لائیو, امریکہ نے پاکستان سمیت 75 ممالک کے شہریوں کے لیے امیگرنٹ ویزا پراسیس روک دیا

بدھ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک بیان میں امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا تھا کہ ’امریکی محکمہ خارجہ ان 75 ممالک سے آنے والے تارکینِ وطن کے امیگرنٹ ویزوں کی پراسیسنگ روک رہا ہے، جن کے شہری ناقابلِ قبول حد تک امریکی عوام کی ویلفیئر کے لیے کیے گئے اقدامات سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔‘

خلاصہ

  • دوحہ کے العدید فضائی اڈے پر امریکی عملے کی تعداد میں کمی، قطری حکومت کا علاقائی تناؤ کا حوالہ
  • اگر امریکہ نے حملہ کیا تو خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا جائے گا: تہران
  • ایرانی عدلیہ کے سربراہ کا ’فسادیوں‘ کے خلاف جلد قانونی کارروائی کرنے کا مطالبہ
  • ایران میں احتجاج کے دوران 2400 سے زائد مظاہرین ہلاک، انسانی حقوق گروپ کا دعویٰ
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ایرانی حکومت مظاہرین کو سزائے موت دیتی ہے تو امریکہ ’انتہائی سخت کارروائی‘ کرے گا۔
  • تھائی لینڈ کے شمال مشرقی صوبے ناخون راتچاسیما میں ایک تعمیراتی کرین ٹرین پر گرنے سے کم از کم 22 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

لائیو کوریج

  1. ایران میں قتلِ عام بند ہوگیا، پھانسی کی سزاؤں پر عمل نہیں ہوگا: امریکی صدر کا دعویٰ

    ڈونلڈ ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے پاس ’مستند ذرائع‘ سے پہنچنے والی معلومات کے مطابق ایران میں قتلِ عام بند ہو چکا ہے اور وہاں پھانسی کی سزاؤں پر بھی عمل درآمد نہیں ہوگا۔

    بدھ کی رات اوول آفس میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ان کے پاس پہنچنے والی معلومات کے مطابق ایران کا پھانسی کی سزاؤں پر عملدرآمد کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں۔

    تاہم انھوں نے واضح کیا کہ ایران میں قتلِ عامل دوبارہ شروع ہونے یا پھانسی کی سزاؤں صورت میں امریکہ سخت ردِ عمل دے گا۔

    اس سے قبل بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا تھا کہ اگر ایران حکومت مخالف مظاہرین کو پھانسی دیتی ہے تو امریکہ ’بہت سخت کارروائی‘ کرے گا۔

    اس کے ردِعمل میں ایران نے کہا تھا کہ اگر اس پر حملہ ہوا تو وہ جوابی کارروائی کرے گا۔

    اسی صورتحال میں امریکہ میں بی بی سی کے پارٹنر ادارے سی بی ایس نیوز نے خبر دی تھی کہ امریکہ قطر میں اپنے العدید ایئر بیس پر موجود اہلکاروں کی تعداد کم کر رہا ہے۔ حکام نے اس اقدام کو ’احتیاطی تدبیر‘ قرار دیا ہے۔

    العُدید فضائی سے بعض اہلکاروں کے انخلا سے متعلق گردش کرتی میڈیا رپورٹس کے حوالے سے ریاستِ قطر کے انٹرنیشنل میڈیا آفس (آئی ایم او) نے کہا ہے کہ یہ اقدامات موجودہ علاقائی کشیدگی کے جواب میں کیے جا رہے ہیں۔

    آئی ایم او نے اس بات کی توثیق کی کہ ریاستِ قطر اپنے شہریوں اور رہائشیوں کی سلامتی اور تحفظ کو اولین ترجیح دیتے ہوئے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے، جن میں اہم تنصیبات اور فوجی سہولیات کے تحفظ سے متعلق اقدامات بھی شامل ہیں۔

    آئی ایم او نے مزید کہا کہ اگر کوئی نئی پیش رفت سامنے آتی ہے تو اسے باضابطہ اور مقررہ ذرائع کے ذریعے عوام تک پہنچایا جائے گا۔

  2. اٹلی اور پولینڈ نے اپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے کی ہدایت دے دی

    ایران میں سکیورٹی کی صورتحال کے سبب اٹلی اور پولینڈ نے اپنے شہریوں کو ملک چھوڑنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔

    اٹلی کی وزارتِ خارجہ کے مطابق ایران میں تقریباً 600 اطالوی شہری موجود ہیں، جن میں سے اکثریت دارالحکومت تہران میں مقیم ہے۔

    دوسری جانب پولینڈ کی وزارتِ خارجہ نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے شہریوں کو کہا ہے کہ وہ ’فوراً‘ ایران چھوڑ دیں۔

  3. امریکہ نے پاکستان سمیت 75 ممالک کے شہریوں کے لیے امیگرنٹ ویزا پراسیس روک دیا

    امریکہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ نے پاکستان اور ایران سمیت 75 ممالک سے تعلق رکھنے والے شہریوں کے امیگرنٹ ویزوں کی پراسیسنگ کا عمل روک دیا ہے۔

    بدھ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک بیان میں امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے کہا گیا تھا کہ ’امریکی محکمہ خارجہ ان 75 ممالک سے آنے والے تارکینِ وطن کے امیگرنٹ ویزوں کی پراسیسنگ روک رہا ہے، جن کے شہری ناقابلِ قبول حد تک امریکی عوام کی ویلفیئر کے لیے کیے گئے اقدامات سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔‘

    امریکی محکمہ خارجہ نے ان تمام 75 ممالک کے ناموں کی فہرست نہیں جاری کی تھی۔ تاہم امریکی میڈیا آؤٹ لیٹ فوکس نیوز کی جانب سے ان ممالک کے نام رپورٹ کیے گئے ہیں اور ان میں پاکستان کا نام بھی شامل ہے۔

    ان ممالک کے نام جاننے کے لیے جب امریکی محکمہ خارجہ سے رابطہ کیا گیا تو اس کے ایک ترجمان نے بی بی سی کے روحان احمد کو بتایا کہ ’ہم فوکس نیوز کی خبر کی تصدیق کر سکتے ہیں۔‘

    اس سے قبل امریکی محکمہ خارجہ نے اپنی پوسٹ میں مزید کہا تھا کہ ’یہ پابندی اُس وقت تک برقرار رہے گی جب تک امریکہ یہ یقینی نہ بنا لے کہ نئے آنے والے تارکینِ وطن امریکی عوام کے وسائل پر بوجھ نہیں بنیں گے۔‘

    امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق س اقدام سے درجنوں ممالک، جن میں صومالیہ، ہیٹی، ایران اور اریٹیریا بھی شامل ہیں، متاثر ہوں گے، جن سے تعلق رکھنے والے تارکینِ وطن پر یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ وہ اکثر امریکہ پہنچتے ہی ’سرکاری امداد کے محتاج بن جاتے ہیں۔‘

    ’ہم یہ یقینی بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں کہ امریکی عوام کی سخاوت کا اب مزید غلط استعمال نہ ہو سکے۔‘

    دوسری مرتبہ اقتدار سنبھالنے کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ ملک میں قانونی اور غیرقانونی دونوں قسم کی امیگریشن کو محدود کر رہے ہیں اور ان کی انتظامیہ برازیل، ایران، روس اور صومالیہ سے تعلق رکھنے والے افراد کی ویزا پراسیسنگ روک چکی ہے۔

    امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے 75 ممالک کے ناموں کی فہرست تو نہیں جاری کی گئی تاہم اس نئے حکمنامے پر عملدرآمد 21 جنوری سے شروع ہوگا۔

    ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ نے اپنے قونصل افسران کو ہدایات جاری کر دی ہیں کہ وہ امیگریشن کے خواہشمند افراد کی درخواستیں روک دیں۔ تاہم اس نئی پابندی کا اثر نان امیگریشن، عارضی سیاحتی اور کاروباری ویزوں پر نہیں پڑے گا۔

  4. 8 سے 10 جنوری کے دوران گرفتار کیے گئے تمام افراد مجرم ہیں: ایرانی وزیر

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کے وزیرِ انصاف امین حسین رحیمی نے دعویٰ کیا ہے کہ 8 سے 10 جنوری کے دوران ملک میں احتجاج نہیں ہوا بلکہ ’یہ مکمل خانہ جنگی تھی اور ان دو دنوں میں گرفتار کیا گئے تمام افراد مجرم ہیں کیونکہ وہ اس وقت موقع پر موجود تھے۔‘

    بی بی سی فارسی کے مطابق امین حسین رحیمی نے بدھ کو ایران کی کابینہ کے اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ گرفتار افراد کے ساتھ ’کسی قسم کی رعایت یا نرمی‘ نہیں برتی جائے گی۔

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل، امریکہ اور ’بادشاہت کے حامیوں‘ کے خلاف قانونی کارروائی بھی ان کے ایجنڈے کا حصہ ہے۔

    ایران کی عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی اژه‌ای بھی اس سے قبل کہہ چکے ہیں کہ گرفتار کیے گئے افراد کے لیے کوئی رعایت نہیں ہوگی اور انھیں ’جلد از جلد مقدمہ چلا کر سزا دینی چاہیے۔‘

  5. ایران میں کشیدہ صورتحال: پاکستانیوں کی اپنے ملک واپسی جاری, محمد کاظم، بی بی سی اردو کوئٹہ

    ایران میں کشیدہ صورتحال کے پیشِ نظر بلوچستان کے سرحدی ضلع گوادر کے راستے پاکستانی طلبا سمیت دیگر شہریوں کی وطن واپسی کا سلسلہ جاری ہے۔

    گوادر میں ایک سینیئر سرکاری اہلکار نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ گبد کراسنگ پوائنٹ سے بدھ کے روز مزید 42 پاکستانی شہری ایران سے گوادر پہنچے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ واپس آنے والے 42 افراد میں 11 طلبہ شامل تھے۔

    سرکاری اہلکار نے بتایا کہ گذشتہ تین سے چار روز کے دوران ایران سے 380 سے زائد پاکستانی شہری گوادر پہنچے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ واپس آنے والوں میں تقریباً 150 طلبہ شامل تھے جبکہ باقی زائرین اور عام شہری تھے۔

    انہوں نے بتایا کہ واپس آنے والے طلبہ اور دیگر شہریوں کو بحفاظت ان کے آبائی علاقوں تک بھیجنے کا عمل جاری ہے۔

  6. قطر کے امیر کا وزیراعظم شہباز شریف کو فون، مشرق وسطیٰ کی حالیہ صورتحال پر گفتگو

    قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی نے وزیراعظم شہباز شریف کو ٹیلی فون کیا۔ گفتگو میں دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور قطر کے تعلقات پر اطمینان کا اظہار کیا اور انھیں مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ صورتحال پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے خطے میں امن اور مذاکرات کے فروغ میں قطر کے کردار کو سراہا اور کہا کہ پاکستان بھی علاقائی امن و استحکام کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کرتا رہے گا۔

    دونوں رہنماؤں نے آئندہ دنوں میں قریبی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔

  7. دوحہ کے العدید فضائی اڈے پر امریکی عملے کی ’تعداد میں کمی‘، قطری حکومت کا ’علاقائی تناؤ‘ کا حوالہ

    USA

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس نیوز کے مطابق امریکہ قطر میں اپنے العدید ایئر بیس پر موجود اہلکاروں کی تعداد کم کر رہا ہے۔ حکام نے اس اقدام کو ’احتیاطی تدبیر‘ قرار دیا ہے۔

    العُدید فضائی سے بعض اہلکاروں کے انخلا سے متعلق گردش کرتی میڈیا رپورٹس کے حوالے سے ریاستِ قطر کے انٹرنیشنل میڈیا آفس (آئی ایم او) نے کہا ہے کہ یہ اقدامات موجودہ علاقائی کشیدگی کے جواب میں کیے جا رہے ہیں۔

    آئی ایم او نے اس بات کی توثیق کی کہ ریاستِ قطر اپنے شہریوں اور رہائشیوں کی سلامتی اور تحفظ کو اولین ترجیح دیتے ہوئے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے، جن میں اہم تنصیبات اور فوجی سہولیات کے تحفظ سے متعلق اقدامات بھی شامل ہیں۔

    آئی ایم او نے مزید کہا کہ اگر کوئی نئی پیش رفت سامنے آتی ہے تو اسے باضابطہ اور مقررہ ذرائع کے ذریعے عوام تک پہنچایا جائے گا۔

    یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر ایران حکومت مخالف مظاہرین کو پھانسی دیتی ہے تو امریکہ ’بہت سخت کارروائی‘ کرے گا۔ ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس پر حملہ ہوا تو وہ جوابی کارروائی کرے گا۔

    انسانی حقوق کے گروپوں کے مطابق ایران میں حالیہ حکومتی کریک ڈاؤن کے دوران 2400 سے زائد حکومت مخالف مظاہرین ہلاک ہو چکے ہیں۔

    ایران نے جون میں قطر کے العدید ایئر بیس پر میزائل حملہ کیا تھا جسے اس نے اپنے جوہری مراکز پر امریکی حملوں کا جواب قرار دیا۔

