پاکستانی روپے اور ایرانی تومان کے مقابلے میں ’افغان کرنسی‘ ڈالر کے سامنے زیادہ مستحکم کیوں ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, بی بی سی افغان سروس اور فیکٹ چیکنگ ٹیم
ایک ایسے وقت میں جب افغانستان کے ہمسایہ ممالک مالی عدم استحکام اورکرنسی کے شدید اتار چڑھاؤ سے دوچار ہیں، افغانستان نے پچھلی دو دہائیوں اور خصوصاً گذشتہ چار سالوں میں افغان کرنسی کی قدر کو ڈالر اور خطے کی دیگر کرنسیوں کے مقابلے میں مستحکم رکھا ہے۔
اس کی وجوہات کیا ہیں۔ یہی سوال بی بی سی نے ماہرین اور مرکزی بینک کے سابق حکام کے سامنے رکھا تو انھوں نے اس کا تعلق متعلقہ اداروں کی محتاط پالیسیوں سے جوڑا۔
افغانستان کے مرکزی بینک کے ترجمان حسیب نوری نے اس حوالے سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ 2025 میں کیے گئے محتاط اور دانشمندانہ اقدامات کے سبب افغان کرنسی (جسے ’افغانی‘ کہا جاتا ہے) کی قدر امریکی ڈالر کے مقابلے میں 6.5 فیصد اضافہ ظاہر کر رہی ہے۔
ان کے مطابق ’نقد رقم کے مناسب انتظامات، مہنگائی پر قابو اور کرنسی مارکیٹ کے نظم و ضبط کے نتیجے میں افغان کرنسی کی قدر غیر ملکی کرنسیوں کے مقابلے میں قابلِ ذکر حد تک مستحکم رہی۔‘
گذشتہ تقریباً 20 سالوں میں افغان کرنسی کی قدر امریکی ڈالر کے مقابلے میں صرف 18 افغانی کم ہوئی ہے۔
2005 میں جب افغانستان میں نئی کرنسی اور نوٹ متعارف کرائے گئےاس وقت ایک ڈالر کی قیمت 48 افغانی مقرر کی گئی۔
دس سال بعد 2015 میں یہ رقم 57 افغانی تک پہنچی اور بالآخر رواں سال ایک ڈالر کی قیمت تقریباً 66 افغانی ہو گئی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
افغان کرنسی سے تین صفر ہٹائے جانا
افغانستان میں مالی اصلاحات بین الاقوامی اداروں کی مشاورت سے 1980 کی دہائی کے اوائل میں کی گئیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
نئی کرنسی متعارف کروانے سے پہلے ملک کے مرکز اور شمال میں دو قسم کی کرنسی چھاپی جاتی تھی اور اس کی قدر انتہائی حد تک گر چکی تھی۔
افغانستان کے مرکزی بینک کے سابق صدر عبدالعزیز بابکرخیل کہتے ہیں کہ افغانی کرنسی کی قدر میں کمی اس وجہ سے ہوئی کہ اس سے پہلے، 1990کی دہائی میں افغان کرنسی بہت زیادہ مقدار میں اور غیر ذمہ دارانہ طریقے سے چھاپی جاتی تھی۔
اقتصادیات پر تحقیق کرنے والے ضیا شفائی کہتے ہیں کہ مالیاتی استحکام ممالک کی مضبوط معیشتوں کا نتیجہ ہوتا ہے تاہم افغانستان کی معیشت جمہوری دور میں اور موجودہ وقت میں افغان کرنسی کی قدر کو برقرار رکھنے کی وجہ نہیں بن سکتی تھی۔
ضیا شفائی کے مطابق ’لہٰذا اس کا متبادل بین الاقوامی مالیاتی ادارے اور عالمی اداروں نے یوں پیش کیا کہ مالی اصلاحات کے ذریعے تین صفر ختم کر کے نئی کرنسی متعارف کرائی جائے اور افغانستان کی معیشت کے بجائے غیر ملکی امدادی ڈالر اس کرنسی کی پشت پناہی کرے۔‘
