لائیو, ایران کے ساتھ معاملات سفارتی طور پر حل ہو سکتے ہیں: امریکی مندوب سٹیو وائٹیکر کا دعویٰ
ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی مندوب سٹیو وائٹیکر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جوہری، افزودگی، میزائل اور پراکسی فورسز پر مشتمل چار غیر حل شدہ مسائل ہیں جن کا حل سفارتکاری کے ذریعے چاہتے ہیں کیونکہ ان کے بقول ’متبادل نتیجہ ایران کے لیے بہت برا ہے‘
خلاصہ
وینزویلا کی اپوزیشن لیڈر مرِیا کورینا مَچاڈو کا کہنا ہے کہ انھوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کے دوران اپنا نوبل امن انعام امریکی صدر کو پیش کیا ہے۔
گرین لینڈ کے دارالحکومت نوک میں ایک چھوٹا فرانسیسی فوجی دستہ پہنچ گیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ تعیناتی یورپی ممالک کے محدود فوجی مشن کا حصہ ہے۔
حماس کے مطابق اسرائیلی فوج کے فضائی حملوں میں ایک سینئر کمانڈر سمیت 10 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں مظاہروں کے دوران گرفتار ایک نوجوان کی ممکنہ سزاِ موت کے حوالے سے سامنے آنے والی نئی اطلاعات کا خیرمقدم کیا ہے۔
امریکہ نے ایران کے پانچ اہلکاروں کے خلاف پابندیاں عائد کی ہیں جن پر مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کا الزام ہے
ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس کو خط لکھ کر ان سے مطالبہ کیا ہے کہ ایران میں ’بیرونی مداخلت‘ کی مذمت کی جائے
ترک وزیرِ خارجہ کا کہنا ہے کہ ’ہم ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے خلاف ہیں‘
لائیو کوریج
ایران کے ساتھ معاملات سفارتی طور پر حل ہو سکتے ہیں: امریکی مندوب سٹیو وائٹیکر کا دعویٰ
،تصویر کا ذریعہEPA/Shutterstock
ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی مندوب سٹیو وائٹیکر نے امید ظاہر کی ہے کہ ایران کے ساتھ مسائل کو سفارتی طریقے سے حل کیا جا سکتا ہے۔
اسرائیلی امریکی کونسل میں خطاب کے دوران جب ان سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے امکان کا سوال کیا گیا تو اس کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’ میں امید کرتا ہوں کہ ہم سفارتکاری کے ذریعے کسی نتیجے پر پہنچ سکیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ جوہری، افزودگی، میزائل اور پراکسی فورسز پر مشتمل چار غیر حل شدہ مسائل ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی مندوب نے واضح کیا کہ وہ چاہتے ہیں یہ مسائل سفارتکاری کے ذریعے حل ہوں کیونکہ ان کے بقول ’متبادل نتیجہ ایران کے لیے بہت برا ہے۔‘
سپورٹس اتھارٹی انڈیا کے ٹریننگ سینٹر میں دو زیرِ تربیت کھلاڑیوں کی ہلاکت، ’کمرے سے ایک سوسائیڈ نوٹ ملا ہے،‘ پولیس, عمران قریشی، بی بی سی ہندی
،تصویر کا ذریعہANI
کیرالہ کے ضلع کولم میں سپورٹس اتھارٹی انڈیا (سائی) کے ٹریننگ سینٹر میں جمعرات کی صبح دو زیرِ تربیت کھلاڑی
مردہ حالت میں پائی گئیں۔
پولیس کے مطابق ہلاک ہونے
والی ایک کھلاڑی 17 سال کی تھیں جو ایتھلیٹکس کی تربیت حاصل کر رہی تھیں اور
کوژیکوڈ کی رہائشی تھیں۔ وہ بارہویں جماعت کی طالبہ تھیں۔ دوسری کھلاڑی 15 سال کی
تھیں جو کبڈی کی تربیت لے رہی تھیں اور ترواننت پورم میں دسویں جماعت کی طالبہ
تھیں۔
ابتدائی طور پر اس بات کا
خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ دونوں کی موت خودکشی کے باعث ہوئی ہے۔ ان دونوں کھلاڑیوں
کی ہلاک کی خبر اُس وقت سامنے آئی کہ جب وہ دونوں صبح پانچ بجے ہونے والی ٹریننگ
میں شریک نہ ہوئیں۔ دونوں کو الگ الگ کمروں میں رکھا گیا تھا، تاہم بدھ کی رات 15
سالہ کھلاڑی نے 17 سالہ کھلاڑی کے کمرے میں رات گُزارنے کے لیے قیام کیا تھا۔
پولیس کمشنر کرن نارائنن نے
بتایا کہ کمرہ کھولنے پر ایک سوسائیڈ نوٹ ملا، جس میں صرف اپنی جان لینے پر معافی
مانگی گئی تھی، تاہم کوئی واضح وجہ درج نہیں تھی۔
پولیس نے تحقیقات شروع کر دی
