تیل اور چاندی کے بیوپاری: دنیا کے امیر ترین افراد میں شمار ہونے والے ’سِلور گینگسٹرز‘ جن کا تعلق سعودی شاہی خاندان سے بھی تھا

،تصویر کا ذریعہPaul Harris/Getty Images
- مصنف, سیسلیا باریا
- عہدہ, بی بی سی نیوز، منڈو
ان کے ہاتھ میں دنیا کی تقریباً تمام چاندی تھی۔
تیل کی دولت کی بدولت کروڑ پتی بننے والے خاندان کے افراد ’ہنٹ برادران‘ امریکی تاریخ میں قیمتوں کی سب سے ہیرا پھیری کرنے کے لیے مشہور ہوئے۔
ان کے والد ہیرالڈسن لافائیٹ ہنٹ نے اپنے کاروباری کیریئر کا آغاز آرکنساس میں کپاس کے باغات چلانے سے کیا تھا۔ تاہم حالیہ کہاںیوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی طاقت میں اضافے کے پیچھے بڑے وجوہات میں سے ایک جوئے کا کاروبار بھی تھا۔
وہ جلد ہی تیل کے کاروبار میں داخل ہوئے اور ملک کے امیر ترین لوگوں میں سے ایک بن گئے۔
وہ ایک ایسے شخص تھے جن پر کاروباری معاملات میں بے ایمانی کرنے کے سبب تنقید بھی ہوتی تھی اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ٹیلی ویژن سیریز ’ڈلاس‘ کا ایک کردار بھی ان ہی سے متاثر ہو کر لکھا گیا تھا۔
انھوں نے سفید فام بالادستی کے نظریات کی حمایت کی اور انتہائی دائیں بازو کے نظریے کو فروغ دینے کے لیے میڈیا کا استعمال کیا۔
ہیرالڈسن کے 14 بچے تھے، جن میں سے تین چاندی کی قیمتوں میں ہیرا پھیری کرنے سے متعلق ایک مالی سکینڈل میں ملوث تھے۔ انھوں نے چاندی کے اتنے ذخائر جمع کر رکھے تھے جتنے شاید بہت سے ممالک کے پاس بھی نہیں تھے۔
نیلسن بنکر، ولیم ہربرٹ لامر چاندی کے سکینڈل میں ملوث تین بھائی تھے، جنہیں ان کے ناقدین نے ’سلور گینگسٹرز‘ کا نام دیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
ان میں سب سے نمایاں نیلسن بنکر تھے، جو لیبیا میں تیل کے بڑے کنوؤں کی بدولت دنیا کے امیر ترین افراد میں سے ایک بن گئے۔ ان کنوؤں کو 1973 میں لیبیا کےحکمران معمر قذافی نے قومیایا تھا۔
کتاب 'دی ہسٹری آف سلور' کے مصنف ولیم ایل سلبر کے مطابق بنکر کا چاندی کے بارے میں جنون ٹھیک 1973 میں شروع ہوا جب قذافی نے ان کے تیل کے کنوؤں پر قبضہ کر لیا۔
اچھی نسل کے ریس کے گھوڑوں کا مالک، بریڈر اور ایک پرجوش کمیون ازم مخالف نیلسن بنکر امریکہ میں بڑھتی ہوئی افراط زر کے بارے میں فکر مند تھے اور اسی لیے انھوں نے اپنی دولت کو ذخیرہ کرنے کے دوسرے طریقے تلاش کرنے کا فیصلہ کیا۔
اپنے بھائیوں ولیم اور لامر کے ساتھ مل کر انھوں نے مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ سے خود کو بچانے اور بطور خزانہ چاندی جمع کرنا شروع کردیا، ایک ایسا اثاثہ جسے وہ کنٹرول کرنے کی کوشش کریں گے۔
