غریب گھرانے سے قدس فورس کی کمان تک: جنرل قاسم سلیمانی کی زندگی تصاویر میں

،تصویر کا ذریعہIRANIAN SUPREME LEADER'S OFFICE HANDOUT
عراقی دارالحکومت بغداد میں امریکی حملے میں ہلاک ہونے والے ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کو عموماً شہرت کی چکاچوند سے دور رہنے والی شخصیت سمجھا جاتا تھا تاہم حالیہ برسوں میں وہ کھل کر سامنے آئے جب انھیں ایران میں داعش کے خلاف اپنی کارروائیوں کی بدولت شہرت اور عوامی مقبولیت ملی۔
وہ شخص جنھیں چند سال پہلے تک بہت سے ایرانی شہری راہ چلتے پہچان بھی نہیں سکتے تھے، دستاویزی فلموں، ویڈیو گیمز، خبروں اور پاپ گیتوں کا موضوع بن گئے۔

،تصویر کا ذریعہIRANIAN SUPREME LEADER'S OFFICE HANDOUT HANDOUT
62 سالہ قاسم سلیمانی کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتے تھے اور انھوں نے واجبی سی باقاعدہ تعلیم حاصل کی تھی لیکن پاسدارانِ انقلاب میں شمولیت کے بعد وہ تیزی سے اہمیت اختیار کرتے گئے۔
1980 سے 1988 تک جاری رہنے والی ایران عراق جنگ میں قاسم سلیمانی نے اپنا نام بنایا اور جلد ہی وہ ترقی کرتے کرتے سینیئر کمانڈر بن گئے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
1998 میں قدس فورس کے کمانڈر بننے کے بعد سلیمانی نے بیرونِ ملک خفیہ کارروائیوں کے ذریعے مشرقِ وسطیٰ میں ایران کے اثر میں اضافہ کرنا شروع کیا۔ اس کے علاوہ انھوں نے اپنے اتحادی گروہوں کو ہر ممکن مدد فراہم کی اور ایران سے وفادار ملیشیاؤں کا ایک نیٹ ورک تیار کر لیا۔

،تصویر کا ذریعہKHAMENEI.IR
کہا جاتا ہے کہ اپنے کیریئر کے دوران قاسم سلیمانی نے عراق میں شیعہ اور کرد گروپوں کی سابق آمر صدام حسین کے خلاف مزاحمت میں مدد کی جبکہ وہ لبنان میں حزب اللہ اور فلسطینی علاقوں میں حماس کے بھی مددگار رہے۔
2003 میں عراق پر امریکی جارحیت کے بعد انھوں نے وہاں سرگرم گروپوں کی امریکی اڈوں اور اس کے مفادات کو نشانہ بنانے کے سلسلے میں رہنمائی بھی کی۔

،تصویر کا ذریعہKHAMENEI.IR
انھیں اس بات کا کریڈٹ بھی دیا جاتا ہے کہ انھوں نے شام کے صدر بشارالاسد کو ان کے خلاف 2011 میں شروع ہونے والی مسلح مزاحمتی تحریک سے نمٹنے کے لیے حکمتِ عملی بھی بنا کر دی۔ ایران کی اس مدد اور روسی فضائی مدد نے ہی بشارالاسد کو باغی فوج کے خلاف جنگ میں پانسہ پلٹنے میں مدد دی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہReuters
ایران میں رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے بعد اگر کسی شخصیت کو طاقتور سمجھا جاتا تھا تو وہ جنرل قاسم سلیمانی ہی تھے۔

،تصویر کا ذریعہKHAMENEI.IR
2013 میں سی آئی اے کے سابق اہلکار جان میگوائر نے امریکی جریدے دی نیویارکر کو بتایا تھا کہ سلیمانی 'مشرقِ وسطیٰ میں سب سے طاقتور کارندے تھے۔'

،تصویر کا ذریعہReuters
پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس کے سربراہ کے طور پر سلیمانی مشرقِ وسطیٰ میں اپنے ملک کی سرگرمیوں اور عزائم کے منصوبہ ساز اور جب بات امن یا جنگ کی ہو تو ایران کے اصل وزیرِ خارجہ تھے۔

،تصویر کا ذریعہKHAMENEI.IR
انھیں شام کے صدر بشارالاسد کی ملک میں باغیوں کے خلاف جنگ، عراق میں ایران نواز شیعہ ملیشیاؤں کے عروج، شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے خلاف جنگ کے علاوہ اور بہت سے کارروائیوں کا ذمہ دار بھی سمجھا جاتا تھا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
کرشماتی شخصیت کے مالک سمجھے جانے والے جنرل سلیمانی کو جہاں پسند کرنے والے بہت تھے وہاں ناپسند کرنے والوں کی بھی کمی نہیں تھی اور ان کے شخصیت کے بارے میں کئی کہانیاں گردش کرتی تھیں۔
۔