ہیں اور کہا ہے کہ والدین شدید صدمے میں ہیں۔ دیگر ٹرینی کھلاڑیوں، کوچز اور اہلِ
خانہ کے بیانات بھی قلمبند کیے جا رہے ہیں۔
محمود خان اچکزئی کا بطور قائدِ حزبِ اختلاف تقرری کا نوٹیفکیشن جاری
سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز
صادق نے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی کی بطور اپوزیشن
لیڈر تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔
واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی
عمران خان نے گزشتہ سال اگست میں محمود خان اچکزئی کو قائدِ حزبِ اختلاف نامزد کیا
تھا، کیونکہ اس عہدے پر فائز رکن قومی اسمبلی عمر ایوب نو مئی سنہ 2023 کے واقعات سے
متعلق مقدمات میں سزا کے بعد پارلیمنٹ کی رکنیت سے نااہل ہوچکے تھے۔
گزشتہ منگل کو سپیکر قومی
اسمبلی ایاز صادق نے قائد حزبِ اختلاف کی تقرری کے عمل کا ازسرِنو آغاز کیا تھا۔
اپوزیشن لیڈر کا عہدہ گزشتہ تقریباً پانچ ماہ سے خالی تھا جو اگست سنہ 2025 میں پی
ٹی آئی کے عمر ایوب کی نااہلی کے بعد خالی ہوا تھا۔
پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 266 قلعہ عبداللہ اور چمن سے کامیاب قرار پائے تھے۔
کینیڈا کے وزیراعظم اور چینی صدر کی بیجنگ میں ملاقات: زراعت، توانائی اور معاشی شعبوں میں آگے بڑھنے پر اتفاق
،تصویر کا ذریعہReuters
کینیڈا کے وزیرِاعظم مارک
کارنی اور چین کے صدر شی جن پنگ نے بیجنگ کے ’گریٹ ہال آف دی پیپل‘ میں ملاقات کی۔
یہ کئی برسوں بعد کسی کینیڈین رہنما کا چین کا پہلا دورہ ہے۔
آخری بار سنہ 2017 میں جسٹن
ٹروڈو نے چین کا دورہ کیا تھا، جس کے بعد دونوں ممالک ایک طویل سفارتی کشیدگی میں
مبتلا رہے۔
ابتدائی کلمات میں حالیہ
ملاقات میں وزیرِاعظم کارنی نے کہا کہ دونوں ممالک کو زراعت، توانائی اور معیشت میں
فوری پیشرفت پر توجہ دینی چاہیے۔ صدر شی جن پنگ نے کہا کہ ’یہ آپ کا پہلا دورہ ہے
جب سے آپ نے منصب سنبھالا ہے اور آٹھ برس بعد کسی کینیڈین وزیرِاعظم کا چین کا
دورہ ہے۔‘
شی جن پنگ نے کہا کہ حالیہ
مہینوں میں دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون سے مثبت نتائج حاصل ہوئے
ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ چین اور کینیڈا کے تعلقات عالمی امن، استحکام، ترقی اور
خوشحالی کے لیے سودمند ہیں۔
،تصویر کا ذریعہReuters
وزیرِاعظم کارنی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ’ہم دونوں مُمالک کے درمیان ماضی کے بہترین تعلقات کو دوبارہ قائم کر سکتے ہیں اور ایک نیا باب رقم کر سکتے ہیں۔ ہم دونوں طرف کے عوام کے لیے استحکام، سلامتی اور خوشحالی لا سکتے ہیں اور اسی کے لیے کوشش کریں گے۔‘
صدر شی نے اس موقع پر کہا کہ ’گزشتہ برس جنوبی کوریا میں ایشیا پیسیفک اکنامک کوآپریشن اجلاس کے دوران کارنی سے ملاقات کے بعد چین اور کینیڈا کے تعلقات میں ’مثبت تبدیلی‘ آئی ہے۔
جمعرات کو چین کے وزیراعظم لی چیانگ نے بھی دونوں ممالک کے تعلقات میں اس ’مثبت تبدیلی‘ کو سراہتے ہوئے اسے ایک ’نئے دور کا آغاز‘ قرار دیا تھا۔
ایران میں مظاہروں پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس: ایرانی اور امریکی مندوبین کے ایک دوسرے پر الزامات
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنتصویر میں دائیں جانب امریکی نمائندے مائیک والٹز اور بائیں جانب ایران کے مستقل مندوب کے معاون حسین درزی
ایران کے نمائندے نے اقوامِ
متحدہ کی سلامتی کونسل کے خصوصی اجلاس کے اختتام پر امریکہ اور اسرائیل پر الزام
عائد کیا ہے کہ وہ ایران میں بد امنی پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
سلامی کونسل کے اجلاس میں
ایران کے مستقل مندوب کے معاون حسین درزی نے امریکی نمائندے کے الزامات کہ ایران
نے مظاہرین پر تشدد کیا ہے کو ’بے بنیاد‘ قرار دیا۔ انھوں نے سخت لہجے میں کہا کہ ’اگر
امریکہ واقعی بے گناہوں کی ہلاکت پر فکر مند ہے تو اسے منیسوٹا میں پولیس افسران
کے ہاتھوں خاتون کے قتل پر توجہ دینی چاہیے۔‘
درزی نے مزید کہا کہ ’وہ ان
