تہران میں ’ٹرمپ‘ سٹریٹ پر امریکہ کا خیرمقدم اور مظاہرین کی جانب سے قاسم سلیمانی کا مجسمہ زمین بوس کرنے کی وائرل ویڈیوز

ایران احتجاج

،تصویر کا ذریعہBBC Persian

،تصویر کا کیپشنبی بی سی فیکٹ فائنڈنگ یونٹ مرنے والوں میں سے 21 افراد کی شناخت کی تصدیق کرنے میں کامیاب رہا ہے

ایران میں احتجاجی مظاہرے آج 13ویں روز میں داخل ہو چکے ہیں اور فی الحال اُن میں کمی کا کوئی امکان بھی نظر نہیں آ رہا۔

ہیومن رائٹس ایکٹوسٹس نیوز ایجنسی (HRANA) نے بی بی سی کے فیکٹ فائنڈنگ یونٹ کو بتایا ہے کہ اُن کے اندازے کے مطابق ایران بھر میں جاری ان مظاہروں میں اب تک ’دو سکیورٹی اہلکاروں سمیت 35 افراد ہلاک ہو چکے ہیں‘ جبکہ مرنے والوں میں چار بچے بھی شامل ہیں۔

ادارے کے مطابق 28 دسمبر کو شروع ہونے والا یہ احتجاج اب مُلک کے 31 صوبوں اور 111 شہروں میں پھیل چکا ہے اور گذشتہ 13 روز کے دوران 60 سے زائد مظاہرین زخمی جبکہ 2200 گرفتار بھی کیے گئے ہیں۔

بی بی سی فیکٹ فائنڈنگ یونٹ آزادانہ طور پر مرنے والوں میں سے 21 افراد کی شناخت کی تصدیق کرنے میں کامیاب رہا ہے، جن میں بچے بھی شامل ہیں۔

ان مظاہروں کی سوشل میڈیا پر پوسٹ کی جانے والی ویڈیوز میں مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان شدید جھڑپیں دکھائی دے رہی ہیں، جس کے پس منظر میں گولیوں کی آوازیں بھی آ رہی ہیں۔

ان فوٹیجز میں سکیورٹی فورسز، مظاہرین کے ہجوم کی طرف بندوقیں تانے اور آنسو گیس پھینکتے ہوئے نظر آتے ہیں، جبکہ پتھراؤ ہوتا بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

بی بی سی فارسی کے مطابق گذشتہ روز سامنے آنے والی ایک ویڈیو میں مشہد شہر میں مظاہرین ایران کے جھنڈے کو نیچے اُتارتے اور پھر احتجاجاً اسے پھاڑتے ہوئے بھی نظر آتے ہیں۔

تہران میں ’ٹرمپ‘ سٹریٹ

تصویر

،تصویر کا ذریعہ@USABehFarsi

بی بی سی فارسی کے مطابق سوشل میڈیا پر ایک ایسی ویڈیو بھی سامنے آئی ہے جس پر امریکی محکمہ خارجہ نے بھی ردعمل دیا ہے۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک شخص تہران کی ایک گلی کو ’ٹرمپ‘ کا نام دے رہا ہے یعنی گلی کے داخلی راستے پر ’ٹرمپ‘ لکھا جا رہا ہے۔

ٹوئٹر پر امریکی محکمہ خارجہ کے فارسی اکاؤنٹ سے اس ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے لکھا گیا کہ ’ہم تہران میں ایک نامعلوم شخص کے اس اقدام کا احترام کرتے ہیں جس نے ایک گلی کا نام صدر ٹرمپ کے نام پر رکھا ہے۔ امریکہ ایرانی عوام کی آواز اور ان کی امنگوں کا احترام کرتا ہے۔ ہم آزادی، خوشحالی اور مواقع کے حصول کے لیے اُن کی کوششوں کی حمایت کے لیے پُرعزم ہیں۔‘

بی بی سی فارسی کے مطابق سوشل میڈیا بہت سے ایرانی صارفین اس ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے اس نوعیت کے تبصرے لکھ رہے ہیں کہ ’ایران کو آپ (امریکہ) کی مدد کی ضرورت ہے۔‘

