42 گیندوں پر سنچری اور 16 اوورز میں میچ ختم: ’سمیر منہاس نایاب ٹیلنٹ ہے‘

،تصویر کا ذریعہPCB
زمبابوے میں پاکستان کی انڈر 19 ٹیم نے ٹرائی سیریز کے فائنل میچ میں فتح حاصل کی تو ابھی دو سو گیندیں ہونا باقی تھیں۔
اس کی وجہ سمیر منہاس کی ایک اور تیز سنچری تھی جو صرف 42 گیندوں میں مکمل ہوئی اور پاکستان نے صرف 17ویں اوور میں ہی مقررہ ہدف حاصل کر لیا۔
اس سے قبل زمبابوے کی ٹیم 44 اوورز میں 158 رن بنا کر آوٹ ہو گئی تھی۔
حال ہی میں سمیر منہاس نے انڈیا کے خلاف انڈر 19 ایشیا کپ کے فائنل میں پاکستان کی جانب سے صرف 113 گیندوں پر 172 رنز کی شاندار اننگز کھیلی تھی۔ اس سیریز میں بھی 360 رنز بنانے والے سمیر منہاس نے دو سنچریاں سکور کیں اور مین آف دی سیریز کا ایوارڈ بھی حاصل کیا۔
ان کی حالیہ فائنل میں سنچری کو ریکارڈ ساز قرار دیا جا رہا ہے۔
اس پرفارمنس کے بعد ایک بار پھر سمیر منہاس کی بیٹنگ کا چرچا ہو رہا ہے اور پی سی بی چیئرمین محسن نقوی نے ایکس اکاوئنٹ پر ٹیم کو مبارک باد دیتے ہوئے ان کا نام خصوصی طور پر لکھا۔
ایسے میں بہت سے کرکٹ مداح ان کو سراہ بھی رہے ہیں اور اس امید کا اظہار بھی کر رہے ہیں کہ وہ پاکستان کی ٹیم کے لیے اہم بلے باز ثابت ہو سکتے ہیں۔ ایک صارف نے لکھا کہ وہ ’نایاب ٹیلنٹ ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہPCB
لمبی اننگز کھیلنے کے شوقین سمیر منہاس کون ہیں؟
پاکستان نے انڈیا کو شکست دے کر انڈر 19 ایشیا کپ کا ٹائٹل اپنے نام کر لیا مگر اس میچ میں پاکستان کے پہاڑ جیسے سکور کے پیچھے جس نوجوان کا ہاتھ تھا، اسے لمبی اننگز کھیلنے کا بہت شوق ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
یہ پہلا موقع نہیں جب جنوبی پنجاب کے شہر ملتان سے تعلق رکھنے والے سمیر منہاس نے ایک بڑی اننگز کھیل کر ٹیم کو اچھا آغاز فراہم کیا ہو۔ اسی ایونٹ کے مجموعی طور پر دوسرے اور پاکستان پہلے میچ میں انھوں نے ملائیشیا کے خلاف 177 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی تھی۔
ملائیشیا کے خلاف اننگز میں انھوں نے 11 چوکے اور آٹھ چھکے مارے تھے۔
صرف 19 سال اور 19 دن کی عمر میں دو بڑی اننگز کھیلنے والے سمیر منہاس دو دسمبر سنہ 2006 کو ملتان میں پیدا ہوئے۔ دائیں ہاتھ کے اوپننگ بلے باز کا تعلق ایک ایسے خاندان سے ہے جس میں پہلے ہی سے ایک اور انٹرنیشنل کرکٹر موجود ہے۔
وہ پاکستان کی چار ٹی20 انٹرنیشنل میچوں میں نمائندگی کرنے والے عرفات منہاس کے چھوٹے بھائی ہیں، جنھوں نے 2023 اور 2024 میں ہانگ کانگ، افغانستان، بنگلہ دیش اور زمبابوے کے خلاف گرین شرٹس کی نمائندگی کی۔
سمیر منہاس ان نوجوان کھلاڑیوں میں سے ایک ہیں جو پاکستان کرکٹ بورڈ کے پاتھ وے سسٹم سے سامنے آئے ہیں۔ پاکستان انڈر 19 کی نمائندگی کرنے سے پہلے وہ ملتان ریجن انڈر 13، سدرن پنجاب انڈر 16، ملتان انڈر 19 اور ملتان ریجن انڈر 19 کی نمائندگی کر چکے ہیں۔
گزشتہ ماہ تک پاکستان کرکٹ بورڈ کے یوتھ ڈویلپمنٹ پروگرام کے سربراہ کے طور پر کام کرنے والے سابق کپتان اظہر علی نے سمیر منہاس کو مستقبل کے لیے ایک اچھا آپشن قرار دیا۔
