پی ایس ایل کی سب سے مہنگی ٹیم کے لیے ’سیالکوٹ سٹالیئنز‘ کا نام منتخب: ’یہ صرف نام نہیں بلکہ سیالکوٹ کرکٹ کی پہچان ہے‘

،تصویر کا ذریعہ@PSLStallionz
پاکستان سپر لیگ کی تاریخ کی سب سے مہنگی ٹیم خریدنے والے 'او زی' گروپ نے اپنی ٹیم کا نام 'سیالکوٹ سٹالیئنز' رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
اوزی ڈیویلپرز نے رواں ماہ ہونے والی نیلامی میں ایک ارب 85 کروڑ روپے کی کامیاب بولی لگا کر ٹیم خریدی تھی اور اس کے نام کے لیے سیالکوٹ شہر کا انتخاب کیا تھا۔
سیالکوٹ کے انتخاب کے بعد سے ہی ٹیم کے نام کے بارے میں قیاس آرائیوں کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا جس کا خاتمہ بدھ کو ٹیم کے مالک حمزہ مجید، شریک مالک کامل خان کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس میں کیا۔
ٹیم کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں کہا گیا 'انتظار ختم ہوا، ایک نئی طاقت اُبھر رہی ہے، سیالکوٹ سٹالیئنز۔'
اس موقع پر حمزہ مجید کا کہنا تھا کہ سیالکوٹ کی ٹیم 'سیالکوٹ سٹالیئنز' کے تاریخی اور مقبولِ عام نام کے ساتھ میدان میں اترے گی۔ انھوں نے کہا کہ 'سٹالیئنز' صرف ایک نام نہیں بلکہ سیالکوٹ کی کرکٹ کی پہچان اور ایک عظیم تاریخ کا عنوان ہے۔
حمزہ کا کہنا تھا کہ کرکٹ کے شائقین کی خواہشات اور سیالکوٹ کی روایتی پہچان کو برقرار رکھنے کے لیے اسی نام کا انتخاب کیا گیا۔
خیال رہے کہ سیالکوٹ سٹالیئنز کے نام سے ایک ٹیم ماضی میں قومی ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ میں شرکت کے علاوہ بیرون ملک بھی ٹی ٹوئنٹی لیگز میں شرکت کرتی رہی ہے۔ یہ ٹیم پاکستان میں ٹی 20 میچوں کی تاریخ کی سب سے کامیاب ٹیموں میں سے ایک رہی تھی اور اس نے مسلسل پانچ مرتبہ قومی ٹی 20 کپ جیتنے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
حمزہ مجید کا کہنا تھا کہ 'سیالکوٹ سٹالیئنز' کی واپسی سے پی ایس ایل کی رونقیں دوبارہ بحال ہوں گی اور ٹیم کے ارکان کے انتخاب کے علاوہ کٹ اور لوگو کے حوالے سے جلد معلومات فراہم کی جائیں گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
خیال رہے آسٹریلیا میں قائم اوزی گروپ نے پہلی بار کرکٹ سے جڑے کاروبار میں قدم رکھا ہے۔ گروپ کے سربراہ کے مطابق وہ دو برس قبل اپنے کاروبار اور خاندان کے ساتھ پاکستان منتقل ہوئے تھے۔
پی ایس ایل کی نیلامی میں سیالکوٹ سے منسوب ٹیم خریدنے کے بعد حمزہ مجید نے کہا تھا کہ 'یہی سوچ کر آیا تھا کہ کچھ جیت کر نکلنا ہے۔' انھوں نے بتایا کہ یہ کامیابی ان کی ٹیم کی تقریباً ڈھائی سال سے جاری منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے۔
حمزہ کا کہنا تھا کہ 'ہم سب کو کرکٹ کا پریشر پسند ہے اور سیالکوٹ میں کرکٹ کا جنون ناقابلِ یقین ہے۔' انھوں نے کہا تھا کہ اس شہر کے لوگوں نے 'ایئر پورٹ اور ایئر لائن پہلے ہی بنا لی تھی۔ اب ہم نے انھیں کرکٹ ٹیم بھی گفٹ کر دی ہے۔'
سیالکوٹ سٹالیئنز، پی ایس ایل میں شامل کی گئی دو نئی ٹیموں میں سے ایک ہے۔ اس کے علاوہ ایک نئی ٹیم حیدرآباد کے نام سے سامنے آئی ہے جس کے لیے ایک ارب 75 کروڑ روپے کی کامیاب بولی دی گئی ہے۔ تاحال یہ ٹیم خریدنے والے ایف کے ایس گروپ نے اپنی ٹیم کے نام کا اعلان نہیں کیا ہے۔