گلوبل بلین سپلائرز (جی بی ایس) کے مطابق انھوں نے کروڑوں اونس چاندی خریدی، جن میں سے کچھ انھوں نے ٹیکساس سے مسلح کارکنوں کی حفاظت میں خصوصی طور پر ڈیزائن کردہ طیاروں پر سوئٹزرلینڈ پہنچائی۔
چاندی جمع کرکے اور دھات کی قیمت کی بنیاد پر’مستقبل کے ٹھیکوں‘ کے ذریعے انھوں نے چاندی کی طلب میں اضافہ کیا، جس اس کی قیمتیں بھی بڑھ گئیں۔
انھوں نے مزید چاندی حاصل کرنے کے لیے صرف اپنی خوش قسمتی کا استعمال نہیں کیا بلکہ تینوں بھائیوں نے اپنے کاروبار کو آگے بڑھانے کے لیے بھاری قرض بھی لیا۔

،تصویر کا ذریعہBettmann/Getty Images
چاندی کے کاروبار کا عروج
یہ 1973 کا آخر تھا جب چاندی کی قیمت صرف تین امریکی ڈالر فی اونس کے آس پاس تھی اور اسی وقت جب ہنٹ برادران نے یہ دھات خریدنا شروع کردی۔
بہت سا لین دین ان معاہدوں کے تحت کیا گیا تھا جو دو فریقوں کے مابین قانونی حیثیت رکھتے ہیں اور جن کے ذریعے پہلے سے طے شدہ قیمت پر کسی اثاثے کا تبادلہ کرنے کی اجازت ہوتی ہے۔
بنکر نے جنوری 1980 میں ٹائم میگزین کو بتایا تھا ’چاندی بیرون ملک تیل کی مراعات سے زیادہ محفوظ معلوم ہوتی ہے اور قیمتی دھاتیں کاغذی رقم کی نسبت اچھا تحفظ دیتی تھیں۔‘
یہ معلوم نہیں ہے کہ چاندی کی مقبولیت کے عروج پر ہنٹ برادران نے کتنے کروڑ اونس چاندی جمع کی تھی، تاہم کچھ رپورٹس کے مطابق ان کے پاس موجود اثاثے چاندی کی اس وقت کی سالانہ پیداوار سے زیادہ تھے۔
1979 کے آخر میں ایک اندازے کے مطابق ہنٹ برادران کے پاس تقریباً چار کروڑ اونس چاندی موجود تھی اور مستقبل میں معاہدوں کے تحت ان کے پاس چھ کروڑ اونس اضافی چاندی بھی آنی تھی۔
تینوں بھائیوں میں سے بظاہر سب سے چھوٹے لامار سب سے زیادہ معمولی حیثیت رکھتے تھے۔
خیال کیا جاتا ہے کہ نیویارک مرکنٹائل ایکسچینج (کومیکس) میں دھاتوں کے معاہدوں میں سے دو تہائی اور تمام غیر سرکاری چاندی کے ذخائر کا ایک تہائی کنٹرول ان کے پاس تھا۔
ایک ہی سال میں چاندی کی دھات کی قیمت میں تقریبا 700 فیصد اضافہ ہوا۔
ہنٹ برادران نے اپنے آپریشنز کو مزید وسعت دینے کے لیے بین الاقوامی شراکت داروں کو شامل کیا، جس میں سعودی اشرافیہ کے ارکان بھی شامل تھے۔
اس دوران بوڑھی خواتین نے بھی اپنا چاندی کا سامان اور زیورات بیچے۔
جیسے ہی ہنٹ برادران کے کاروبار کے بارے میں بات پھیلی، دوسرے سرمایہ کاروں نے بھی چاندی خرید کر اس کی تجارت میں شامل ہونے کی کوشش کی، یہ 1979 کا دور تھا۔
یہ کاروبار اتنے عروج پر پہنچ گیا تھا کہ 17 جنوری 1980 کو چاندی کی فی اونس قیمت 50 امریکی ڈالر کی تاریخی سطح پر پہنچ گئی تھی۔
اس وقت یہ کہا جاتا تھا کہ ہنٹ برادران نے چاندی کی منڈی کو ’ہائی جیک‘ کر لیا ہے۔
