ایل مینچو: میکسیکو اور امریکہ کو مطلوب ڈرگ لارڈ کی فوجی آپریشن میں ہلاکت کے بعد حالات کشیدہ، سیاحتی مقامات ’میدانِ جنگ‘ بن گئے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
میکسیکو میں ایک سکیورٹی آپریشن کے دوران سب سے مطلوب ڈرگ لارڈ کی ہلاکت کے بعد ملک میں پُرتشدد واقعات بڑھ گئے ہیں۔
’ایل مینچو‘ کہلائے جانے والے نیمیسیو اوسیگیرا سروانتیس کا تعلق ہالیسکو نیو جنریشن (سی جے این جی) نامی ڈرگ کارٹیل سے تھا۔ سنیچر کے دوران وہ فوج اور اپنے حمایتیوں کے درمیان جھڑپوں میں شدید زخمی ہوئے جس کے بعد ان کی موت ہوئی۔
میکسیکو کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ سی جے این جی کے چار ارکان بھی اس آپریشن میں مارے گئے تھے جبکہ فوج کے تین اہلکار زخمی ہوئے۔
ایل مینچو کی ہلاکت کے ردعمل میں کم از کم ایک درجن ریاستوں میں پُرتشدد واقعات دیکھے گئے ہیں۔ سی جے این جی کے ارکان نے نہ صرف سڑکیں بلاک کیں بلکہ گاڑیوں کو بھی نذرِ آتش کیا ہے۔
یہ کارٹیل، جس کی اصل طاقت کا مرکز ہالیسکو تھے اب پورے میکسیکو میں موجود ہے۔
اتوار کے دوران ہالیسکو اور دیگر مقامات سے ایسی اطلاعات سامنے آئیں کہ مسلح افراد سڑکوں پر گشت کر رہے ہیں۔
عینی شاہدین نے کئی شہروں سے دھواں اُٹھتے ہوئے دیکھا ہے۔ ان میں سے ایک شہر گوادالاہرا ہے جہاں اگلے فیفا ورلڈ کپ کے میچز بھی منعقد ہوں گے۔
ہالیسکو کے گورنر پابلو لیمس نوارو نے ریاست میں ایمرجنسی نافذ کی ہے، پبلک ٹرانسپورٹ کو معطل کیا ہے، عوامی اجتماعات پر پابندی ہے جبکہ تمام تعلیمی اداروں میں ورچوئل کلاسز کا اہتمام کیا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سیاحوں نے روئٹرز کو بتایا کہ بعض سیاحتی مقامات ’میدان جنگ‘ کا منظر پیش کر رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
امریکہ میں بی بی سی کے شراکت دار چینل سی بی ایس نیوز کے مطابق ملک بھر میں بدامنی کے دوران تقریباً 250 سڑکوں پر رکاوٹیں لگائی گئی تھیں، جن میں سے 65 ہالیسکو میں تھیں۔ میکسیکن سکیورٹی کابینہ نے کہا ہے کہ ہالیسکو میں چار رکاوٹیں اب بھی فعال ہیں۔
کابینہ کے مطابق 25 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ اس کے مطابق 11 افراد کو مبینہ طور پر پُرتشدد کارروائیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار کیا گیا جبکہ مزید 14 کو مبینہ لوٹ مار اور توڑ پھوڑ کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔
کابینہ کے بیان کے مطابق کئی دکانوں کو نذرِ آتش کیا گیا اور تقریباً 20 بینکوں پر حملے کیے گئے۔
میکسیکو کی صدر کلاڈیا شین بام نے کہا ہے کہ ان کارروائیوں کے حوالے سے ریاستی اور وفاقی حکام کے درمیان ’مکمل ہم آہنگی‘ ہے۔ انھوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ’پُرسکون اور باخبر‘ رہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’ملک کے بیشتر حصوں میں سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری ہیں۔‘
