لائیو, ’معاملات درست سمت میں بڑھ رہے ہیں، اب واپسی کا کوئی امکان نہیں‘: ٹرمپ کا گرین لینڈ کے حصول پر مؤقف مزید سخت
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرنے کی اپنی دھمکیوں کو مزید سخت کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر کہا ہے کہ اب ’واپس جانے کا کوئی راستہ نہیں‘ اور یہ کہ ’گرین لینڈ امریکہ کے لیے نہایت ضروری ہے۔‘
خلاصہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرنے کی اپنی دھمکیوں کو مزید سخت کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر کہا ہے کہ اب 'واپس جانے کا کوئی راستہ نہیں' اور یہ کہ 'گرین لینڈ امریکہ کے لیے نہایت ضروری ہے۔'
افغانستان کے دوسرے بڑے شہر ہرات میں طالبان نے عام لباس اور میڈیا سرگرمیوں پر پابندیاں مزید سخت کر دی ہیں، جس کے تحت عوامی مقامات، جامعات اور میڈیا کے شعبے میں اخلاقی نگرانی کے دائرہ کار کو وسیع کیا جا رہا ہے۔
ایرانی میڈیا کی جانب سے گرفتاریوں کی خبریں، مظاہرین پر امریکا اور اسرائیل سے روابط کا الزام
یورپی پارلیمنٹ کے بین الاقوامی تجارتی کمیٹی سے قریبی ذرائع کے مطابق، یورپی پارلیمنٹ امریکہ کے ساتھ جولائی میں طے پانے والے تجارتی معاہدے کی منظوری معطل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر سے اپنی بات دہراتے ہوئے کہا ہے کہ نیٹو کے لیے ان سے زیادہ کسی نے کام نہیں کیا۔
لائیو کوریج
گولی یا زہر نہیں، چترال کا برفانی چیتا اسہال اور پانی کی کمی سے مرا: پوسٹ مارٹم میں تصدیق, بلال احمد، بی بی سی پشاور
،تصویر کا ذریعہFarooq Nabi
خیبرپختونخوا کے ضلع چترال کے پہاڑوں سے نایاب سنو لیپرڈ کی لاش کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں چیتے کی موت طبعی قرار دی گئی ہے۔
ڈسٹرکٹ وائلڈ لائف آفیسر چترال فاروق نبی کے مطابق 19 جنوری کو چترال کے علاقے گرم چشمہ کے نواحی گاؤں وخت کے بالائی علاقے میں ایک برفانی چیتے کی لاش کی اطلاع ملی۔ اس کے بعد برفانی چیتے کی لاش کو تحویل میں لے کر چترال شہر میں قائم سول ویٹرنری ہسپتال میں اس کا پوسٹ مارٹم کیا گیا، جہاں ابتدائی رپورٹ کے مطابق چیتے کی موت کسی گولی یا زہر سے نہیں ہوئی بلکہ ڈائیریا اور پانی کی کمی کی وجہ سے ہوئی ہے۔
،تصویر کا ذریعہFarooq Nabi
ان کے مطابق اس نر چیتے کی عمر بارہ سال تھی۔ فاروق نبی کے مطابق عام طور پر چیتے کی عمر دس سے تیرہ سال تک ہوتی ہے اور یہی امکان ہے کہ چیتا اپنی عمر پوری کر کے ہی مرا۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے فاروق نبی کا کہنا تھا کہ جس علاقے میں چیتے کی لاش ملی ہے وہاں لگ بھگ 21 سال بعد یہ چیتا نظر آیا ہے، جبکہ پورے چترال میں کیمرہ ٹریکنگ کے ذریعے 28 سے 32 تک برفانی چیتوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ چترال میں اتنی تعداد میں چیتوں کی موجودگی عوامی آگاہی کی بدولت ہے۔ ہم وقتاً فوقتاً آگاہی سیشن کرتے ہیں۔ اگر کسی چیتے نے مال مویشیوں کو نقصان پہنچایا ہے تو محکمہ وائلڈ لائف اور سنو لیپرڈ فاؤنڈیشن کے تعاون سے ہم ان کے مالک کو معاوضہ دیتے ہیں، جس کی وجہ سے لوگ انھیں مارنے یا شکار کرنے سے گریز کرتے ہیں۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایمان مزاری اور ہادی علی چھٹہ کی حفاظتی ضمانت منظور کر لی, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسلام آباد ہائیکورٹ نے جبری گمشدگیوں سے متعلق مقدمات کی پیروی کرنے والی وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چھٹہ کے ایک مقدمے میں حفاظتی ضمانت منظور کرتے ہوئے اسلام آباد پولیس کو ملزمان کو گرفتار کرنے سے روک دیا ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس اعظم خان نے تھانہ کوہسار میں درج ایک مقدمے میں حفاظتی ضمانت سے متعلق ایمان مزاری اور ان کے شوہر کی درخواست کی سماعت کی۔
ملزمان کی طرف سے سینیٹر کامران مرتضیٰ عدالت میں پیش ہوئے۔ انھوں نے درخواست کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پہلی مرتبہ کسی خاتون نے ضمانت کے حصول کے لیے پوری رات اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے میں گزاری ہے۔
انھوں نے کہا کہ اگر اسلام آباد پولیس نے ان کے مؤکلین کے خلاف پہلے سے مقدمہ درج کر رکھا تھا تو انھیں چاہیے تھا کہ وہ انھیں پہلے ہی گرفتار کر لیتے۔ انھوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد پولیس کے حکام کو اس مقدمے میں گرفتاری اسی وقت ہی کیوں یاد آئی جب متنازع ٹویٹ کے مقدمے میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے متعلقہ عدالت کی طرف سے ایمان مزاری اور ان کے شوہر کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کو کالعدم قرار دے دیا۔
