قطار میں پڑی لاشیں اور خون آلود فرش: تہران کے مردہ خانے کی ویڈیوز جسے عینی شاہد نے ’قیامت کا منظر‘ قرار دیا

- مصنف, شایان سردارزادہ، مرلن تھامس
- عہدہ, بی بی سی ویریفائی
- مصنف, گھونچے حبیبی زاد
- عہدہ, بی بی سی فارسی
تہران میں ایک مردہ خانے سے پریشان کن نئی ویڈیوز سامنے آئی ہیں، جن میں لاشوں کے انبار، خون آلود فرش اور مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کے بعد اپنے پیاروں کی تلاش میں لوگوں کا ہجوم دیکھا جا سکتا ہے۔
بی بی سی ویریفائی اور بی بی سی فارسی کی طرف سے تجزیہ کی گئی ویڈیوز انتہائی تکلیف دہ ہیں اور یہ 28 دسمبر کو بدامنی شروع ہونے کے بعد سے بدترین حکومتی کریک ڈاؤن کی ہولناک کہانیاں بیان کر رہی ہیں۔
ان ویڈیوز کے فارنزک معائنے سے پتہ چلتا ہے کہ مردہ خانے کے احاطے میں لگ بھگ 200 لاشیں موجود ہیں جبکہ خون میں لت پت بہت سے زخمی موجود ہیں۔ ایک مقتول کی شناخت 16 سالہ لڑکے کے طور پر ہوئی ہے۔
تصدیق شدہ ویڈیوز سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت مخالف مظاہرین 68 سے زائد قصبوں اور شہروں میں پھیل چکے ہیں۔ حالانکہ حقیقی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہونے کا امکان ہے۔ گذشتہ ہفتے حکومت کی طرف سے انٹرنیٹ پر لگائی گئی پابندی نے نو کروڑ ایرانیوں کا بیرونی دُنیا سے رابطہ مکمل طور پر منقطع کر دیا تھا۔
ان مظاہروں میں ہلاک ہونے والوں کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں تاہم امریکہ میں قائم ہیومن رائٹس ایجنسی ’ہرانا‘ کے مطابق اب تک 2500 سے زائد افراد ان مظاہروں کے دوران ہلاک ہو چکے ہیں۔
ایک ایرانی اہلکار نے خبر رساں ادارے ’روئٹرز‘ کو بتایا کہ ان مظاہروں میں دو ہزار افراد مارے گئے ہیں لیکن ساتھ ہی اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’دہشت گرد‘ اس کے ذمے دار ہیں۔
بی بی سی ویریفائی اور بی بی سی فارسی اس مردہ خانے سے سامنے آنے والی تصاویر کے بارے میں پہلے رپورٹ کر چکے ہیں لیکن ہم یہ نئی ویڈیوز انتہائی تکلیف دہ ہونے کی وجہ سے نہیں دکھا رہے۔
یہ ویڈیو امریکہ میں مقیم ایرانی سوشل میڈیا انفلوئنسر واحد نے منگل کو پوسٹ کی تھی، جس میں اُنھوں نے کہا تھا کہ یہ ویڈیو 10 جنوری کو جنوبی تہران کے کہریزک فارنزک میڈیکل سینٹر کے اندر کی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
واحد نے بتایا کہ یہ ویڈیوز ایک ایسے شخص نے بنائی ہیں جس نے انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کرنے کے لیے تقریباً ایک ہزار کلومیٹر کا سفر کیا تھا۔ اس شخص نے بی بی سی فارسی کو بتایا کہ اس نے فوٹیج اپ لوڈ کرنے کے لیے پڑوسی ممالک کے موبائل نیٹ ورکس کا استعمال کیا۔
واحد ملک کے اندر ہونے والے واقعات کو دستاویزی شکل دینے والی درجنوں ویڈیوز باہر کی دنیا کے لیے پوسٹ کر رہے ہیں۔
ان ویڈیوز میں سے دو میں فرش پر قطار میں لاشیں پڑی ہیں اور ایک شخص اس سڑک سے گزر رہا ہے، جو وسیع مردہ خانہ کمپلیکس کے شمالی حصے سے گزرتی ہے۔
بعد میں وہ ایک صحن اور ایک بڑے گودام کے اندر سے گزرتا ہے اور ملحقہ کمروں کے اندر اور باہر بڑی تعداد میں باڈی بیگز موجود ہیں۔ اس دوران اُنھیں یہ کہتے سنا جا سکتا ہے کہ یہ ’قیامت کا منظر‘ ہے۔

