے بعد ابرار احمد اور ہسرنگا کے ایک دوسرے سے گلے ملنے کے منظر نے ناظرین کو سب سے زیادہ متاثر کیا اور سوشل میڈیا پر ان کی سپورٹس مین شپ اور کھیل کی روح کی بات ہونے لگی۔
’یہ وہ چیز ہے جو انڈین کرکٹ ٹیم کبھی نہیں سیکھ سکتی‘
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
جہاں کرکٹ کمنٹیٹرز نے ان دونوں کے انداز کو سراہا اور پھر کھیل کے بعد ان کے گلے ملنے کے منظر کی تعریف کی وہیں سوشل میڈیا ان کے مسابقتی انداز پر فدا نظر آ رہا ہے۔
چنانچہ پاکستان ویمن کرکٹ کی اہم کھلاڑی ثنا میر نے ایکس پر لکھا: ’ہسرنگا اور ابرار اپنی مخالف ٹیم کے کھلاڑیوں کو آؤٹ کرنے کے بعد ایک دوسرے کے جشن کے انداز کی نقل کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ جس قسم کی جارحیت آپ کھیلوں کے میدان میں دیکھنا چاہتے ہیں (یہ وہ ہے)۔ یہ وہ چھیڑچھاڑ ہے جو سب کے لیے لطف و مزے کا باعث ہے۔‘
اسی طرح ہسرنگا اور ابرار کے درمیان کھیل کے بعد ہونے والے دوستانہ مذاق کی کلپ شیئر کرتے ہوئے عبداللہ نامی ایک صارف نے لکھا: ’ہسرنگا اور ابرار احمد میچ کے بعد ہنسی مذاق کرتے اور سپورٹس مین شپ کا مظاہرہ کرتے ہوئے۔ یہ وہ چیز ہے جو انڈین کرکٹ ٹیم کبھی نہیں سیکھ سکتی!‘
نجھوم نامی ایک صارف نے لکھا: ’ہسرنگا اور ابرار کا ایک دوسرے کی نقل کرتے ہوئے جشن منانا واقعی مزاحیہ اور دلچسپ تھا۔‘
ناظم احد نامی ایک صارف نے یوٹیوب پر لکھا: ’ہسرنگا اور ابرار نے اس میچ کو بہت زیادہ دلچسپ بنا دیا۔ دونوں ٹیموں سے پیار۔‘
ڈاکٹر صاحب نامی ایک صارف نے یوٹیوب پر لکھا: ’ہسرنگا اور ابرار نے ایک دوسرے کے جشن منانے کی نقالی کی، پھر گرمجوشی سے گلے ملے اور ہنستے ہوئے انھوں نے حقیقی کھیل کی روح کا مظاہرہ کرتے ہوئے شائقین کو لطف فراہم کیا اور ایک دوسرے کے لیے احترام دکھایا۔‘

،تصویر کا ذریعہSOCIAL MEDIA
سری لنکن کرکٹ کے ایک عہدیدار نبراز رمضان نے میچ کے بعد ابرار احمد اور ہسرنگا کی ملاقات کا کلپ شیئر کرتے ہوئے لکھا: ’اس طرح ہی کرکٹ میچ کو اپنے اختتام پر پہنچنا چاہیے۔‘
ایک اور ٹویٹ میں انھوں نے لکھا: ’بس یہ پسند آیا۔۔۔ کھیل کے دوران دوستانہ مذاق، کھیل کے اختتام پر، وہ بھائی ہیں۔ ناقابل یقین سپورٹس مین شپ۔۔۔ تمام کرکٹرز کے لیے ان میں بہت کچھ سیکھنے کو ہے۔‘
انڈیا میں ہسرنگا کے جواب کو بہت پسند کیا جا رہا ہے اور ان کی تعریف ہو رہی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ انھوں نے پاکستان کو ان کی ہی زبان میں جواب دیا۔
کئی صارف نے معروف سائنسدان نیوٹن کے کلیے کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ ’ہر ایک عمل کا اس کی مناسبت سے رد عمل ہوتا ہے۔‘
سوشل میڈیا پر پاکستان اور انڈیا کے فائنل کے تذکرے
سوشل میڈیا پر اس وقت اس میچ پر دلچسپ تبصرے اور تجزیے جاری ہیں اور شائقین کا خیال ہے کہ پاکستان اگلے میچ میں بنگلہ دیش کو ہرا کر فائنل ایک بار پھر انڈیا کے خلاف کھیلے گا۔
پاکستانی شائقین کا خیال ہے کہ پاکستان اپنی پہلی شکست لکا بدلہ لے گا وہیں انڈین شائقین کا کہنا ہے کہ انڈیا ایک بار پھر پاکستان کو ہرائے گا۔
کچھ صارفین جیت پر کچھ خاص خوش نہیں تھے کیونکہ انھیں مجموعی کارکردگی پسند نہپیں آئی۔ ان میں سے ایک انور علی بیگ نے لکھا ’'سر جی، ہم نے اس جیت پر کیا بولیں، ایسے لگ رہا تھا کہ کہ اب ہم ہارے، اب ہارے۔'

،تصویر کا ذریعہX
البتہ پہلی اننگز کے بعد زیادہ تر پیغامات میں صارفین پاکستانی بولرز کی تعریفیں کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔
شاہین شاہ آفریدی نے چار اوورز میں 28 رنز دے کر تین وکٹیں حاصل کیں اور وہ اس وقت پاکستان کرکٹ شائقین کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہX
ایک صارف نے انڈیا کے خلاف میچ کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ ’مجھے اس بات پر تجسس ہے کہ یہ والے شاہین شاہ آفریدی انڈیا کے خلاف میچ میں کہا چلے جاتے ہیں؟ وہ آج مجھے بالکل مختلف بولر نظر آئے۔'‘
ایک صارف نے لکھا کہ ’شاہین شاہ آفریدی کی بولنگ کی ابتدا اور اختتام دونوں شاندار تھے۔ انھوں نے سری لنکا کی بیٹنگ لائن کے ستونوں کو نقصان پہنچایا۔‘
آج کے میچ میں حسین طلعت نے بھی دو کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔ ان کی بولنگ کی تعریف کرتے ہوئے سعد مالک نامی صارف نے ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’حسین طلعت سے بولنگ کروانے کا فیصلہ اچھا تھا انھوں نے دو اہم وکٹیں حاصل کیں۔‘

،تصویر کا ذریعہX
'ان سے انڈیا کے خلاف میچ میں بھی بولنگ کروائی جانی چاہیے تھی۔'
ابرار احمد نے اپنے چار اوورز میں صرف آٹھ رنز دیے اور ایک اہم وکٹ حاصل کی۔












