پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان پیشگی امیگریشن کلیئرنس کا نظام کیا ہے اور اس کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

پاکستانی پاسپورٹ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, عمر دراز ننگیانہ
    • عہدہ, بی بی سی اردو
    • مقام, اسلام آباد

پاکستان اور متحدہ عرب امارات نے ’روڈ ٹو مکہ‘ طرز کا ایسا امیگریشن نظام لاگو کرنے پر اتفاق کیا ہے جس کے تحت پاکستان سے یو اے ای سفر کرنے والے تمام مسافروں کی امیگریشن پاکستان ہی میں مکمل کر لی جائے گی۔

پاکستان ہی میں امیگریشن کا عمل مکمل ہونے کے بعد یو اے ای پہنچنے پر مسافروں کو دوبارہ اس عمل سے نہیں گزرنا پڑے گا اور وہ مقامی مسافروں کی طرح اپنا سامان وصول کر کے براہ راست ایئرپورٹ سے باہر جا پائیں گے۔

پاکستان کی وزارت داخلہ کے مطابق وزیر داخلہ محسن نقوی کی حال ہی میں یو اے ای کے ایک وفد سے ملاقات میں یہ طے کیا گیا کہ دونوں ملکوں کے درمیان ’پری امیگریشن کلیئرنس‘ کے نظام لاگو کرنے کے لیے ایک باقاعدہ معاہدے پر دستخط کیے جائیں گے۔

وزارت داخلہ کے مطابق ’ابتدائی طور پر یہ نظام پائلٹ بنیادوں پر شروع کیا جائے گا اور اس کے لیے کراچی کے جناح ایئرپورٹ کا انتخاب پہلی لوکیشن کے طور پر کیا گیا ہے۔‘

وزیر داخلہ محسن نقوی کے مطابق اس نظام کے تحت امیگریشن اور اس سے متعلق کلیئرنس پاکستان ہی میں ہو گی۔ انھوں نے بتایا کہ اس نظام کے لاگو ہونے کے بعد یو اے ای پہنچنے والے مسافروں کو امیگریشن کے طویل عمل سے نہیں گزرنا پڑے گا اور وہ براہ راست مقامی مسافروں کی طرح ایئرپورٹ سے باہر نکل سکیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ پیشرفت سفر کو آسان بنائے گی، وقت بچے گا اور مجموعی طور پر مسافروں کے لیے سفری تجربے کو بہتر بنائے گی۔‘

وزارت داخلہ کے مطابق متحدہ عرب امارات کے ڈائریکٹر جنرل کسٹمز اینڈ پورٹ سکیورٹی احمد بن لاحیج ال فلاسی کی سربراہی میں وفد کی وزیر داخلہ سے اسلام آباد میں ملاقات میں یہ طے کیا گیا کہ متعلقہ حکام پائلٹ پراجیکٹ کے انتظامی اور ٹیکنیکل ڈھانچے کو حتمی شکل دینے کے لیے باہمی رابطے سے کام کریں گے۔

اگر یہ پائلٹ پراجیکٹ کامیابی سے لاگو ہو جاتا ہے تو اس کو دیگر شہروں تک پھیلایا جائے گا۔ اسی طرز پر امیگریشن پری کلیئرنس نظام پہلے سے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان کام کر رہا ہے۔ اس کے ذریعے سعودی عرب حج کے لیے جانے والوں کے امیگریشن کے عمل کو پاکستان ہی میں مکمل کیا جاتا ہے۔

منگل کو جاری ہونے والے ہینلی پاسپورٹ انڈیکس کے مطابق پاکستانی پاسپورٹ سنہ 2026 کی عالمی فہرست میں پانچ درجے بہتری کے بعد دنیا میں 98 نمبر پر آ گیا ہے۔ گذشتہ برس پاکستانی پاسپورٹ 103 نمبر نمبر پر تھا۔

دوسری طرف اسی فہرست کے مطابق متحدہ عرب امارات کا پاسپورٹ دنیا کے پانچ سب سے طاقتور ملکوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

امیگریشن پری کلیئرنس نظام کیسے کام کرتا ہے؟

امیگریشن پری کلیئرنس نظام امریکہ سمیت کئی ممالک میں لاگو ہے جہاں ان ممالک کے چند دوسرے ملکوں کے ساتھ معاہدے موجود ہیں۔