شہریوں کے اہلِ خانہ کے ساتھ ہمدردی کرتے ہیں جو گزشتہ دو ہفتوں میں ان کے بقول
امریکہ اور اسرائیل کی سازش کے نتیجے میں ہلاک ہوئے، جن میں احتجاج کے دوران ہلاک
ہونے والے سکیورٹی اور پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔
ایرانی سفیر کی تقریر کا زیادہ تر حصہ امریکہ سے متعلق تھا، جس کے کہنے پر سلامتی کونسل کا یہ اجلاس ہو رہا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’احتجاجی مظاہروں کا رخ اور اس کے بعد ہونے والے خونریز واقعات دراصل امریکہ اور اسرائیل کی تحریک کا نتیجہ ہیں۔‘
دوسری جانب اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں امریکی نمائندے مائیک والٹز نے ایران پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور دہشت گردانہ سرگرمیوں میں شمولیت کے الزامات عائد کیے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
والٹز نے کہا کہ ’ایران گزشتہ کئی دہائیوں سے مشرقِ وسطیٰ کو غیر مستحکم کر رہا ہے، بالخصوص اپنے مسلح گروہوں کے ذریعے۔‘ ان کے مطابق ایران نے اپنی عوام کی فلاح و بہبود کے بجائے جوہری اور میزائل پروگرام اور اپنے مسلح گروہوں کی حمایت کو ترجیح دی ہے، جس کے نتیجے میں عوام اب شدید دباؤ اور مشکلات کا شکار ہیں۔
امریکی نمائندے نے مزید کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ’عملی طور پر آگے بڑھنے پر یقین رکھتے ہیں، محض باتوں کی حد تک نہیں‘ اور یہ کہ ’ایران میں پرتشدد واقعات روکنے کے لیے تمام آپشنز اب بھی امریکی صدر کے سامنے موجود ہیں اور ایرانی حکام اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں۔‘
امریکہ کا ایران میں مظاہروں کے دوران پُرتشدد اقدامات کے ذمہ دار افراد پر نئی پابندیوں کا اعلان
امریکہ نے ایران میں مظاہروں
کے دوران پُرتشدد اقدامات کے ذمہ دار افراد اور اداروں کے خلاف نئی پابندیوں کا
اعلان کیا ہے۔
امریکی وزیر خزانہ سکات بسنت
نے کہا ہے کہ یہ پابندیاں اُن شخصیات اور اداروں پر عائد کی گئی ہیں جنھیں ’ایران
میں احتجاجی مظاہروں میں شامل افراد پُرتشدد کا کی ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔‘
جاری کردہ فہرست میں ایران کی
اعلیٰ سلامتی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی، اور صوبہ لرستان اور فارس میں پاسداران
انقلاب کے کمانڈرز نعمت اللہ باقری اور یداللہ بوعلی کے نام شامل ہیں۔
وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ یہ
پابندیاں اُن نیٹ ورکس کو بھی نشانہ بناتی ہیں جنھیں ’شیڈو بینکانگ‘ کہا جاتا ہے،
جو ایرانی حکام کو قدرتی وسائل کی فروخت سے حاصل آمدنی کو چوری کرنے اور منی
لانڈرنگ کے ذریعے چھپانے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔
ٹرمپ کو امن کا نوبل انعام مل گیا، مگر کیسے؟
،تصویر کا ذریعہx/WhiteHouse
وینزویلا کی
اپوزیشن لیڈر مرِیا کورینا مَچاڈو کا کہنا ہے کہ انھوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ
سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کے دوران اپنا نوبل امن انعام امریکی صدر کو پیش کیا ہے۔
ملاقات کے بعد ان
کا کہنا تھا کہ ’آج کا دن وینزویلا والوں کے لیے تاریخی دن ہے۔ یہ مرِیا کورینا مَچاڈو کی صدر ٹرمپ سے پہلی
ملاقات ہے۔‘
یہ ملاقات امریکہ کی
جانب سے ویزنویلا کے صدر نکولس مادورو کو دارالحکومت کاراکس سے حراست میں لے
کر امریکہ لائے جانے کے دو ہفتے بعد ہوئی ہے۔
ٹرمپ نے تروتھ سوشل پر ایک بیان میں مَچاڈو کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کا یہ اقدام ’باہمی احترام کا ایک شاندار
مظاہرہ‘ ہے۔
تاہم امریکی صدر مَچاڈو کی وینزویلا کے نئے رہنما کے طور پر حمایت نہیں کر
رہے۔ مَچاڈو کی جماعت وینزویلا کے سنہ 2024 انتخابات میں کامیابی کا دعویٰ کرتی آئی
ہے۔
اس کے بجائے ٹرمپ وینزویلا
کی قائم مقام سربراہ ڈیلسی روڈریگز جو کہ مادورو کی نائب صدر تھیں کے ساتھ معاملات
کر رہے ہیں۔
