جنرل آصف نواز جنجوعہ: ایک حاضر سروس پاکستانی آرمی چیف کی اچانک موت جس نے بہت سے سوالات کو جنم دیا

- مصنف, ظہیر احمد بابر
- عہدہ, صحافی
’جنرل صاحب کو قتل کیا گیا ہے۔‘ پاکستان کے سابق آرمی چیف جنرل آصف نواز جنجوعہ کے بھائی شجاع نواز کے کان میں سرگوشی کی طرح ادا کیا جانے والا یہ جملہ ایک انجان شخص کا تھا اور جنرل آصف نواز کی موت کے 32 برس بعد بھی اِس جملے کی بازگشت پاکستان میں سنائی دیتی ہے۔
شجاع نواز نے اپنی کتاب ’کراسڈ سورڈز‘ میں لکھا ہے کہ وہ اپنے بھائی کی موت کے بعد آرمی ہاوس راولپنڈی میں موجود تھے جہاں افسوس کرنے کے لیے لوگ آتے رہتے تھے، اور اسی دوران ’مقامی لباس میں ملبوس ایک شخص نے اُن سے افسوس کا اظہار کرنے کے بعد کان میں یہ سرگوشی کی تھی۔‘
شجاع نواز کے مطابق انھوں نے اُس وقت ’زیادہ نہیں سوچا اور سکیورٹی افسر سے اُس شخص کو آرمی ہاؤس سے باہر نکالنے کو کہا۔‘
11 سال تک سربراہ مملکت اور ساڑھے 12 سال تک آرمی چیف رہنے والے جنرل ضیاالحق کے طیارہ حادثے کے صرف چھ سال بعد ایک اور آرمی چیف کی اچانک موت نے پاکستان کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔
سرکاری مؤقف کے مطابق آٹھ جنوری 1993 کو جنرل آصف نواز جنجوعہ کی موت دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی تھی مگر جن حالات میں جنرل آصف نواز جنجوعہ کی موت ہوئی وہ ہنگامہ خیز تھے۔
ملک اُس وقت بھی سیاسی بحران کا شکار تھا۔ صدر غلام اسحاق خان اور وزیراعظم نوازشریف آئینی اختیارات کی جنگ لڑ رہے تھے اور اس صورتحال میں فوج کو بطور ثالث دیکھا جا رہا تھا۔ یہ وہی دور تھا جب کراچی میں فوجی آپریشن بھی جاری تھا اور جناح پور جیسے متنازع معاملات سامنے آ چکے تھے۔ دوسری جانب مارشل لا لگائے جانے کی افواہوں کا بھی زور تھا۔
ایسی صورتحال میں ملک کے آرمی چیف کی اچانک موت پر سوال تو اٹھنے ہی تھے، سو اٹھے بھی۔ عوامی اور سیاسی سطح پر کی جانے والی چہ میگوئیوں کو اُس وقت آواز ملی جب، شجاع نواز کی کتاب کے مطابق، جنرل آصف نواز جنجوعہ کی بیوہ نے بھی یہ شبہ ظاہر کر دیا کہ اُن کے شوہر کی موت طبعی نہیں تھی۔
اس دعوے کے بعد عدالتی کمیشن تشکیل دیا گیا، امریکی لیبارٹری سے نمونوں کے ٹیسٹ ہوئے لیکن آخرکار جنرل آصف نواز کی موت کو طبعی قرار دیا گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کیا وجہ ہے کہ آج تک جنرل آصف نواز کی موت کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے؟ نواز شریف سے اُن کا کیا تنازع چل رہا تھا؟ آصف نواز کو مارشل لا لگانے کا مشورہ کس نے دیا تھا؟ اور وہ کیا حالات تھے جن میں جنرل آصف نواز کی موت ہوئی اور خود ان کے بھائی شجاع نواز نے اپنی کتاب میں، جو اس واقعے کے کئی سال بعد شائع ہوئی، کیا سوال اٹھائے؟
اس تحریر میں ان سوالات کا جائزہ لیا گیا ہے تاہم پہلے جانتے ہیں کہ جنرل آصف نواز کون تھے اور کن حالات میں پاکستان کی بری فوج کے سربراہ بنے۔
جنرل آصف نواز جنجوعہ کون تھے؟

،تصویر کا ذریعہFACEBOOK/BHATTI PHOTOGRAPHERS
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
جنرل آصف نواز جنجوعہ کے بھائی شجاع نواز کی کتاب ’کراسڈ سورڈز‘ میں دی جانے والی معلومات کے مطابق آصف نواز جنجوعہ تین جنوری 1937 کو ضلع جہلم کے علاقے چکری راجگان میں پیدا ہوئے اور انھوں نے سنہ 1957 میں پاکستانی فوج میں کمیشن حاصل کیا۔
