ایک تولہ چاندی نو ہزار روپے کی: وہ دھات جس کی قیمت میں سونے سے بھی کہیں زیادہ تیزی سے اضافہ ہوا

،تصویر کا ذریعہReuters
- مصنف, تنویر ملک
- عہدہ, صحافی
پاکستان سمیت دنیا بھر میں سونے کی قیمت تو بڑھ ہی رہی ہے لیکن اس کے علاوہ چاندی کی قدر میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔
تاریخ میں پہلی بار عالمی منڈی میں چاندی کی فی اونس قیمت 3.6 فیصد اضافے کے ساتھ 90 ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ یوں نئے سال کے پہلے دو ہفتوں میں چاندی کی قیمت 25 فیصد بڑھی ہے۔
ایک اونس تقریباً ڈھائی تولے کے برابر ہوتا ہے۔ اس حساب سے چاندی کی فی تولہ قیمت 37 ڈالر یا 10 ہزار پاکستانی روپے بنتی ہے۔
سنہ 2025 کے دوران پاکستان میں فی تولہ سونے کی قیمت سالانہ ایک لاکھ 84 ہزار 362 روپے بڑھی جبکہ اس کے مقابلے میں چاندی کی قیمت سالانہ چار ہزار 368 روپے بڑھی اور سنہ 2025 کے اختتام پر چاندی کی فی تولہ قیمت سات ہزار 718 روپے تک پہنچ گئی۔
چاندی کی قیمت میں ہونے والا اضافہ سنہ 2026 میں بھی جاری ہے اور منگل کے روز ملک میں چاندی کی فی تولہ قیمت 9075 روپے فی تولہ رہی۔
دنیا میں دھاتیں مہنگی کیوں ہوتی جا رہی ہیں؟
ایشیائی منڈیوں میں سونا بھی 0.7 فیصد مہنگا ہوا، اس کی قدر چار ہزار 620 ڈالر فی اونس سے بڑھ گئی، جو اس کی بلند ترین قیمت کی سطح سے محض 15 ڈالر کم ہے۔
تانبے، پلاٹینیم اور پیلیڈیم (دھات کی ایک قسم) کی قیمتیں بھی بڑھ گئیں۔
قیمتی دھاتوں کی قدر اس وقت بڑھی جب امریکی مرکزی بینک (یو ایس فیڈرل ریزرو) کے چیئرمین جیروم پاول کے خلاف تحقیقات نے ادارے کی آزادی کے بارے میں خدشات پیدا کیے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
امریکہ میں مہنگائی کے اعداد و شمار توقع سے کم ہیں، جس کی وجہ سے 2026 میں شرح سود مزید کم ہونے کے امکانات پیدا ہوئے اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی نے لوگوں کو راغب کیا کہ وہ محفوظ اثاثوں میں سرمایہ کاری کریں۔
محفوظ اثاثوں کی مانگ میں اضافہ ہونے کی یہ وجوہات بھی تھیں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وینزویلا میں عسکری آپریشن کے احکامات، گرین لینڈ حاصل کرنے کے لیے ان کے نئے مطالبات، اور یہ امکانات کہ ایران میں پر تشدد مظاہرے حکومت تبدیل کر سکتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سٹی گروپ کے تجزیہ کاروں نے پیش گوئی کی ہے کہ اگلے تین ماہ میں ایک اونس سونا پانچ ہزار ڈالرز اور چاندی 100 ڈالرز فی اونس تک جا سکتی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ طلب زیادہ ہے اور رسد کم۔
ڈیوڈ چاؤ سرمایہ کاری کی خدمات فراہم کرنے والی ایسٹ مینیجمنٹ کمپنی انویسکو میں عالمی منڈیوں کی حکمت عملی طے کرتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ’مہنگائی اور مالیاتی عدم استحکام سے محفوظ رہنے کے لیے‘ قیمتی دھاتوں کی مانگ اس سال جاری رہے گی۔
