’بڑے منافع کی ناقابل یقین کہانیاں‘: پینی سٹاکس کیا ہیں اور پاکستانی سٹاک مارکیٹ میں نئے سرمایہ کار اِن کے جال میں کیسے پھنس جاتے ہیں؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, عمیر سلیمی
- عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد
'ہم اکثر یہ باتیں کرتے ہیں کہ 60 روپے کا سازگار (کا سٹاک) 2000 روپے کا ہو گیا۔۔۔ یا 10 روپے کا فوجی سیمنٹ 60 روپے کا ہو گیا۔ مگر ہمیں یہ سمجھنے کی بھی ضرورت ہے کہ ماضی کی کارکردگی مستقبل کی عکاسی نہیں کرتی۔‘
یہ کہنا ہے فرقان پونجانی کا جو ماضی میں بطور فنانشل اینالسٹ کام کر چکے ہیں اور اب اپنا یوٹیوب چینل ’انویسٹ کار‘ چلاتے ہیں۔
ان سمیت دیگر سرمایہ کار اکثر دیکھتے ہیں کہ ایک عرصے کے دوران جن 10 سٹاکس میں سب سے زیادہ ٹریڈنگ ہوئی ہے ان میں کچھ ایسے نام بھی موجود ہیں جن کے بارے میں ’کسی نے سُنا ہی نہیں ہوتا۔‘
یہ ایسی ’پینی سٹاک‘ کمپنیاں ہوتی ہیں جن کے لیے مقامی طور پر بعض لوگ ’چلر سٹاک‘ یا ’کچرا سٹاک‘ جیسی اصطلاحات بھی استعمال کرتے ہیں۔
پاکستان سٹاک ایکسچینج میں حالیہ تیزی کے دوران ہزاروں نئے سرمایہ کاروں نے ملک میں پہلی بار سٹاک ٹریڈنگ شروع کی ہے اور ایسے میں تجزیہ کار فکر مند ہیں کہ کہیں یہ نئے سرمایہ کار کسی ایسی جگہ سرمایہ کاری نہ کر بیٹھیں جس کی انھیں بہت کم سمجھ بوجھ ہے۔
پینی سٹاکس کیا ہیں اور پاکستان میں اُن کی کتنی ٹریڈنگ ہوتی ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پینی سٹاکس سے مراد اُن کمپنیوں کے حصص ہیں جن کی قیمت انتہائی کم ہوتی ہے اور اگرچہ یہ سٹاکس سرمایہ کاری کا اچھا موقع بھی لگتی ہیں لیکن اِن کی کاروباری ساکھ پر سوالیہ نشان بھی ہوتا ہے۔
فرقان پونجانی کے بقول جب بھی بازار میں تیزی ہوتی ہے تو بعض لوگ اس غلط فہمی میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ اگر کم قیمت والی کمپنی کے سٹاک زیادہ خریدے جائیں تو اس سے زیادہ منافع مل سکتا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ پینی سٹاکس والی کمپنیوں کی کاروباری سرگرمیاں غیر تصدیق شدہ ہو سکتی ہیں یا ان کا بزنس ماڈل غیر مستحکم ہو سکتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
تاہم اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ تمام سستے سٹاکس ’پینی سٹاکس‘ ہوتے ہیں۔ فرقان کی رائے میں پینی سٹاکس ایسا کاروبار ہے جس کا بزنس ماڈل کمزور اور خامیوں سے بھرپور ہو مگر اسے بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہو۔ ’سننے میں یہ ناقابل یقین کہانیاں ہوتی ہیں۔‘
وہ مثال دیتے ہیں کہ کچھ چھوٹے سٹاکس والی کمپنیوں نے ’بہت زیادہ قرض لیا ہوتا ہے۔ اگر شرح سود میں کمی آتی ہے تو ان کی آمدن اچانک بڑھ جاتی ہے‘ اور اسی کی بدولت سرمایہ کار ان کی جانب متوجہ ہو جاتے ہیں۔