وہ بری فوج کے آخری سینڈ ہرسٹ گریجویٹ سربراہ تھے اور ملٹری اکیڈمی کاکول کے کمانڈر بھی رہے۔
سنہ 1991 میں جنرل اسلم بیگ کی ریٹائرمنٹ کے بعد جب انھوں نے فوج کی کمان سنبھالی تب وہ سنیارٹی کے اعتبار سے جنرل شمیم عالم خان کے بعد دوسرے نمبر پر تھے۔ جنرل شمیم عالم خان کو چیئرمین جوائنٹس چیف آف اسٹاف کمیٹی نامزد کر دیا گیا۔
شجاع نواز کے مطابق اُس وقت تین جرنیلوں کی لسٹ میں سے آصف نواز کو چُنا گیا، اس لسٹ میں جنرل حمید گل کا نام بھی شامل تھا۔
جنرل جنجوعہ کی تقرری اس لیے بھی اہم مانی جاتی ہے کیونکہ وہ ضیا دور کے بعد پہلے آرمی چیف تھے جنھیں ایک سویلین حکومت نے اس عہدے کے لیے منتخب کیا تھا، اور یہ وہ وقت تھا جب نوے کی دہائی کا سیاسی عدم استحکام اپنے عروج پر تھا اور غلام اسحاق خان ایک بااختیار صدر کی حیثیت سے ایوان صدر میں موجود تھے۔
شجاع نواز کے مطابق جنرل آصف نواز جنجوعہ نے 16 اگست 1991 کو بطور آرمی چیف پہلے دن جاری کیے گئے اپنے فرمان میں کہا کہ ’ملک میں جمہوریت بحال ہو چکی ہے اور مسلح افواج کا سیاسی معاملات سے کوئی واسطہ نہیں ہونا چاہیے۔ ہمیں سیاسی معاملات میں مداخلت سے گریز کرنا ہو گا۔‘
اگرچہ اس بیان سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ جنرل آصف نواز جنجوعہ فوج کو سیاست سے دور رکھنا چاہتے تھے لیکن دوسری جانب سیاست خود سے ہی فوج کے دروازے تک آ چکی تھی۔
مصنف احمد رشید نے جنرل آصف نواز کی موت کے بعد انڈیپینڈینٹ اخبار میں لکھا کہ ’وہ کم گو تھے اور ایک ہی جملے میں سوالوں کے جواب دیا کرتے تھے۔‘
احمد رشید کے مطابق ’آصف نواز اکثر یہ کہا کرتے تھے کہ وہ ریٹائر ہونے کے بعد آرام کرنا چاہتے ہیں۔‘
نواز شریف اور آصف نواز جنجوعہ کے تعلق کی ابتدا اور بی ایم ڈبلیو گاڑی کا تحفہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جنرل آصف نواز اور وزیر اعظم نواز شریف کے تعلق کی ابتدا ہی کچھ متنازع رہی۔
سابق آئی ایس آئی چیف اسد درانی نے اپنی کتاب ’پاکستان ایڈرفٹ‘ میں لکھا ہے کہ ’آرمی چیف (آصف نواز) اور اُن کی اہلیہ کو لاہور میں شریف خاندان کے گھر مدعو کیا گیا، جہاں انھیں ایک بی ایم ڈبلیو گاڑی کا تحفہ دینے کی کوشش کی گئی۔‘
اسد درانی کے مطابق آرمی چیف نے یہ تحفہ لینے سے انکار کر دیا۔
شجاع نواز نے بھی اپنی کتاب میں اس واقعے سے متعلق چند مزید دلچسپ معلومات فراہم کی ہیں۔ اُن کے مطابق اس ملاقات کے دوران میاں محمد شریف، نے اپنے بیٹوں نواز شریف اور شہباز شریف کے سامنے ’پنجابی زبان میں آرمی چیف سے مخاطب ہو کر کہا کہ یہ دونوں آپ کے چھوٹے بھائی ہیں، کوئی مسئلہ ہو تو مجھے بتانا میں ان کو ٹھیک کر دوں گا۔‘
بی ایم ڈبلیو گاڑی کے تحفے کے متعلق شجاع نواز نے لکھا ہے کہ ’ایک دن شہباز شریف نے جنرل آصف نواز کو گاڑی کی چابی دینے کی کوشش کی اور کہا کہ یہ اباجی نے آپ کے لیے تحفے کے طور پر بھجوائی ہے۔‘ شجاع نواز لکھتے ہیں کہ جنرل آصف نواز نے شکریے کے ساتھ تحفہ لوٹا دیا۔
تاہم یہ معاملہ یہاں تھما نہیں اور شجاع نواز کے مطابق ’چند دن بعد مری میں ایک ملاقات کے بعد جب نواز شریف نے ان کی گاڑی دیکھ کر کہا کہ یہ آپ کے شایانِ شان نہیں اور اس کے بعد انھیں ایک نئی بی ایم ڈبلیو گاڑی منگوا کر اس کی چابی دی تو جنرل آصف نواز نے اسے واپس کرتے ہوئے کہا کہ میرے پاس جو ہے میں اس پر خوش ہوں۔‘