پی ایس ایل کا 11واں سیزن 26 مارچ سے تین مئی 2026 کے درمیان کھیلا جائے گا اور اس مرتبہ اس میں چھ کے بجائے آٹھ ٹیمیں شرکت کریں گی۔
پی سی بی نے آٹھ سال بعد دو نئی ٹیمیں کیوں شامل کیں؟
پی سی بی کے مطابق آٹھ سال تک پی ایس ایل میں نئی ٹیمیں شامل نہ کرنے کی بنیادی وجہ معاہداتی اور مالی معاملات تھے۔
پی ایس ایل کے مشترکہ مالی ماڈل کے تحت لیگ کی مجموعی آمدن کا 95 فیصد موجودہ چھ فرنچائزز میں تقسیم ہوتا ہے، جبکہ صرف پانچ فیصد پی سی بی کو ملتا ہے۔
میڈیا اور کمرشل معاہدے پہلے سے طے شدہ ہونے کی وجہ سے اگر پہلے نئی ٹیمیں شامل کی جاتیں تو موجودہ فرنچائزز کی آمدن کم ہو سکتی تھی۔
اگرچہ پی سی بی کے پاس دسویں سیزن سے پہلے ایک ٹیم شامل کرنے کا اختیار موجود تھا، مگر ایسا کرنے سے فرنچائزز کے مالی مفادات متاثر ہو سکتے تھے۔
اب گیارہویں سیزن سے، جب میڈیا اور کمرشل معاہدے نئے سرے سے طے کیے جائیں گے، پی سی بی نے لیگ کو آٹھ ٹیموں تک بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے، جسے توسیع کے لیے موزوں وقت قرار دیا جا رہا ہے۔ ملتان سلطانز کے علاوہ باقی تمام فرنچائزز مالی طور پر منافع میں رہیں۔
پی ایس ایل کی موجودہ چھ ٹیموں کی موجودہ صورتحال کیا ہے؟
پی ایس ایل کی باقی تمام فرنچائزز نے اپنے معاہدوں کی توسیع کر لی ہے۔ تاہم ملتان سلطانز واحد فرنچائز تھی جس کے مالک علی ترین نے توسیع نہیں کی، جس کے بعد پی سی بی نے ٹیم کی ملکیت سنبھال لی ہے۔
پی سی بی آئندہ سیزن میں ملتان سلطانز خود چلائے گا اور اس کے بعد فرنچائز کو نئے خریدار کو فروخت کیا جائے گا۔
یہ تیسرا موقع ہوگا جب ملتان سلطانز کو فروخت کیا جائے گا۔ یہ فرنچائز 2018 میں دبئی کی رئیل اسٹیٹ کمپنی شون گروپ کو دی گئی تھی، تاہم ایک سیزن بعد ہی سالانہ فیس کی ادائیگی پر تنازع پیدا ہوا۔
شون گروپ فرنچائز کی سالانہ فیس 52 لاکھ ڈالر ادا نہ کر سکا، جس کے بعد معاہدہ ختم کر دیا گیا۔ اس کے بعد پی سی بی نے ٹیم واپس لے کر دوبارہ نیلامی کرائی، جسے علی خان ترین اور ان کے چچا عالمگیر خان ترین کے کنسورشیم نے 65 لاکھ ڈالر میں حاصل کیا۔
ترین خاندان نے گذشتہ سات برسوں میں ملتان سلطانز کی فرنچائز فیس کی مد میں پی سی بی کو سات ارب 70 کروڑ روپے ادا کیے۔ نئی ویلیوایشن کے بعد ملتان سلطانز کی سالانہ فرنچائز فیس ایک ارب 37 کروڑ 50 لاکھ روپے مقرر کی گئی۔
معاہدے کے مطابق، پی ایس ایل کے دس سال مکمل ہونے کے بعد تمام موجودہ فرنچائزز کی سالانہ فیس میں اضافہ لازم ہے، جو یا تو موجودہ فیس کا 25 فیصد ہوگا یا نئی مارکیٹ ویلیو کا 25 فیصد جو بھی زیادہ ہو۔
دیگر فرنچائزز کی نئی ویلیوایشن کیا ہے اس پر نظر ڈال لیتے ہیں۔
نئی ویلیوایشن کے مطابق
- لاہور قلندرز پی ایسں ایل کی 67 کروڑ روپے کے ساتھ سب سے مہنگی فرنچائز بن گئی ہے۔
- کراچی کنگز 63 کروڑ 87 لاکھ روپے کے ساتھ پی ایس ایل کی دوسری مہنگی فرنچائز بن گئی ہے۔
- پشاور زلمی 48 کروڑ 75 لاکھ روپے کے ساتھ تیسری مہنگی فرنچائز قرار پائی ہے۔
- اسلام آباد یونائیٹڈ کی فرنچائز کی قیمت 47 کروڑ روپے مقرر کی گئی ہے۔
- کوئٹہ گلیڈی ایٹرز 35 کروڑ 95 لاکھ روپے کے ساتھ پی ایس ایل کی کم ترین ویلیو رکھنے والی فرنچائز ہے۔