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
صدر ٹرمپ نے مَچاڈو سے ملاقات کو ’اعزاز‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایک ’حیرت انگیز خاتون‘ ہیں جنھوں نے بہت کچھ سہا
ہے۔
بین الاقوامی خبر
رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق، وائٹ ہاؤس میں ملاقات کے بعد مَچاڈو نے باہر
موجود اپنے حامیوں سے ہسپانوی زبان میں بات کرتے ہوئے کہا ’ہم صدر ٹرمپ پر اعتماد کر
سکتے ہیں۔‘
انھوں نے صحافیوں سے
انگریزی میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’میں نے امریکہ کے صدر کو نوبل امن انعام کا تمغہ پیش کیا۔‘ انھوں نے اپنے اس اقدام کو ’ہماری آزادی کے ساتھ ان کی منفرد وابستگی کا اعتراف‘ قرار دیا۔
بعد ازاں وائٹ
ہاؤس نے ایکس پر صدر ٹرمپ اور مَچاڈو کی تصویر شیئر کی جس میں صدر ٹرمپ وینزویلا
کی اپوزیشن لیڈر کا نوبل انعام کا تمغہ تھامے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔
یورپی فوج کی گرین لینڈ آمد، ’دستوں کی تعیناتی صدر کے فیصلے پر اثرانداز نہیں ہوگی،‘ وائٹ ہاؤس
گرین لینڈ کے دارالحکومت نوک
میں ایک چھوٹا فرانسیسی فوجی دستہ پہنچ گیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ تعیناتی یورپی
ممالک کے محدود فوجی مشن کا حصہ ہے، جس میں جرمنی، سویڈن، ناروے، فن لینڈ،
نیدرلینڈز اور برطانیہ بھی شامل ہیں۔ اس اقدام کو ’ریکنائسنس مشن‘ یعنی ’جائزہ
لینے والا مشن‘ قرار دیا جا رہا ہے۔
فرانسیسی صدر ایمانویل
میکخواں نے کہا ہے کہ ابتدائی دستے کو جلد ہی زمینی، فضائی اور بحری اثاثوں کے
ساتھ مزید مضبوط کیا جائے گا۔ فرانسیسی سفارتکار اولیویئر پووردآور نے اس مشن کو
ایک سیاسی پیغام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ پہلی مشق ہے۔۔۔ ہم امریکہ کو دکھائیں
گے کہ نیٹو موجود ہے۔‘
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی
ہے جب ڈنمارک اور گرین لینڈ کے وزرائے خارجہ نے واشنگٹن میں امریکی نائب صدر جے ڈی
وینس سے ملاقات کی۔ ملاقات کے بعد ڈنمارک کے وزیر خارجہ لارس لوکے راسموسن نے کہا
کہ ’اگرچہ بات چیت تعمیری رہی، لیکن فریقین کے درمیان ’بنیادی اختلاف‘ برقرار ہے۔‘
انھوں نے صدر ٹرمپ کی گرین لینڈ حاصل کی کوشش پر بھی تنقید کی۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ کو امریکی کنٹرول میں لینے کے اپنے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ ’ہمیں قومی سلامتی کے لیے گرین لینڈ کی ضرورت ہے۔‘ انھوں نے طاقت کے استعمال کو خارج از امکان قرار نہیں دیا، تاہم کہا کہ ڈنمارک کے ساتھ کوئی حل نکالا جا سکتا ہے۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ ’اگر روس یا چین گرین لینڈ پر قبضہ کرنا چاہیں تو ڈنمارک کچھ نہیں کر سکتا، لیکن ہم سب کچھ کر سکتے ہیں۔‘
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے جمعرات کو کہا تھا کہ یورپی فوجی دستوں کی تعیناتی صدر کے فیصلے پر اثرانداز نہیں ہوگی اور نہ ہی گرین لینڈ کے حصول کے ہدف کو متاثر کرے گی۔
پولینڈ کے وزیراعظم ڈونلڈ ٹسک نے کہا کہ ان کا ملک گرین لینڈ میں یورپی فوجی مشن میں شامل ہونے کا ارادہ نہیں رکھتا، لیکن خبردار کیا کہ اگر امریکہ نے وہاں فوجی مداخلت کی تو یہ ’سیاسی تباہی‘ ہوگی۔ انھوں نے کہا کہ ’نیٹو کے ایک رکن ملک کی سرزمین پر دوسرے رکن ملک کا قبضہ دنیا کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہوگا۔‘
روس کے سفارتخانے نے بیلجیم میں جاری بیان میں آرکٹک کی صورتحال پر ’شدید تشویش‘ کا اظہار کیا اور نیٹو پر الزام لگایا کہ وہ ماسکو اور بیجنگ کے خطرے کے بہانے فوجی موجودگی بڑھا رہا ہے۔
غزہ میں اسرائیلی فوج کے فضائی حملوں میں حماس کے رہنما سمیت 10 افراد ہلاک
،تصویر کا ذریعہPalestinian News Agency
حماس نے کہا ہے کہ اس کے عسکری ونگ کے ایک سینئر کمانڈر جمعرات کو وسطی غزہ کے علاقے دیر البلح میں اسرائیلی فضائی حملوں میں ہلاک ہونے والوں میں شامل ہے۔ ان حملوں میں مجموعی طور پر 10 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