    قطر کے دارالحکومت دوحہ کے قریب صحرا میں واقع 24 ہیکٹر (59 ایکڑ) پر پھیلا العدید ایئر بیس مشرقِ وسطیٰ میں سب سے بڑا امریکی فوجی اڈہ ہے۔ یہ امریکی فضائی کارروائیوں کے ہیڈکوارٹر کے طور پر بھی کام کرتا ہے جہاں تقریباً 10 ہزار اہلکار موجود ہیں۔ برطانیہ کے کچھ فوجی اہلکار بھی باری باری یہاں تعینات رہتے ہیں۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز نے سفارتکاروں کے حوالے سے بتایا کہ اگرچہ بعض اہلکاروں کو اڈہ چھوڑنے کا کہا گیا ہے لیکن فی الحال بڑی تعداد میں فوجیوں کے انخلا کے آثار نہیں ہیں، جیسا کہ گذشتہ سال ایرانی حملے سے قبل دیکھنے میں آیا تھا۔

    ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے ایک سینیئر مشیر نے بدھ کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خبردار کیا کہ جون کا حملہ ایران کی صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ کسی بھی حملے کا جواب دے سکتا ہے۔ علی شمخانی نے ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’یہ یقینی طور پر اس بات کو سمجھنے میں مدد دے گا کہ ایران کسی بھی حملے کا جواب دینے کی قوت اور ارادہ رکھتا ہے۔‘

    امریکہ کے مشن برائے سعودی عرب نے بھی بدھ کو اپنے اہلکاروں اور شہریوں کو مشورہ دیا کہ وہ ’زیادہ احتیاط برتیں اور خطے میں فوجی تنصیبات کے غیر ضروری سفر کو محدود کریں۔‘

    امریکہ نے ایران میں مظاہرین کی ہلاکتوں پر مداخلت کی دھمکی دی ہے۔

    منگل کو صدر ٹرمپ نے اپنے پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ ایرانی حکام ’بڑا نقصان اٹھائیں گے‘ اور عوام کو احتجاج جاری رکھنے کی ترغیب دی۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ایرانی رہنماؤں نے انھیں فون کیا اور ’وہ مذاکرات چاہتے ہیں‘ لیکن امریکہ ’ملاقات سے پہلے بھی کارروائی کر سکتا ہے۔‘

    ایرانی حکومت نے امریکہ پر الزام لگایا ہے کہ وہ ’فوجی مداخلت کے لیے بہانہ تراشنے‘ کی کوشش کر رہا ہے۔ ایرانی پارلیمان کے سپیکر نے خبردار کیا کہ اگر امریکہ نے حملہ کیا تو خطے میں موجود امریکی اور اسرائیلی فوجی و بحری مراکز جائز اہداف ہوں گے۔

    ایران میں حالیہ احتجاج دسمبر کے آخر میں شروع ہوئے جب کرنسی گر گئی اور مہنگائی میں اضافہ ہوا۔ یہ احتجاج جلد ہی سیاسی تبدیلی کے مطالبات میں بدل گئے اور سنہ 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد موجودہ حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج بن گئے۔

    امریکہ میں قائم انسانی حقوق کے گروپ ایچ آر اے این اے کے مطابق اب تک 2403 مظاہرین اور 12 بچے ہلاک ہو چکے ہیں، اگرچہ ملک میں انٹرنیٹ بند ہے۔ گروپ نے یہ بھی بتایا کہ 18 ہزار 434 سے زائد مظاہرین کو گرفتار کیا گیا ہے۔

  8. انڈیا کی اپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے کی ہدایت

    Iran

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    تہران میں انڈین سفارتخانے نے اپنے شہریوں کو ایران سے نکل جانے کی ہدایت کی ہے۔ ہندوستان ٹائمز سمیت کچھ ہندوستانی ذرائع ابلاغ نے حکومت کی ٹریول ایڈوائزری کا حوالہ دیتے ہوئے خبر دی ہے کہ تہران میں انڈین سفارت خانے نے اپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے کو کہا ہے۔

    اعلان میں کہا گیا ہے کہ ’ایران میں بدلتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر، فی الحال ایران میں موجود انڈین شہریوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ دستیاب ذرائع نقل و حمل کے ذریعے ایران چھوڑ دیں۔‘

    تہران میں انڈین سفارت خانے نے پانچ جنوری کو ہی اپنے شہریوں سے کہا تھا کہ ایران کے غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔

    واضح رہے کہ مسلسل بدامنی، سلامتی کی صورتحال اور ڈونلڈ ٹرمپ کی بار بار وارننگ کے بعد کئی ممالک نے اپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے کو کہا ہے۔

  9. روس ایران کے ساتھ اپنے معاہدوں پر عملدرآمد جاری رکھے گا: وزیر خارجہ

    Iran

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    روسی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ اقتصادی تعلقات اور معاہدوں پر عمل درآمد جاری رہے گا اور امریکی دھمکی سے اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔

    ماسکو میں نمیبیا کے وزیر خارجہ کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں سرگئی لاوروف نے ایران کے ساتھ تجارت پر 25 فیصد امریکی ٹیرف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’اپنے رویے سے، امریکہ ان قوانین کو نظر انداز کرتا ہے جن کو اس نے خود فروغ دیا اور گلوبلائزیشن کا نام دیا، وہ اپنے اصولوں کی پاسداری نہیں کرتا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’اس طرح کے رویے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہمارے امریکی ساتھی ناقابل اعتبار ہیں اور وہ ہمیشہ اپنے تیل کے وسائل کو صرف اور صرف اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ دھمکیاں اور براہ راست دباؤ، بشمول محصولات کا نفاذ۔‘

    روس کے وزیر خارجہ نے حالیہ پیش رفت کی روشنی میں ایران کے ساتھ تعلقات کے تسلسل کے بارے میں کہا کہ ’ہمیں اپنا کام جاری رکھنا چاہیے اور ایران اور دیگر اقتصادی شراکت داروں کے ساتھ اپنے معاہدوں پر عمل درآمد کرنا چاہیے۔ جب امریکہ جیسا طاقتور ملک اس طرح کے غیر مہذب طریقے اختیار کرتا ہے تو اس کا ایک ہی مطلب ہوتا ہے: امریکہ کی مسابقتی پوزیشن مسلسل کمزور ہوتی جا رہی ہے۔‘

    سرگئی لاوروف نے زور دے کر کہا کہ ’میں نہیں سمجھتا کہ کوئی تیسرا فریق روس ایران تعلقات کی نوعیت کو بدل سکتا ہے۔ یہ تعلقات روس اور ایران کے صدور کے معاہدوں پر مبنی ہیں اور دونوں ممالک کے مفادات کے مطابق ہیں۔‘