انھوں نے اس درخواست کی سماعت کرنے والے جج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کو یہ یقینی بنانا چاہیے کہ عدالت کے احاطے سے کسی کو گرفتار نہ کیا جائے۔
کامران مرتضیٰ نے کہا کہ ان کے مؤکلین کوئی ملک دشمن نہیں ہیں اور اس ملک میں انھیں بھی اتنا ہی حق حاصل ہے جتنا اس عدالت کے جج یا کسی دوسرے پاکستانی شہری کو ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ گذشتہ برس یہ مقدمہ درج ہوا تھا اور ان کے مؤکلین اس دوران مقدمات کی پیروی کے لیے مختلف عدالتوں میں پیش ہوتے رہے ہیں۔ اگر پولیس چاہتی تو انھیں اُس وقت بھی گرفتار کر سکتی تھی۔
انھوں نے استدعا کی کہ ان کے مؤکلین کو اس مقدمے میں حفاظتی ضمانت دی جائے اور پولیس کو یہ ہدایت کی جائے کہ اگر ان کے خلاف کوئی مقدمہ ہے تو جب تک وہ مقدمہ سامنے نہیں آتا اس وقت تک ان کے مؤکلین کو گرفتار نہ کیا جائے۔
جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ان کے سامنے جو مقدمہ ہے وہ اسی کی حد تک ہی احکامات جاری کر سکتے ہیں۔
بعد ازاں عدالت نے ایمان مزاری اور ان کے شوہر کی دس ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض حفاظتی ضمانت منظور کر لی۔
سماعت کے دوران وکلا کی ایک قابل ذکر تعداد کمرۂ عدالت میں موجود تھی۔
عالمی رہنما ٹرمپ کے اعلان کے منتظر: ’ہم امریکی نہیں بننا چاہتے،‘ گرین لینڈ کی وزیرِ صنعت و قدرتی وسائل, سارہ سمتھ کا تجزہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے
وائٹ ہاؤس سے روانگی سے قبل بی بی سی سے گفتگو میں گرین لینڈ کے معاملے پر اپنے
سخت مؤقف کو ایک بار پھر دہرایا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا نیٹو کے ٹوٹنے کی قیمت
وہ گرین لینڈ کے حصول کے لیے ادا کرنے کو تیار ہیں، تو اس کے جواب میں یوں محسوس
ہوا کہ ٹرمپ کو اندازہ ہی نہیں تھا کہ ان کے بیانات یا دھمکیوں سے لوگوں میں
ناراضی اور غصہ بڑھ رہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’میرا خیال ہے ہم کوئی ایسا راستہ نکال لیں گے جس سے نیٹو بھی خوش ہوگا اور ہم
بھی خوش ہوں گے۔‘ تاہم اس ممکنہ سمجھوتے کی نوعیت پر انھوں نے کوئی وضاحت پیش
نہیں کی۔
ٹرمپ نے گرین لینڈ کو امریکہ
کے لیے قومی سلامتی کے تناظر میں لازمی قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ کو یہ خطہ
ضرور حاصل کرنا چاہیے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ اس مقصد کے لیے کتنی دور تک جانے
کو تیار ہیں، تو ان کا مختصر جواب تھا ’آپ کو اس کا جواب
بہت جلد مل جائے گا۔‘
ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم
کے دوران، جہاں ٹرمپ نے گرین لینڈ پر کئی ملاقاتیں طے کر رکھی ہیں، یہی سوال بار
بار اٹھنے کی توقع ہے۔ صدر ٹرمپ اپنی تقریر میں اپنے پہلے سال کی کامیابیاں بھی گنوانا
چاہتے ہیں لیکن اصل توجہ اس بات پر ہوگی کہ آنے والے سال میں گرین لینڈ کے حوالے
سے ان کے منصوبے کیا ہیں۔
تاہم اسی
دوران گرین لینڈ کی وزیرِ صنعت و قدرتی وسائل ناجا ناتانیلسن نے بی بی سی سے گفتگو
کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم اس بارے میں بالکل واضح ہیں کہ ہم نہ تو امریکی بننا چاہتے
ہیں اور نہ ہی کہلانا۔‘
’معاملات درست سمت میں بڑھ رہے ہیں، اب واپسی کا کوئی امکان نہیں‘: ٹرمپ کا گرین لینڈ کے حصول پر مؤقف مزید سخت
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے
گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرنے کی اپنی دھمکیوں کو مزید سخت کرتے ہوئے سوشل میڈیا
پر کہا ہے کہ اب ’واپس جانے کا کوئی راستہ نہیں‘ اور یہ کہ ’گرین لینڈ امریکہ کے
لیے نہایت ضروری ہے۔‘
وائٹ ہاؤس میں ایک نیوز
کانفرنس کے دوران جب صدر ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ وہ گرین لینڈ کے حصول کے لیے کہاں
تک جا سکتے ہیں، تو انھوں نے مختصر جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’آپ کو جلد پتا چل جائے
گا۔‘
دوسری جانب سوئٹزرلینڈ کے شہر
ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے اجلاس کے دوران فرانسیسی صدر ایمینوئل میخواں نے
خبردار کیا کہ دنیا ’قواعد و ضوابط کے بغیر ایک نئے دور‘ کی طرف بڑھ رہی ہے جبکہ
کینیڈا کے وزیرِ اعظم مارک کارنی نے کہا کہ ’پرانا عالمی نظام واپس نہیں آ رہا۔‘