امریکی نظام کے تحت جن ملکوں کے ساتھ اس کے امیگریشن پری کلیئرنس کے معاہدے موجود ہیں ان کے مخصوص ایئرپورٹس پر امریکی امیگریشن اور کسٹمز کے حکام تعینات ہوتے ہیں۔ یہ حکام امریکہ کی طرف ویزہ پر سفر کرنے والے تمام مسافروں کی امیگریشن کا عمل ان کے اپنے ملک کے اندر ہی کر لیتے ہیں۔

اس میں ان کے پاسپورٹس اور ویزہ کی جانچ پڑتال اور سفر کے مقصد کے حوالے سے تصدیق وغیرہ شامل ہوتی ہے۔ ساتھ ہی ان کے سامان کی کسٹمز کلیئرنس وغیرہ بھی اسی مقام پر کر لی جاتی ہے۔ یہ عمل مکمل ہونے کے بعد مسافر یوں سفر کرتے ہیں جیسے مقامی مسافر ملک کے اندر سفر کرتے ہیں۔

سعودی عرب کے ’روٹ ٹو مکہ‘ پراجیکٹ کے تحت بھی اسی طرز کے معاہدے چند ممالک کے ساتھ ہیں جہاں سے عازمین حج کی سہولت کے لیے ان کی امیگریشن کا عمل ان کے ملک میں مکمل کر لیا جاتا ہے۔

پاکستان بھی ان ممالک میں شامل ہے۔ عرب نیوز کے مطابق گذشتہ برس ’پاکستان سے کراچی اور اسلام آباد ایئرپورٹس سے سفر کرنے والے پچاس ہزار کے قریب عازمین حج نے اس نظام سے استفادہ کیا۔‘

ان مسافروں کو سعودی عرب پہنچنے پر طویل قطاروں میں نہیں لگنا پڑا بلکہ وہاں بسیں ان کی منتظر تھیں جن کے ذریعے انھیں ان کے ہوٹلوں میں پہنچا دیا گیا جہاں ان کا سامان بھی پہنچ چکا تھا۔

ایئرپورٹ، کراچی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنسعودی عرب کے ’روٹ ٹو مکہ' پراجیکٹ کے تحت بھی اسی طرز کے معاہدے چند ممالک کے ساتھ ہیں

کیا پاکستان اور یو اے ای کے درمیان بھی ایسا ہی معاہدہ ہو گا؟

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

پاکستانی حکام کے مطابق پاکستان یو اے ای کے ساتھ بھی اسی نوعیت کا معاہدہ کرنا چاہتا ہے جس کے لیے اماراتی حکام نے بھی آمادگی کا اظہار کیا تاہم سعودی عرب کا پراجیکٹ صرف حج عازمین کی سہولت کے لیے محدود ہے۔

حج فلائٹس شروع ہونے سے پہلے سعودی امیگریشن اور کسٹمز کا عملہ پاکستان میں مقرر کردہ ایئرپورٹس پر تعینات ہو جاتا ہے جو حج سیزن ختم ہونے پر واپس چلا جاتا ہے۔ یو اے ای کے ساتھ پاکستان کس قسم کا بندوبست کرے گا اور اس سے کس قسم کے مسافر استفادہ کر پائیں گے۔

پاکستان میں وزارت داخلہ کے حکام کے مطابق ’اس کی تکنیکی اور انتظامی ڈھانچے کو بنانے کے لیے دونوں ممالک کے متعلقہ حکام مل کر کام کریں گے‘ یعنی یہ منصوبہ تاحال ابتدائی مراحل میں ہے اور اس کے خدوخال ابھی زیادہ واضح نہیں۔

تاہم پاکستان میں امیگریشن کے ایک افسر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ یہ خدوخال اسی طرز پر ہوں گے جیسے امریکہ اور کینیڈا جیسے ممالک میں لاگو ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ اسی طرح اس نظام کے تحت یو اے ای امیگریشن اور کسٹمز وغیرہ کا عملہ پاکستان میں مقررکردہ ایئرپورٹ پر تعینات ہو گا۔ یہاں سے سفر کرنے والوں کی امیگریشن کا عمل پاکستان ہی میں مکمل کر لیا جائے گا۔

’اس میں انھیں سفر سے پہلے ایک آن لائن فارم پر کرنا ہو گا جس پر امیگریشن سے متعلق سوالات ہوں گے جن کے وہ جواب دیں گے۔ پھر ایئرپورٹ پہنچنے پر امیگریشن کے حکام ان سوالات کی مدد سے ان کے سفری جواز کی تصدیق وغیرہ کریں گے۔‘