    گذشتہ روز روسی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ایران میں فوجی مداخلت کی امریکی دھمکی کو ’ناقابل قبول‘ قرار دیا۔

  10. ایران میں حکومت مخالف احتجاج میں ہلاک ہونے والے سکیورٹی اہلکاروں کی اجتماعی نمازِ جنازہ

    Iran

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    ایران میں گذشتہ چند دنوں سے جاری مظاہروں میں ہلاک ہونے والے سکیورٹی اہلکاروں کی نماز جنازہ آج ادا کی جا رہی ہے۔

    امریکہ میں قائم انسانی حقوق کے کارکنوں کے خبر رساں ادارے ایچ آر اے این اے کے مطابق ایران میں ملک گیر احتجاج کے دوران ہلاک ہونے والوں کی تعداد دو ہزار پانچ سو اکہتر تک پہنچ گئی ہے۔

    خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ تازہ ترین اعداد و شمار میں دو ہزار چار سو تین مظاہرین، حکومت سے وابستہ ایک سو سینتالیس افراد، اٹھارہ برس سے کم عمر کے بارہ افراد اور نو عام شہری شامل ہیں جو مظاہرین نہیں تھے۔

    بی بی سی ان اعداد و شمار کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا۔ زیادہ تر بین الاقوامی خبر رساں ادارے، بشمول بی بی سی، کو ملک کے اندر کام کرنے پر پابندیاں ہیں۔

  11. مظاہرین کی حمایت کرنے پر ایرانی ہوٹل سعدینیہ کے مالک کے اثاثے ضبط

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہsaediniachocolate

    قم کے چیف جسٹس نے اعلان کیا کہ انھوں نے سعدینیہ کیفے کے مالک کو ’لوگوں کو فساد اور افراتفری کی دعوت‘ دینے پر گرفتار کر لیا ہے اور ان کی تمام جائیداد اور بینک اکاؤنٹس ضبط کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔

    محمد سعیدیہ سعدینیہ کیفے کمپلیکس کے مینیجر اور مالک ہیں جو قم سوہان کی تیاری اور فروخت کے لیے مشہور ہے۔ مظاہروں کے ابتدائی دنوں میں محمد سعیدیہ نے کہا کہ وہ حمایت میں مارکیٹ ورکرز کی ہڑتال میں شامل ہوں گے۔

    عدالتی اہلکار کے مطابق ’صوبہ قم میں اس شخص کی سرگرمیوں کے تمام مراکز بند کر دیے گئے ہیں اور گرفتار ہوٹل مالک کے اثاثوں کی چھان بین کے لیے متعلقہ عدالت کو مقدمہ بھیج دیا گیا ہے تاکہ ہوٹل مالک اور انھوں نے جو اقدامات کیے ہیں ان کے بارے میں جلد ہی کوئی کارروائی کی جا سکے۔‘

  12. قطر میں العدید ایئر بیس سمیت امریکی فوج مشرقِ وسطیٰ میں کہاں اور کیوں موجود ہے؟, محمد صہیب، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    Iran

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے حملہ کیا تو وہ خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنائے گا۔ اُدھر تین سفارتکاروں نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ امریکی فوج کے العدید ایئر بیس پر موجود کچھ اہلکاروں کو بُدھ کی شام تک وہاں سے جانے کا کہا گیا ہے۔

    یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن نے خبردار کیا ہے کہ وہ ایران میں مظاہرین کے تحفظ کے لیے مداخلت کر سکتا ہے۔

    آئیے پہلے جانتے ہیں کہ قطر میں العدید ایئر بیس سمیت امریکی فوج مشرقِ وسطیٰ میں کہاں اور کیوں موجود ہے؟

    ہم قطر میں العدید ایئر بیس کے بارے میں کیا جانتے ہیں؟

    العدید ایئر بیس قطر کے دارالحکومت دوحہ کے قریب واقع ہے۔ یہاں مشرق وسطیٰ میں امریکی سینٹرل کمانڈ کے فضائی آپریشنز کا ہیڈکوارٹر ہے۔ اس اڈے پر قریب آٹھ ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں۔

    اس اڈے پر برطانوی فوج بھی باری باری تعینات ہوتی ہے۔ اسے بعض اوقات ابو نخلہ ایئرپورٹ کہا جاتا ہے۔

    قطر نے سنہ 2000 میں امریکہ کو العدید ایئر بیس تک رسائی دی تھی۔ لندن میں قائم انٹیلیجنس فرم گرے ڈائنیمکس کے مطابق یہ ایئر بیس 2001 میں امریکہ کے زیرِ انتظام آئی تھی۔ دسمبر 2002 میں دوحہ اور واشنگٹن نے باقاعدہ ایک معاہدے کے ذریعے العدید ایئر بیس پر امریکی فوج کی موجودگی تسلیم کی تھی۔

    سنہ 2024 میں سی این این نے اطلاع دی تھی کہ امریکہ نے قطر میں عسکری موجودگی کو مزید 10 سال کی توسیع دی ہے۔

    امریکی فوج خطے میں کہاں کہاں موجود ہے؟

    USA

    باربرا سلاون واشنگٹن میں سٹمسن سینٹر میں فیلو اور جارج واشنگٹن یونیورسٹی میں لیکچرر ہیں اور مشرقِ وسطیٰ کے امور پر گہری نظر رکھتی ہیں۔

    انھوں نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ امریکہ کی اس خطے میں موجودگی سنہ 1940 کی دہائی سے خلیج فارس میں رہی ہے جبکہ نائن الیون حملوں کے بعد اس میں بڑا اضافہ دیکھنے میں آیا۔ امریکہ نے سنہ 1945 میں سعودی شہر الظھران میں اس خطے میں اپنا پہلا فضائی اڈہ بنا لیا تھا۔

    امریکی محکمۂ دفاع کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں لگ بھگ 40 ہزار امریکی فوجی موجود ہیں۔

    خبررساں ادارے اے پی کے مطابق 2023 میں سات اکتوبر سے پہلے امریکہ کے مشرقِ وسطیٰ میں 34 ہزار کے لگ بھگ فوجی تعینات تھے جن میں گذشتہ ایک سال کے دوران چھ ہزار فوجیوں کا اضافہ کیا گیا ہے۔

    امریکی محکمہ دفاع کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں سب سے بڑا امریکی اڈہ العدید ایئر بیس ہے جو قطر میں واقع ہے اور سنہ 1996 میں بنایا گیا تھا۔

    قطر کے علاوہ بحرین، کویت، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، شام، اردن، مصر، قبرص اور عراق میں بھی امریکی فوجی موجود ہیں۔

    امریکی کے کویت میں بھی متعدد فوجی اڈے ہیں جبکہ سعودی عرب میں بھی اس کے دو اڈے ہیں۔