صدر ٹرمپ کو بدھ کے روز ڈیووس
پہنچنا تھا، تاہم ایئر فورس ون میں معمولی خرابی کے باعث طیارے کو واپس لوٹنا پڑا۔
اس تاخیر کے ان کے شیڈول پر اثرات کے حوالے سے صورتحال واضح نہیں، تاہم وائٹ ہاؤس
کے مطابق طیارہ واپس موڑ دیا گیا اور صدر ٹرمپ کسی دوسرے طیارے کے ذریعے ڈیووس
روانہ ہوں گے۔
ٹرمپ کا کہنا ہے کہ گرین لینڈ
کے حوالے سے ’متعدد اہم ملاقاتیں طے ہیں۔‘
اس سے قبل طویل پریس بریفنگ
کے دوران صدر ٹرمپ نے صحافیوں کو بتایا کہ گرین لینڈ کے معاملے پر ’صورتحال کافی
بہتر انداز میں طے پا جائے گی۔‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی کی جانب سے جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا گرین لینڈ کے لیے نیٹو اتحاد کے ممکنہ ٹوٹنے کی قیمت ادا کرنا انھیں قبول ہوگا، تو صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ ’جو کُچھ میں نے نیٹو کے لیے کیا ہے، کسی نے نہیں کیا۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ نیٹو بھی خوش ہوگا اور ہم بھی خوش ہوں گے‘، اور اس بات پر زور دیا کہ ’عالمی سلامتی کے لیے نیٹو کی ضرورت ہے۔‘
تاہم اس سے قبل صدر ٹرمپ نے یہ سوال بھی اٹھایا تھا کہ اگر ضرورت پڑی تو کیا نیٹو امریکہ کی مدد کے لیے آئے گا یا نہیں۔
انھوں نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ’مجھے یقین ہے کہ ہم نیٹو کی مدد کے لیے آگے بڑھیں گے، لیکن مجھے واقعی شک ہے کہ کیا وہ ہماری مدد کے لیے آئیں گے یا نہیں۔‘
نیٹو (نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن) اس وقت 32 رکن ممالک پر مشتمل ہے، جن میں امریکہ ان 12 بانی ممالک میں شامل ہے۔
تاہم صدر ٹرمپ نے گرین لینڈ کے حصول کے لیے فوجی طاقت کے استعمال کو مسترد نہیں کیا۔ این بی سی نیوز کی جانب سے جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ اس مقصد کے لیے طاقت استعمال کریں گے، تو صدر کا جواب تھا کہ ’ابھی اس پر کوئی تبصرہ نہیں کر سکتا۔‘
انڈیا کے زیرِانتظام کشمیر میں صحافیوں کو تھانے طلب کرنے پر شدید سیاسی ردعمل, ریاض مسرور، بی بی سی اُردو، سرینگر
،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا کے زیرِانتظام کشمیر میں گزشتہ
ہفتے پولیس نے مساجد کی انتظامیہ کے اراکین اور ان کے لواحقین کی سبھی ذاتی
معلومات اکھٹا کرنے کی مہم شروع کی۔
انڈیا کے کئی بڑے اخبارات نے اس خبر
کو شائع کیا تو سرینگر میں مقیم ان کے نامہ نگاروں کو سائبر پولیس نے طلب کیا اور
ان میں سے انڈین ایکسپریس کے نامہ نگار بشارت
مسعود کو بانڈ (حلفیہ بیان) پر دستخط کرنے کو کہا گیا جس میں لکھا تھا کہ ’میں
دوبارہ ایسی غلطی نہیں کروں گا۔‘
بشارت مسعود اس بارے میں براہ راست
میڈیا سے بات نہیں کررہے تاہم ان کے دوست احباب کے مطابق بشارت کو سائبر پولیس
سٹیشن طلب کر کے وہاں دن بھر یہ کہہ کر رکھا گیا کہ ’صاحب ابھی مصروف ہیں۔‘ شام کو
انھیں کہا گیا کہ وہ کل صبح اپنے ساتھ کسی رشتہ دار یا ساتھی کو بھی پولیس سٹیشن
لے کر آئیں۔
دوسرے روز جب بشارت پولیس سٹیشن پہنچے
تو انھیں مجسٹریٹ کے پاس لے جایا گیا، جہاں ان سے ایک بانڈ پر دستخط کرنے کو کہا
گیا۔ بشارت نے بانڈ کی عبارت پڑھی جس میں اشارہ تھا کہ ’بشارت امن و قانون کے لئے
خطرہ ہے‘ اور یہ کہ ’میں دوبارہ ایسی غلطی نہیں کروں گا۔‘
بشارت نے اس تحریر پر دستخط کرنے سے
انکار کیا تو انھیں لگاتار تین روز تک تھانے بلایا گیا اور ان کا فون بھی کئی روز کے
لیے پولیس نے اپنی تحویل میں لے لیا۔
انڈین ایکسپریس نے ایک بیان میں کہا
ہے کہ ’ہم اپنے صحافیوں کی عزّت اور وقار کی حفاظت میں کوئی کسر اُٹھا نہیں رکھیں
گے۔‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا کے ایک اور اخبار ’ہندوستان ٹائمز‘ کے نامہ عاشق حسین کو بھی مساجد کمیٹیوں کی تفتیش سے متعلق خبر دینے پر ایسے ہی حالات کا سامنا کرنا پڑا۔ انھیں جب طلب کیا گیا تو ہندوستان ٹائمز نے پولیس سے تحریری طور اس طلبی کا جواز مانگا۔
متعدد دیگر صحافیوں کو بھی اسی سٹوری کے لئے سائبر پولیس نے طلب کیا تھا، تاہم بعض وجوہات کی بنا پر انھوں نے نام ظاہر نہیں کیا۔
رکن اسمبلی سجاد غنی لون نے پولیس کی اس کارروائی کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’حقائق پر مبنی خبریں شائع کرنے پر صحافیوں کو طلب کرنا جمہوریت پر شب خون مارنے کے مترادف ہے۔‘ ایک اور رکن اسمبلی محمد یوسف تاریگامی نے کہا ’حکام صحافیوں کو اپنے اشاروں پرنچانے کے لئے نتے نئے حربے آزما رہے ہیں۔‘
