تجارتی رکاوٹوں، بے روزگاری اور غربت کے باوجود افغانستان کی معیشت میں تیزی کیسے آئی؟

افغانستان، معیشت

،تصویر کا ذریعہEPA

    • مصنف, فرہاد محمدی
    • عہدہ, بی بی سی

عالمی بینک کا کہنا ہے کہ مسلسل دو برسوں سے افغان معیشت میں وسعت آ رہی ہے اور اس کے پیچھے دو اہم عوامل کم افراطِ زر (مہنگائی) اور بڑھتی ہوئی آمدن کار فرما ہیں۔

افغانستان ڈویلپمنٹ اپ ڈیٹ کے نام سے ورلڈ بینک کی تازہ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ افغان معیشت کو اب بھی آبادی میں تیزی سے اضافے، بڑھتے تجارتی خسارے اور غربت جیسے کئی چیلنجز درپیش ہیں۔

رپورٹ کے مطابق سنہ 2025 میں افغانستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) 4.3 فیصد تک بڑھنے کی توقع ہے۔ سنہ 2024 میں افغانستان کی جی ڈی پی 2.5 فیصد تھی۔

خیال رہے کہ اکتوبر میں ورلڈ بینک نے ’پاکستان ڈویلپمنٹ اپ ڈیٹ‘ میں بتایا تھا کہ سیلاب کے باعث پاکستان کی معیشت کو مشکلات کا سامنا ہے۔ ورلڈ بینک نے کہا تھا کہ جون 2025 تک پاکستان کی معیشت کی شرحِ نمو تین فیصد تک رہی جبکہ گذشتہ سال یہ شرح 2.6 فیصد تک تھی۔

ورلڈ بینک نے یہ پیشگوئی بھی کی تھی کہ رواں مالی میں پاکستان کی جی ڈی پی 3.4 فیصد تک ہو سکتی ہے۔

افغانستان، معیشت

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنورلڈ بینک نے خبردار کیا کہ افغانستان میں آبادی میں اضافہ، جو 2025 تک تقریباً 6.8 فیصد ہوگا، فی کس جی ڈی پی کو تقریباً چار فیصد کم کر دے گا

ورلڈ بینک نے افغانستان کی معیشت کے بارے میں کیا کہا؟

عالمی بینک کا کہنا ہے افغانستان میں معاشی پیداوار میں اضافے کی ’سب سے بڑی وجہ ایران اور پاکستان سے واپس آنے والے 20 لاکھ سے زیادہ پناہ گزین ہیں جن سے طلب میں اضافہ ہوا۔ خدمات اور صنعتی شعبے میں سرگرمیاں تیز ہوئیں۔‘

اس کے علاوہ افغانستان کے زرعی شعبے نے گندم کی غیر معمولی پیداوار حاصل کی ہے جبکہ کان کنی اور تعمیرات کے شعبے نے بھی ترقی میں کردار ادا کیا ہے۔

تاہم رپورٹ میں خبردار کیا گیا کہ آبادی میں تیز اضافہ، جو 2025 تک تقریباً 8.6 فیصد ہوگا، فی کس جی ڈی پی کو تقریباً چار فیصد کم کر دے گا۔

یاد رہے کہ ورلڈ بینک کے ڈیٹا کے مطابق سنہ 2024 میں پاکستان کی فی کس جی ڈی پی (اوسط آمدن) 1487 ڈالر جبکہ سنہ 2023 میں افغانستان کی فی کس جی ڈی پی 413 ڈالر تھی۔

افغانستان، معیشت

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنعالمی بینک کے مطابق حالیہ برسوں میں نقدی کا بڑا حصہ بینکاری کے نظام سے باہر گردش کر رہا ہے

مہنگائی میں کمی اور ٹیکس نظام میں بہتری

رپورٹ کے مطابق افغانستان میں افراطِ زر 2025 میں اوسطاً دو فیصد رہنے کی توقع ہے جو خطے میں سب سے کم ہے۔ اس کی وجہ ’خوراک کی قیمتوں میں استحکام اور قومی کرنسی کی مضبوطی‘ بتائی گئی ہے۔