صحافی عمیر علوی سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا جب انھوں نے پہلی مرتبہ سمیر منہاس کو رواں سال کراچی کے تربیتی کیمپ میں دیکھا تھا، تب ہی نوجوان کرکٹر نے انھیں متاثر کیا تھا۔
’اس کی کریز پر کھڑے ہونے کی تکنیک بہت اچھی لگی تھی اور شاٹ سلیکشن بھی، اگر اس پر محنت کی جائے تو پاکستان کے لیے مستقبل میں بھی اچھا کھلاڑی ثابت ہوسکتا ہے۔‘
بقول اظہر علی سمیر منہاس کی کامیابی کے پیچھے پاکستان کرکٹ بورڈ کے پاتھ وے سسٹم کا ہاتھ ہے جس کے ذریعے وہ سامنے آئے ہیں۔ وہ ہر ایج گروپ لیول پر اچھی پرفارمنس دیتے رہے ہیں جس کی وجہ سے انھیں ورلڈ کپ اور ایشیا کپ سے پہلے لگائے گئے تربیتی کیمپ میں شامل کیا گیا۔
’چار مہینے پہلے تربیتی کیمپ میں سمیر منہاس نے بڑی محنت کی جس کا نتیجہ آج سب کے سامنے ہے۔ وہ نہ صرف ایک اچھے ٹاپ آرڈر بلے باز ہیں بلکہ بہترین فیلڈر بھی ہیں جو مستقبل میں پاکستان کی نمائندگی کر سکتے ہیں۔‘
اظہرعلی کا کہنا تھا کہ ’ایشیا کپ میں دو سنچریاں بنانے والے سمیر ڈومیسٹک انڈر19 ایونٹ میں بھی ٹاپ سکورر رہے، جہاں انھوں نے دو سنچریاں سکور کر کے اپنی فارم سے سلیکٹرز کو متوجہ کیا تھا۔‘
ان کے مطابق ملائشیا انڈر 19 کے خلاف سمیر منہاس کی سنچر ی کو بھلایا نہیں جا سکتا جبکہ انڈیا کے خلاف ناک آؤٹ مرحلے میں ان کی جارحانہ اور ذمہ دارانہ بلے بازی ان کے ٹیلنٹ کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
سوشل میڈیا پر سمیر منہاس کے چرچے

،تصویر کا ذریعہX
پاکستان کی نیشنل کرکٹ ٹیم کے اوپنر اور جارحانہ کھیل کی وجہ سے جانے پہچانے جانے والے صاحبزادہ فرحان نے سمیر منہاس کی فائنل میچ میں انڈیا کے خلاف بیٹنگ کے دوران لی جانے والی ایک تصویر ایکس پر شئیر کی اور اس کے ساتھ انھوں نے لکھا کہ ’کیا کمال کا کھلاڑی ہے سمیر منہاس۔‘
پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان راشد لطیف نے ایکس پر لکھا کہ ’سمیر منہاس ایشیا کپ انڈر 19 ٹورنامنٹ میں بہت مستقل مزاج رہے، اس ایونٹ میں 471 رنز بنائے۔ کیا کمال کی پرفارمنس تھی۔‘
خان نامی ایک ایکس صارف نے سمیر منہاس کی تعریف میں لکھا کہ ’انڈیا کے ساتھ فائنل میں سمیر کی شاندار کارکردگی، کیا ہی کمال کا نوجوان کھلاڑی ہے۔‘
ایک اور ایکس صارف شاکر عباسی نے سمیر منہاس کی انڈیا کے خلاف ایشین کرکٹ کونسل انڈر 19 ایشیا کپ کے فائنل میں شاندار کارکردگی پر لکھا کہ ’توجہ سے دیکھیے۔۔۔ سمیر منہاس کی کلاس۔ کیا کھلاڑی ہے۔ کیا شاندار اننگز تھی۔ فائنل میں 172 اور وہ بھی انڈیا کے خلاف ایک ایسی بات ہے جسے الفاظ میں بیان ہی نہیں کیا جاسکتا۔‘
ہارون نامی صارف نے اپنے جذبات کا اظہار کچھ یوں کیا کہ ’سمیر منہاس ایک حقیقی بیٹسمین ہیں۔ وہ صورتحال کو بہترین انداز میں سمجھنے اور استعمال کرنا جانتے ہیں۔ وہ ایک مضبوط دفاعی صلاحیت کے حامل ہیں۔ وہ بڑی شاٹس لگا سکتے ہیں۔ اُمید ہے کہ وہ اپنی کارکردگی پر توجہ مرکوز رکھیں گے۔‘