قابل ذکر بات یہ ہے کہ سنہ 2019 میں آرٹیکل 370 منسوخ کئے جانے کے بعد سے کشمیر میں صحافیوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ کئی صحافیوں کو انسانی حقوق کی پامالی سے متعلق خبریں شائع کرنے پر قید بھی کیا گیا۔
فہد شاہ کے اخبار ’کشمیر والا‘ کو کالعدم قرار دے کر انھیں سینٹرل جیل بھیج دیا گیا اور 21 ماہ بعد ان کی ضمانت ہوئی۔ گزشتہ سال نومبر کے دوران جموں میں مقیم ’کشمیر ٹائمز‘ کے دفتر پر چھاپہ مارا گیا اور پولیس نے دعویٰ کیا کہ وہاں اسلحہ برآمد ہوا ہے۔ یہ اخبار اپنی اشاعت کئی سال پہلے معطل کرچکا ہے اور اب صرف آن لائن پورٹل چل رہا ہے۔
ان واقعات پر انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس اور رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز جیسی عالمی تنظمیوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ہرات میں طالبان کی جانب سے میڈیا اور لباس سے متعلق پابندیاں سخت، اخلاقی نگرانی میں اضافہ
،تصویر کا ذریعہSOCIAL MEDIA
افغانستان کے دوسرے بڑے شہر
ہرات میں طالبان نے عام لباس اور میڈیا سرگرمیوں پر پابندیاں مزید سخت کر دی ہیں،
جس کے تحت عوامی مقامات، جامعات اور میڈیا کے شعبے میں اخلاقی نگرانی کے دائرہ کار
کو وسیع کیا جا رہا ہے۔
یہ اقدامات حالیہ مہینوں میں
مغربی شہر ہرات میں کی جانے والی نمایاں ترین کارروائیوں میں شمار کیے جا رہے ہیں،
جن پر مقامی شہریوں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور حتیٰ کہ بعض مذہبی علما کی جانب
سے بھی تنقید کی جا رہی ہے۔
افغان میڈیا کے بیرونِ ملک
قائم اداروں نے 16 جنوری کو ایک ویڈیو وسیع پیمانے پر نشر کی جس میں مسلح طالبان ہرات
کے ایک ہوٹل کے ہال میں داخل ہوتے دکھائی دیتے ہیں، جہاں ہرات یونیورسٹی کی فیکلٹی
آف میڈیسن کے فارغ التحصیل طلبہ اپنی گریجویشن کی تقریب میں شامل ہونے کے لیے
موجود تھے۔
ویڈیو میں افغان طالبان اہلکاروں
کو متعدد گریجویٹس کو زبردستی اپنی ٹائیاں اترواتے دیکھا جا سکتا ہے جبکہ ان کا
مؤقف تھا کہ ٹائی غیر اسلامی لباس ہے۔
اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا
پر شدید ردِعمل سامنے آیا اور بعض مذہبی شخصیات نے بھی اس کارروائی کو توہین آمیز
اور غیر ضروری قرار دیا۔
بعد ازاں طالبان حکام نے اس
اقدام کا دفاع کرتے ہوئے وزارتِ ’امر بالمعروف و نہی عن المنکر‘ کے ترجمان سیف
الاسلام خیبر نے کہا کہ ’ٹائی پہننے پر کئی برسوں سے پابندی عائد ہے جس کا حوالہ
انھوں نے سنہ 2024 کے اخلاقی قانون کی جانب دیا۔‘
سیف الاسلام خیبر نے تنقید
کرنے والوں پر غیر ملکی مفادات کے لیے کام کرنے کا الزام بھی لگایا اور اس بات کی
تردید کی کہ کسی قسم کا زور زبردستی استعمال کیا گیا، تاہم عینی شاہدین کا کہنا ہے
کہ مسلح اہلکاروں کی موجودگی نے خوف اور دباؤ کی فضا پیدا کر دی تھی۔
یہ مہم صرف ٹائی تک محدود
نہیں رہی بلکہ مردوں کے لباس اور ظاہری حلیے کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
ایرانی میڈیا کی جانب سے گرفتاریوں کی خبریں، مظاہرین پر امریکا اور اسرائیل سے روابط کا الزام
،تصویر کا ذریعہReuters
ایرانی میڈیا نے 20 جنوری کو
ملک بھر میں حالیہ مظاہروں کے دوران گرفتاریوں سے متعلق کہا ہے کہ حکام کی جانب سے
ان حکومت مخالف مظاہروں کو ’فسادات‘ قرار دیا جا رہا ہے اور گرفتار افراد پر یہ
الزام لگایا جا رہا ہے کہ اُن کے امریکا اور اسرائیل کے ساتھ روابط کے بارے میں
معلومات حاصل ہوئی ہیں۔
پاسدارانِ انقلاب کے مغربی
صوبہ لورستان میں قائم ابو الفضل کور نے اعلان کیا ہے کہ ان کی فورسز نے صوبے میں
ہونے والے احتجاج سے متعلق ’ہنگامی کارروائیوں‘ کے ذریعے 134 ’ایجنٹس، اہم افراد
اور اثر و رسوخ رکھنے والے رہنماؤں‘ کی شناخت کر کے انھیں گرفتار کر لیا ہے۔ یہ
اطلاع آئی آر جی سی سے منسلک تسنیم نیوز ایجنسی نے دی۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
آئی آر جی سی کے صوبائی کور کے مطابق گرفتار افراد کا تعلق ’امریکی دہشت گرد نیٹ ورک‘ سے تھا اور انھوں نے ’دہشت گرد سیلز قائم کر رکھے تھے۔‘ بیان میں مزید الزام عائد کیا گیا کہ ان افراد نے داعش طرز کی کارروائیوں کے ذریعے مختلف اقسام کے اسلحے کا استعمال کرتے ہوئے سکیورٹی اہلکاروں پر حملے کیے اور انھیں زخمی کیا۔
فورس نے گرفتار افراد پر یہ الزام بھی لگایا کہ انھوں نے ’عوامی اور نجی مقامات کو تباہ کیا اور آگ لگائی‘، جن میں مساجد، دکانیں، بینک، نجی و سرکاری اور سروس گاڑیاں شامل ہیں۔ بیان کے مطابق ذمہ دار عناصر کے خلاف گرفتاریوں کا یہ سلسلہ ’تاحال جاری ہیں۔‘