اسرائیلی فوج نے تاحال اس واقعے پر کوئی بیان جاری نہیں کیا۔ حماس کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں محمد الحولی شامل ہیں، جو دیر البلح میں عسکری ونگ کے کمانڈر تھے۔
مقامی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ اسلامی جہاد کے عسکری ونگ ’القدس بریگیڈز‘ کے کمانڈر اشرف الخطیب بھی ہلاک ہونے والوں میں شامل ہیں۔
حماس نے الحولی خاندان کے گھر پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائی جنگ بندی معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہے اور اس بات کا ثبوت ہے کہ اسرائیل معاہدے کی پاسداری نہیں کر رہا، بلکہ اسے کمزور کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ غزہ کے عوام کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کی جا سکے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
فلسطینی محکمہ صحت کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں ایک 16 سالہ لڑکا بھی شامل ہے۔
رپورٹس کے مطابق گزشتہ اکتوبر سے نافذ جنگ بندی کے بعد اب تک 400 سے زائد فلسطینی اور تین اسرائیلی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔ اسرائیل نے غزہ کے نصف سے زیادہ علاقے میں عمارتیں مسمار کر کے لوگوں کو بے گھر کر دیا ہے، جہاں اب 20 لاکھ سے زائد افراد عارضی پناہ گاہوں یا تباہ شدہ عمارتوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) نے منگل کو بتایا کہ جنگ بندی کے بعد سے غزہ میں 100 سے زیادہ بچے ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں سے بعض ڈرون حملوں کا نشانہ بنے۔
ٹرمپ کا مظاہرین کی سزائے موت رکنے کا خیرمقدم، ’حکومت کا مظاہرین کو سزائے موت دینے کا ارادہ نہیں،‘ ایرانی وزیرِ خارجہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں مظاہروں کے
دوران گرفتار ایک نوجوان کی ممکنہ سزاِ موت کے حوالے سے سامنے آنے والی نئی
اطلاعات کا خیرمقدم کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایرانی عدلیہ کا کہنا ہے کہ عرفان
سلطانی نامی نوجوان پر عائد الزامات سزائے موت کے زمرے میں نہیں آتے۔
امریکی صدر نے اس پیشرفت کو ’اچھی خبر‘ قرار دیا
اور اُمید ظاہر کی کہ یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ انھوں نے اس سے قبل خبردار کیا تھا کہ
اگر ایران مظاہرین کی سزائے موت پر عملدرآمد شروع کرتا ہے تو امریکہ ’انتہائی سخت
اقدام‘ کرے گا۔
دوسری جانب ایران کے وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ
حکومت کا ایسے افراد کو جو احتجاجی مظاہروں میں شرکت کے باعث گرفتار ہوئے ہیں
سزائے موت دینے کا کوئی منصوبہ نہیں رکھتی۔
گزشتہ روز ایرانی عدلیہ نے اعلان کیا تھا کہ ’عرفان
سلطانی‘ کو تاحال سزائے موت نہیں سنائی گئی۔
،تصویر کا ذریعہHengaw Organization for Human Rights
ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے نے عدلیہ کے حوالے سے بتایا تھا کہ ’10 جنوری کو بدامنی کے دوران عرفان سلطانی کو گرفتار کیا گیا تھا اور ان پر ملک کی داخلی سلامتی کے خلاف اجتماع، سازش اور حکومت مخالف سرگرمیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔‘
مزید بتایا گیا کہ وہ اس وقت کرج سینٹرل جیل میں زیرِ حراست ہیں۔
جمعرات کے روز ایرانی عدلیہ کی جانب سے مزید کہا گیا تھا کہ ’اگر ان کے (عرفان سلطانی) خلاف الزامات ثابت ہو جاتے ہیں اور کسی عدالت سے قانونی فیصلہ جاری ہوتا ہے تو قانون میں اس جرم کی سزا قید ہے۔ ایسے الزامات کے لیے سزائے موت کا قانون موجود نہیں۔‘
واضے رہے کہ اس سے قبل عرفان سلطانی کے ایک رشتہ دار نے بی بی سی فارسی کو بتایا تھا کہ ’انتہائی تیز رفتار کارروائی میں صرف دو دن کے اندر عدالت نے سزائے موت کا فیصلہ سنایا اور خاندان کو بتایا گیا کہ انھیں 14 جنوری کو پھانسی دی جائے گی۔‘
