ٹرمپ کی غزہ ’بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت کی دعوت: کون سے عوامل پاکستان کے فیصلے پر اثرانداز ہو سکتے ہیں؟

ٹرمپ اور شہباز

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, اعظم خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد

امریکہ نے غزہ کے لیے ایک ’بورڈ آف پیس‘ تشکیل دینا شروع کر دیا ہے اور اس میں شامل ہونے کے لیے پاکستان سمیت متعدد ممالک کے رہنماؤں کو دعوت نامے بھی بھیج دیے گئے ہیں۔

پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے یہ دعوت نامہ موصول ہونے کی تصدیق کی اور کہا کہ بورڈ میں شامل ہونے یا نہ ہونے سے متعلق فیصلہ کرنا ابھی باقی ہے۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے 17 نومبر 2025 کو امریکہ کی جانب سے پیش کردہ اس قرارداد کی منظوری دی تھی، جس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ میں جنگ ختم کرنے کے منصوبے کی توثیق کی گئی تھی۔

اس منصوبے کے تحت ایک نیا عبوری ’بورڈ آف پیس‘ قائم کیا جائے گا اور سلامتی کونسل میں منظور کردہ قرارداد میں غزہ میں مختلف ممالک کی افواج پر مشتمل ’بین الاقوامی استحکام فورس‘ کا قیام بھی شامل ہے۔

اقوام متحدہ کی قرارداد کے مطابق بین الاقوامی استحکام فورس اسرائیل، مصر اور نئی تربیت یافتہ مگر تصدیق شدہ فلسطینی پولیس فورس سرحدی علاقوں کی سکیورٹی اور حماس سمیت ریاست مخالف گروہوں کو غیر مسلح کرنے میں مدد کرے گی۔

صدر ٹرمپ کے دعوت نامے پر پاکستان کی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ ’پاکستان غزہ میں امن و سلامتی کے لیے بین الاقوامی کوششوں میں شامل رہے گا تاکہ فلسطین کے مسئلے کا دیرپا حل اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق سامنے آ سکے۔‘

دفتر خارجہ کے اس بیان کی مزید وضاحت کے لیے جب ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ابھی پاکستان نے اس بورڈ میں شامل ہونے کا فیصلہ نہیں کیا۔

ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ اس وقت ’سٹیٹس‘ یہی ہے کہ پاکستان کو امریکی دعوت نامہ موصول ہوا اور ابھی اس پر حتمی فیصلے کا اعلان باقی ہے۔

وزیر اعظم شہباز شریف کی کابینہ کے رکن مصدق ملک نے بی بی سی کو بتایا کہ ابھی تک وفاقی کابینہ کے سامنے یہ معاملہ نہیں آیا۔ ان کے مطابق اس معاملے پر پہلے دفتر خارجہ بریفنگ دے گا اور پھر حکومت مشاورت کے بعد ہی کوئی حتمی فیصلہ لے گی۔

خیال رہے کہ غزہ ’بورڈ آف پیس‘ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ میں جنگ بندی کے بعد دوسرے مرحلے میں اس کی تعمیر نو سے متعلق 20 نکاتی منصوبے کا حصہ ہے۔

Gaza

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنسلامتی کونسل میں منظور ہونے والی قرارداد کے تحت بین الاقوامی فورس علاقے میں سکیورٹی اور دہشت گردوں کا نیٹ ورک ختم کرنے میں مدد کرے گی
مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

وائٹ ہاؤس نے گذشتہ جمعے کو صدر ٹرمپ کے 20 نکاتی غزہ امن منصوبے کے دوسرے مرحلے میں غزہ ’بورڈ آف پیس‘ کے ارکان کے ناموں کا اعلان کیا تھا۔ اعلامیے کے مطابق صدر ٹرمپ اس بورڈ کے چیئرمین ہوں گے جبکہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر سمیت دیگر اہم شخصیات اس کی رُکن ہوں گی۔

اسی منصوبے کے تحت غزہ میں ’بین الاقوامی استحکام فورس‘ کا قیام بھی شامل ہے، جس میں شمولیت کے حوالے سے پاکستان اور امریکی حکام کی جانب سے بیانات سامنے آتے رہے ہیں۔

پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے واضح کر رکھا ہے کہ پاکستان صرف اسی صورت میں اس فورس میں شمولیت اختیار کرے گا اگر اس کا مقصد حماس کو غیر مسلح کرنا نہیں ہو گا۔

دوسری جانب اسرائیل نے کہا ہے کہ غزہ ’بورڈ آف پیس‘ کے ارکان کے ناموں پر اس سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی اور یہ اس کی غزہ پالیسی کے بالکل برعکس ہے۔