    باربرا سلاون کے مطابق ’سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، عمان، کویت، اردن اور بحرین امریکہ کی جانب سے فراہم کیے گئے تحفظ کا بھی فائدہ اٹھاتے ہیں۔‘

    USA

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق عراق میں اب بھی امریکہ کے دو ہزار سے زیادہ اہلکار موجود ہیں جو عین الاسد ایئر بیس اور ’یونین تھری‘ جیسی سہولیات کے ارد گرد تعینات ہیں۔

    امریکی پالیسی دستاویزات کے مطابق امریکی فوجی مختلف وجوہات کی بنا پر مشرقِ وسطیٰ میں تعینات کیے گئے ہیں اور شام کے علاوہ وہ ہر ملک کی حکومت کی اجازت سے وہاں موجود ہیں۔

    عراق اور شام جیسے ملکوں میں امریکی فوجیں نام نہاد دولتِ اسلامیہ کے عسکریت پسندوں کے خلاف لڑنے کے لیے موجود ہیں۔ یہاں امریکی فوجی مقامی فورسز کو تربیت بھی دیتے ہیں۔

    امریکہ کے ایک اہم اتحادی ملک اردن میں سینکڑوں امریکی ٹرینرز ہیں جہاں وہ سال بھر وسیع مشقیں کرواتے ہیں۔

    امریکہ کا ’ٹاور 22‘ فوجی اڈہ اردن میں شمال مشرقی مقام پر واقع ہے۔ اس مقام پر اردن کی سرحدیں شام اور عراق سے ملتی ہیں۔ رواں سال 28 جنوری کو اس اڈے پر ایک ڈرون حملے میں امریکی آرمی ریزرو کے تین فوجی ہلاک ہوئے تھے جس کا الزام واشنگٹن نے ایرانی حمایت یافتہ عراقی ملیشیا کتائب حزب اللہ پر لگایا تھا۔

    فوجی اڈوں اور فوجیوں کی موجودگی کے علاوہ بحیرہ احمر، خلیجِ عمان اور بحیرہ روم میں امریکی بحریہ موجود ہے۔ امریکی محکمہ دفاع کے مطابق کچھ ہی روز میں یہاں دو امریکی طیارہ بردار جنگی بحری جہاز موجود ہوں گے۔

    یو ایس ایس ابراہم لنکن پہلے ہی خلیج عمان کے قریب موجود ہے جبکہ کچھ ہی روز میں یو ایس ایس ٹرومین بحیرۂ روم کے پانیوں میں پوزیشن سنبھال لے گا۔ یوں خطے میں امریکی برّی، بحری، اور فضائی تینوں افواج موجود ہیں۔

    امریکی فوجی ہزاروں میل دور خطے میں کیوں موجود ہیں؟

    USA

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    دہائیوں سے امریکہ کی جانب سے مشرقِ وسطیٰ میں ہزاروں میل دور اپنی افواج بٹھانے کے پیچھے متعدد وجوہات ہیں۔

    ایشیا اور شمالی افریقہ کے بیچ موجود مشرقِ وسطیٰ قدرتی وسائل سے مالا مال ہے اور اس کی عالمی نقشے پر ایک اہم پوزیشن اسے دوسرے ممالک کی خارجہ پالیسی خاص کر امریکہ کی خارجہ پالیسی کے لیے اہم ثابت ہوتی رہی ہے۔

    تیل

    سنہ 1938 میں سعودی عرب کے مشرقی شہر الظھران سے تیل کا کنواں دریافت ہونے کے بعد سے تیل کی عالمی معیشت میں قدر میں دن بدن اضافہ دیکھنے کو ملا۔

    برطانوی یونیورسٹی ایس او اے ایس میں ڈیولپمنٹ سٹڈیز کے پروفیسر گلبرٹ ایخکر نے بی بی سی ورلڈ سروس کو ایک ویڈیو میں بتایا کہ ’تیل کو جب عالمی معیشت میں اہمیت ملی تو ظاہر ہے کہ اس کی سٹریٹیجک اہمیت بھی بڑھ گئی۔

    برطانیہ کے پالیسی انسٹیٹیوٹ چیٹھم ہاؤس میں اسوسی ایٹ فیلو ڈاکٹر لینا خطیب نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اکثر افراد یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ امریکہ اس خطے میں صرف تیل کی وجہ سے ہے حالانکہ اس حوالے سے امریکہ خود کفیل ہے اور سنہ 2022 میں تیل کی سب سے زیادہ پیداوار امریکہ میں ہوئی تھی، جو اس سال سعودی عرب سے 30 فیصد زیادہ تھی۔

    پروفیسر گلبرٹ کے مطابق امریکہ ایسا یہاں دیگر یورپی ممالک اور چین کے مشرقِ وسطیٰ کے تیل تک رسائی پر نظر رکھنے کے لیے بھی کر سکتا ہے۔

    تاہم چند دیگر اہم عوامل بھی ہیں۔

    اسرائیل

    خیال رہے کہ مشرقِ وسطیٰ روس اور امریکہ کی سرد جنگ کا شکار رہا ہے اور امریکہ میں یہ سوچ آج بھی موجود ہے کہ وہ جہاں بھی خلا چھوڑے گا اسے روس پر کر لے گا۔

    تاہم امریکہ کی اسرائیل کے لیے ہمدردیاں سنہ 1948 میں اس کے قیام کے بعد سے ہیں۔ اس وقت کے امریکی صدر ہیری ٹرومین نے معاہدے کے 12 منٹ بعد ہی اس پر دستخط کر دیے تھے۔

    لینا خطیب کے مطابق ’امریکہ سمجھتا ہے کہ یہودیوں کے ساتھ جو کچھ بھی دوسری عالمی جنگ کے دوران ہوا وہ غلط تھا اور وہ اسے اپنا حق سمجھتا ہے کہ وہ یہودیوں اور ان کے ایک علیحدہ خودمختار ریاست کے خواب کو پورا کرے۔‘

    اسرائیل کے علاوہ امریکہ کے سعودی عرب، بحرین، قطر، اردن اور متحدہ عرب امارت کے ساتھ بھی اچھے تعلقات رہے ہیں۔

    سکیورٹی اور ایران

    لینا خطیب کے مطابق امریکہ نے دنیا میں خود کو ایک ’عالمی پولیس مین‘ کا کردار سونپ رکھا ہے اور مشرقِ وسطیٰ ایک اہم خطہ ہے جہاں سے عالمی بحری تجارتی راستے گزرتے ہیں۔