کئی فضائی کمپنیوں نے اس شہر کے لیے پروازیں منسوخ کر دی ہیں، جن میں ایئر کینیڈا، یونائیٹڈ ایئرلائنز اور امریکن ایئرلائنز شامل ہیں۔
امریکہ نے اپنے شہریوں کو پانچ ریاستوں ہالیسکو، تاماولیپاس، مچواکان کے کچھ علاقوں، گوریرو اور نویو لیون میں محفوظ مقام پر رہنے کی ہدایت کی ہے۔
برطانوی حکومت نے کہا کہ ہالیِسکو میں ’سنگین سکیورٹی واقعات‘ رپورٹ ہوئے ہیں۔ اس نے مسافروں کو ’انتہائی احتیاط‘ برتنے اور مقامی حکام کے مشوروں پر عمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔
امریکہ نے میکسیکو کو ایل مینچو کی گرفتاری کے لیے آپریشن میں مدد دینے والی انٹیلی جنس فراہم کی تھی۔
امریکی پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ نے اتوار کی رات کہا کہ ایل مینچو امریکہ میں فینٹینیل کی سمگلنگ کرنے والے سرکردہ کارٹیل رہنماؤں میں سے ایک ہونے کے باعث میکسیکو اور امریکی حکومت کے سب سے مطلوب ہدف تھے۔
انھوں نے بتایا کہ آپریشن کے دوران تین کارٹیل ارکان ہلاک، تین زخمی اور دو گرفتار ہوئے۔
ایل مینچو 59 سالہ سابق پولیس افسر ہیں۔ وہ ایک وسیع منشیات کی سمگلنگ کا نیٹ ورک چلاتے تھے جو امریکہ میں کوکین، میتھ اور فینٹینیل کی بڑی مقدار سمگل کرتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی محکمہ خارجہ نے ان کی گرفتاری میں مدد دینے والی معلومات پر ایک کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے انعام کا اعلان کر رکھا تھا۔
میکسیکو کی وزارتِ دفاع نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ آپریشن ملک کی سپیشل فورسز نے ’منصوبہ بندی کر کے انجام دیا۔‘
امریکی ڈرگ انفورسمنٹ ایڈمنسٹریشن کے سابق بین الاقوامی آپریشنز کے سربراہ مائیک ویجِل نے سی بی ایس کو بتایا ہے کہ یہ کارروائی ’منشیات کی سمگلنگ کی تاریخ میں کی جانے والی سب سے اہم کارروائیوں میں سے ایک‘ ہے۔
میکسیکو میں امریکہ کے سابق سفیر اور نائب وزیر خارجہ کرسٹوفر لینڈاؤ نے سوشل میڈیا پر ایل مینچو کو ’خونریز اور بے رحم ترین منشیات فروشوں کے سردار میں سے ایک‘ قرار دیا۔
انھوں نے مزید کہا کہ ’ایل مینچو کی ہلاکت میکسیکو، امریکہ، لاطینی امریکہ اور پوری دنیا کے لیے ایک بڑی اور اہم پیش رفت ہے۔‘
یہ پیش رفت امریکی صدر ٹرمپ کے ساتھ میکسیکو کے تعلقات کو بھی مضبوط بنا سکتی ہے، جو اکثر میکسیکو میں سکیورٹی کے حوالے سے مزید پیش رفت کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔
تاہم، اگر سکیورٹی فورسز صورتحال کو جلد قابو میں نہ لا سکیں تو کارٹیل کے پرتشدد ردعمل کے باعث حکومت کی یہ کامیابی ماند بھی پڑ سکتی ہے۔
ہالیسکو کارٹیل نے تقریباً سنہ 2010 میں اپنے قیام کے بعد سے سکیورٹی فورسز اور سرکاری عہدیداروں پر حملوں کے سلسلے میں بدنامی حاصل کی ہے۔
اس نے راکٹ سے چلنے والے گرنیڈ کے ذریعے فوجی ہیلی کاپٹر کو مار گرایا، درجنوں سرکاری اہلکاروں کو قتل کیا، اور اپنے مخالفین کو خوفزدہ کرنے کے لیے بعض اوقات اپنے متاثرین کی لاشیں پلوں سے لٹکانے کے واقعات سے بھی منسوب رہا ہے۔