یہ امیگریشن کلیئرنس کے عمل کا ایک حصہ ہو گا۔ اس حوالے سے دیگر تفصیلات اور تکنیکی نکات دونوں ممالک کے حکام اس نظام کو لاگو کرنے سے قبل طے کر لیں گے۔

یو اے ای کے ساتھ اس بندوبست کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟

حال ہی میں پاکستان میں یہ شکایات سامنے آتی رہی ہیں کہ یو اے ای پاکستانیوں کو ویزے جاری نہیں کر رہا۔ اس معاملے کو پاکستان کی پارلیمان کے اندر بھی اٹھایا گیا۔ روزنامہ ڈان کے مطابق گذشتہ برس محکمہ داخلہ کے حکام نے سینیٹ کی ایک فنکشنل کمیٹی کو تصدیق کی تھی کہ یو اے ای پاکستانیوں کو ویزے نہیں دے رہا تھا۔

انھوں نے مزید بتایا تھا کہ ’سعودی عرب اور یو اے ای پاکستانی پاسپورٹ پر تقریباً پابندی لگانے والے تھے‘ تاہم اس کے بعد پاکستانی حکام اور یو اے ای حکام کے درمیان اعلی سطح کی ملاقاتوں کے بعد اس مسئلے پر مثبت پیشرفت ہوئی تھی۔

تاہم پاکستانیوں کے لیے یو اے ای کا ویزہ لینے میں مشکلات کی شکایات تاحال برقرار ہیں۔ دوسری جانب پاکستانی امیگریشن حکام کی جانب سے ’ہیومن سمگلنگ‘ کے خلاف ایئرپورٹس پر سخت کارروائیوں کا آغاز کیا گیا جس میں بہت سے افراد کو ’آف لوڈ‘ کر دیا جاتا ہے۔

اس میں بہت سے ایسے واقعات بھی سامنے آئے ہیں جہاں درست اور معتبر سفری دستاویزات رکھنے والے افراد کو بھی آف لوڈ کر دیا گیا۔

ابو ظہبی ایئرپورٹ، امیگریشن

،تصویر کا ذریعہGetty Images

’ڈرائیور کی نوکری پر جانے والوں کے پاس لائسنس تک نہیں ہوتا‘

پاکستانی امیگریشن افسر نے بی بی سی کو بتایا کہ پاکستان کو بہت سے ایسے مسائل کا سامنا کرنا پڑا رہا تھا جہاں لوگ جعلی دستاویزات کے ساتھ ان ممالک کی طرف سفر کرتے تھے۔ ’پھر جب وہ پکڑے جاتے ہیں اور ڈی پورٹ کر دیے جاتے ہیں تو اس سے پاکستان کے پاسپورٹ کی بدنامی ہوتی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’بہت سے افراد جعلی ویزے کی مہریں لگاتے ہیں یا پھر پروٹیکٹر پر جعلی مہریں لگوا لیتے ہیں۔ ایسے بھی واقعات سامنے آئے جن میں ’لوگ جعلی نوکری کی آفر پر سفر کرتے ہیں، جب ان سے پوچھا جاتا ہے تو کہہ دیتے ہیں کہ وہ وہاں ڈرائیونگ کریں گا جبکہ ان کے پاس ڈرائیونگ لائسنس بھی نہیں ہوتا۔‘

انھوں نے بتایا کہ بہت سے افراد ’وزٹ ویزا‘ لے کر ان ممالک میں جا کر بھیک مانگنے جیسے عمل میں پکڑے گئے جبکہ بہت سے کیسز ایسے ہوتے ہیں جس میں ایجنٹس لوگوں کو سمگل کرتے ہیں اور ان لوگوں کو پتہ ہی نہیں ہوتا کہ وہ کیا کرنے جا رہے ہیں۔

امیگریشن افسر کا کہنا تھا کہ نئے پری کلیئرنس امیگریشن نظام سے ان تمام معاملات سے پاکستان کے اندر ہی نمٹ لیا جائے گا۔

’اس کا ایک فائدہ یہ ہو گا کہ جو لوگ واقعی درست سفری دستاویزات پر سفر کر رہے ہوں گے ان کے لیے بہت بڑی سہولت ہو جائے گی اور دوسرا جعلی طریقوں کے استعمال کی روک تھام ہو پائے گی۔ اس طرح پاکستان کے پاسپورٹ کی ساکھ کو نقصان نہیں ہو گا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اس نظام سے بنیادی طور پر پاکستان سے یو اے ای سفر کرنے والوں کو سہولت فراہم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