اب اہم سوال تو یہی ہے کہ کیا پاکستان اس بورڈ کا حصہ بنے گا اور اگر پاکستان اس بورڈ میں شامل ہوتا ہے تو پھر اس کے لیے کیا مضمرات ہو سکتے ہیں؟ ان سوالات کے جواب جاننے کے لیے ہم نے ماہرین سے بات کی ہے۔

’پاکستان کی سفارتی کامیابی‘

جینیوا اور نیویارک میں اقوامِ متحدہ کے لیے پاکستان کے مستقل مندوب اور امریکہ میں سابق سفیر مسعود خان نے بی بی سی کو بتایا کہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت ’پاکستان کی سفارتی کامیابی ہے۔‘

ان کے مطابق پاکستان ان آٹھ اسلامی ممالک میں شامل تھا، جنھوں نے امریکی صدر ٹرمپ کو غزہ میں جنگ بندی پر آمادہ کیا۔ اب پاکستان کو اسی تناظر میں اس بورڈ میں شمولیت کی دعوت دی گئی ہے۔

ان کی رائے میں اس بورڈ میں کلیدی فیصلے امریکی صدر، ان کے وزیر خارجہ مارکو روبیو اور ان کی ٹیم کے دیگر رہنما ہی کریں گے جبکہ باقی ممالک کی اس بورڈ میں شرکت مشاورتی ہی ہو گی۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ اس بورڈ کے لیے مستقل رکنیت کی ایک ارب ڈالر والی شرط حتمی نہیں کیونکہ امریکہ میں اس سے متعلق دو آرا پائی جاتی ہیں کہ اسے لازمی نہ قرار دیا جائے بلکہ اگر کوئی رکن ملک یہ رقم نہیں دے سکتا تو اسے یہ چھوٹ ہونی چاہیے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے ترکی، مصر، فرانس، جرمنی، آسٹریلیا اور کینیڈا کے رہنماؤں کو بھی اس بورڈ میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے۔

مصر اور ترکی کے صدور کے دفاتر نے صدر ٹرمپ کی جانب سے اس دعوت نامے کی تصدیق کی ہے۔

تاحال یہ واضح نہیں کہ مزید کون سے نام اس بورڈ میں شامل کیے جا سکتے ہیں اور اس کی ساخت کو بھی بعض ماہرین ایک پیچیدہ عمل قرار دے رہے ہیں۔

دیگر ماہرین سمجھتے ہیں کہ پاکستان کے لیے صدر ٹرمپ کے بورڈ میں شامل ہونا نقصان دہ بھی ہو سکتا ہے۔

امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر اشرف جہانگیر قاضی نے بی بی سی کو بتایا کہ ایک ارب ڈالر دینے کی اگر شرط لازمی ہوئی تو پھر شاید پاکستان کو پھر آئی ایم ایف کا رخ کرنا پڑے۔

ان کے خیال میں یہ بورڈ بین الاقوامی چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے خلاف ہے اور یوں امریکہ اور اسرائیل ابھی تمام اقدار کی نفی کرتے ہوئے اس طرف آگے بڑھ رہے ہیں۔

اشرف جہانگیر قاضی نے یہ رائے دی کہ ’پاکستان کو اس بورڈ میں شامل نہیں ہونا چاہیے۔‘

تاہم دوسری جانب مسعود خان کے مطابق پاکستان امریکی جنرل کی سربراہی میں بننے والی انٹرنیشنل سٹیبلائزیشن فورس کا حصہ تو نہیں بنے گا کیونکہ پاکستان اس کے مضر اثرات نہیں دیکھنا چاہے گا اور نہ وہ حماس کو غیرمسلح کرنے جیسی کوششوں میں شامل ہوگا۔

ان کے مطابق یہ پاکستان میں ایک حساس معاملہ سمجھا جاتا ہے کیونکہ پاکستان نے ابھی تک اسرائیل کو تسلیم ہی نہیں کیا۔ مسعود خان کے مطابق پاکستان خلیجی ممالک سے بھی مشاورت کرتا آ رہا ہے اور امریکہ سے بھی ان کے تعلقات میں بہتری آئی ہے اس وجہ سے اس کا زیادہ کردار سفارتی محاذ پر ہو گا۔

ان کے مطابق جہاں تک بات یہ ہے کہ یہ بورڈ اقوام متحدہ اور بین الاقوامی قانون کے متوازی نظام ہے تو اگر امریکہ چاہتا تو ماضی کی طرح ابھی بھی سلامتی کونسل سے اپنی مرضی کے فیصلے کروا سکتا تھا۔