اس قیمتی دھات کی قیمت ستمبر 1979 میں 11 امریکی ڈالر سے بڑھ کر جنوری میں 50 امریکی ڈالر تک پہنچ گئی تھی۔ تاہم اس کی بڑھتی قیمتوں نے کسی کو فائدہ پہنچایا تو کسی کو نقصان۔
ٹفنی جیولر کی دکان کے لیے صورتحال اتنی پیچیدہ ہوگئی تھی کہ کمپنی نے نیو یارک ٹائمز میں ایک اشتہار شائع کیا جس میں بالواسطہ طور پر ہنٹ برادران کو چاندی کی قیمت میں اضافے کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا۔
کوڈک کمپنی، جو فوٹو گرافک فلم کی تیاری کے لیے چاندی پر انحصار کرتی تھی، وہ بھی بہت متاثر ہوئی۔
ہنٹ برادران کے کاروبار کی کامیابی سے امریکی حکام کو شک ہوا کہ شاید ان کی جانب سے مبینہ اجارہ داری کے طریقے اپنائے گئے ہیں اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کی گئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہBettmann/Getty Images
چاندی کی قیمت میں تیزی سے کمی
کومیکس ایکسچینج نے جنوری میں چاندی کی خرید و فروخت کو منظم کرنے کے لیے ’ہنگامی قواعد‘ کا اعلان کیا تھا جبکہ شکاگو بورڈ آف ٹریڈ (سی بی او) نے نئے معاہدوں کے اجرا کو معطل کردیا تھا۔
نئے قوانین نے نام نہاد ’مارجن کی ضروریات‘ میں اضافہ کیا، یعنی سرمایہ کاروں سے ضمانتی رقم لی گئی۔
اس کے سبب چاندی کے نرخوں میں کمی شروع ہوگئی۔
بینکوں اور بروکرز، جنہوں نے تینوں بھائیوں کو بھاری رقم ادھار دی تھی، نے ضمانت کے طور پر نقد رقم مانگی لیکن ہنٹ برادران کے پاس یہ رقم نہیں تھی۔
ہنٹ برادران نے پہلے تو خوف و ہراس پھیلنے کے ڈر سے چاندی فروخت کرنے سے انکار کر دیا تھا، لیکن وہ چاندی کی مارکیٹ کے ریگولیٹرز کی طرف سے مقرر کردہ نئی ضروریات اور قرض دہندگان کے دباؤ کا جواب نہیں دے سکے۔
اسی سال 25 مارچ کو باچے گروپ نامی ایک بروکریج فرم، جو ان بھائیوں کی ایک بڑی فنانسر تھی، نے اپنے کچھ نقصانات کی تلافی کے لیے اپنی چاندی کے اثاثے فروخت کرنا شروع کیے۔
آخر کار مارکیٹوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
27 مارچ 1980 کو چاندی کی فی اونس قیمت 10 امریکی ڈالر تک گر گئی، اس دن کو تاریخ میں ’سلور تھرسڈے‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔
اس طرح ہنٹ برادران دنیا کے امیر ترین افراد کی فہرست سے نکل کر سب سے زیادہ مقروض افراد میں شامل ہوگئے۔

،تصویر کا ذریعہBettmann/Getty Images
ہنٹ برادران کے خلاف مقدمہ
اس ناکامی کے بعد ہنٹ برادران کو قانونی مقدمے کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
اگست 1988 میں ہنٹ برادران کو سازش، ہیرا پھیری، بھتہ خوری اور دھوکہ دہی کے مقدمے میں مجرم قرار دے دیا گیا۔