ڈارسن سکیورٹیز میں پورٹ فولیو مینیجر شہریار بٹ گذشتہ 22 سال سے پاکستان کی سٹاک مارکیٹ میں بروکریج کے شعبے سے منسلک رہے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ پاکستان کی سٹاک مارکیٹ میں تیزی کے باعث گذشتہ ایک سال کے دوران لگ بھگ ایک لاکھ سے زیادہ نئے سرمایہ کار اس میں شامل ہوئے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ پاکستان سٹاک ایکسچینج پر فی الحال 580 کمپنیاں لسٹڈ ہیں اور گذشتہ کچھ عرصے کے دوران اس تعداد میں کمی آئی ہے۔ انھیں خدشہ ہے کہ نئے آنے والوں میں بازار کی آگاہی کم ہے۔
’کئی لوگ اب بھی سٹاک مارکیٹ میں کسی کمپنی کا جائزہ لینے کی بجائے سُنی سُنائی باتوں کی بنیاد پر، یا کسی کے کہنے پر یا سوشل میڈیا پر کوئی پوسٹ پڑھ یا سُن کر سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔‘
پاکستان سٹاک ایکسچینج کی 100 انڈیکس نے پچھلے دو برسوں کے دوران اچھا منافع دیا ہے جو کہ سنہ 2024 کے دوران اوسطاً 80 فیصد کے قریب اور سنہ 2025 کے دوران 51 فیصد رہا ہے۔
شہریار کہتے ہیں کہ ’جب مارکیٹ کا حجم بڑھ جائے تو کم آمدن والا سرمایہ کار بھی مارکیٹ میں داخل ہوتا ہے۔ ایسے سرمایہ کار زیادہ قیمتوں والے بلیو چِپ سٹاکس کو اپنی دسترس سے باہر سمجھتے ہیں اور پینی سٹاکس کے ذریعے کم وقت میں راتوں رات دولت مند ہونے کا خواب دیکھتے ہیں۔‘
’مثلاً آٹھ، 10 روپے میں آپ کو ٹیلی کام یا ٹیکسٹائل جیسی کمپنیاں مل جاتی ہیں جو حقیقت میں تو بند ہو چکی ہیں لیکن ان میں ٹریڈنگ کا رجحان جاری ہوتا ہے۔‘
شہریار کا کہنا ہے کہ اِن سٹاکس کے حوالے سے بہت سی زیادہ قیاس آرائیاں بھی کی جا رہی ہوتی ہیں لیکن اچانک اُتار چڑھاؤ کے علاوہ ’سالہا سال تک ان کی قدر میں کوئی اضافہ نہیں ہوتا۔‘
اسی وجہ سے اکثر کئی لوگ یہ شکایت کرتے ہیں کہ ’مارکیٹ میں تیزی تو آئی ہے مگر انھیں کوئی منافع نہیں مل سکا۔‘
’ماضی کی کارکردگی مستقبل کی عکاس نہیں‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
فرقان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی سٹاک مارکیٹ میں روز بروز نئے لوگ آ رہے ہیں مگر کئی لوگوں میں یہ سمجھ بوجھ نہیں کہ کمپنیوں کا جائزہ کیسے لینا ہے۔ ’لوگ پہلا سوال یہی پوچھتے ہیں کہ میں کون سا سٹاک خریدوں؟‘
’اگر لوگ تصور کر لیں کہ ہر سستا سٹاک اچھا اور ہر مہنگا سٹاک بُرا ہے تو وہ پینی سٹاکس کی طرف ہی جائیں گے۔‘
مگر وہ کہتے ہیں کہ ہر قسم کی سرمایہ کاری کے لیے یہی دہرایا جاتا ہے کہ ’ماضی کی کارکردگی مستقبل کی عکاسی نہیں کرتی۔ اگر یہ درست ہوتا تو سب سے پرانی کمپنی کی آج سب سے زیادہ قدر ہوتی۔‘
وہ متنبہ کرتے ہیں کہ نئے سرمایہ کاروں کے لیے یہ پرکھنا بھی مشکل ہوتا ہے کہ کب کسی کمپنی کی انتظامیہ نے ’پمپ اینڈ ڈمپ‘ کیا ہے۔ یعنی مصنوعی انداز میں کسی کمپنی کے شیئرز کی طلب میں اضافہ کرنا اور منافع کمانے کے لیے اسے بیچ دینا۔
ادھر شہریار بٹ کہتے ہیں کہ سرمایہ کار ’یہ سوچ کر دو روپے والا سٹاک مت خریدیں کہ اس کی قیمت میں ایک روپیہ بھی بڑھ گیا تو انھیں 50 فیصد منافع مل سکتا ہے۔‘
پینی سٹاکس کی نشاندہی کیسے ممکن ہے؟