    سنہ 2001 کے ستمبر 11 کے حملوں کے بعد جب امریکہ نے عراق پر بھی حملے کا فیصلہ کیا تو ایک لاکھ سے زیادہ فوجیوں کو عراق جنگ میں بھیجا گیا تھا تاہم امریکی قبضے کے بعد پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال نے نام نہاد دولتِ اسلامیہ کو جنم دیا۔

    یوں امریکہ نے شام اور عراق میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف بھی کارروائی کی ہے۔ اس کے علاوہ امریکہ کا بڑا حریف ایران بھی اسی خطے میں موجود ہے۔

    تھنک ٹینک ایٹلانٹک کونسل کی سابق ڈائریکٹر اور انسٹیٹیوٹ فار سوشل پالیسی اینڈ انڈرسٹینڈنگ کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر تقیٰ نصیرت کہتی ہیں کہ امریکہ کے معاشی، سیاسی اور عسکری ایسٹس مشرقِ وسطیٰ میں موجود ہیں جن کی حفاظت کے لیے اسے یہاں فوجیوں کی ایک مخصوص تعداد رکھنا ضروری ہے۔

    ’امریکہ کے پاس خطے میں متعدد فضائی اڈے ہیں جن کے ذریعے وہ جب چاہے ردِ عمل دے سکتا ہے اور اکثر موقعوں پر کچھ نہ کیے بغیر بھی صورتحال پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ چین اور روس جیسے جیسے خطے میں اثر و رسوخ بڑھا رہے ہیں تو ایسے میں امریکہ کے پاس خطے میں فوجوں کی موجودگی اسے برتری دیتی ہے۔‘

    تفصیلی خبر کے لیے اس لنک پر کلک کیجیے۔

  13. اگر امریکہ نے حملہ کیا تو خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا جائے گا: تہران

    Iran

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے حملہ کیا تو وہ خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنائے گا۔ ایک سینیئر ایرانی اہلکار نے بدھ کو خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ تہران نے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اتحادی ممالک کو یہ پیغام دیا ہے۔ یہ بیان صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مظاہرین کی حمایت میں مداخلت کی دھمکی کے بعد سامنے آیا ہے۔

    انسانی حقوق کے ایک گروپ کے مطابق ایران میں حالیہ بے چینی کے دوران ہلاکتوں کی تعداد تقریباً دو ہزار چھ سو تک پہنچ گئی ہے۔ یہ احتجاج ایران کی مذہبی قیادت والی حکومت کے لیے 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد سب سے بڑا چیلنج قرار دیا جا رہا ہے۔

    اسرائیلی حکام کے مطابق صدر ٹرمپ نے مداخلت کا فیصلہ کر لیا ہے تاہم اس اقدام کی نوعیت اور وقت ابھی واضح نہیں۔ ایرانی اہلکار نے کہا کہ تہران نے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور ترکی سمیت خطے کے ممالک کو بتایا ہے کہ اگر امریکہ نے ایران کو نشانہ بنایا تو ان ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈے بھی حملے کی زد میں آئیں گے۔

    اہلکار نے مزید کہا کہ ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور امریکی نمائندہ خصوصی سٹیو وٹکوف کے درمیان براہِ راست رابطے معطل کر دیے گئے ہیں، جو بڑھتی ہوئی کشیدگی کی عکاسی کرتے ہیں۔

    ایک دوسرے اسرائیلی حکومتی اہلکار نے بتایا کہ وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کی سکیورٹی کابینہ کو منگل کی شب ایران میں ممکنہ نظام کی تبدیلی یا امریکی مداخلت کے امکانات پر بریفنگ دی گئی۔ اسرائیل نے گذشتہ سال ایران کے ساتھ 12 روزہ جنگ لڑی تھی۔

    صدر ٹرمپ نے امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس کو انٹرویو میں کہا کہ اگر ایران مظاہرین کو پھانسی دیتا ہے تو ’بہت سخت کارروائی‘ کی جائے گی۔ انھوں نے ایرانی عوام کو احتجاج جاری رکھنے اور اداروں پر قابض ہونے کی ترغیب دی اور کہا کہ ’مدد آنے والی ہے‘۔ تاہم انھوں نے اس کی تفصیلات نہیں بتائیں۔

    امریکہ کے فوجی دستے پورے خطے میں موجود ہیں، بحرین میں امریکی بحریہ کے ففتھ فلیٹ کا ہیڈکوارٹر قائم ہے جبکہ قطر میں العدید ایئر بیس امریکی سینٹرل کمانڈ کا مرکزی اڈہ ہے۔ ایران نے گذشتہ سال امریکی فضائی حملوں کے جواب میں اسی اڈے پر میزائل داغے تھے۔

    ایران کے خطے کے ممالک سے رابطے

    ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ایران کی اعلیٰ سکیورٹی باڈی کے سربراہ علی لاریجانی نے قطر کے وزیرِ خارجہ سے بات کی جبکہ وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اماراتی اور ترک ہم منصبوں سے گفتگو کی۔ یہ تمام ممالک امریکہ کے اتحادی ہیں۔

    ایرانی میڈیا کے مطابق عباس عراقچی نے اماراتی وزیرِ خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید کو بتایا کہ ’ملک میں امن قائم ہو چکا ہے‘ اور ایرانی عوام غیر ملکی مداخلت کے خلاف اپنی خودمختاری اور سلامتی کے دفاع کے لیے پرعزم ہیں۔

    ایران میں انٹرنیٹ کی بندش کے باعث معلومات کے بہاؤ میں رکاوٹ ہے۔ امریکہ میں قائم ایچ آر اے این اے نامی انسانی حقوق کے گروپ نے اب تک 2400 سے زائد مظاہرین اور حکومت سے وابستہ 147 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ ایک ایرانی اہلکار نے منگل کو روئٹرز کو بتایا تھا کہ تقریباً دو ہزار افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    ایرانی حکام نے امریکہ اور اسرائیل پر الزام لگایا ہے کہ وہ ملک میں بدامنی کو ہوا دے رہے ہیں اور تشدد کا ذمہ دار ان افراد کو قرار دیا ہے جنھیں وہ ’دہشت گرد‘ کہتے ہیں، جو سکیورٹی فورسز، مساجد اور عوامی املاک پر حملے کر رہے ہیں۔

  14. غیر ملکی مداخلت کے خلاف اپنے دفاع کے لیے تیار ہیں: ایران

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے خبردار کیا ہے کہ ان کا ملک ’شرپسند اور غیر ملکی مداخلت‘ کے خلاف اپنا دفاع کرے گا۔

    یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ تبصرے کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انھوں نے شہریوں کو ’احتجاج جاری رکھنے‘ کی ترغیب دی تھی۔