آئی ایس آئی سربراہ کی تعیناتی کا تنازع اور جنرل حمید گل

،تصویر کا ذریعہAFP
شجاع نواز کے مطابق نواز شریف اور جنرل آصف نواز کے درمیان تعلق کی خرابی کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ وزیراعظم فوج کے اندر ترقیوں کے معاملے میں اپنی مرضی چاہتے تھے اور ان کے مطابق ’جنرل آصف نواز کو یہ بھی علم ہوا کہ ان کے علاوہ بھی دیگر جنرلز کو گاڑیوں کا تحفہ دینے کی پیشکش کی گئی۔‘
ایسا ہی ایک اختلاف آئی ایس آئی کے سربراہ کی تقرری پر ہوا جب، شجاع نواز کے مطابق، ایک ملاقات میں نواز شریف نے جنرل آصف نواز کو بتایا کہ وہ لیفٹینینٹ جنرل جاوید ناصر کو آئی ایس آئی کا نیا سربراہ لگانے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔
شجاع نواز لکھتے ہیں کہ ’جنرل جاوید ناصر اسلامی نظریات رکھتے تھے اور انجینیئر اِنچیف رہ چکے تھے لیکن ان کا انٹیلیجنس کا تجربہ نہیں تھا۔‘ تاہم شجاع نواز کے مطابق نواز شریف نے آرمی چیف سے روایتی طرز پر نام نہیں مانگے جس پر آصف نواز حیران بھی ہوئے اور ’انھیں یہ طریقہ پسند نہیں آیا۔‘
اس دوران شجاع نواز کے مطابق جنرل آصف نواز کو لیفٹینینٹ جنرل حمید گل سے بھی خدشہ تھا کہ وہ اُن کی بیرون ملک موجودگی کے دوران عبوری چیف کی طرح کام کر سکتے ہیں۔
وہ لکھتے ہیں کہ آصف نواز نے فیصلہ کیا کہ جنوری 1992 میں امریکہ روانگی کے موقع پر ’حمید گل کو ٹیکسلا میں دفاعی ادارے میں تعینات کر دیا جائے اور انھوں نے اس وقت کے لاہور کور کمانڈر جنرل جہانگیر کرامت سے کہا کہ وہ حمید گل کو جا کر بتائیں کہ وہ نئے عہدے پر تعینات ہو چکے ہیں۔‘
اُس وقت حمید گل ملتان میں کور کمانڈر تھے۔
تاہم شجاع نواز لکھتے ہیں کہ ’امریکہ میں جنرل آصف نواز کو چیف آف جنرل سٹاف لیفٹیننٹ جنرل فرخ خان کا فون آیا کہ حمید گل نے نئے عہدے پر جانے سے انکار کر دیا ہے۔‘ شجاع نواز کے مطابق اس وقت آصف نواز ورجینیا میں اُن ہی کے گھر پر موجود تھے اور ’آرمی چیف نے حکم دیا کہ جنرل حمید گل اگر نہیں جانا چاہتے تو ان کو ریٹائر تصور کیا جائے گا اور پھر ایسا ہی ہوا۔‘
اقتدار سنبھالنے کی مبینہ امریکی پیشکش اور مارشل لا لگانے کی تجویز
آصف نواز امریکہ میں تھے لیکن پاکستان میں سیاسی تنازع بڑھ رہا تھا۔
نوازشریف دور میں امریکہ میں پاکستانی سفیر اور کئی بار رکن اسمبلی رہنے والی جھنگ کی سیدہ عابدہ حسین اپنی خودنوشت ’پاور فیلیئر: دی پولیٹیکل اوڈیسی آف اے پاکستانی وومین‘ میں لکھتی ہیں کہ جب جنرل آصف نواز جنجوعہ واشنگٹن آئے تو اُس وقت کے امریکی وزیردفاع ڈک چینی سے اُن کی ملاقات ہوئی جس کے بعد عابدہ حسین کے مطابق ڈک چینی نے اپنے عملے کو کمرے سے باہر جانے کو کہا۔
عابدہ حسین کے مطابق جنرل آصف نواز نے انھیں بھی باہر جانے کو کہا۔
وہ لکھتی ہیں کہ ’اجلاس کے بعد میں نے جنرل جنجوعہ سے کہا مجھے اندازہ کرنے دیں، ڈک چینی نے آپ کو اقتدار میں آنے کے لیے حمایت کی پیشکش کی؟ میری بات سُن کر جنرل جنجوعہ حیران رہ گئے اور مجھ سے پوچھا کہ کیا ڈک چینی نے مجھے یہ بات بتائی؟‘
عابدہ حسین کے مطابق، اس ملاقات کے دوران ڈک چینی نے ’جنرل آصف نواز کو اشارہ دیا کہ اگر وہ پاکستان میں اقتدار سنبھالنا چاہیں (یعنی مارشل لا لگانا چاہیں) تو امریکہ کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔‘
عابدہ حسین کی کتاب کے مطابق، جنرل آصف نواز جنجوعہ نے اس پیشکش کو قبول کرنے کے بجائے اسے مسترد کر دیا اور جنرل آصف نواز نے واپسی پر انھیں بتایا تھا کہ وہ فوج کو سیاست میں ملوث کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔
شجاع نواز کے مطابق اسی دورے کے دوران پاکستانی کاروباری شخصیت یوسف ہارون اُن کے گھر پر آئے اور جنرل آصف نواز سے ملاقات میں حکومت کا تختہ الٹنے پر رضامند کرنے کی کوشش کی۔
شجاع نواز کے مطابق اپنی کوشش میں ناکامی کے بعد یوسف ہارون نے ان سے کہا کہ وہ آصف نواز کو رضامند کرنے میں ان کی مدد کریں۔
نواز شریف کی کابینہ کے اراکین کی آصف نواز سے ملاقاتیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images
شجاع نواز لکھتے ہیں کہ جنرل آصف نواز نے انھیں نواز شریف کی کابینہ کے اراکین سے ہونے والی ملاقاتوں کی تفصیل بتائی تھی کہ کیسے چند وزرا آرمی ہاؤس میں ملاقات کے دوران وزیراعظم کے خلاف شکایتیں کرتے اور نواز شریف کو ہٹانے کے لیے آرمی چیف کی مدد مانگتے تھے۔
شجاع نواز لکھتے ہیں کہ آصف نواز نے انھیں بتایا کہ ’وہ ان وزرا سے کہتے تھے کہ اگر وہ خوش نہیں تو انھیں سیاسی نظام میں رہتے ہوئے ہی تبدیلی لانی ہو گی۔‘
شجاع نواز کے مطابق جو رہنما جنرل آصف نواز سے ملنے آتے تھے ان میں پرویز الہی اور شیخ رشید شامل تھے۔
شجاع نواز کے مطابق سنہ 1992 کے موسم گرما تک آرمی چیف وزیر اعظم سے فاصلے بڑھتے ہوئے محسوس کرنے لگے تھے اور ایسے میں انھوں نے ایک دوست کے ذریعے صدر غلام اسحاق خان کو ملاقات کا پیغام بھجوایا۔
شجاع نواز کے مطابق ’اس ملاقات میں جنرل آصف نواز حکومت کا تختہ الٹنے کے حامی نہیں تھے تاہم ان کی رائے میں اگر حالات میں بہتری کے لیے ان ہاؤس تبدیلی ضروری ہے تو ایسا ہو سکتا ہے۔‘
شجاع نواز لکھتے ہیں کہ ’لاہور، راولپنڈی اور اسلام آباد میں ایسے پوسٹر بھی لگے جن پر لکھا ہوا تھا کہ آصف نواز آؤ، ملک کو بچاؤ۔‘
شجاع نواز لکھتے ہیں کہ اس سب کے باوجود جنرل آصف نواز کا مارشل لا لگانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا اور آرمی چیف امریکہ کے ایک اور دورے کی تیاری کر رہے تھے۔ اس دورے سے قبل، شجاع نواز کے مطابق ان کی اپنے بھائی سے جب بات ہوئی تو آرمی چیف نے کہا کہ ’وزیراعظم کے ساتھ سب ٹھیک ہے، ان کے اردگرد کے کچھ لوگ مسائل پیدا کر رہے ہیں۔‘
کراچی آپریشن میں جناح پور کے نقشے اور اقتدار کی جنگ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یاد رہے کہ یہ وہ وقت تھا جب کراچی میں آپریشن شروع ہوا جسے آپریشن بلیو فاکس بھی کہا جاتا رہا۔
اس وقت کراچی میں شہری فسادات اور ٹارگٹ کلنگ عام ہو چکی تھی اور آپریشن کلین اپ کے دوران ایم کیو ایم سے جڑے افراد پر سنگین نوعیت کے الزامات سامنے آئے۔ تاہم ایم کیو ایم کا نواز شریف کی جماعت سے اتحاد تھا۔ اور شجاع نواز کے مطابق سندھ میں فوجی آپریشن کی وجہ سے آرمی چیف اور وزیراعظم کے تعلقات مزید بگڑے۔
آپریشن کلین اپ سے پہلے 18 جولائی 1992 کو اچانک ایک اہم پریس کانفرنس ہوئی جس میں بریگیڈیئر آصف ہارون نے بتایا کہ ایسے نقشے پکڑے گئے ہیں جن میں کراچی کو جناح پور کے نام سے نئی ریاست بنایا جانا تھا۔
روزنامہ جنگ کراچی سمیت تمام اخبارات نے ’جناح پور سازش‘ کو نمایاں طورپر شائع کیا۔