غزہ ’بورڈ آف پیس‘ کے قیام کا اعلان: ’20 نکاتی امن منصوبے کے اگلے مرحلے کا باضابطہ آغاز ہو گیا ہے،‘ ٹرمپ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا ٹروتھ
سوشل پر ’بورڈ آف پیس‘ کے قیام سے متعلق ایک بیان میں کہا ہے کہ ’یہ میرے لیے
باعثِ فخر ہے کہ ’بورڈ آف پیس‘ تشکیل دے دیا گیا ہے۔ اس بورڈ کے اراکین کا اعلان
جلد کیا جائے گا، تاہم یہ بات پوری یقین دہانی کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ یہ تاریخ
کے کسی بھی دور اور کسی بھی مقام پر تشکیل دیا جانے والا سب سے عظیم اور باوقار
بورڈ ہے۔‘
اسی بیان اور بورڈ آف پیس کے قام سے متعلق بیان کے
بعد صدر ٹرمپ نے ایک اور بیان میں اس بورڈ سے متعلق کہا کہ ’مشرقِ وسطیٰ کے لیے
امریکہ کے خصوصی نمائندے سٹیو وٹکوف کے اعلان کے مطابق، غزہ کے 20 نکاتی امن
منصوبے کے اگلے مرحلے میں باضابطہ طور پر داخل ہو گئے ہیں۔‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنمشرقِ وسطیٰ کے لیے امریکہ کے خصوصی نمائندے سٹیو وٹکوف
انھوں نے مزید لکھا کہ ’جنگ بندی کے بعد ٹیم نے غزہ میں انسانی امداد کی ریکارڈ سطح پر ترسیل کو یقینی بنایا ہے، جو شہریوں تک تاریخی رفتار اور پیمانے کے ساتھ پہنچی۔ حتیٰ کہ اقوامِ متحدہ نے بھی اس کامیابی کو بے مثال قرار دیا ہے۔ یہی نتائج اس نئے مرحلے کی بنیاد بنے ہیں۔‘
امریکی صدر ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ بطور چیئرمین ’بورڈ آف پیس‘، ایک نئی فلسطینی تکنیکی حکومت ’نیشنل کمیٹی فار دی ایڈمنسٹریشن آف غزہ‘ کی حمایت کی جا رہی ہے، جسے بورڈ کے ہائی ریپریزنٹیٹو کی سرپرستی حاصل ہے۔ یہ فلسطینی قیادت امن کے مستقبل کے لیے پر عزم ہے۔‘
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’مصر، ترکی اور قطر کی حمایت سے حماس کے ساتھ ایک جامع غیر عسکری معاہدہ طے کیا جائے گا ہے، جس میں تمام ہتھیاروں کی حوالگی اور ہر سرنگ کے خاتمے کو شامل کیا گیا ہے۔‘
انھوں نے اپنے پیغام کے آخر پر کہا کہ ’حماس کو فوری طور پر اپنے وعدوں پر عمل کرنا ہوگا، جس میں اسرائیل کو آخری لاش کی واپسی اور مکمل غیر عسکری ہونا شامل ہے۔‘
خاران میں مسلح افراد کا حملہ، تھانے سے قیدیوں کو بھی چھڑوا لیا, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
بلوچستان کے ضلع خاران کے مرکزی شہر میں جمعرات کے روز مسلح افراد کی بڑی تعداد داخل ہوئی اور شہر کے مختلف حصوں میں حملے کیے۔ مقامی حکام کے مطابق حملہ آوروں نے سٹی پولیس تھانے کو نشانہ بنایا اور سرکاری و نجی بینکوں کو بھی نقصان پہنچایا۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ حملہ آور گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں پر شہر میں داخل ہوئے۔ پولیس کے ایک سینیئر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ حملے میں پولیس اہلکاروں کو جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم تھانے کی گاڑیوں اور اسلحے کو نقصان پہنچایا گیا اور کچھ اسلحہ حملہ آور اپنے ساتھ لے گئے۔ اہلکار کے مطابق حملہ آور حوالات میں موجود زیرِ سماعت قیدیوں کو بھی زبردستی چھڑا کر لے گئے۔
پولیس کے مطابق حملہ آوروں میں سے کچھ افراد بازار میں داخل ہوئے اور دو سے تین بینکوں کو نقصان پہنچایا۔ فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا وہ بینکوں سے رقم لے جانے میں کامیاب ہوئے یا نہیں۔
سول ہسپتال خاران کے ایم ایس ڈاکٹر مشتاق نے بتایا کہ ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال میں پانچ زخمیوں کو لایا گیا، جن میں ایک نوجوان گولی لگنے سے زخمی ہوا جبکہ چار بچے دھماکے کے نتیجے میں اسپلنٹرز لگنے سے زخمی ہوئے۔
شہر کے رہائشیوں نے بتایا کہ بڑی تعداد میں مسلح افراد کے داخل ہونے سے خوف و ہراس پھیل گیا۔ خاران شہر کوئٹہ سے تقریباً 300 کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع ہے اور اس کی آبادی مختلف بلوچ قبائل پر مشتمل ہے۔
