دو ہفتوں سے جاری لڑائی کے بعد شامی حکومت اور کرد جنگجوؤں کے درمیان جنگ بندی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
شام کے سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ شامی حکومت نے کرد جنگجوؤں پر مشتمل سیریئن ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کے ساتھ ملک گیر جنگ بندی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے ملک کا تقریباً مکمل کنٹرول سنبھال لیا ہے۔
اس جنگ بندی کے نتیجے میں تقریباً دو ہفتوں سے حکومتی فورسز اور کرد جنگجوؤں کے درمیان جاری لڑائی ختم ہو گئی ہے۔
یہ جنگ بندی ایک وسیع تر 14 نکاتی معاہدے کا حصہ ہے جس کے تحت ایس ڈی ایف کو شام کے فوجی اور ریاستی اداروں میں ضم کیا جائے گا۔
دمشق میں خطاب کرتے ہوئے صدر احمد الشراع کا کہنا تھا کہ اس معاہدے سے شام کے ریاستی اداروں کو تین مشرقی اور شمالی گورنریٹس الحسکہ، دیر الزور اور رقہ پر دوبارہ کنٹرول حاصل ہو جائے گا۔
اس معاہدے کا اعلان دمشق میں شام کے لیے امریکہ کے خصوصی ایلچی ٹام بیرک اور احمد الشراع کے درمیان ہونے والی ملاقات کے بعد کیا گیا ہے۔
امریکی ایلچی کا کہنا ہے یہ معاہدہ ایک ’متحد شام‘ کی جانب ایک قدم یے۔
احمد الشراع نے بتایا کہ ایس ڈی ایف کے کمانڈر مظلوم عبدی نے بھی میٹنگ میں شرکت کرنی تھی تاہم خراب موسمی حالات کے باعث وہ سفر نہیں کر سکے اور ان کا دورہ پیر تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔
ایک ٹیلی ویژن خطاب میں، عبدی نے ملاقات کی تصدیق کی اور کہا کہ وہ دارالحکومت سے واپسی پر شام کے کردوں کو معاہدے کے متعلق مزید تفصیلات سے آگاہ کریں گے۔