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
ویڈیو بنانے والے شخص کو یہ کہتے سنا جا سکتا ہے کہ ’آج ہفتہ ہے، احتجاج کی کال کے ایک دن بعد کا منظر۔‘
وہ گذشتہ جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب سابق ولی عہد رضا پہلوی کی جانب سے لوگوں کو سڑکوں پر آنے کی کال دینے کا ذکر کر رہے تھے۔
مزید دو ویڈیو کلپس میں مردہ خانے سے لی گئی تصاویر ہیں، جس میں کئی لاشیں زپ اپ بیگ میں موجود ہیں، جن میں سے ایک جلی ہوئی لگ رہی ہے۔
بی بی سی ویریفائی اور بی بی سی فارسی نے پانچ منٹ کی ویڈیو میں کم از کم 186 لاشیں اور 16 منٹ کے کلپ میں کم از کم 178 لاشیں گنیں۔
دونوں ویڈیوز میں ممکنہ طور پر کچھ ایک جیسے جسم دکھائے گئے ہیں لہذا ہم حتمی طور پر اعداد و شمار نہیں بتا سکتے لیکن حقیقی اعداد و شمار اس سے کہیں زیادہ ہونے کا امکان ہے۔
ویڈیوز میں ایک ساتھ ترمیم کی گئی کم از کم نو الگ الگ ویڈیوز شامل ہیں۔ ویڈیوز میں سائے کی پوزیشن سے پتہ چلتا ہے کہ ان حصوں کو پورے دن میں مختلف اوقات میں فلمایا گیا تھا۔ ہم نے گوگل پر سیٹلائٹ امیجز کے ذریعے کمپلیکس سے قابل شناخت خصوصیات کو ملایا، بشمول علیحدہ عمارتیں، گودام کی چھت اور باڑ۔

کئی لاشوں پر زخموں کے نشانات ہیں۔ دو لاشیں خون میں لت پت دکھائی دے رہی ہیں اور دوسری کے پیٹ پر گہرے زخم دکھائی دے رہے ہیں۔
کچھ باڈی بیگز کے ساتھ کاغذ یا سفید مارکر کے ذریعے تفصیلات لکھی ہوئی ہیں، جن میں نام، شناختی نمبر، تاریخ پیدائش اور موت کی تفصیلات درج ہیں۔ کچھ میں والد کا نام جبکہ دو باڈی بیگز ایسے بھی ہیں، جن پر نامعلوم درج ہے۔
دو باڈی بیگز پر موت کی تاریخ نو جنوری بتائی گئی ہے۔ ایک اور باڈی بیگ پر ایرانی کیلنڈر کی تاریخ درج ہے جبکہ مرنے والے کی عمر 16 سال لکھی ہے۔
16 منٹ کے کلپ میں ایک لمحے کے دوران یہ شخص فون اپنے دائیں طرف ایک عمارت کی طرف کرتا ہے اور ایک آواز سنائی دیتی ہے کہ ’اندر بہت سی لاشیں ہیں۔۔۔ اندر جانا ممکن نہیں۔۔۔ یہ خواتین کا علاقہ ہے۔‘
مذہبی وجوہات کی بنا پر ایرانی مردہ خانوں میں مرد اور خواتین کی لاشوں کو الگ رکھا جاتا ہے۔
اس مقام پر بہت سی ایمبولینس، میت گاڑیاں اور دیگر وینز دیکھی جا سکتی ہیں۔ سرکاری اہلکار قطار در قطار موجود ان لاشوں کا جائزہ لے رہے ہیں اور قریب کھڑے لواحقین سے بات کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔
یہ واضح نہیں کہ حکومت مخالف مظاہروں میں ہلاک ہونے والوں کی لاشیں مرکز میں کیوں منتقل کی گئی ہوں گی، لیکن بی بی سی فارسی کو فراہم کیے گئے عینی شاہدین کے بیانات بتاتے ہیں کہ احتجاج میں ہلاکتوں کی تعداد سے ہسپتال بھرے ہوئے ہیں۔
’ہرانا‘ جو بدامنی شروع ہونے کے بعد سے ہلاکتوں کی تعداد بتا رہا ہے، نے بتایا کہ اب تک 2403 مظاہرین، 147 حکومت سے وابستہ افراد، نو عام شہری اور 12 بچے مارے جا چکے ہیں۔