ایرانی صوبہ زنجان کے شمال مغربی علاقے میں تعینات پبلک سکیورٹی پولیس نے بتایا ہے کہ صوبائی دارالحکومت زنجان میں ہونے والے احتجاج کے دوران ’بدامنی اور افراتفری‘ پھیلانے کے الزام میں 150 ’شر پسندوں اور اُن کے رہنماؤں‘ کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ یہ رپورٹ تسنیم نیوز ایجنسی نے شائع کی۔
پولیس کے مطابق گرفتار افراد کو اُجرت دینے کا کہہ کر ان مظاہروں کے لیے اُکسایا گیاتھا، جن پر الزام ہے کہ انھوں نے ’معصوم شہریوں کا خون بہایا، مقدس مقامات، سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچایا، فوجی تنصیبات میں داخل ہونے کی کوشش کی، عوامی نظم و ضبط کو سبوتاژ کیا اور عوام میں خوف و ہراس پھیلایا۔‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
عالمی منڈیوں میں مسلسل دوسرے روز مندی کا رجحان: ’یورپی پارلیمان امریکی تجارتی معاہدے کی منظوری معطل کرنے کا سوچ رہی ہے‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
یورپی پارلیمنٹ کے بین الاقوامی تجارتی کمیٹی سے
قریبی ذرائع کے مطابق، یورپی پارلیمنٹ امریکہ کے ساتھ جولائی میں طے پانے والے تجارتی
معاہدے کی منظوری معطل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
اس معاہدے سے معطلی کا اعلان آج یعنی بدھ کے روز
فرانس کے شہر سٹرسبورگ میں کیے جانے کا امکان ہے۔
یہ اقدام امریکہ اور یورپ کے درمیان کشیدگی میں
مزید اضافے کی علامت ہوگا، کیونکہ ڈونلڈ ٹرمپ گرین لینڈ کے حصول کی اپنی کوششیں
تیز کر رہے ہیں اور اس معاملے پر ہفتے کے آخر میں نئے محصولات یعنی ٹیرف لگانے کی
دھمکی دے چکے ہیں۔
اس تعطل نے عالمی مالیاتی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا
ہے۔ تجارتی جنگ کی باتیں دوبارہ شروع ہو گئی ہیں اور امریکہ کے تجارتی اقدامات کے
جواب میں ممکنہ جوابی کارروائی کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
منگل کے روز بحرِ اوقیانوس کے دونوں جانب حصص یعنی
شئیرز کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی، یورپی سٹاک مارکیٹس میں مسلسل دوسرے دن بھی
خسارہ دیکھنے کو ملا۔
امریکہ میں ڈاؤ جونز انڈیکس ایک اعشاریہ سات فیصد
سے زیادہ گراوٹ کا شکار نظر آیا، جبکہ ایس اینڈ پی 500 میں دو فیصد سے زائد کمی
آئی اور نیسڈیک تقریباً دو اعشاریہ چار فیصد کم ہو کر بند ہوا۔
بدھ کے روز ایشیا پیسیفک خطے کی سٹاک مارکیٹس میں
ملا جلا رجحان رہا، جاپان اور آسٹریلیا کے بڑے اعشاریے قدرے نیچے رہے، جبکہ چین کے
مین لینڈ میں حصص کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔
سونے کی قیمت میں اضافہ جاری رہا اور یہ پہلی بار 4800
ڈالر فی اونس سے تجاوز کر گئی۔ چاندی کی قیمت ریکارڈ سطح 94 ڈالر فی اونس سے کم ہو
گئی۔
غیر یقینی حالات میں قیمتی دھاتوں کو محفوظ سرمایہ
کاری سمجھا جاتا ہے اور گزشتہ ایک سال کے دوران سونے اور چاندی دونوں کی ہی قیمتوں
میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
کرنسی مارکیٹس میں امریکی ڈالر اپنی بڑی حریف
کرنسیوں کے مقابلے میں مستحکم رہا ہے، حالانکہ راتوں رات اس کی قدر میں صفر
اعشاریہ پانچ فیصد کمی آئی تھی جو دسمبر کے آغاز کے بعد ایک دن کی سب سے بڑی گراوٹ
تھی۔
امریکہ اور یورپ کے درمیان تجارتی کشیدگی جولائی
میں اس وقت کم ہو گئی تھی جب دونوں فریقوں نے سکاٹ لینڈ میں ٹرمپ کے ٹرن بیری گالف
کورس پر ایک معاہدہ کیا تھا۔
،تصویر کا ذریعہBloomberg via Getty Images
اس معاہدے کے تحت زیادہ تر یورپی اشیا پر امریکی
محصولات 15 فیصد مقرر کیے گئے تھے، جو اپریل میں ٹرمپ کی جانب سے اعلان کردہ ’لبریشن
ڈے‘ ٹیرف مہم کے تحت دھمکی دی گئی 30 فیصد شرح سے کم تھے۔ اس کے بدلے یورپ نے
امریکہ میں سرمایہ کاری کرنے اور براعظم میں ایسی تبدیلیاں کرنے پر اتفاق کیا تھا
جن سے امریکی برآمدات میں اضافے کی توقع تھی۔
تاہم اس معاہدے کو باضابطہ بننے کے لیے یورپی
پارلیمنٹ کی منظوری درکار ہے۔
لیکن سنیچر کے روز، گرین لینڈ کے معاملے پر امریکی
محصولات کی دھمکی کے چند گھنٹوں بعد، یورپی پارلیمنٹ کے بااثر جرمن رکن مانفریڈ
ویبر نے کہا کہ ’اس مرحلے پر منظوری ممکن نہیں ہے۔‘
اسی طرح یورپی پارلیمنٹ کی بین الاقوامی تجارتی
کمیٹی کے چیئرمین برنڈ لانگے نے کہا کہ ’گرین لینڈ پر دھمکیوں کی وجہ سے معاہدے کو
معطل کرنے کے سوا کوئی متبادل راستہ نہیں ہے۔‘
لانگے نے مزید کہا کہ ’ایک یورپی یونین کے رکن ملک
کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کو دھمکی دے کر اور ٹیرف کو دباؤ کے آلے کے طور
پر استعمال کر کے، امریکہ یورپی یونین اور امریکہ کے تجارتی تعلقات کے استحکام اور
پیش گوئی کے قابل ہونے کو نقصان پہنچا رہا ہے۔‘
واضح رہے کہ لانگے کی کمیٹی کو معاہدے پر دستخط
کرنے ہوتے ہیں اس کے بعد ہی یہ حتمی ووٹ کے لیے پارلیمنٹ میں جاتا ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ ’اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ
ٹرن بیری کی دو قانون سازی تجاویز پر کام اس وقت تک معطل کر دیا جائے جب تک امریکہ
تصادم کے بجائے تعاون کے راستے پر دوبارہ آمادہ نہیں ہوتا اور اس سے پہلے کہ کوئی
مزید اقدامات کیے جائیں۔‘
نیٹو کے لیے مجھ سے زیادہ کسی نے کام نہیں کیا: ڈونلڈ ٹرمپ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر سے اپنی بات دہراتے ہوئے کہا ہے کہ نیٹو کے لیے ان سے زیادہ کسی نے کام نہیں کیا۔
ان کا کہنا تھا ’میرا خیال ہے کہ زیادہ تر لوگ آپ کو یہی بتائیں گے۔ آپ نیٹو کے سیکریٹری جنرل سے بھی اس بارے میں پوچھ سکتے ہیں۔‘
ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکہ نیٹو پر خطیر رقم خرچ کرتا ہے اور انھیں یقین ہے کہ امریکہ ضرورت پڑنے پر نیٹو ممالک کی مدد کرے گا، تاہم انھوں نے اس بات پر شکوک کا اظہار کیا کہ آیا نیٹو بھی امریکہ کی اسی طرح مدد کرے گا یا نہیں۔
یاد رہے اس بریفنگ سے قبل ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا تھا کہ: ’اگر میں نہ آتا تو آج کوئی نیٹو نہیں ہوتا! یہ تاریخ کے کوڑے دان میں ہوتا۔ یہ افسوسناک ہے مگر سچ یہی ہے۔‘
ٹروتھ سوشل پر ایک اور پوسٹ میں ڈونلڈ ٹرمپ نے بظاہر نیٹو کے سربراہ مارک روٹے کے ایک پیغام کا سکرین شاٹ شیئر کیا جس میں مارک نے ٹرمپ کو بتایا کہ وہ گرین لینڈ کے معاملے پر ’آگے بڑھنے کا راستہ نکالنے کے لیے پُرعزم‘ ہیں۔
مجھے یقین ہے سوئٹزرلینڈ میں میرا انتظار ہو رہا ہے اور مجھے خوش آمدید کہا جائے گا: ٹرمپ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ تقریباً ایک گھنٹے کی تاخیر سے وائٹ ہاؤس کے پوڈیم پر پہنچے جہاں انھوں نے ایک بڑی فائل بائنڈر ساتھ رکھی، وہ اسے اپنی ’کامیابیوں کی فہرست‘ کہتے ہیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ وہ جلد ہی سوئٹزرلینڈ کے ’خوبصورت مقام‘ پر جائیں گے، جس پر کمرے میں قہقہے لگ گئے۔
اور مزید کہا: ’مجھے یقین ہے کہ مجھے خوش آمدید کہا جائے گا۔‘
یاد رہے کہ صدر کل ڈیوس، سوئٹزرلینڈ میں عالمی اقتصادی فورم میں شریک ہوں گے، جہاں ان کی اتحادیوں پر ٹیرفز عائد کرنے کی دھمکیوں پر کافی بات ہو رہی ہے۔
فرانسیسی صدر نے عالمی رہنماؤں کو بتایا کہ امریکہ کی جانب سے ’نئے ٹیرفز کا لامتناہی اضافہ‘ ناقابل قبول ہے، اور کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے بھی کہا کہ وہ گرین لینڈ کے حوالے سے ٹیرفز کی سخت مخالفت کرتے ہیں۔
’نیٹو میری بدولت زندہ ہے، ورنہ تاریخ کے کوڑے دان میں ہوتا‘ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ نیٹو فوجی اتحاد کے لیے کسی بھی شخص یا صدر نے اُن کی طرح کام نہیں کیا۔
ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا: ’اگر میں نہ آتا تو آج کوئی نیٹو نہیں ہوتا! یہ تاریخ کے کوڑے دان میں ہوتا۔ یہ افسوسناک ہے مگر سچ یہی ہے۔‘
یہ بیان اُن کی اس دھمکی کے بعد آیا ہے کہ اگر اتحادی گرین لینڈ کے حوالے سے اُن کے منصوبے کی مخالفت کریں تو وہ اُن پر ٹیرفز عائد کر سکتے ہیں۔
’ہم گرین لینڈ اور ڈنمارک کے ساتھ کھڑے ہیں‘: کینیڈا کا نیٹو کے آرٹیکل فائیو کی مکمل حمایت کا عزم
،تصویر کا ذریعہEBU
کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے ڈیوس میں عالمی اقتصادی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم گرین لینڈ اور ڈنمارک کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہیں اور گرین لینڈ کے مستقبل کا تعین کرنے کے ان کے منفرد حق کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ کینیڈا کا نیٹو کے آرٹیکل فائیو کے اصول پر پورا یقین رکھتا ہے، جس کے مطابق ایک یا زیادہ ممالک پر حملہ سب پر حملے کے مترادف سمجھا جائے گا۔
کارنی نے مزید کہا کہ کینیڈا گرین لینڈ کے حوالے سے ٹیرفز کی بھی سخت مخالفت کرتا ہے۔
ٹرمپ کی ٹیرف کی دھمکی ’ناقابل قبول‘ ہے: ایمینوئل میخواں
،تصویر کا ذریعہReuters
فرانسیسی صدر ایمینوئل میخواں نے اب سے کچھ دیر قبل ڈیوس کے عالمی اقتصادی فورم سے خطاب کیا ہے۔