ان کی دلیل کے مطابق روس اور چین سمیت کسی ملک نے بھی سلامتی کونسل میں غزہ سے متعلق امریکی فیصلوں کو ویٹو نہیں کیا۔

غزہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنمستقل رکنیت کے لیے ایک ارب ڈالر کی شرط سے جمع ہونے والا پیسہ غزہ کی تعمیر نو پر خرچ ہو گا

ان کے مطابق اب یہ دیکھنا ہو گا کہ ٹرمپ کے بعد آنے والے صدور اس نظام کو آگے لے جاتے ہیں یا پھر وہ دوبارہ پہلے والے مروجہ نظام کی طرف ہی واپس آ جائیں گے۔

مسعود خان کا کہنا ہے کہ پاکستان صورتحال پر گہری نظر رکھے گا کیونکہ ابھی بہت سے امور طے پانے باقی ہیں۔

’کیچ 22‘

مشرقی وسطیٰ پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ پاکسستان شاید بین الاقوامی استحکام فورس کا رکن بننے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہو گا۔

سعودی عرب میں مقیم صحافی اور سیاسی تجزیہ کار فہیم الحامد نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ پاکستان نے غزہ میں جنگ بندی اور امن کی بحالی میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ان کی رائے میں پاکستان اب غزہ میں مکمل امن بحالی کے ساتھ ساتھ اس کی تعمیر نو میں بھی کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہو گا مگر وہ ابھی بین الاقوامی استحکام فورس کا شاید حصہ نہیں بنے گا۔

فہیم الحامد کے مطابق اس مرحلے پر اس فورس سے متعلق ابھی بہت کچھ طے ہونا باقی ہے اور ویسے بھی یہ فورس امریکی قیادت میں کام کرے گی جس میں زیادہ کردار یورپی ممالک کی افواج کا ہی ہوگا۔

ان کے مطابق پاکستان اپنے فیصلے سعودی عرب، قطر اور ترکی کی مشاورت سے کرے گا اور یوں پاکستان پر اس خطے میں یا اپنے ملک میں کوئی مضمرات نہیں ہوں گے۔

ان کی رائے میں حماس جیسے گروپ بھی پاکستان اور خلیجی ممالک کے کردار کو تسلیم کریں گے کیونکہ یہ ایک صبر آزما اور وقت طلب کام ہے۔

اسرائیل کی غزہ بورڈ آف پیس میں کچھ ناموں پر شمولیت سے متعلق تشویش پر فہیم الحامد کا کہنا تھا کہ اس وقت اسرائیل اور امریکہ ایک دوسرے سے ہم آہنگی سے فیصلے کر رہے ہیں اور جو امریکہ فیصلہ کرے گا وہ اسرائیل کے لیے بھی قابل قبول ہو گا۔

انھوں نے بتایا کہ مستقل رکنیت کے لیے ایک ارب ڈالر کی شرط سے جمع ہونے والا پیسہ غزہ کی تعمیر نو پر خرچ ہو گا۔

مشرق وسطی کے امور پر گہری نظر رکھنے والے عمر کریم نے بی بی سی کو بتایا کہ امریکہ کی طرف سے پاکستان کو مدعو کرنا ’یہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان کی مشرقِ وسطیٰ کے سلامتی امور میں اہمیت ہے اور ٹرمپ انتظامیہ اور پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے درمیان قریبی تعلقات ہیں۔

’تاہم یہ ایک ’کیچ 22‘ صورتحال ہے کیونکہ پاکستان پر ٹرمپ انتظامیہ کا دباؤ ہو گا کہ وہ استحکام فورس کا حصہ بنے، جو ممکنہ طور پر حماس کو غیر مسلح کرنے میں شامل ہو سکتی ہے۔‘

ان کے مطابق یہی وجہ ہے کہ پاکستان کو دیگر اسلامی بلاک کے رکن ممالک کے ساتھ قریبی تعاون کرنا ہوگا تاکہ وہ تنہا نہ رہ جائے اور ساتھ ہی ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ مثبت تعلقات کو برقرار رکھ سکے۔

’اس کے علاوہ پاکستان کو مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی میں اپنا کردار ادا کرتے ہوئے اپنی حیثیت کو ایک ایسی ریاست کے طور پر قائم رکھنا ہوگا جو دو ریاستی حل کے لیے پُرعزم ہے اور جسے اسرائیل کا سلامتی شراکت دار نہیں سمجھا جاتا۔‘