انھوں نے کہا کہ ’جغرافیائی سیاست میں غیر یقینی صورت حال کی وجہ سے چاندی کے مقابلے سونا بہتر کارکردگی دکھا سکتا ہے۔‘
ایک سال میں 150 فیصد منافع: چاندی کی مانگ کیوں بڑھی؟
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
گذشتہ سال قیمت میں 150 فیصد اضافے سے چاندی نے سونے کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔
کموڈٹیز کے شعبے کے ماہر احسن محنتی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ سنہ 2025 میں چاندی کی قیمت میں 150 فیصد تک اضافہ ہوا جبکہ اس کے مقابلے میں سونے کی قیمت میں 73 فیصد کے قریب اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
محنتی کے مطابق چاندی کی قیمت میں اضافے کی وجہ اس کی طلب ہے جو بین الاقوامی سطح پر بہت زیادہ بڑھی ہے۔
احسن محنتی کا کہنا ہے کہ چاندی کی زیادہ طلب بنیادی طور پر چین سے آئی ہے جہاں مصنوعات تیار کرنے میں اس کا استعمال کیا جاتا ہے۔ احسن محنتی کا کہنا ہے کہ چین چاندی کو ذخیرہ کر رہا ہے کیوںکہ جغرافیائی اور سیاسی حالات کی وجہ سے دھاتوں کی قیمت بڑھ رہی ہے۔
سونا محفوظ سرمایہ کاری ہے لیکن مصنوعات کی تیاری میں چاندی کے استعمال نے اس کی قدر بھی بڑھا دی ہے۔
دھاتوں کے شعبے کے ماہر احسن الیاس نے بتایا کہ چاندی کا استعمال الیکڑک گاڑیوں، سولر پینلز، موبائل فونز اور دیگر مصنوعات میں ہو رہا ہے، نتیجتاً اس کی طلب بڑھی ہے لیکن رسد کم ہے۔
انھوں نے کہا کہ چاندی کی قیمت میں فی الحال کوئی کمی نظر نہیں آتی اور اس کے مزید بڑھنے کا امکان ہے۔ الیاس کے مطابق چین میں اس کی طلب کی وجہ سے وہاں اس کی قیمت 95 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی ہے ۔
امریکہ میں سیکشن 232 کے تحت تحقیقات نے بھی یہ خدشات پیدا کیے ہیں کہ امریکہ چاندی پر اضافی ٹیرف عائد کر سکتا ہے، جس کی وجہ سے اس دھات کو منڈی میں لانے کے بجائے گوداموں میں ہی رکھا جا رہا ہے اور اس کی فراہمی کم ہو چکی ہے۔
متعلقہ تحقیقات امریکی محکمہ تجارت کے ذریعے کی جاتی ہیں اور یہ جانچتی ہیں کہ آیا کسی مصنوعات کی درآمد ملک کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہے یا نہیں۔
ان تحقیقات کے نتیجے میں کیے گئے فیصلے عالمی تجارت کو متاثر کر سکتے ہیں۔
2018 میں سٹیل اور ایلومینیم پر اضافی محصولات نے دنیا بھر میں تجارتی کشیدگی کو جنم دیا تھا۔
سیکشن 232 کے تحت جاری تحقیقات کے نتیجہ میں امریکہ چاندی کی درآمد پر محصولات عائد کر سکتا ہے، جس سے اس دھات کی قیمتوں اور عالمی فراہمی پر اثر پڑے گا۔
پاکستان میں چاندی کی خرید و فروخت کا حجم کیا ہے، اس کے بارے میں کوئی مستند اعداد و شمار دستیاب نہیں۔
احسن محنتی نے کہا کہ فی الحال پاکستان مرکنٹائل ایکسچینج میں چاندی کی خرید و فروخت کے اعداد و شمار دستیاب ہیں، جس میں فزیکلی تو چاندی ڈیلیور نہیں ہوتی تاہم ایکسچینج میں اس کا جو کاروبار ہوتا ہے اس کے مطابق یہ یومیہ 12 ارب روپے ہے۔













