پالک پنیر کی ’تیز بو‘ پر اعتراض: امریکی یونیورسٹی کی انڈین طلبہ کو دو لاکھ ڈالر کی ادائیگی

Urmi Bhattacheryya and Aditya Prakash pose outside a building.

،تصویر کا ذریعہUrmi Bhattacheryya

،تصویر کا کیپشنآدتیہ نے کہا کہ ان کے لیے مقدمے کا مقصد ہرجانے کا حصول نہیں تھا

مائیکرو ویو اوون میں کھانا گرم کرنے پر شروع ہونے والا تنازعہ دو انڈین طلبہ کے امریکی یونیورسٹی سے دو لاکھ ڈالر کی رقم بطور زرِ تلافی حاصل کرنے پر انجام کو پہنچا۔

آدتیہ پرکاش اور ان کی منگیتر، ارمی بھٹاچاریا نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے بولڈر میں واقع یونیورسٹی آف کولوراڈو کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا کیونکہ انھیں ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

مقدمے میں الزام لگایا گیا کہ ہراسانی اس وقت شروع ہوئی جب یونیورسٹی کے عملے کے ایک رکن نے آدتیہ کی جانب سے پالک پنیر کی ڈش کو اس سے اٹھنے والی مہک کی وجہ سے کیمپس میں نصب مائیکرو ویو اوون میں گرم کرنے پر اعتراض کیا۔

بی بی سی کے سوالات کے جواب میں، یونیورسٹی نے کہا کہ وہ طلبہ کی نجی معلومات کے تحفظ کے قوانین کی وجہ سے امتیازی سلوک اور ہراسانی کے دعووں سے جڑے ’مخصوص حالات‘ پر تبصرہ نہیں کر سکتی تاہم ادارے کا کہنا تھا کہ وہ ’تمام طلبہ، اساتذہ اور عملے کے لیے ایسا ماحول فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے جو سب کے لیے ایک جیسا ہو، چاہے ان کی قومیت، مذہب، ثقافت یا دیگر طبقات کچھ بھی ہوں۔‘

یونیورسٹی کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’جب 2023 میں یہ الزامات سامنے آئے تو ہم نے انھیں سنجیدگی سے لیا اور انھیں حل کرنے کے لیے موجود ٹھوس طریقۂ کار پر عمل کیا، جیسا کہ ہم امتیازی سلوک اور ہراسانی کے تمام دعووں کے ساتھ کرتے ہیں۔ ہم نے ستمبر 2025 میں طلبہ کے ساتھ معاہدہ کیا اور اس معاملے میں کوئی بھی ذمہ داری لینے سے انکار کیا۔‘

آدتیہ نے کہا کہ ان کے لیے مقدمے کا مقصد ہرجانے کا حصول نہیں تھا۔ ’یہ ایک بات واضح کرنے کے بارے میں تھا کہ انڈینز کے خلاف ’انڈین‘ ہونے کی وجہ سے امتیازی سلوک کے نتائج ہوتے ہیں۔‘

اس مقدمے کو انڈیا میں کافی میڈیا کوریج ملی، جس کے بعد مغربی ممالک میں ’خوراک سے جڑی نسل پرستی‘ پر بات ہو رہی ہے۔ بہت سے انڈین شہریوں نے سوشل میڈیا پر اپنے تجربات شیئر کیے ہیں کہ انھیں بیرون ملک اپنی خوراک کی عادات پر مذاق کا سامنا کرنا پڑا۔

Palak paneer is prepared using pureed spinach and cubes of cheese and is mostly eaten with naan, a type of bread, and rice

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنیونیورسٹی کے عملے کے ایک رکن نے پالک پنیر کو اس کی مہک کی وجہ سے مائیکرو ویو اوون میں گرم کرنے پر اعتراض کیا تھا

کچھ لوگوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ انڈیا میں بھی خوراک کے حوالے سے امتیاز عام ہے، جہاں غیر سبزی خور کھانے کئی سکولوں اور کالجوں میں غیر خالص یا گندے قرار دیے جانے کے بعد ممنوع ہیں۔

یہی نہیں بلکہ پسماندہ ذاتوں سے تعلق رکھنے والوں کے علاوہ شمال مشرقی ریاستوں کے لوگ اکثر اپنی خوراک کی عادات پر تعصب کا شکار ہوتے ہیں اور کچھ لوگ ان اجزا کی بو پر شکایت کرتے ہیں جو ان کھانوں میں استعمال ہوتے ہیں۔