شجاع نواز اپنی کتاب میں لکھتے ہیں آرمی چیف نے سختی سے کارروائی کی جس پر نواز شریف کو لگا کہ یہ ان کے سیاسی اتحاد کو کمزور کرنے کی کوشش ہے۔
آصف نواز کی اچانک موت اور سوال
جنرل آصف نواز اس دن، شجاع نواز کے مطابق، آرمی ہاؤس میں ٹریڈ مل پر ورزش کر رہے تھے جب انھیں دل کا دورہ پڑا جس کے بعد انھیں وہیں پر ابتدائی طبی امداد دی گئی لیکن ان کی طبیعت بہتر نہ ہونے کی وجہ سے انھیں ہسپتال لے جایا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہو سکے۔
یہ آٹھ جنوری 1993 کی دوپہر تھی۔ اس وقت کے سب سے سینیئر جنرل، لیفٹیننٹ جنرل محمد اشرف فوری طور پر عبوری آرمی چیف بن گئے لیکن ہرسطح پر چہ مگوئیاں ہوتی رہیں۔
شاید یہ معاملہ بھی ایک سوالیہ نشان بن کر ہوا میں تحلیل ہو جاتا لیکن تقریبا تین ماہ بعد نیویارک ٹائمز کی شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق اپریل میں آصف نواز کی بیوہ نزہت آصف نواز کی جانب سے یہ دعویٰ سامنے آیا کہ ان کے شوہر کو آہستہ آہستہ زہر دیا گیا۔
اس رپورٹ کے مطابق انھوں نے سوال اٹھایا کہ ایک فعال اور جسمانی طور پر فٹ جنرل کو اچانک دل کا دورہ کیسے پڑ سکتا ہے لیکن انھوں نے باقاعدہ شکایت درج نہیں کروائی۔
نزہت آصف نواز کا دعویٰ سامنے آتے ہی اپوزیشن جماعتوں نے پارلیمنٹ میں معاملہ اٹھایا اور ہر طرف ایک ہی سوال گونجنے لگا کہ سچ کیا ہے؟
وزیراعظم نوازشریف نے سپریم کورٹ کے سینیئر جج جسٹس شفیع الرحمن کی سربراہی میں تین رکنی عدالتی کمیشن تشکیل دے دیا اور اس کمیشن کو دیے گئے مینڈیٹ میں شامل تھا کہ وہ موت کی اصل وجہ کا تعین کرے۔
آصف نواز جنجوعہ کے بالوں کے نمونوں کا تجزیہ

،تصویر کا ذریعہFACEBOOK/SOCIAL MEDIA
جنرل آصف نواز جنجوعہ کی اچانک موت سے جڑے سوالات کی تلاش سب کو تھی۔
شجاع نواز کی کتاب ’کراس سورڈز‘ میں بتایا گیا ہے کہ جنجوعہ فیملی کی جانب سے امریکہ کی ایک فرانزک لیبارٹری ’نیشنل میڈیکل سروسز آف پینسلوانیا‘ سے بالوں کے نمونوں کی جانچ کرانے کا فیصلہ کیا گیا۔
این ایم ایس کے پروفائل کے مطابق وہ ایک تسلیم شدہ فرانزک اور میڈیکل ڈائیگناسٹک کمپنی ہے، جس کی سروسز امریکہ، برطانیہ اور دیگر ممالک میں بھی لی جاتی ہیں۔ عام طور پر وہاں انسانی خون، بال، ناخن اور دیگر نمونوں کے تجزیے کیے جاتے ہیں۔ یہ لیبارٹری بالوں کے تجزیے میں سنکھیا (آرسینک ) جیسے مادوں کا پتہ لگانے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔
امریکی لیبارٹری کے تحقیقات کا حصہ بننے کے بعد اس ہائی پروفائل موت کی وجوہات جاننے کی بے چینی بڑھتی ہی جا رہی تھی۔
امریکی لیبارٹری کی رپورٹ کو خود نزہت آصف نواز منظرعام پر لائیں۔ خبررساں ادارے یونائیٹڈ پریس انٹرنیشنل (یوپی آئی) میں انور اقبال کی رپورٹ کے مطابق جنرل آصف نواز جنجوعہ کی بیوہ نے امریکی فرانزک لیبارٹری کی رپورٹ پولیس کو جمع کروائی جس کی حکام نے تصدیق بھی کی۔
اس رپورٹ میں جنرل آصف نواز جنجوعہ کے بالوں کے نمونے میں سنکھیا (آرسینک) کی مقدارغیرمعمولی حد تک زیادہ پائی گئی۔ عام سطح پر یہ مقدار چار مائیکرو ملی گرام فی بال ہوتی ہے لیکن نمونوں میں یہ مقدار 67 مائیکرو گرام فی گرام فی بال تک پائی گئی۔
یہ انکشاف ایک دھماکے کی طرح تھا لیکن ساتھ ہی یہ بتایا گیا کہ صرف سنکھیا (آرسینک) کا زیادہ ہونا موت کی وجہ پر قطعی فیصلہ نہیں دے سکتا بلکہ یہ مزید تجزیے کی ضرورت کی نشاندہی کرتا ہے ۔