سرمایہ کار فرقان پونجانی کا کہنا ہے کہ ضروری نہیں کہ کم قیمت والا ہر سٹاک بُرا ہو اور اسے پینی سٹاک ہی کہا جائے۔ ان کی رائے میں یہ دیکھنا ضروری ہے کہ ایک سٹاک کے پیچھے کوئی اچھا بزنس کھڑا ہے یا نہیں۔
ان کے مطابق بعض کمپنیاں بونس دے کر یا اپنا سٹاک سپلٹ کر کے شیئر پرائس کم رکھتی ہیں تاکہ یہ لوگوں کی پہنچ میں ہو، جیسا کہ حالیہ تاریخ میں پاکستان کی بعض کمپنیوں جیسے لکی سیمنٹ، یو بی ایل یا سسٹمنز لمیٹڈ نے کیا ہے۔
کم قیمت والے سٹاکس اور پینی سٹاکس کے درمیان، ان کے مطابق، یہی فرق ہے کہ ایک کے پیچھے اصل کاروبار کھڑا ہوتا ہے جس کی ساکھ ہوتی ہے جبکہ دوسرے کیس میں ایسا نہیں ہوتا۔ ’اگر کسی کمپنی کا پلانٹ بند پڑا ہے اور اس کی سیلز نہیں ہو رہیں لیکن پھر اُدھار (شرح سود) سستا ہو جانے پر بڑے بڑے وعدے کیے جانے لگیں تو یہ پینی سٹاک بن جاتا ہے۔‘
فرقان بتاتے ہیں کہ سٹاک خریدنے سے پہلے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ آیا جس کمپنی کا سٹاک خریدا جا رہا ہے وہ ڈیفالٹرز کی فہرست میں تو نہیں۔ اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں، جیسے اگر اس نے پاکستان سٹاک ایکسچینج کی فیس ادا نہ کی ہو، اس کی بُکس میں کوئی مسئلہ ہو، اس نے اپنی سالانہ شیئر ہولڈر میٹنگ نہ کرائی ہو یا لسٹڈ رہنے کے لیے ضروری دیگر قوانین میں سے کسی کی خلاف ورزی کی ہو۔
اگرچہ جب کوئی کمپنی نان کمپلائنٹ یا ڈیفالٹ ہو جائے تب بھی لوگ اس میں سرمایہ کاری کر سکتے ہیں تاہم آپ کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ کمپنی کب سٹاک ایکسچینج سے نکل جائے گی یا اس کی ٹریڈنگ روک دی جائے۔
فرقان کہتے ہیں کہ ایسے میں سرمایہ کار یہ شرط لگا رہے ہوتے ہیں کہ ان کمپنیوں کا زوال عروج میں بدل جائے گا۔ ’ممکن ہے کہ کچھ کمپنیاں ٹرن آراؤنڈ کرنے میں کامیاب ہو بھی جائیں مگر اس کے امکانات بہت کم ہوتے ہیں۔‘
شہریار بٹ کہتے ہیں کہ سرمایہ کار پی ایس ایکس کی ویب سائٹس دیکھ سکتے ہیں جہاں تمام ضروری معلومات موجود ہے۔ ڈیفالٹ کمپنیوں کا الگ سے ذکر کیا جاتا ہے جسے نان کمپلائنٹ کے نام سے دیکھا جا سکتا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ریگولیٹر آپ کو خبردار کرتا رہتا ہے کہ ایسی کمپنیوں میں سرمایہ کاری کرنے سے گریز کریں۔
ان کے مطابق ابتدائی طور پر انھیں 60 روز کے لیے نان کمپلائنٹ میں ڈالا جاتا ہے اور اگر پھر بھی وہ نان کمپلائنٹ رہیں تو انھیں سٹاک مارکیٹ سے خارج کر دیا جاتا ہے۔
’سرمایہ کاروں کی کوشش ہونی چاہیے کہ وہ کمپنیوں کے بارے میں پڑھیں کہ آیا وہ واقعی کوئی کام بھی کر رہی ہے یا ان پر تالا لگا ہوا ہے۔‘
وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ سرمایہ کار کمپنیوں کی ’گذشتہ تین یا پانچ سالہ کارکردگی دیکھ سکتے ہیں کہ یہ آمدن کما بھی رہی ہیں یا نہیں۔‘
’لوگوں کے پاس اس دور میں ایسی کوئی وجہ نہیں کہ وہ کچرا سٹاکس کے جھانسے میں آئیں۔‘