    گذشتہ چند گھنٹوں کے دوران عباس عراقچی نے اپنے ٹیلیگرام چینل پر ترکی، متحدہ عرب امارات اور فرانس کے حکام و وزرائے خارجہ کے ساتھ ہونے والی فون کالز کے بارے میں تفصیلات بتائی ہیں۔

    ایران کی وزارتِ خارجہ کے مطابق، متحدہ عرب امارات کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ کے ساتھ گفتگو میں عباس عراقچی نے ایران میں جاری بے چینی پر بات کی اور ’اس بات پر زور دیا کہ ملک میں سکون قائم ہو چکا ہے۔‘

    ٹیلیگرام پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی حکام کے اشتعال انگیز بیانات، جو ایران کے داخلی معاملات میں کھلی مداخلت سمجھے جاتے ہیں، کے حوالے سے عباس عراقچی نے زور دیا کہ ایرانی عوام قومی خودمختاری اور ملک کی سلامتی کے دفاع کے لیے پرعزم ہیں اور کسی بھی شرپسند اور غیر ملکی مداخلت کا مقابلہ کریں گے۔‘

  15. ایرانی عدلیہ کے سربراہ کا ’فسادیوں‘ کے خلاف جلد قانونی کارروائی کرنے کا مطالبہ

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہFars

    ایران کے عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی ایجئی نے مطالبہ کیا ہے کہ ایران مخالف احتجاج میں شامل افراد کے خلاف فوری قانونی کارروائی کی جائے۔

    غلام حسین محسنی تہران کے ایک حراستی مرکز کے دورے پر تھے جہاں بتایا گیا کہ وہ حال ہی میں گرفتار کیے گئے ’فسادیوں‘ کے مقدمات کا ذاتی طور پر جائزہ لے رہے تھے اور براہِ راست زیرِ حراست افراد سے گفتگو کر رہے تھے۔

    پاسداران انقلاب سے منسلک خبر رساں ادارے فارس کے ٹیلیگرام چینل نے آج صبح اس دورے کی تصاویر اور بیانات شائع کیے۔

    عدلیہ کے سربراہ نے کہا کہ وہ مظاہرین جنھوں نے عوام اور سکیورٹی فورسز پر حملے کیے، عمارتوں اور مقامات کو نشانہ بنایا اور ’دہشت گردانہ کارروائیاں کیں، انھیں لازمی طور پر مقدمے اور سزا کے لیے ترجیح دی جانی چاہیے۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ حکام حالیہ بے چینی میں شامل کچھ اہم شخصیات کے خلاف کھلے مقدمات چلانے کا منصوبہ بنا رہے ہیں، جن کی کارروائی میڈیا کے لیے قابلِ رسائی ہوگی۔

    غلام حسین ایجئی کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایک انسانی حقوق کے گروپ نے حالیہ اندازے میں بتایا کہ حکومتی کریک ڈاؤن میں 2400 سے زائد مظاہرین ہلاک ہو چکے ہیں۔ بی بی سی اس سے قبل ایسی ویڈیوز کی تصدیق کر چکا ہے جن میں سکیورٹی فورسز کو مظاہرین پر فائرنگ کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

  16. کچھ اہلکاروں کو قطر میں امریکی فوجی اڈے چھوڑنے کا مشورہ: برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کا دعویٰ

    امریکہ

    ،تصویر کا ذریعہREUTERS

    تین سفارتکاروں نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ امریکی فوج کے العدید ایئر بیس پر موجود کچھ اہلکاروں کو بُدھ کی شام تک وہاں سے جانے کا کہا گیا ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن نے خبردار کیا ہے کہ وہ ایران میں مظاہرین کے تحفظ کے لیے مداخلت کر سکتا ہے۔

    دوحہ میں امریکی سفارتخانے نے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا جبکہ قطر کی وزارتِ خارجہ نے بھی خبر رساں ادارے روئٹرز کی درخواست پر کوئی جواب نہیں دیا۔

    العُدید مشرقِ وسطیٰ کا سب سے بڑا امریکی فوجی اڈہ ہے جہاں تقریباً دس ہزار فوجی موجود ہیں۔

    ایک سفارتکار نے روئٹرز کو بتایا کہ ’یہ صرف حکمتِ عملی میں تبدیلی ہے، باضابطہ انخلا کا حکم نہیں دیا گیا۔‘ ان کے مطابق اس تبدیلی کی کوئی خاص وجہ بیان نہیں کی گئی۔

    ایک سینیئر ایرانی اہلکار نے روئٹرز کو پہلے بتایا تھا کہ تہران نے خطے کے ممالک کو خبردار کیا ہے کہ اگر واشنگٹن نے حملہ کیا تو ایران امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنائے گا۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں مداخلت کی دھمکی دی تھی۔

    گذشتہ سال، امریکہ کی جانب سے ایران پر فضائی حملوں سے ایک ہفتہ قبل کچھ اہلکاروں اور ان کے خاندانوں کو مشرقِ وسطیٰ کے امریکی فوجی اڈوں سے منتقل کر دیا گیا تھا۔ جون میں امریکی حملوں کے بعد ایران نے قطر میں موجود اسی اڈے پر میزائل حملہ کیا تھا۔

  17. ایران میں احتجاج کے دوران 2400 سے زائد مظاہرین ہلاک، انسانی حقوق کے گروپ کا دعویٰ

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران میں ملک گیر احتجاج کے دوران ہلاک ہونے والوں کی تعداد دو ہزار پانچ سو اکہتر تک پہنچ گئی ہے۔ یہ اعداد و شمار امریکہ میں قائم انسانی حقوق کے کارکنوں کے خبر رساں ادارے ایچ آر اے این اے نے جاری کیے ہیں۔

    اس کے مطابق یہ تعداد منگل کی دوپہر تک تصدیق شدہ اعداد و شمار کے مقابلے میں کئی سو زیادہ ہے۔

    خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ تازہ ترین اعداد و شمار میں دو ہزار چار سو تین مظاہرین، حکومت سے وابستہ ایک سو سینتالیس افراد، اٹھارہ برس سے کم عمر کے بارہ افراد اور نو عام شہری شامل ہیں جو مظاہرین نہیں تھے۔

    بی بی سی ان اعداد و شمار کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا۔ زیادہ تر بین الاقوامی خبر رساں ادارے، بشمول بی بی سی، کو ملک کے اندر کام کرنے پر پابندیاں ہیں۔

  18. ایران تبدیلی کے دہانے پر مگر سوال یہ ہے کہ یہ تبدیلی کس نوعیت کی ہوگی؟, لیز ڈوسیٹ، چیف بین الاقوامی نمائندہ بی بی سی

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ایران بدل رہا ہے مگر ابھی یہ کہنا مشکل ہے کہ ایران میں کیا تبدیلی آئے گی۔