نزہت آصف نواز نے پولیس میں باقاعدہ درخواست بھی جمع کروائی، جس میں الزام لگایا گیا کہ ان کے شوہر کو زہر دے کر مارا گیا۔ انھوں نے پوسٹ مارٹم کرانے کا بھی مطالبہ کیا لیکن اپنی درخواست میں انھوں نے کسی ممکنہ ملزم کا نام نہیں لیا۔
جنرل آصف نواز جنجوعہ کے امریکہ میں مقیم بھائی شجاع نواز اپنی کتاب میں اس حوالے سے لکھتے ہیں کہ ستمبر 1993 میں بالاخر ڈاکٹر ریچٹ کی سربراہی میں غیرملکی ماہرین کی تین رکنی ٹیم اسلام آباد آئی اور ڈی آئی جی ڈاکٹر شعیب سڈل کو ان کا سرکاری رابطہ افسر مقرر کیا گیا جو ان غیرملکی ماہرین کو بعد میں سیر کے لیے اسلام آباد سے مری بھی لے گئے۔
اس دوران، شجاع نواز کے مطابق، ڈاکٹر شعیب سڈل نے ماہرین کو کئی بار یقین دلایا کہ نمونے محفوظ ہاتھوں میں ہیں۔ سرکاری رابطہ افسر ڈاکٹر شعیب سڈل کی جانب سے غیرملکی ماہرین کو دی گئی باربار یقین دہانی نے نمونوں کی چین آف کسٹڈی پر سوال اٹھا دیے۔

،تصویر کا ذریعہOXFORD UNIVERSITY PRESS
چین آف کسٹڈی کیا ہوتی ہے؟
فرانزک سائنس میں زبانی یقین دہانی کافی نہیں ہوتی۔ اصل اہمیت دستاویزی ثبوت، واضح تسلسل اور چین آف کسٹڈی کی ہوتی ہے یعنی تجزیہ کیے گئے نمونے کب حاصل کیے گئے؟ یہ نمونے پوسٹ مارٹم کے وقت لیے گئے یا بعد میں حاصل کیے گئے؟ یہ بال، ناخن، جسم کے ٹشوز میں سے کون کون سے نمونے لیے گئے اور ان کو کہاں پر اور کس کی نگرانی میں محفوظ رکھا گیا؟
ڈاکٹر شعیب سڈل اسلام آباد میں ہی موجود ہیں مگر کئی سال پہلے شجاع نواز کی کتاب سامنے آنے کے باوجود انھوں نے کبھی بھی اس معاملے پر بات نہیں کی۔ ہمارے رابطہ کرنے اور سوالات بھجوانے کے باوجود یہ تحریر لکھنے تک ان کے جوابات کا انتظار رہا۔
شجاع نواز نے اپنی کتاب کراسڈ سورڈزکے آخر میں دس صفحات کا ایک ضمیمہ شامل کیا ہے۔ اس ضمیمے میں مرحوم جنرل کی اہلیہ کو مبینہ طور پر وزیراعظم ہاؤس کے بعض ملازمین، جن کے نام ظاہر نہیں کیے گئے، کی جانب سے بھجوائے گئے ایسے تحریری پیغامات کا انگریزی ترجمہ دیا گیا ہے جن میں الزام لگایا گیا کہ جنرل آصف نواز کو مبینہ طور پر حکومتی اہلکاروں کے کہنے پر زہر دیا گیا۔
شجاع نواز کے مطابق یہ گمنام خط جنرل آصف نواز کی موت کے بعد ان کی اہلیہ کو موصول ہوئے۔ تاہم ان میں جو دعوے کیے گئے ان کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو پائی۔
شجاع نواز نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ ’آصف نواز کی موت کو جس چیز نے مشکوک بنایا وہ ان کی موت کے بعد پیش آنے والے واقعات تھے‘ جن میں سے ایک کا تذکرہ اس تحریر کے آغاز میں کیا گیا۔
شجاع نواز کے مطابق ’اگرچہ آصف نواز کی موت نے پاکستان کے سیاسی نظام کو ایک جھٹکا دیا لیکن فوج اور سیاسی اسٹیبلشمنٹ نے تفتیش کو، باوجود آرمی چیف کی بیوہ کے الزامات کے، شفافیت یا چستی سے ڈیل نہیں کیا اور ایک ایسے وقت میں خود کو محفوظ رکھنے کی کوشش میں مصروف ہو گئے جب یہ ضروری تھا کہ جنرل آصف نواز کی صحت پر کھلی تحقیقات سے خدشات کو ختم کیا جائے۔‘

،تصویر کا ذریعہFACEBOOK/SOCIAL MEDIA
پوسٹمارٹم رپورٹ اورعدالتی تحقیقاتی کمیشن نے کیا نتیجہ نکالا؟
سچ کی تلاش کے لیے بنائے گئے عدالتی تحقیقاتی کمیشن نے 14 مئی 1993 کو اپنی رپورٹ وزیراعظم آفس کو پیش کی لیکن ماضی میں اہم واقعات پر بنائے گئے بہت سے انکوائری کمیشنز کی طرح یہ رپورٹ بھی مکمل طور پر منظرعام پر نہیں آئی۔