لیکن عالمی بینک کا کہنا ہے کہ قیمتوں کے استحکام سے ظاہر ہے کہ افغانستان درآمدات پر زیادہ انحصار کرتا ہے اور بیرونی معاشی جھٹکوں سے معیشت کمزور ہو سکتی ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ٹیکس کا نظام بہتر ہوا ہے اور اندازہ ہے کہ 2025 تک گھریلو ٹیکس محصولات جی ڈی پی کے 17.1 فیصد تک پہنچ جائیں گے جو سخت قانون نافذ کرنے اور بہتر ٹیکس وصولی کی وجہ سے ممکن ہوا ہے۔

تاہم غیر ملکی امداد میں کمی نے حکومت کے مجموعی بجٹ کو محدود کر دیا ہے جس کے باعث ملک اب بھی عطیہ دہندگان اور تجارت سے متعلقہ ٹیکسوں پر بھاری انحصار کرتا ہے۔

افغانستان، معیشت

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنرپورٹ کے مطابق افغانستان میں ہر چار میں سے ایک نوجوان بے روزگار ہے

بینکاری کا کمزور نظام اور بے روزگار نوجوان

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

رپورٹ میں افغانستان کے بینکاری شعبے کی کمزوری کی نشاندہی کی گئی ہے، جیسے نگرانی میں غیر یقینی صورتحال، بڑھتے ہوئے نادہندہ قرضے اور قرض کے نظام میں سختیاں۔

عالمی بینک کے مطابق حالیہ برسوں میں نقدی کا بڑا حصہ بینکاری کے نظام سے باہر گردش کر رہا ہے۔

افغانستان میں عالمی بینک کے کنٹری ڈائریکٹر فارس حداد زروس نے کہا کہ ’اگرچہ افغان معیشت میں بہتری کے آثار ہیں لیکن اسے اب بھی سنگین مالی مشکلات کا سامنا ہے اور گھریلو محصولات غیر ملکی امداد میں کمی کو پورا کرنے کے لیے کافی نہیں ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’یہ مسائل اس بڑے پیمانے پر پناہ گزین کی واپسی سے مزید بڑھ گئے ہیں جس نے نوجوانوں میں بے روزگاری کو بڑھا دیا ہے اور معیشت میں موجودہ کمزوریوں کو بڑھا دیا ہے۔‘

’نجی شعبے کے ذریعے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی فوری ضرورت ہے، خاص طور پر نوجوانوں اور خواتین کے لیے۔‘

رپورٹ کے مطابق افغانستان میں ہر چار میں سے ایک نوجوان بے روزگار ہے۔ اس کے علاوہ خواتین کی معاشی شمولیت اور تعلیم پر پابندیاں انسانی وسائل کی ترقی اور مستقبل کی ترقی کی صلاحیت کو کمزور کر رہی ہیں۔

افغانستان، معیشت

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنعالمی بینک کا کہنا ہے افغانستان میں معاشی پیداوار میں اضافے کی ’سب سے بڑی وجہ ایران اور پاکستان سے واپس آنے والے 20 لاکھ سے زیادہ پناہ گزین ہیں‘

پناہ گزین کی واپسی کے اثرات

عالمی بینک کا کہنا ہے کہ افغانستان کو گذشتہ دو دہائیوں میں پناہ گزین کی سب سے بڑی واپسی کا سامنا ہے۔ ادارے کے اندازے کے مطابق ’ستمبر 2023 سے جولائی 2025 کے درمیان تقریباً 40 سے 47 لاکھ افراد ملک واپس آئے ہیں۔‘

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس صورتحال نے لیبر مارکیٹ اور عوامی خدمات پر شدید دباؤ ڈالا ہے، خاص طور پر سرحدی علاقوں اور شہری مراکز میں۔

عالمی بینک نے زور دیا ہے کہ پائیدار معاشی بحالی کے لیے اصلاحات ضروری ہیں، جو 'نجی سرمایہ کاری کو بڑھائیں، مالی خدمات کو وسعت دیں، برآمدات میں تنوع پیدا کریں اور واپس آنے والے پناہ گزین کو روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے استعمال کریں۔'

فارس حداد زروس نے کہا کہ پائیدار روزگار کو ممکن بنانے والی پالیسیاں افغانستان کے بین الاقوامی برادری سے مذاکرات سے جڑی ہیں۔