    اب تک ایرانی حکام کی گرفت مضبوط ہے۔ نہ اعلیٰ سیاسی حلقوں میں کوئی دراڑ نظر آئی ہے اور نہ ہی سکیورٹی اداروں میں، جن میں طاقتور پاسداران انقلاب بھی شامل ہے جو 1979 میں انقلاب کا تحفظ کے ہی ایک مقصد کے لیے قائم کیا گیا تھا۔

    دوسری جانب اپوزیشن میں جلاوطنی کے شکار کئی رہنما ہیں، بعض اوقات وہ ایک دوسرے پر بھی تنقید کرتے ہیں اور ساتھ ہی حکومت پر بھی۔ ایران کے اندر سے بھی کچھ باوقار آوازیں بلند ہو رہی ہیں، جن میں نوبیل انعام یافتہ نرگس محمدی شامل ہیں جو اب بھی جیل میں ہیں اور اندرونِ ملک پُرامن تبدیلی کی بات کر رہی ہیں۔

    اس حالیہ بے چینی کے دوران سابق ولی عہد رضا پہلوی نے بھی اپنی عوام کو متحرک کرنے کی صلاحیت دکھائی ہے، لیکن وہ اس سے قبل ایک متحد کرنے والی شخصیت ثابت نہیں ہوئے۔

    سماجی تحریکیں اکثر اس بات پر فخر کرتی ہیں کہ وہ کسی رہنما کے بغیر ہیں، یوں حکام کے لیے کوئی نمایاں ہدف باقی نہیں رہتا جسے ختم کیا جا سکے۔

    مگر یہ صورتحال اُن ایرانیوں کو پریشان کرتی ہے جو تبدیلی چاہتے ہیں لیکن انتشار یا انہدام نہیں، وہ اصلاحات کے خواہاں ہیں، انقلاب کے نہیں۔

    اس بے چینی سے یہ بات واضح ہے کہ اب کوئی آسان حل باقی نہیں رہا۔ ایران معاشی اور سیاسی طور پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ تبدیلی کے عناصر موجود ہیں مگر یہ کس طرح جڑیں گے، اس بارے میں کوئی یقین سے نہیں کہہ سکتا۔

  19. ایران کے موبائل اور لینڈ لائنز سے بین الاقوامی کالز بحال ہو گئیں: ایران میں پاکستانی سفیر

    ایران میں پاکستان کے سفیر کے مطابق ایران کے موبائل اور لینڈ لائنز سے بین الاقوامی کالز بحال ہو گئی ہیں۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں پاکستانی سفیر محمد مدثر نے لکھا کہ ’میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ایران کے موبائل اور لینڈ لائنز سے بین الاقوامی کالز دوبارہ شروع ہو گئی ہیں۔‘

    انھوں نے لکھا کہ ’یہ معلومات ہمارے شہریوں کے لیے اپنے عزیزوں سے فوری طور پر رابطہ قائم کرنے میں مددگار ثابت ہوں گی۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  20. ارشد شریف قتل کیس: ’تفتیش کا عمل کافی سست ہے تاہم اس معاملے میں مناسب آرڈر جاری کیا جائے گا‘ جسٹس عامر فاروق کے ریمارکس, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    ارشد شریف

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    وفاقی آئینی عدالت میں صحافی اور اینکر پرسن ارشد شریف قتل کیس آخری مراحل میں داخل ہو گیا ہے اور عدالت نے کیس نمٹانے کا عندیہ دے دیا ہے۔

    ارشد شریف قتل کیس کے از خود نوٹس کی سماعت کے دوران جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ حقیقت یہ ہے تفتیش کا عمل کافی سست ہے اور عدالت کسی پر الزام نہیں دینا چاہتی تاہم اس معاملے میں مناسب آرڈر جاری کیا جائے گا۔

    سماعت کے دوران جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ سو موٹو کی بنیاد پر کمیشن بنایا گیا اور تفتیش تاحال جاری ہے، جبکہ بنیادی سوال یہ ہے کہ عدالت اس کیس میں کیا کر سکتی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان معاہدے کے بعد کیا اقدامات ممکن ہیں ؟

    ارشد شریف کی بیوہ کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ کینیا میں کیس دائر کیا گیا جس کا فیصلہ ان کے بقول ان کے حق میں آیا۔ انھوں نے کہا کہ کینیا کی عدالت سے حادثے کو قتل کا وقوعہ قرار دینے کی استدعا کی گئی تھی جسے منظور کرتے ہوئے تفتیش کا حکم دیا گیا تاہم کینیا میں بھی ابھی تک تفتیش میں کوئی پیشرفت نہیں ہوئی۔

    ارشد شریف کی بیوہ کے وکیل کے مطابق پاکستان کی حکومت سے بھی یہی درخواست ہے کہ وہ ہمارے ساتھ کھڑی ہو اور اسی مقصد کے لیے عدالت سے رجوع کیا گیا۔

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے عدالت کو بتایا کہ جے آئی ٹی رپورٹ پہلے ہی عدالت میں پیش کی جا چکی، ابتدا میں کینیا کی حکومت نے تفتیش میں مدد سے انکار کیا تھا تاہم گزشتہ سال ستمبر میں دونوں ممالک کے درمیان ایم ایل اے معاہدہ طے پایا۔

    ان کے مطابق مزید تفتیش کے لیے جیسے ہی کینیا کی حکومت کہے گی، پاکستان اپنی ٹیم جائے وقوعہ پر بھیجے گا اور کینیا حکومت کی جانب سے فراہم کردہ شواہد کی بنیاد پر کارروائی آگے بڑھے گی۔

    اس از خود نوٹس کی سماعت کے دورانِ ایم کیو ایم رہنما عمران فاروق قتل کیس کا حوالہ بھی دیا گیا، جس پر جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عمران فاروق کا قتل بھی انگلینڈ میں ہوا تھا جہاں انگلینڈ پولیس کے ساتھ پاکستان پولیس نے مل کر تفتیش کی تاہم ایڈیشنل اٹارنی کے مطابق عمران فاروق اور ارشد شریف قتل کیس کی نوعیت مختلف ہے۔

    ایڈیشنل اٹارنی نے بتایا کہ اس کیس میں چالان جمع کرا دیا گیا ہے، دو ملزمان کو نامزد کیا گیا، جو اس وقت کینیا میں موجود ہیں، ان کے بلیک وارنٹ جاری کیے جا چکے ہیں اور انٹرپول کو بھی لکھ دیا گیا ہے جبکہ پاکستان میں تفتیش مکمل ہو چکی ہے۔

    عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ وزیر اعظم نے خود کینیا کے صدر سے فون پر رابطہ کیا اور پوری کوشش ہے کہ تفتیش جلد از جلد مکمل کی جائے