امریکی اخبار لاس اینجلس ٹائمز میں 14 اکتوبر1993 کو چارلس والس کی رپورٹ میں ذکر کیا گیا کہ جسٹس شفیع الرحمن کی سربراہی میں بنائے گئے تین رکنی کمیشن نے جنرل آصف نواز جنجوعہ کی موت کو قدرتی قرار دیا ہے اور بیوہ نزہت آصف نواز کی جانب سے سلو پوائزننگ کے دعوے کے کوئی ٹھوس یا قابل اعتبار حتمی شواہد سامنے نہیں آ سکے۔
نیویارک ٹائمز نے ’پاکستانی فوج کے سابق سربراہ جنرل آصف نواز کی موت میں زہر کے شواہد نہیں ملے‘ کے عنوان سے شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں لکھا ’فرانسیسی، برطانوی اور امریکی ڈاکٹروں کی جانب سے کیے گئے پوسٹ مارٹم کے مطابق جنرل آصف نواز دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے تھے، نہ کہ آرسینک زہر سے، جیسا کہ ان کے اہلِ خانہ کو شبہ تھا۔‘
سرکاری رپورٹ کے مطابق تینوں غیر ملکی ڈاکٹروں کی آٹوپسی رپورٹس میں واضح کیا گیا ہے کہ موت کی وجہ ہارٹ اٹیک ہی تھی۔
ماہرین کے مطابق جنرل آصف نواز کے خاندان میں دل کا دورہ پڑنے سے پہلے بھی اموات ہو چکی تھیں۔
شجاع نواز کا سوال

،تصویر کا ذریعہATLANTIC COUNCIL
کتاب کراسڈ سورڈز میں کسی کو بھی جنرل آصف نواز جنجوعہ کی موت کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا لیکن پھر بھی وہ سوال اٹھاتے ہیں کہ امریکی لیارٹری کی رپورٹ میں سنکھیا کی زیادہ مقدار پائی گئی لیکن سرکاری رپورٹ کے مطابق جنرل آصف کی موت طبعی تھی۔
شجاع نواز پوچھتے ہیں وہ آج تک یہ سمجھ نہیں پائے ہیں کہ ان کی تحقیقات اور سرکاری تحقیقات کے نتائج میں فرق کیوں آیا؟ صرف اتنا ہی نہیں ، سرکاری و فوجی حکام کی جانب سے اس موت کی مکمل تحقیقات سے ہچکچاہٹ سے بھی شکوک و شبہات نے جنم لیا جو آج تک موجود ہیں۔
شجاع نواز اپنی کتاب میں یہ بھی لکھتے ہیں کہ انھوں نے امریکی حکام سے درخواست کی کہ انھیں جنرل آصف نواز جنجوعہ سے متعلق پاکستانی حکام سے ہونے والی بات چیت کے بارے میں معلومات فراہم کی جائیں لیکن انھیں مثبت جواب نہیں ملا۔
امریکی وزارت خارجہ نے اس درخواست کے دو برس بعد محض اتنا بتایا کہ فیلڈ دفاتر سے معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔
اسلام آباد میں موجود سیاسی اور عسکری رپورٹنگ میں مہارت رکھنے والے سینیئر صحافی اعزاز سید کا نکتہ نظر یہ ہے کہ ’جنرل آصف نوازجنجوعہ کی وفات سے سب سے زیادہ فائدہ کسی کو ملا تو وہ برسراقتدار مسلم لیگ ن اور کراچی آپریشن سے دوچار ایم کیوایم تھی۔‘
اعزاز سید کہتے ہیں کہ ’جنرل آصف نواز جنجوعہ دونوں جماعتوں کی پارٹی قیادت کے رویے سے خوش نہیں تھے۔‘
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’ایم کیوایم کے لوگ بتاتے ہیں کہ جنرل آصف نواز کو یہ شکوہ تھا کہ جب جنرل اسلم بیگ کی ریٹائرمنٹ قریب تھی وہ اپنی مدت ملازمت میں توسیع کے خواہشمند تھے اور انھوں نے الطاف حسین سے رابطہ کر کے اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان کو سفارش کروائی تھی۔‘
’ایک طرف تو وہ سفارش نہ سنی گئی دوسری طرف صدر اسحاق نے جنرل آصف نواز کی تقرری کے وقت انھیں بتا دیا کہ ایم کیو ایم بھی اسلم بیگ کی توسیع کی حامی تھی جو ہو جاتی تو یقینناً آصف نواز آرمی چیف نہ بنتے۔ تاہم کراچی مین امن وامان کی مخدوش صورتحال آصف نواز کی ایم کیو ایم سے الگ سے ناراضگی کی ایک اہم ترین وجہ تھی۔‘