اور یہ صرف انڈین، پاکستانی یا جنوبی ایشیائی کھانوں تک محدود نہیں بلکہ افریقہ، لاطینی امریکہ اور ایشیا کے دیگر حصوں کی کمیونٹیز نے بھی اپنی خوراک پر شرمندہ ہونے کے تجربات شیئر کیے ہیں۔

آدتیہ اور ارمی کا دعویٰ ہے کہ ان کی آزمائش ستمبر 2023 میں شروع ہوئی۔ آدتیہ جو یونیورسٹی کے شعبہ بشریات میں پی ایچ ڈی کے طالب علم ہیں، پالک پنیر کو گرم کر رہے تھے جب عملے کے ایک برطانوی رکن نے مبینہ طور پر کہا کہ ان کے کھانے سے ’بدبو‘ آ رہی ہے اور آدتیہ سے کہا کہ مائیکرو ویو اوون میں تیز بو والے کھانے گرم کرنے پر پابندی ہے۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

آدتیہ نے کہا کہ اس اصول کا کہیں ذکر نہیں ہوا اور جب بعد میں انھوں نے اس بارے میں پوچھا کہ کون سے کھانے تیز بو والے سمجھے جاتے ہیں، تو انھیں بتایا گیا کہ وہ سینڈوچز ہیں۔

آدتیہ پرکاش نے الزام لگایا کہ اس واقعے کے بعد یونیورسٹی کی جانب سے کئی اقدامات ہوئے جن کے نتیجے میں وہ اور ارمی، جو خود بھی وہاں پی ایچ ڈی کی طالبہ تھیں، اپنی تحقیقی فنڈنگ، تدریسی کردار اور یہاں تک کہ ان پی ایچ ڈی ایڈوائزرز سے بھی محروم ہو گئے جن کے ساتھ وہ مہینوں سے کام کر رہے تھے۔

مئی 2025 میں، آدتیہ اور ارمی نے یونیورسٹی کے خلاف ایک مقدمہ دائر کیا، جس میں امتیازی سلوک اور اپنے خلاف ’بڑھتی ہوئی انتقامی کارروائی‘ کے الزامات لگائے گئے۔

چند ماہ بعد ستمبر میں، یونیورسٹی نے اس معاملے پر تصفیہ کر لیا۔ ایسے تصفیے عام طور پر فریقین کے لیے طویل اور مہنگی عدالتی جنگ سے بچنے کے لیے کیے جاتے ہیں۔

معاہدے کی شرائط کے مطابق، یونیورسٹی نے طلبہ کو ان کی ڈگریاں دینے پر اتفاق کیا لیکن تمام ذمہ داریوں سے انکار کر دیا اور مستقبل میں آدتیہ اور ارمی کے یونیورسٹی میں تعلیم کے حصول یا کام کرنے پر پابندی لگا دی۔

A lunch of traditional smoked pork and Naga chili chutney at a roadside restaurant in Nagaland.

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنکچھ لوگوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ انڈیا میں بھی خوراک کے حوالے سے امتیاز عام ہے

بی بی سی کو دیے گئے بیان میں یونیورسٹی نے مزید کہا کہ ’یونیورسٹی کے اینتھروپولوجی ڈپارٹمنٹ نے طلبہ، اساتذہ اور عملے کے درمیان اعتماد کی فضا کی بحالی کے لیے کام کیا۔ دیگر کوششوں کے علاوہ، اس شعبے کے منتظمین نے گریجویٹ طلبہ، اساتذہ اور عملے سے ملاقات کی تاکہ ان تبدیلیوں پر بات چیت کی جا سکے جو شعبے میں جامع اور معاون ماحول کے قیام کے لیے عمل میں لائی جا رہی ہیں۔‘

بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ ’وہ افراد جو امتیازی سلوک اور ہراسانی کو روکنے والی یونیورسٹی کی پالیسیوں کی خلاف ورزی کے ذمہ دار قرار پائے گئے، انھیں جوابدہ ٹھہرایا گیا۔‘

آدتیہ بتاتے ہیں کہ یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ انھیں اپنی خوراک کے حوالے سے امتیاز کا سامنا کرنا پڑا ہو۔

ان کے مطابق جب وہ اٹلی میں بڑے ہو رہے تھے، تو ان کے سکول کے اساتذہ اکثر انھیں لنچ بریک میں الگ میز پر بیٹھنے کو کہتے تھے کیونکہ ان کے ہم جماعتوں کو ان کے کھانے کی بو ’ناگوار‘ لگتی تھی۔