خاران کا شمار بلوچستان کے ان علاقوں میں ہوتا ہے جو شورش سے متاثر ہیں۔ اگرچہ اس ضلع میں بدامنی کے واقعات وقتاً فوقتاً پیش آتے رہے ہیں، لیکن مرکزی شہر میں مسلح افراد کی اتنی بڑی تعداد میں داخل ہونے کا یہ پہلا واقعہ ہے۔
مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن پر امریکہ کا ایران پر نئی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ نے ایران کے پانچ اہلکاروں کے خلاف پابندیاں عائد کی ہیں جن پر مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کا الزام ہے۔ امریکہ نے یہ بھی کہا ہے کہ ایرانی رہنماؤں کی طرف سے دنیا بھر کے بینکوں میں اپنا سرمایہ منتقل کرنے پر نظر رکھی جا رہی ہے۔
امریکی محکمۂ خزانہ نے ایک بیان میں نئی پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔ جن ایرانی عہدیداروں پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں ان میں قومی سلامتی کی سپریم کونسل کے سیکریٹری اور پاسداران انقلاب اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کمانڈرز شامل ہیں۔
جمعرات کو ویڈیو پیغام میں امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ امریکہ کو معلوم ہے کہ ’آپ چوری شدہ فنڈز دنیا بھر کے بینکوں اور مالیاتی اداروں میں منتقل کر رہے ہیں۔ ہم آپ پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ابھی بھی وقت ہے کہ آپ ہمارے ساتھ مل جائیں۔ صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ تشدد روک دیں اور ایرانی عوام کے ساتھ کھڑے ہو جائیں۔‘
بیسنٹ نے ایک بیان میں کہا کہ امریکی محکمۂ خزانہ ہر وہ اقدام کرے گا جس سے ایران کی ’آمرانہ حکومت کو نشانہ بنایا جا سکے۔‘
امریکہ نے 18 دیگر افراد پر بھی پابندیاں عائد کی ہیں جن پر منی لانڈرنگ کا الزام ہے۔ امریکہ کے مطابق یہ افراد غیر ملکی منڈیوں میں ایرانی تیل اور پیٹرو کیمیکل فروخت کر کے بینکاری کے خفیہ نیٹ ورکس کے ذریعے رقوم منتقل کرتے ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ نے تہران پر دباؤ برقرار رکھا ہوا ہے۔ اس سے قبل ایرانی تیل کی برآمدات اور جوہری ہتھیاروں کی پیداوار کو روکنے کے لیے پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔
خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق ان پابندیوں کے تحت افراد اور کمپنیوں کو امریکہ میں موجود کسی بھی جائیداد یا مالی اثاثے تک رسائی نہیں دی جائے گی اور امریکی کمپنیوں اور شہریوں کو ان کے ساتھ کاروبار کرنے سے روکا جائے گا۔ تاہم یہ پابندیاں زیادہ تر علامتی ہیں کیونکہ ان میں سے اکثر کے پاس امریکی اداروں میں فنڈز موجود نہیں ہیں۔
ان پابندیوں کے حوالے سے امریکی محکمۂ خزانہ کے دفتر برائے غیر ملکی اثاثہ جات کنٹرول (او ایف اے سی) نے 18 افراد اور کمپنیوں کو نامزد کیا ہے۔ امریکہ کا دعویٰ ہے کہ ان افراد نے ’شیڈو بینکنگ نیٹ ورک‘ کے ذریعے ایرانی تیل کی فروخت سے حاصل شدہ رقوم کی منی لانڈرنگ میں حصہ لیا۔ شیڈو بینکنگ سے مراد وہ مالیاتی سرگرمیاں اور ادارے ہیں جو بینکوں کی طرح کام کرتے ہیں لیکن روایتی بینکاری نظام کے ضوابط سے باہر ہوتے ہیں۔
ایران میں پُرامن حل کی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں: پاکستانی دفتر خارجہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ اس نے ایران کی صورتحال پر گہری نظر رکھی ہوئی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ پاکستان کو امید ہے کہ ’امن و استحکام قائم رہے گا اور ہم اس صورتحال کے پُرامن حل کے لیے کی جانے والی تمام کوششوں کی حمایت کرتے ہیں۔‘
ہفتہ وار بریفننگ کے دوران پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ’بطور پڑوسی، دوست اور برادر ملک، پاکستان ایک پرامن، مستحکم اور خوشحال ایران دیکھنا چاہتا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ حالیہ مظاہرے عام شہریوں کو درپیش معاشی مشکلات اور بین الاقوامی پابندیوں کے باعث شدت اختیار کر گئے ہیں۔ ترجمان نے امید ظاہر کی کہ ایرانی حکومت کی جانب سے اعلان کردہ مالیاتی اقدامات عوامی مشکلات کم کریں گے۔