تاہم سیاسی رپورٹنگ کا طویل تجربہ رکھنے والے لاہور کے سینئر صحافی سلمان غنی کے نزدیک ’جب جنرل آصف نواز جنجوعہ کی اچانک موت ہوئی تب ملک میں شدید سیاسی تناؤ اور ٹکراؤ تھا، کراچی آپریشن چل رہا تھا اور صدر غلام اسحاق خان اور وزیراعظم نوازشریف میں آئینی اختیارات کی کشمکش تھی۔‘
ان کے مطابق ’ایسے میں جنرل آصف نواز جنجوعہ کی اچانک موت سے نوازشریف کی حکومت کو ایک نئی مشکل کا سامنا کرنا پڑا جبکہ اپوزیشن لیڈر بے نظیر بھٹو کو حکومت پر سیاسی دباؤ بڑھانے کا موقع ملا۔‘

،تصویر کا ذریعہSHUJA NAWAZ
صحافی اعزاز سید نے کہا کہ ’سیاسی تناؤ اور ٹکراؤ کی صورتحال میں یہ اطلاع بھی آئی کہ ایک تقریب میں جنرل آصف نواز جنجوعہ اور اپوزیشن لیڈر بے نظیر بھٹو کا آمنا سامنا بھی ہوا جس پر قیاس آرائیاں جنم لینے لگیں کہ ان کے رابطے مضبوط ہو رہے ہیں۔‘
لیکن تب کی سیاسی صورتحال کا جائزہ پیش کرتے ہوئے اعزاز سید یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ ’اس کا یہ مطلب نہیں کہ جنرل آصف نواز جنجوعہ کی وفات سے مسلم لیگ ن کی حکومت کا کوئی کردار یا تعلق تھا۔‘
اعزاز سید کے مطابق ’جنرل آصف نواز جنجوعہ کی وفات کے بعد ایک عجیب سلسلہ شروع ہوا جب ان کے گھر کے پتے پر بے نامی خطوط لکھے گئے جن میں جنرل جنجوعہ کو مختلف طریقوں سے آہستہ آہستہ زہر دینے کی مختلف وجوہات بتائی جاتی رہیں۔‘
یہ وہی بے نامی خطوط ہیں جن میں جنجوعہ خاندان کو حکومت کے کسی کردار کے بارے میں ترغیب دی گئی تھی اور جن کا حوالہ پہلے تحریر میں دیا جا چکا ہے۔
صحافی اعزاز سید کہتے ہیں کہ ان کی جنرل آصف نواز جنجوعہ کے امریکہ میں مقیم بھائی شجاع نواز سے ملاقات اور رابطہ رہا اور ’امریکی لیبارٹری نے اپنی حتمی رپورٹ میں زہر دینے کے امکان کو رد کر دیا تھا۔‘
صحافی اعزاز سید سے جب امریکی لیبارٹری کی ابتدائی رپورٹ میں بالوں میں سنکھیا، آرسینک کی مقدار معمول سے کہیں زیادہ ہونے کا ذکر کیا تو انھوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ ’اگر ایسا کچھ ہوتا تو یہ تو ایک اور17 اگست کہلاتا۔‘ یاد رہے کہ اگست 1987 کو جنرل ضیاالحق کا طیارہ حادثے کا شکار ہوا تھا۔
اعزاز سید نے ساتھ ہی یہ سوال اٹھایا کہ ’اگر آرمی چیف جنرل آصف نواز جنجوعہ کی موت غیر طبعی ہونے کا کوئی ایک بھی ٹھوس شواہد سامنے آ جاتا یا یہ پتہ چلتا کہ اس میں کسی سویلین یا سیاسی جماعت کی کوئی سازش ہے تو کیا اسٹیبلشمنٹ اسے چھوڑتی؟‘
جنرل آصف نواز جنجوعہ کی اچانک موت پاکستانی تاریخ کی ان ہائی پروفائل اموات میں سے ہے جو سرکاری فائلوں میں تو سمٹ جاتی ہیں مگر پھر ان سے کہانیاں جنم لیتی ہیں جس میں الزام بھی ہوتے ہیں اور سوال بھی۔
جنرل آصف تو اگلے سفر پر چلے گئے اور ان کے بعد جنرل وحید کاکڑ آرمی چیف بنے۔ 18 اپریل 1993 کو صدر غلام اسحاق خان نے نوازشریف کی حکومت تحلیل کر دی جس کے خلاف نوازشریف سپریم کورٹ چلے گئے۔
وہاں تقریباً 37 دن بعد ان کی حکومت کی تحلیل کو غیرآئینی قرار دے دیا گیا اور نواز شریف کی بطور وزیراعظم واپسی ہو گئی لیکن سیاسی تنازع ایک نئے بحران میں تبدیل ہو گیا جس کے بعد بطور ثالث جنرل عبدالوحید کاکڑ کا کردار سامنے آیا اور آئینی بحران سے نکلنے کے لیے کاکڑ فارمولے کے تحت غلام اسحاق خان نے صدارت اور نوازشریف نے وزارت عظمیٰ سے استعفی دے دیا۔













