کیا پاکستانی شدت پسند تنظیموں کی افغان جنگجوؤں کو حملوں سے دور رکھنے کی ہدایات افغان طالبان کے دباؤ کا نتیجہ ہیں؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, عزیز اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو، پشاور
پاکستان میں حکومت کی جانب سے کالعدم تنظیموں کی کارروائیوں میں افغان عسکریت پسندوں کے ملوث ہونے کے دعوے تو سامنے آتے رہے ہیں لیکن اب دو کالعدم تنظیموں کے رہنماؤں نے اپنے جنگجوؤں کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ اپنی کارروائیوں میں افغان شہریوں کو شامل نہ کریں۔
یہ ہدایات ایک آڈیو پیغام میں حافظ گُل بہادر اور ایک ویڈیو پیغام میں سربکف مہنمد نے اپنے پیروکاروں کو جاری کی ہیں۔
ان دونوں طالبان تنظیموں کے رہنماؤں کے بیانات تقریباً ایک ہفتے کے جاری ہوئے ہیں۔ پہلا بیان یکم جنوری کو حافظ گل بہادر جبکہ دوسرا پیغام چھ جنوری کو سر بکف مہمند کی جانب سے جاری کیا گیا تھا۔
حافظ گُل بہادر کالعدم ٹی ٹی پی کے اپنے گروہ کے سربراہ ہیں جبکہ سربکف مہمند جماعت الاحرار کے سربراہ ہونے کے ساتھ ساتھ کالعدم ٹی ٹی پی کا بھی حصہ ہیں۔
دونوں عسکریت پسند رہنماؤں نے پشتوں زبان میں اپنے پیغامات میں پہلے تو اپنے زندہ ہونے کے ثبوت پیش کیے اور ان ریکارڈنگز میں ان تاریخوں کا بھی ذکر کیا ہے جب یہ بیانات ریکارڈ کیے گئے۔
حافظ گل بہادر نے اپنا آڈیو پیغام وزیری زبان میں جاری کیا ہے۔ چونکہ حافظ گل بہادر گروپ کا کوئی میڈیا ونگ نہیں ہے اس لیے یہ پیغام ان کی جانب سے ان کے پیروکاروں کو بھیجا گیا ہے اور پھر ان لوگوں کے سوشل میڈیا پیجز پر شیئر کیا گیا ہے۔
دونوں عسکریت پسند شخصیات کی جانب سے یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب گذشتہ مہینے افغان علما نے ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ افغانستان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ کی جائے۔
اس اعلامیے میں واضح کیا گیا تھا کہ جو بھی افغان سرزمین کا استعمال کر کے ملک سے باہر عسکری کارروائی کرے گا اسے ’باغی‘ تصور کیا جائے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پاکستان میں حکومتی عہدیداروں اور سکیورٹی حکام نے عسکریت پسندوں کے ساتھ جھڑپوں میں ہلاک ہونے افراد کی نشاندہی متعدد مرتبہ بطور افغان کی ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ ہے پرتشدد کے واقعات کے لیے افغان سرزمین استعمال ہو رہی ہے۔
أفغان طالبان کی جانب سے متعدد مرتبہ ان الزامات کی تردید کی گئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس معاملے پر پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان کے جنگجوؤں کے درمیان متعدد جھڑپیں بھی ہوئی تھیں۔ دونوں کے درمیان جنگ بندی میں ترکی اور قطر نے مرکزی کردار ادا کیا تھا۔ تاہم اس کے بعد ہونے والے مذاکرات زیادہ کارگر ثابت نہیں ہو سکے۔
پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے بھی اپنی ایک پریس کانفرنس میں 2025 کے دوران 10 بڑے دہشت گرد واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان میں ملوث تمام عسکریت پسند أفغان شہری تھے جو مارے گئے۔