یہ پالیسی اُس وقت کے افغانستان کے لیے دو دہائیوں کی جنگ کے بعد بہترین متبادل تھی۔
طالبان حکومت نے رقوم کے لین دین میں پاکستانی روپے کے استعمال پر پابندی عائد کر دی ہے تاہم کچھ لین دین اب بھی ڈالر میں کیا جاتا ہے البتہ اس حوالے سے درست اعداد و شمار موجود نہیں۔
دوسری جانب حالیہ برسوں میں ملکی محصولات کی وصولی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جو کہ مضبوط ٹیکس قوانین کے نفاذ، محصولات میں اضافہ اور کسٹم کے بہتر انتظام سےممکن ہو سکا۔
افغانی کرنسی کی قدر مستحکم رہنے کا سبب کیا ہے؟
افغانستان کے سابق وزیر خزانہ خالد پائندہ کہتے ہیں کہ مالیاتی پالیسی کے نقطہ نظر سے آسان یا لچکدار ایکسچینج ریٹ ہمیشہ بہتر انتخاب ہوتا ہے، خاص طور پر افغانستان جیسی معیشت کے لیے جسے بیرونی مسائل کا سامنا زیادہ رہتا ہو اور جہاں زرِ مبادلہ کے ذخائر محدود ہوں۔
انھوں نے مزید کہا کہ جنوب اور مشرق سمیت کئی مقامات پر پاکستانی روپیہ روزمرہ لین دین میں وسیع پیمانے پر استعمال ہوتا تھا۔ اب افغان کرنسی عملی طور پر پورے ملک میں روزمرہ لین دین کا واحد ذریعہ ادائیگی ہے۔
’اس بڑھتی ہوئی طلب کو ایک اور اہم وجہ نے مزید شدت دی ہے اور وہ ہے افغانی( افغان کرنسی) کی کمی۔ چونکہ نئے نوٹ چھاپے نہیں جا رہےاور افغان کرنسی کی فراہمی محدود رہی ہے اور یہی کمی کرنسی کی قدر کو مضبوط کر رہی ہے۔‘
افغانستان کے منی چینجر یونین کے صدر بهرام زدران کا کہنا ہے کہ ’پورے افغانستان میں افغانی کا رائج ہونا اور اس میں لین دین ہونا افغانی کرنسی کی قدر بڑھنے کی ایک بڑی وجہ ہے، ساتھ ہی دنیا کے دیگر ممالک کے ساتھ تجارت اور تعلقات کے فروغ نے بھی اس میں کردار ادا کیا ہے۔‘
عبدالعزیز بابکرخیل کے مطابق افغانستان میں جمہوری دور میں بھی بڑے چیلنجز موجود تھے، لیکن موجودہ طالبان حکومت کے دور میں مالیاتی پالیسی’زیادہ منظم اور بہتر‘ ہوئی ہے اور اس نے مارکیٹ میں افغانی سے ’مثبت توقعات‘ پیدا کی ہیں۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ اب منی چینجرز اور مرکزی بینک کے درمیان گٹھ جوڑ بھی ختم ہو گیا ہے۔
’جمہوری دور میں مرکزی بینک اور منی چینجرز کے درمیان گٹھ جوڑ موجود تھا، افغانی(کرنسی) ہمیشہ جلدی غیر مستحکم ہو جاتی تھی اور ڈالر بھی نہیں ٹھہرتا تھا بلکہ ہمسایہ ممالک میں سمگل ہو جاتا تھا۔ یہ دائرہ افغانی کی قدر کو نیچے لے جاتا تھا۔ طالبان کے دور میں یہ عمل ختم ہو گیا ہے اور افغانی کی قدر بہتر ہوئی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
عبدالعزیز بابکرخیل کہتے ہیں کہ ’مہنگائی کم ہونے کے مختلف اسباب ہیں لیکن اگر قرب و جوار میں موجود دیگر ممالک کے مقابلے میں ملک میں قیمتوں کا استحکام موجود ہو تو یہ افغانی کی قدر کو مستحکم کرنے میں مدد کرتا ہے۔‘
وہ مزید کہتے ہیں کہ ’دیگر عوامل مثلاً مالی نظم و ضبط بجٹ خسارے کا بہتر نظام بھی اہم رہے ہیں جن کا براہِ راست اثر کرنسی کے نرخ پر پڑتا ہے۔‘
