خون آلود چہرے اور ناقابل شناخت لاشیں: ایران میں ہلاک ہونے والے سینکڑوں مظاہرین کی تصاویر میں بی بی سی نے کیا دیکھا؟

ایران
    • مصنف, مرلن تھامس
    • عہدہ, بی بی سی ویریفائی
    • مصنف, شایان سردارزادہ
    • عہدہ, بی بی سی ویریفائی
    • مصنف, غنچہ حبیبی زاد
    • عہدہ, بی بی سی فارسی

انتباہ: اس تحریر میں کچھ تفصیلات بعض قارئین کے لیے باعث تکلیف ہو سکتی ہیں

ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران پرتشدد کریک ڈاؤن میں ہلاک ہونے والوں کی سینکڑوں تصاویر بی بی سی ویریفائی کو موصول ہوئی ہیں۔

یہ تصاویر، جو بغیر دھندلا کیے دکھانا ممکن نہیں، کم از کم 326 افراد کے خون آلود، سوجے ہوئے اور زخمی چہروں کو واضح طور پر دکھاتی ہیں، جن میں 18 خواتین بھی شامل ہیں۔ جنوبی تہران کے ایک مردہ خانے میں لی گئی یہ تصاویر ہی وہ واحد ذریعہ ہیں جن کے ذریعے کئی خاندان اپنے پیاروں کی شناخت کر سکے۔

متعدد لاشیں اس قدر مسخ تھیں کہ ان کی شناخت ممکن نہیں تھی۔ 69 افراد کے سامنے فارسی میں لکھا گیا کہ تصویر بناتے وقت ان کی شناخت معلوم نہیں تھی۔ صرف 28 لاشوں پر واضح نام درج تھے۔

100 سے زائد لاشوں پر درج تفصیلات میں موت کی تاریخ 9 جنوری لکھی گئی تھی، جو اب تک تہران میں مظاہرین کے لیے سب سے خونریز رات ثابت ہوئی۔

اس رات شہر کی سڑکیں آگ کے شعلوں میں لپٹ گئی تھیں اور مظاہرین نے ایران کے رہبر اعلیٰ اور ایران کے خلاف نعرے لگائے۔ یہ مظاہرے سابق شاہ کے جلاوطن بیٹے رضا پہلوی کی ملک گیر احتجاجی کال کے بعد پھوٹ پڑے تھے۔

Protesters gather in the street in Tehran, Iran. In the centre of the image a protester holds up a picture. On the left hand side a fire burns emitting plumes of smoke

،تصویر کا ذریعہGetty Images

بی بی سی ویریفائی کے مطابق ایران میں دسمبر کے آخری دنوں شروع ہونے والے مظاہروں کے پھیلاؤ پر نظر رکھی جا رہی ہے لیکن حکام کی جانب سے لگائی گئی تقریباً مکمل انٹرنیٹ بندش نے حکومت کے مخالفین کے خلاف تشدد کی شدت کو دستاویزی شکل دینا انتہائی مشکل بنا دیا۔

ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے عوامی سطح پر اعتراف کیا کہ احتجاج میں کئی ہزار افراد ہلاک ہوئے تاہم اس کا الزام انھوں نے امریکہ، اسرائیل اور ان لوگوں پر لگایا جنھیں وہ ’شرپسند‘ قرار دیتے ہیں۔

انٹرنیٹ بلیک آؤٹ کے تیسرے ہفتے میں داخل ہونے کے باوجود چند افراد کچھ معلومات باہر پہنچانے میں کامیاب ہوئے۔ تہران کے كهريزک فارنزک میڈیکل سینٹر کے اندر سے متاثرین کی سینکڑوں قریبی تصاویر بی بی سی ویریفائی کو لیک کی گئیں۔

بی بی سی ویریفائی نے 392 تصاویر کا تجزیہ کیا مگر ان میں 326 افراد کی شناخت ہی ممکن ہو سکی۔ بعض متاثرین کی مختلف زاویوں سے کئی تصاویر موجود تھیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مردہ خانے میں اصل ہلاکتوں کی تعداد ہزاروں میں تھی۔

ایک ذریعے نے بتایا کہ وہ مردہ خانے کے اندر دیکھے گئے مناظر کے لیے تیار نہیں تھے۔ ان کے مطابق وہاں 12 یا 13 سالہ بچوں سے لے کر 60 اور 70 سالہ معمر افراد تک کی لاشیں موجود تھیں۔ ’یہ منظر بہت ہی بھیانک تھا‘۔