پاکستان میں مبصرین حافظ گُل بہارد اور سربکف مہمند کے بیانات کو ایک تبدیلی کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
عسکریت پسند رہنماؤں کی جانب سے بیانات کیوں جاری کیے گئے؟
حافظ گُل بہادر اور سربکف مہمند دونوں نے ہی اپنے جنگجوؤں کو ہدایات جاری کی ہیں کہ اپنے گروہوں میں غیر ملکی جنگجوؤں، خصوصاً أفغان شہریوں، کی بھرتیاں نہ کریں۔ کریں۔
اس خطے میں مسلح تنظیموں پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ کار احسان ٹیپو محسود نے بی بی سی کو بتایا کہ ’دیگر تنظیموں کے قائدین کے برعکس حافظ گُل بہادر ہمیشہ میڈیا سے دور رہے ہیں اور انھوں نے کبھی سوشل میڈیا پر کوئی بیان جاری نہیں کیا۔‘
پہلی مرتبہ ان کا بیان منظرِ عام آنے پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے احسان ٹیپو محسود کہتے ہیں کہ ’لگتا ہے اس تنظیم پر افغانستان میں حکام کی جانب سے دباؤ آیا ہے۔‘
حافظ گُل بہادر کی سوشل میڈیا سے دوری کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ انھوں نے خود اپنے بیان میں اپنے پیروکاروں کو موبائل فون یا سوشل میڈیا کا استعمال کرنے سے منع کیا ہے۔
عسکریت پسندوں پر گہری نظر رکھنے والے ایک اور سینیئر تجزیہ کار فدا عدیل بھی اس بات سے متفق نظر آتے ہیں کہ عسکریت پسند گروہوں کے رہنماؤں کے تازی بیانات کے پیچھے گذشتہ مہینے افغانستان میں علما کی جانب سے جاری کیے گئے مشترکہ اعلامیے کا بھی کردار ہے۔
’افغان طالبان کے اندر ایک حصہ یہ سمجھتا ہے کہ ان پاکستانی عسکریت پسند گروہوں کی وجہ سے پاکستان اور افغانستان میں طالبان کے درمیان تناؤ آیا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
احسان ٹیپو محسود بھی سمجھتے ہیں کہ عسکریت پسند رہنماؤں کی جانب سے یہ بیانات اور ہدایات بڑی اہمیت کی حامل ہیں۔
انھوں نے کہا کہ کالعدم ’ٹی ٹی پی کے سربراہ نور ولی محسود بھی مختلف مواقعوں پر کہہ چکے ہیں کہ افغان جنگجو ان کی تنظیم میں شامل نہ ہوں بلکہ صرف دعا کریں۔‘
کیا ایسے بیانات سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات بہتر ہو سکتے ہیں؟
تجزیہ کار احسان ٹیپو محسود کے مطابق اگرچہ جماعت الاحرار ٹی ٹی پی کے ساتھ ہے لیکن وہ اپنے طور پر بھی کام کرتی ہے اور سربکف مہمند کے تازہ پیغام کی وجہ ’افغانستان میں طالبان کی طرف سے دی گئی ہدایت یا دباؤں بھی ہوسکتا ہے۔‘
’اس کا مقصد پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات کو بہتر کرنا ہوسکتا ہے۔‘
فدا عدیل بھی اس معاملے پر ایسی ہی رائے کا اظہار کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
’شاید افغان طالبان (پاکستان مخالف گروہوں) کے خلاف کارروائی نہیں کرنا چاہتے یا پھر نہیں کر سکتے۔ پاکستانی مسلح تنظیموں کے خلاف انھوں نے اپنے علما کا سہارا لیا ہے۔‘
فدا عدیل نے مزید کہا کہ مذاکرات کے دوران پاکستان نے اپنے موقف بار بار دہرایا ہے کہ افغانستان کی سرزمین اس کے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔
’افغانستان میں جو پاکستانی شدت پسند موجود ہیں ان پر دباؤ بھی بڑھا ہے اور اسے کم کرنے کے لیے ہی ان تنظیموں کے رہنماؤں کے بیانات سامنے آ رہے ہیں۔ اس کا مقصد پاکستان کی طرف سے افغان طالبان پر پڑنے والے دباؤ کو کم کرنا بھی ہے۔‘