انھوں نے کہا ’امن، استحکام اور قابلِ یقین صورتحال وقت کا تقاضا ہے۔‘
اس جملے پر کمرے میں قہقہے لگ گئے۔
میخواں نے کہا کہ واضح ہے کہ ہم ایک ایسے دور میں داخل ہو رہے ہیں جو ’غیر استحکام اور عدم توازن‘ کا ہے۔۔ نہ صرف سکیورٹی کے لحاظ سے بلکہ اقتصادی نقطہ نظر سے بھی ہے۔
انھوں نے کہا ’حالات پر غور کریں ہم کہاں کھڑے ہیں‘ اور اس کے ساتھ ’آمرانہ رجحان کی طرف تبدیلی‘ اور 2024 میں دنیا بھر میں جاری جنگوں کا ذکر کیا۔انھوں نے کہا کہ ’تنازع معمول بن گیا ہے۔‘
میخواں نے پھر تحفظ پسندی اور ٹیرفز کی طرف توجہ دلائی۔
انھوں نے کہا کہ امریکہ کی تجارت میں مسابقت، جو ہمارے برآمدی مفادات کو نقصان پہنچاتی ہے، زیادہ سے زیادہ رعایتیں مانگتی ہے اور کھل کر یورپ کو کمزور اور تابع بنانے کی کوشش کرتی ہے، ساتھ ہی ’نئے ٹیرفز کے لامتناہی اضافے‘ کو ناقابل قبول قرار دیا۔
میخواں نے کہا کہ یہ معاملہ اور بھی زیادہ سنگین ہو جاتا ہے جب یہ ٹیرفز ’علاقائی خودمختاری کے خلاف دباؤ کے طور پر استعمال کیے جائیں۔‘
فرانسیسی صدر کے مطابق یورپی مسابقت امریکہ سے پیچھے رہ گئی ہے اور ہمیں کم نمو اور ناکافی سرمایہ کاری کے مسئلے کو حل کرنے کی ضرورت ہے۔
میخواں نے کہا کہ فرانس اور یورپ واضح طور پر قومی خودمختاری اور آزادی کے پابند ہیں۔
انھوں نے کہا کہ یہ ’پرانی سوچ‘ نہیں ہے بلکہ دوسری جنگ عظیم کے اسباق کو مکمل طور پر فراموش نہ کرنے اور تعاون کے عزم پر قائم رہنے کا معاملہ ہے۔
فرانسیسی صدر نے کہا کہ انھی اصولوں کی بنیاد پر ان کے ملک نے گرین لینڈ میں فوجی مشقوں میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا ہے، جس کا مقصد کسی کو دھمکانا نہیں بلکہ ڈنمارک میں ایک اتحادی کی حمایت کرنا ہے۔
خامنہ ای کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہوئی تو حملہ آوروں کی ’دنیا کو آگ لگا دیں گے‘: پاسدارانِ انقلاب
،تصویر کا ذریعہFars
ایران کی پاسدارانِ انقلاب کے ایک سینیئر کمانڈر نے امریکہ کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران کے رہنما آیت اللہ علی خامنہ ای کو مارنے کی ’کوشش‘ کی گئی تو ایران حملہ آوروں کے لیے دنیا غیر محفوظ بنا دے گی۔
بی بی سی فارسی کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر ابو فضل شکارچی کا کہنا تھا کہ ’اگر ہمارے رہنما کی طرف کوئی جارحانہ ہاتھ بڑھا تو ہم ان کی دنیا کو آگ لگا دیں گے اور دنیا کی کوئی جگہ ان کے لیے محفوظ نہیں رہنے دیں گے۔‘
خیال رہے 17 جنوری کو پولیٹکو کو دیے گئے ایک انٹرویو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران کے رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ کا دور ختم ہوگیا اور اب وقت آ گیا ہے کہ ایران میں نئی قیادت لائی جائے۔
ایران کے صدر مسعود پزشکیان بھی دو رو قبل کہہ چکے ہیں کہ ’اسلامی جمہوریہ کے رہنما پر حملے کا مطلب ایران کے ساتھ جنگ ہوگا۔‘
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
واضح رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای گذشتہ سات ماہ کے دوران اب دوسری بار روپوش ہو گئے ہیں۔ انھیں بخوبی اندازہ ہے کہ انھیں ذاتی طور پر نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ مستقبل قریب میں اس بات کا کوئی امکان نہیں کہ وہ اپنے گھر کے صحن میں چہل قدمی کرتے پائے جائیں یا گھر کی بالکونی پر سکون سے فرصت کے لمحات گزار پائیں۔
خاتون کا پولیس حراست کے دوران مبینہ ریپ، عدالت کا تحقیقات ایف آئی اے کے حوالے کرنے کا حکم, ریاض سہیل، بی بی سی اردو، کراچی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے صوبہ سندھ کے شمالی ضلع جیکب آباد کی ایک
عدالت نے پولیس حراست کے دوران گینگ ریپ کی تحقیقات ایف آئی اے کے حوالے کردی ہے اور
مقدمے میں ایس ایچ او کو ملوث نہ کرنے پر ایس ایس پی سے وضاحت طلب کی ہے۔
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج شرف الدین شاہ نے خاتون کے ساتھ
ہونے والی مبینہ گینگ ریپ کا ازخود نوٹس لیا تھا۔ پولیس نے منگل کو ڈی ایس پی ٹھل پولیس
اور تفتیشی افسر غلام مصطفیٰ ابڑو، متاثرہ خاتون اور اُن کی دادی جو مدعی بھی ہیں کے
ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔
پولیس اہلکاروں نے عدالت کو آگاہ کیا کہ مقدمے میں نامزد
چھ پولیس اہلکاروں کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور متاثرہ خاتون سمیت نامزد اہلکاروں کے
ڈی این اے نمونے لیبارٹری بھیج دیے گئے ہیں۔
متاثرہ خاتون کے ورثا نے عدالت کو بتایا کہ پولیس نے