ذرائع کے مطابق مردہ خانے کے اندر افراتفری کے عالم میں اہلِخانہ اور دوست ایک سکرین کے گرد جمع تھے۔ وہ اپنے پیاروں کو شناخت کرنے کی کوشش کر رہے تھے جبکہ مردہ افراد کی سینکڑوں تصاویر سکرین پر تیزی سے چل رہی تھیں۔

Protesters march through Kashani, Tehran, on 8 January

،تصویر کا ذریعہUser generated content

ذرائع کے مطابق مردہ خانے میں چلنے والا سلائیڈ شو کئی گھنٹوں تک جاری رہا۔ بتایا گیا کہ متاثرین کے زخم اس قدر شدید تھے کہ ان کی شناخت ممکن نہ ہو سکی۔ ایک شخص کا چہرہ اس قدر سوجا ہوا تھا کہ اس کی آنکھیں بمشکل نظر آ رہی تھیں۔ ایک اور شخص کے منھ میں اب بھی سانس لینے کی نالی موجود تھی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ طبی علاج کے بعد ہی فوت ہوا۔

کچھ متاثرین اس قدر زخمی تھے کہ ان کے اہلِخانہ نے تصاویر دوبارہ دیکھنے اور چہرے پر زوم کرنے کی درخواست کی تاکہ یقین ہو سکے کہ واقعی وہی ہیں۔ دوسری جانب بعض لوگ اپنے پیاروں کو فوراً پہچان گئے اور زمین پر گر کر چیخنے لگے۔

متعدد تصاویر میں کھلے ہوئے بیگ دکھائی دیے جن کے قریب کاغذات رکھے تھے، جن پر نام، شناختی نمبر یا موت کی تاریخ درج تھی۔ بعض صورتوں میں شناخت کا واحد ذریعہ ایک بینک کارڈ تھا جو متاثرہ شخص کے آخری باقی ماندہ سامان یعنی بیگ پر رکھا ہوا تھا۔

بی بی سی ویریفائی نے اسی مردہ خانے سے موصول ہونے والی ویڈیوز کی الگ سے تصدیق کی ہے جو مظاہرین پر کیے گئے تشدد کو ظاہر کرتی ہیں۔ ایک ویڈیو میں ایک بچے کی لاش دکھائی دیتی ہے جبکہ دوسری میں ایک شخص کے سر کے وسط میں گولی کا زخم واضح ہے۔ دونوں ویڈیوز حد سے زیادہ تکلیف دہ ہیں۔

کچھ ایرانی، جب کبھی سٹارلنک یا ہمسایہ ممالک کے نیٹ ورکس کے ذریعے انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کر پاتے ہیں، تو سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں مارے گئے متاثرین کے نام پوسٹ کرتے ہیں تاہم یہ مواقع نہایت کم ہیں۔

بی بی سی ویریفائی نے مردہ خانے میں شناخت کیے گئے متاثرین کے نام سوشل میڈیا پر رپورٹ ہونے والے ناموں سے ملا کر دیکھ تو پانچ کی تصدیق بھی ہوئی مگر متاثرین کے اہلِخانہ سے رابطہ نہ ہونے کے باعث ان ناموں کو ظاہر نہیں کیا جا رہا۔

Map of Tehran with blue dots in areas where verified videos showed protests taking place on 8 Jan and red dots in areas where verified videos showed protests from 9 Jan

بی بی سی ویریفائی کے مطابق ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کے پھیلاؤ کو 28 دسمبر سے اب تک 71 شہروں اور قصبوں میں ویڈیوز کی تصدیق کے ذریعے ٹریک کیا گیا تاہم مظاہروں کے اصل مقامات کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہونے کا امکان ہے۔

چند تصاویر، جو لوگوں نے سٹار لنک کے ذریعے اپ لوڈ کرنے میں کامیابی حاصل کی، میں سڑکوں پر جلی ہوئی گاڑیاں دکھائی دیتی ہیں جبکہ تصدیق شدہ ویڈیوز میں تہران میں مظاہروں کے دوران فائرنگ کی آوازیں ریکارڈ ہوئیں۔

انٹرنیٹ کی بندش نے مظاہروں میں ہلاکتوں کی مکمل تعداد کو دستاویزی شکل دینا انتہائی مشکل بنا دیا تاہم امریکہ میں قائم ہیومن رائٹس ایکٹوسٹس نیوز ایجنسی ھرانا نے اپنی موجودہ تخمینہ رپورٹ میں ہلاکتوں کی تعداد چار ہزار سے زائد بتائی ہے۔