انھوں نے ایران کو ایک ’مضبوط قوم‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو یقین ہے کہ ایران موجودہ چیلنجز پر قابو پا لے گا۔
افغان طالبان کی جانب سے قیادت میں اختلافات سے متعلق بی بی سی کی رپورٹ پر ردعمل
،تصویر کا ذریعہGetty Images
افغانستان میں طالبان کی عبوری حکومت نے بی بی سی کی اس رپورٹ کی تردید کی ہے جس میں قیادت کے اندر انٹرنیٹ کی بندش سمیت دیگر معاملات پر اختلافات کا ذکر کیا گیا ہے۔
ذبیح اللہ مجاہد نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ افغان طالبان کی قیادت میں ’اختلافات سے متعلق بی بی سی کی رپورٹ بے بنیاد ہے۔‘
’امارت اسلامیہ کی صفوں میں کسی قسم کا اختلاف موجود نہیں۔ تمام امور اسلامی شریعت کے مطابق انجام دیے جاتے ہیں اور اختلاف کی کوئی گنجائش نہیں۔
’قیادت کی جانب سے اتحاد اور یکجہتی پر زور دینے والے بیانات یا معمولی معاملات میں رائے کے فرق کو کسی صورت اختلاف نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ امارت اسلامیہ کے اندر مضبوط اتحاد، اطاعت اور یکجہتی موجود ہے اور اختلاف کا کوئی خدشہ نہیں۔‘
بی بی سی کی اس رپورٹ میں افغان طالبان کے سربراہ ہیبت اللہ اخونزادہ کی لیک شدہ آڈیو کا ذکر ہے جس میں انھیں حکومت کے اندر ایک دوسرے کے مخالفین کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔
وہ اس دوران خبردار کرتے ہیں کہ ’اس تقسیم کی وجہ سے امارات ختم ہو سکتی ہے۔‘
بی بی سی کو موصول ہونے والی ایک آڈیو نے ظاہر کیا کہ افغانستان میں طالبان کے سربراہ کو کیا چیز پریشان کر رہی ہے۔ یہ بیرونی نہیں بلکہ اندرونی خطرہ ہے۔
طالبان نے 2021 میں امریکی انخلا کے ساتھ ہی ملک کا کنٹرول سنبھال لیا تھا۔
آئیے آج کے دن میں آگے بڑھنے سے پہلے گزشتہ روز کی چند اہم خبروں پر ایک نظر ڈالتے ہیں:
ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس، انسانی حقوق کے ہائی کمشنر وولکر ترک اور مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ کو خط لکھ کر ان سے مطالبہ کیا ہے کہ ایران میں ’بیرونی مداخلت‘ کی مذمت کی جائے۔ انھوں نے کہا کہ 28 دسمبر کو معاشی مسائل پر شروع ہونے والے پُرامن مظاہروں کو ’دہشت گرد عناصر‘ نے ’مسلح فسادات‘ میں بدل دیا تھا۔
ترک وزیرِ خارجہ کا کہنا ہے کہ ’ہم ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے خلاف ہیں۔ ہمارا ماننا ہے کہ ایران کے اصل مسائل انھیں خود حل کرنے چاہییں۔‘ ایک بیان میں خاقان فيدان نے کہا کہ ایران میں معاشی بے چینی کو ’غلط انداز میں بغاوت کے طور پر‘ پیش کیا گیا ہے۔
ایران کے وزیرِ دفاع عزیز نصیر زادہ کا کہنا ہے کہ ایران کے پُرتشدد مظاہروں میں اکثر ہلاکتیں ’چاقو کے وار، گلا گھونٹنے اور تقریباً 60 فیصد سر پر ضرب لگانے سے ہوئی ہیں۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ مظاہروں میں 150 سے زیادہ اشیا خورد و نوش کی دکانیں تباہ ہوئیں مگر انھیں ’لوٹا نہیں گیا۔‘
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھیں ایران کے آخری بادشاہ کے جلاوطن بیٹے رضا پہلوی بظاہر اچھے انسان لگتے ہیں مگر انھوں نے اس بارے میں غیر یقینی ظاہر کی کہ آیا پہلوی کو ایران کے اندر اتنی حمایت حاصل ہو سکے گی کہ وہ اقتدار سنبھال سکیں۔ اوول آفس میں خبر رساں ادارے روئٹرز کو دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ اس بات کا امکان ہے کہ ایران کی موجودہ حکومت گِر سکتی ہے۔
پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیرِ صدارت جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں لاہور ہائی کورٹ کے 11 ایڈیشنل ججز کو مستقل کرنے کی منظوری دی گئی۔
بی بی سی اردو کے لائیو پیج میں خوش آمدید
یہاں آپ کو پاکستان اور دنیا بھر سے خبریں، تجزیے اور تبصرے پیش کیے جائیں گے۔
گذشتہ روز کے لائیو پیج پر جانے اور خبریں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کر سکتے ہیں۔