ابھی تک مرکزی ملزمان، انچارج ایس ایچ او اور ہیڈ محرر کے نام کیس میں شامل نہیں کیے
جس پر جج نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر مرکزی ملزمان کے نام ہی شامل
نہیں ہیں، تو یہ کیسا مقدمہ دائر کیا گیا ہے؟
انھوں نے ایس ایس پی کو طلب کیا اہلکاروں نے بتایا کہ
وہ ایک پیشی کے سلسلے میں ہائیکورٹ گئے ہوئے ہیں۔
عدالت نے مقدمے کی تحقیقات وفاقی ادارے ایف آئی اے کے
حوالے کرنے کا حکم جاری کیا اور قرار دیا کہ پولیس رپورٹ سے ثابت ہو چکا ہے کہ خاتون
کا تھانے کے اندر دورانِ حراست ریپ کیا گیا، جو کہ ایک سنگین جرم ہے۔
عدالت کا مزید کہنا تھا کہ ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے
(سرکل لاڑکانہ) ایک غیر جانبدار افسر کے ذریعے قانون کے مطابق تفتیش مکمل کر کے مقررہ
وقت میں رپورٹ عدالت میں جمع کرائیں۔
یاد رہے کہ ٹھل تھانے کی حدود میں خواتین نے صحافیوں
سے بات کرتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ انھیں گرفتار کیا گیا اور اس کے بعد دوران
حراست ریپ کیا گیا، یہ خبر میڈیا میں آنے کے بعد صوبائی وزیر داخلہ ضیاالحسن لنجار
نے اس کا نوٹس لیا اور پولیس کو مقدمہ دائر کرنے کا حکم جاری کیا گیا، جس کے بعد ریپ
کا نشانہ بننے والی خاتون کی دادی کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا۔
مدعی نے الزام لگایا کہ ان کے مردوں پر قتل کا مقدمہ
درج کیا گیا تھا سات جنوری کو چھ پولیس اہلکار آئے مردوں کی عدم موجودگی میں انھیں
اور ان کی دو پوتیاں جن کی عمریں 17 سال اور 15 سال ہیں جو بہنیں ہیں کو حراست میں
لیا اور ایک مکان میں بند کردیا۔
مدعی مقدہ متاثرہ خاتون کی دادی کی جانب سے پولیس
پر یہ الزام لگایا گیا کہ 12 جنوری کی شب آٹھ بجے کے قریب ان کی بڑی پوتی 17 سالہ کو
دوسرے کمرے میں لے گئے اور چھ پولیس اہلکاروں نے ان کا ریپ کیا اور انھیں دہمکایا گیا
کہ کسی کے ساتھ یہ بات نہیں کرنی ہے اس کے بعد وہ واپس گھر آگئے، خوف کی وجہ سے وہ
فوری مقدمہ درج نہیں کراسکے تھے۔
دوسری جانب ایس ایس پی جیکب آباد کلیم ملک کا کہنا ہے
کہ تمام نامزد ملزمان کو فوری گرفتار کیا گیا اور ان کا ریمانڈ بھی لیا گیا ہے اس کے
علاوہ ایس ایچ او، چوکی انچارج کو بھی شامل تفتیش کیا گیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ڈی ایس پی کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل
دی گئی جو میرٹ پر تحقیقات کرے گی کسی کے ساتھ رعایت نہیں کی جائیگی، اس وقت ایس ایچ
او سمیت نامزد اہلکاروں کو معطل کیا گیا ہے۔
گزشتہ روز کی چند اہم خبریں
آج کے دن میں آگے بڑھنے سے قبل گزشتہ روز کی چند اہم خبروں پر ایک نظر ڈالتے ہیں:
متنازع ٹویٹس سے متعلق کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی ضمانتیں بحال کر دی ہیں۔ اس سے قبل ایڈیشنل سیشنز جج محمد افضل مجوکہ نے عدالت سے غیر حاضری پر ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی ضمانتیں منسوخ کر دی تھیں۔
متحدہ عرب امارات نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ ’بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت کی قبول کرلی ہے۔ منگل کو متحدہ عرب امارات کی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ ان کے صدر شیخ محمد بن زید النہیان نے امریکہ کی ’بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت کی دعوت قبل کر لی ہے۔
کابل میں چینی ریستوران میں دھماکے کے بعد بیجنگ نے افغان طالبان کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ چینی شہریوں کو تحفظ فراہم کرے۔ پیر کو کابل میں ایک چینی ریستوران میں ہونے والے دھماکے میں چھ افغان اور ایک چینی شہری ہلاک ہوئے تھے۔ شدت پسند گروہ نام نہاد دولت اسلامیہ نے اس دھماکے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج کرنے والے درجنوں سرکاری ملازمین کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ملازمین کے احتجاج کے پیشِ نظر کوئٹہ شہر میں موبائل فون پر انٹرنیٹ سروس بھی معطل کردی گئی ہیں۔
مجلس وحدت المسلمین کے سربراہ اور پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے حمایت یافتہ سینیٹر راجہ ناصر عباس سینیٹ میں قائد حزبِ اختلاف مقرر ہو گئے ہیں۔ قائم مقام سیکرٹری سینیٹ حفیظ اللہ شیخ کے دستخط سے راجہ ناصر عباس کی تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔
بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!
بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