وہ موجودہ مرکزی بینک میں ’کرپشن کے خاتمے‘ اور بیرونِ ملک افغان مہاجرین کی جانب سے پیسوں کے بھیجے جانے کو افغانی کی قدر مضبوط کرنے میں مؤثر سمجھتے ہیں۔
افغان مہاجرین زیادہ تر ہنڈی کے ذریعے اپنے ملک زرِ مبادلہ بھیجتے ہیں ایک اندازے کے مطابق یہ رقم سالانہ ایک ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔ تاہم ضیا شفائی کہتے ہیں کہ افغانستان کا مرکزی بینک افغان کرنسی کی مارکیٹ میں فراہمی کم کر کے اس کی قدر کو برقرار رکھتا ہے۔
اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ افغانی ایک متعین حد میں حرکت کرے اور محدود اتار چڑھاؤ کی اجازت ہو۔
’نظام کی تبدیلی (طالبان حکومت کے آنے) کے بعد افغانی کی قدر ڈالر کے مقابلے میں 110 تک گر گئی لیکن مرکزی بینک کی مداخلت سے یہ دوبارہ منظم ہوئی اور یہی پالیسی بنیادی عمل ہے جس نے افغانی کی قدر کو محفوظ رکھا ہے۔‘
مرکزی بینک کا مقصد مہنگائی کو کنٹرول کرنا ہے
خالد پاینده کے مطابق ’افغانستان کے مرکزی بینک کا اصل مقصد مہنگائی پر قابو پانا ہونا چاہیے نہ کہ زرِمبادلہ کے نرخ کو مصنوعی طور پر مستحکم رکھنا۔ مہنگائی براہِ راست عوام کی زندگی، خاص طور پر غریب طبقے پر اثر ڈالتی ہے۔‘
افغانستان کے مرکزی بینک میں کام کرنے کا تجربہ رکھنے والے عبدالعزیز بابکرخیل کے مطابق قانون میں درج ہے کہ مرکزی بینک کا کام قیمتوں کا استحکام برقرار رکھنا ہے، اور جب یہ استحکام موجود ہو تو افغانی کرنسی بھی زیادہ مستحکم رہتی ہے۔
مرکزی بینک کے چارٹ کے مطابق افغانستان میں حالیہ برسوں میں مہنگائی کی شرح منفی رپورٹ ہوئی ہے جسے طالبان حکومت کے حکام نے اپنی ’اقتصادی کامیابی‘ قرار دیا تاہم بعض ماہرینِ اقتصادیات( بشمول عالمی بینک کی رپورٹ) اسےعوام کی قوتِ خرید میں کمی کی وجہ قرار دیتے ہیں۔
عبدالعزیز بابکرخیل تاہم کہتے ہیں کہ ’جب مہنگائی زیادہ ہو تو حکومت بے بس ہو جاتی ہے اور اس سبب کوئی ترقیاتی پالیسی آگے نہیں بڑھ پاتی۔‘
مستحکم کرنسی درآمدات کے لیے بہتر ہے
درآمدات پر انحصار کرنے والے افغانستان میں ڈالر کی قدر میں اضافہ درآمدی اشیا کی قیمت بڑھنے کے مترادف ہے۔
ضیا شفائی کے مطابق یہ مالیاتی پالیسی ’غلط‘ ہے۔
سات سال پہلے یعنی 2018 میں افغانستان کی برآمدات سالانہ تقریباً 600 ملین ڈالر تھیں جبکہ درآمدات 6.5 ارب ڈالر تک پہنچتی تھیں۔
پاکستان کے فضائی حملوں اور سرحدی جھڑپوں کے نتیجے میں افغانستان اور پاکستان کے درمیان تجارت رک گئی ہے۔
اس کے باوجود خبر رساں ادارے روئٹرز نے چھ جنوری 2026 کو طالبان حکومت کی وزارتِ تجارت کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ 2025 میں افغانستان کا مجموعی تجارتی لین دین پچھلے سال کے مقابلے میں بڑھ کر تقریباً 13.9 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔
’برآمدات کا حجم تقریباً 1.8 ارب ڈالر رہا جو پچھلے سال کے مقابلے میں تقریباً پہلے جیسا رہا تاہم درآمدات بڑھ کر 12.1 ارب ڈالر سے زیادہ ہو گئیں۔‘