تاہم کچھ لوگ ایسے بھی ہیں، جو اس ویڈیو پر تنقید کر رہے ہیں۔

لبنان سے تعلق رکھنے والے صحافی سیموس ملکافزلی نے امریکی محکمہ خارجہ کی ٹویٹ شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’اگر آپ سوچ رہے ہیں کہ امریکہ کے لیے مثالی ایرانی مظاہرین کون ہیں: تو یہاں سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ ایک ایسے شخص کی تعریف کر رہا ہے جس نے شمالی تہران میں سٹریٹ سائن کو ’صدر ٹرمپ سٹریٹ‘ کا نام دے دیا۔‘

یاد رہے چند روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کی حکومت کو دھمکی دے چکے ہیں کہ اگر ایرانی عوام کے خلاف ’پرتشدد کارروائیوں‘ کا سلسلہ جاری رہا تو امریکہ مداخلت کرے گا۔

ایران نے اس تنبیہ پر سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیا ہے۔

صدر ٹرمپ کی جانب سے یہ دھمکی وینزویلا میں ایک ڈرامائی فوجی کارروائی کے دوران صدر نکولس مادورو اور اُن کی اہلیہ کو تحویل میں لینے سے ایک روز پہلے دی گئی تھی۔

تصویر
،تصویر کا کیپشنبی بی سی فیکٹ فائنڈنگ یونٹ اب تک 21 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کر چکا ہے

قاسم سلیمانی کا مجسمہ زمین بوس

بی بی سی فارسی کے مطابق سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ایک اور ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مشتعل مظاہرین قاسم سلیمانی کا مجسمہ گرا رہے ہیں تاہم آزادانہ طور پر اس ویڈیو کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

چھ سال قبل تین جنوری کو ٹرمپ ہی کی صدارت کے دوران قاسم سلیمانی کو امریکی فوج نے بغداد میں ہلاک کر دیا تھا۔

قاسم سلیمانی ایران کی قدس فورس کے کمانڈر تھے جو پاسداران انقلاب کی وہ شاخ ہے جو غیر ملکی سرزمین پر کاروائیاں کرتی ہے۔

قاسم سلیمانی خطے میں ایرانی اثرورسوخ اور عسکری حکمت عملی کی بنیاد رکھنے والوں میں شامل تھے۔

بی بی سی فارسی نے اس ویڈیو کی تصدیق کی ہے اور یہ تہران کے شمال مغرب میں واقع شہر قزوین میں احتجاج کی ہے۔

بی بی سی نے اس ویڈیو کی بھی تصدیق کی ہے اور یہ عراق کی سرحد کے قریب واقع جنوب مغربی شہر آبادان میں ہونے والے ایک بڑے مظاہرے کی ہے۔

یہ مظاہرے کیوں ہو رہے ہیں؟

ایران احتجاج

،تصویر کا ذریعہBBC Persian

پرامن طریقے سے شروع ہونے والے احتجاج کی جڑیں ابتدائی طور پر مہنگائی اور امریکی ڈالر کے مقابلے میں ایرانی کرنسی کی قدر میں تیزی سے کمی پر عوامی غصے سے جڑی تھیں۔ گذشتہ برس کے دوران ایران میں ڈالر کی قدر میں تقریباً 80 فیصد اضافہ ہوا۔

ایران کی معیشت انتہائی نازک حالت میں ہے، جس میں ترقی کے کوئی واضح امکانات بھی نہیں۔

سرکاری اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ملک میں مہنگائی کی سالانہ شرح 42 فیصد کے لگ بھگ ہے اور اشیائے خورو نوش کی قیمتیں 70 فیصد سے تجاوز کر گئی ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ بعض بنیادی اشیا کی قیمتوں میں 110 فیصد سے زائد کا اضافہ ہوا۔

بین الاقوامی پابندیوں نے ایران کی بگڑٹی ہوئی معاشی صورتحال میں اہم کردار ادا کیا لیکن یہ واحد وجہ نہیں۔

ایرانی عدالتوں میں بڑے سرکاری افسران اور اُن کے اہلخانہ کے خلاف چلنے والے بدعنوانی کے مقدمات نے بھی عوامی غصے اور اِس یقین کو ہوا دی ہے کہ حکمران طبقے کے کچھ حصے برسوں سے جاری بحران سے فائدہ اُٹھا رہے ہیں۔