معاشی جریدے جرنل آف کموڈٹی مارکیٹس میں شائع ہونے والے مضمون کے مطابق ہنٹ برادران سازش، ہیرا پھیری، اجارہ داری قائم کرنے، بھتہ خوری اور دھوکہ دہی کے مرتکب پائے گئے تھے۔
اس وقت کے پریس نے مقدمے کی سماعت کے بارے میں تفصیلات فراہم کیں، لاس اینجلس ٹائمز نے 21 اگست 1988 کو رپورٹ کیا: ’ٹیکساس کے چمکدار ہنٹ برادران، جن کی مشترکہ دولت چھ ارب ڈالر تک پہنچ گئی تھی، کو قصوروار پایا گیا۔‘
اخبار نے وضاحت کی ہے کہ تمام بھائی ایک ہی نوعیت کے جرائم میں قصوروار نہیں پائے گئے تھے۔
اگرچہ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ تینوں بھائیوں نے دھوکہ دہی، اجناس اور اینٹی ٹرسٹ قوانین کی خلاف ورزی کی، لیکن نیلسن بنکر اور ولیم کو ریکیٹیئرنگ کا مجرم بھی قرار دیا گیا۔ چونکہ یہ ایک سِول فیصلہ تھا اس لیے اس میں انھیں مجرمانہ سزائیں نہیں سنائی گئی تھیں۔
جیوری نے یہ بھی طے کیا کہ انٹرنیشنل میٹلز انویسٹمنٹ کمپنی اور ریس ہارس کے مالک محمود فستوق بھی اس سازش میں ملوث تھے۔
دھات کی سرمایہ کاری کی کمپنی دو عرب شیخوں اور ہنٹ برادران میں سے دو کی ملکیت تھی، جبکہ فستوق سعودی عرب کے ولی عہد کے بہنوئی تھے۔
ہنٹ برادران نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ عالمی سیاسی واقعات نے چاندی کی قیمت میں اضافہ کیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مقدمے میں مدعی پیرو کی سرکاری کان کن کمپنی منپیکو تھی۔
فرم نے ہنٹ برادران پر مالی ہرجانے کے لیے مقدمہ دائر کیا اور چھ دن کی غور و خوض کے بعد نیویارک جیوری نے مدعا علیہان کو لاطینی امریکی کمپنی کو 13 کروڑ امریکی ڈالر سے زیادہ ادا کرنے کا حکم دیا۔
اس کے باوجود یہ تینوں بھائی دیوالیہ نہیں ہوئے کیونکہ ان کے ٹرسٹ، جو خاندان کی تیل کمپنیوں کو کنٹرول کرتے ہیں، قانونی چارہ جوئی سے متاثر نہیں ہوئے تھے۔
کموڈٹی فیوچر ٹریڈنگ کمیشن (سی ایف ٹی سی) نے دونوں بھائیوں پر ایک کروڑ ڈالر کا جرمانہ عائد کیا اور انھیں امریکی اجناس کی منڈیوں میں تجارت سے روک دیا۔
ٹیکس کے قرضوں کے معاملے پر انھوں نے انٹرنل ریونیو سروس کو ٹیکس، جرمانے اور سود کی ادائیگی پر اتفاق کیا۔
جس وقت چاندی کی منڈی میں یہ ہو رہا تھا تب ہی ان بھائیوں کی تیل کی سرمایہ کاری بھی ڈوب گئی جب 1980 کی دہائی میں خام تیل کی قیمت میں کمی واقع ہوئی۔
ان کی تمام مالی پریشانیوں کے سبب ہنٹ برادران نے 1986 میں کارپوریٹ دیوالیہ پن اور 1988 میں ذاتی دیوالیہ پن کے لیے درخواست دائر کیں۔
تمام سکینڈلز کے باوجود ہنٹ خاندان نے متعدد صنعتوں میں سرمایہ کاری کو برقرار رکھا۔
ان کے وارث اب بھی توانائی کے شعبے میں متحرک ہیں، ایک وسیع رئیل سٹیٹ پورٹ فولیو کے مالک ہیں اور امریکی فٹ بال ٹیموں میں ان کی دلچسپی برقرار ہے۔