بابکرخیل کہتے ہیں کہ اب ہماری برآمدات کم اور درآمدات زیادہ ہیں تاہم اس صورت میں مستحکم اور مضبوط کرنسی مدد کرتی ہے کہ مہنگائی دیگر ممالک سے افغانستان میں داخل نہ ہو اور معاشی جمود سے بچا جا سکے۔
وہ مزید کہتے ہیں کہ ’یقیناً طویل مدت میں اگر افغانستان کی برآمدات زیادہ ہوں تو افغان کرنسی کی بلند شرح کے مطابق افغانی اشیا بین الاقوامی منڈیوں میں زیادہ مہنگی فروخت ہوں گی۔‘
’برآمدات افغانی کرنسی کی شرح کو بلند کرتی ہیں اور درآمدات اسے کم کرتی ہیں۔ دنیا کے دیگر ممالک کی طرح مرکزی بینک مارکیٹ میں مداخلت کرتا ہے تاکہ افغانی مستحکم رہے اور کرنسی کا استحکام تجارت میں مدد کرے۔‘
ان کے مطابق ’ وہ تاجر جو بیرونِ ملک سے سامان درآمد کرتا ہے، اگر افغان کرنسی مستحکم ہو تو نقصان نہیں اٹھاتا۔‘
عالمی بینک کی جولائی 2025 کی افغانستان کی معیشت پر رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’افغان کرنسی کی قدر میں اضافہ افغانستان کی درآمدات پر انحصار کو مزید بڑھا رہا ہے اور اور برآمدات کی ترقی میں مسلسل رکاوٹوں کے ساتھ، غیر مساوی تجارتی توازن میں اضافہ ہوا ہے۔‘
’افغان کرنسی کی مضبوطی نے غیر ملکی اشیا کو سستا بنا دیا ہے اور اس نے درآمدات پر مزید انحصار کو تقویت دی ہے۔‘
پڑوسی ممالک کے لیے ’ماڈل‘؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران پر سخت ترین پابندیاں اور تیل کی فروخت پر مزید پابندیوں کے نتیجے میں ریال (تومان) کی قدر ڈالر کے مقابلے میں کافی گر گئی ہے۔
عبدالعزیز بابکرخیل افغانستان پر اس کرنسی کے اتار چڑھاؤ کے اثرات کے بارے میں کہتے ہیں کہ ’جب تومان نیچے آتا ہے تو افغانستان کی مارکیٹ میں ایرانی اشیا سستی ہو جاتی ہیں کیونکہ ہمیں کم افغان کرنسی دینا پڑتی ہے تاکہ ایرانی سامان خرید سکیں تاہم غیر مستحکم تومان ایران کے لیے اچھا نہیں ہے۔‘
ان کے مطابق افغانستان کے مرکزی بینک کی کرنسی استحکام کی پالیسی کا تجربہ ’خطے کے ممالک کے لیے بھی بہترین مثال‘ ہو سکتی ہے۔
افغانستان کے کرنسی ڈیلرز کی یونین کے صدر کہتے ہیں کہ ایران میں تومان کی قدر میں کمی اس ملک کا داخلی مسئلہ ہے اور ’وہ افغان تاجر اور کاروباری افراد جو ایران کے ساتھ تجارتی لین دین کرتے ہیں، ان کے کام پر اثر پڑا ہے لیکن اتنا نہیں کہ قابلِ تشویش ہو۔‘
واضح رہے کہ اس سے پہلے ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا تھا کہ ایران کا تجارتی لین دین افغانستان کے ساتھ یورپی یونین کے تمام ممالک سے زیادہ ہے۔
ایران کی افغانستان کو برآمدات رواں سال میں تین ارب ڈالر سے زیادہ ہو گئی ہیں۔ دو سال پہلے طالبان حکومت کے وزیر تجارت نے تجارتی لین دین کو10ارب ڈالر تک بڑھانے کے امکان کی بات کی تھی۔
ضیا شفائی کہتے ہیں کہ پاکستانی روپے کی قدر میں کمی نے اس ملک کی برآمدات کو فروغ دیا ہے اور ’اگر افغانستان کا مرکزی بینک بتدریج اجازت دے کہ افغان کرنسی اپنی اصل قدر کی طرف جائے تو یہ پیداواری معیشت کے لیے فائدہ مند ہوگا۔‘
نقد رقم میں لین دین اور افغانستان کی معیشت
افغانستان کے مرکزی بینک کے مطابق کرنسی کی قیمت مارکیٹ میں طلب اور رسد سے طے ہوتی ہے، بینک خود اس کا تعین نہیں کرتا۔
بینک کا کہنا ہے کہ معیشت میں نقد پیسے کا انتظام بہت اہم ہے۔ اس کے مطابق، نقد رقم پر قابو پانا سب سے بہتر اور عملی طریقہ ہے۔
طالبان حکومت نے گذشتہ چار سال میں نئی کرنسی کے نوٹ بہت محدود مقدار میں چھاپے ہیں۔
عالمی بینک کے مطابق افغانستان کی معیشت اب بھی نازک ہے اور 2021 اور 2022 میں شدید نقصان کے بعد ابھی بھی آہستہ آہستہ بحال ہو رہی ہے۔
جون 2025 میں افغانستان میں نقد پیسہ (ایم ٹو) 575 ارب افغانی تک پہنچ گیا، جو سالانہ 2.8 فیصد بڑھا۔ یہ اضافہ زیادہ تر نقد پیسے کی طلب بڑھنے اور مہاجرین کی واپسی کی وجہ سے ہوا۔
بینک کے مطابق زیادہ تر نقد پیسہ بینکوں کے نظام سے باہر ہے، یعنی افغانستان کی معیشت ابھی بھی زیادہ تر نقد پر چلتی ہے اور بینکنگ کے ذرائع محدود ہیں
افغانستان کی جی ڈی پی کی شرح نمو 2025 میں تقریباً 4.3 فیصد رہی اور 2024 میں 2.5 فیصد۔
لیکن آبادی میں اضافہ اور مہاجرین کی واپسی کی وجہ سے فی کس آمدنی تقریباً چار فیصد کم ہو سکتی ہے۔
افغان کرنسی کا مستقبل؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
افغانستان کے سابق وزیر ِ خزانہ کا کہنا ہے کہ ’طویل مدتی طور پر، کوئی بھی پائیدار مالی پالیسی بغیر افغانستان کے مرکزی بینک (د افغانستان بانک) کی عملی آزادی کے ممکن نہیں ہے۔ ماہر عملے کی بحالی، غیرسیاسی فیصلے، اور مرکزی بینک کے پیشہ ورانہ کردار کا احترام نہ صرف مالی پالیسی کے لیے بلکہ افغانستان کے پورے مالی نظام اور معیشت کی صحت کے لیے بھی ضروری ہے۔‘
شفائی نے بتایا کہ ’جمہوری دور اور طالبان حکومت کے دوران، مرکزی بینک کو مالی پالیسی اور نظام کی آزادی حاصل نہیں تھی۔ افغانستان کے نجی بینک صرف تجارتی بینک ہیں، سرمایہ کاری کے بینک نہیں، اس لیے وہ مالی پالیسی کے نفاذ میں زیادہ کردار ادا نہیں کرتے۔ مرکزی بینک حسابات سے نکالنے کی حد مقرر کر کے اور گردش میں موجود پیسے کا انتظام کر کے بینکوں کی نگرانی کرتا ہے۔‘
سابق وزیر نے مزید کہا ’ملک میں کوئی فعال سٹاک مارکیٹ نہیں ہے اور حکومت بھی قرض کے بانڈز جاری نہیں کرتی۔ اس لیے سود کی شرح، جو دنیا کے بڑے مرکزی بینکوں کے پاس مالی پالیسی کا اہم آلہ ہے، افغانستان میں کام نہیں آتی۔ حکومت کا نظریاتی موقف بھی بینکنگ سود کے استعمال کے خلاف ہے۔‘
تاہم، حسیب نوری، ترجمان مرکزی بینک کا کہنا ہے کہ 2026 میں بھی مرکزی بینک محتاط مالی پالیسی کے ساتھ کام کر رہا ہے اور اپنی تدابیر کے ذریعے زر مبادلہ کی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کو روکنے اور عوام کے اعتماد کو مضبوط کرنے کے لیے پرعزم ہے۔













