غریب گھرانے سے قدس فورس کی کمان تک: جنرل قاسم سلیمانی کی زندگی تصاویر میں

قاسم سلیمانی

،تصویر کا ذریعہIRANIAN SUPREME LEADER'S OFFICE HANDOUT

،تصویر کا کیپشنایران میں رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے بعد اگر کسی شخصیت کو طاقتور سمجھا جاتا تھا تو وہ جنرل قاسم سلیمانی ہی تھے

عراقی دارالحکومت بغداد میں امریکی حملے میں ہلاک ہونے والے ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کو عموماً شہرت کی چکاچوند سے دور رہنے والی شخصیت سمجھا جاتا تھا تاہم حالیہ برسوں میں وہ کھل کر سامنے آئے جب انھیں ایران میں داعش کے خلاف اپنی کارروائیوں کی بدولت شہرت اور عوامی مقبولیت ملی۔

وہ شخص جنھیں چند سال پہلے تک بہت سے ایرانی شہری راہ چلتے پہچان بھی نہیں سکتے تھے، دستاویزی فلموں، ویڈیو گیمز، خبروں اور پاپ گیتوں کا موضوع بن گئے۔

قاسم سلیمانی

،تصویر کا ذریعہIRANIAN SUPREME LEADER'S OFFICE HANDOUT HANDOUT

،تصویر کا کیپشنتہران میں ایک تقریب کے دوران ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی سے ملتے ہوئے دکھایا گیا ہے (3 جنوری 2020 کو جاری کی گئی اس تصویر کی تاریخ نہیں بتائی گئی)

62 سالہ قاسم سلیمانی کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتے تھے اور انھوں نے واجبی سی باقاعدہ تعلیم حاصل کی تھی لیکن پاسدارانِ انقلاب میں شمولیت کے بعد وہ تیزی سے اہمیت اختیار کرتے گئے۔

1980 سے 1988 تک جاری رہنے والی ایران عراق جنگ میں قاسم سلیمانی نے اپنا نام بنایا اور جلد ہی وہ ترقی کرتے کرتے سینیئر کمانڈر بن گئے۔

قاسم سلیمانی

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنکرشماتی شخصیت کے مالک سمجھے جانے والے جنرل سلیمانی کو جہاں پسند کرنے والے بہت تھے وہاں ناپسند کرنے والوں کی بھی کمی نہیں تھی اور ان کے شخصیت کے بارے میں کئی کہانیاں گردش کرتی تھیں۔ یہ تصویر 8 مارچ 2015 کو صوبہ صلاح الدین کے قصبے میں نام نہاد شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے عسکریت پسندوں کے خلاف جارحانہ کارروائیوں کے دوران لی گئی

1998 میں قدس فورس کے کمانڈر بننے کے بعد سلیمانی نے بیرونِ ملک خفیہ کارروائیوں کے ذریعے مشرقِ وسطیٰ میں ایران کے اثر میں اضافہ کرنا شروع کیا۔ اس کے علاوہ انھوں نے اپنے اتحادی گروہوں کو ہر ممکن مدد فراہم کی اور ایران سے وفادار ملیشیاؤں کا ایک نیٹ ورک تیار کر لیا۔

قاسم سلیمانی مہدی مہندس

،تصویر کا ذریعہKHAMENEI.IR

،تصویر کا کیپشن4 جون 2019 کو ایرانی سپریم لیڈر کے دفتر سے جاری کیے گئے تصاویر بیں بائیں جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی اور دائیں جانب ملیشیا کمانڈر ابو مہدی المہندس بغداد میں ہشید الشابی جنگجوؤں کے جنازے میں شریک ہیں۔ پاسدارانِ انقلاب کے مطابق امریکی ڈرون حملے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں میں عراقی ملیشیا کے کمانڈر ابو مہدی المہندس بھی شامل ہیں

کہا جاتا ہے کہ اپنے کیریئر کے دوران قاسم سلیمانی نے عراق میں شیعہ اور کرد گروپوں کی سابق آمر صدام حسین کے خلاف مزاحمت میں مدد کی جبکہ وہ لبنان میں حزب اللہ اور فلسطینی علاقوں میں حماس کے بھی مددگار رہے۔

2003 میں عراق پر امریکی جارحیت کے بعد انھوں نے وہاں سرگرم گروپوں کی امریکی اڈوں اور اس کے مفادات کو نشانہ بنانے کے سلسلے میں رہنمائی بھی کی۔

قاسم سلیمانی

،تصویر کا ذریعہKHAMENEI.IR

،تصویر کا کیپشن27 مارچ 2015 کو لی گئی اس تصویر میں جنرل قاسم سلیمانی تہران میں ایک مذہبی تقریب میں شریک ہیں

انھیں اس بات کا کریڈٹ بھی دیا جاتا ہے کہ انھوں نے شام کے صدر بشارالاسد کو ان کے خلاف 2011 میں شروع ہونے والی مسلح مزاحمتی تحریک سے نمٹنے کے لیے حکمتِ عملی بھی بنا کر دی۔ ایران کی اس مدد اور روسی فضائی مدد نے ہی بشارالاسد کو باغی فوج کے خلاف جنگ میں پانسہ پلٹنے میں مدد دی۔

قاسم سلیمانی

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنجنرل قاسم سلیمانی (بائیں) 8 مارچ 2015 کو صوبہ صلاح الدین کے قصبے میں نام نہاد شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے عسکریت پسندوں کے خلاف جارحانہ کارروائیوں کے دوران محاذ پر

ایران میں رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے بعد اگر کسی شخصیت کو طاقتور سمجھا جاتا تھا تو وہ جنرل قاسم سلیمانی ہی تھے۔

قاسم سلیمانی

،تصویر کا ذریعہKHAMENEI.IR

،تصویر کا کیپشن10 ستمبر 2019 کو لی گئی اس تصویر میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای، عراق میں مہدی ملیشیا کے سربراہ مقتدی الصدر اور ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی تہران میں محرم کی ایک مجلس میں شریک ہیں

2013 میں سی آئی اے کے سابق اہلکار جان میگوائر نے امریکی جریدے دی نیویارکر کو بتایا تھا کہ سلیمانی 'مشرقِ وسطیٰ میں سب سے طاقتور کارندے تھے۔'

قاسم سلیمانی

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشن8 مارچ 2017 کو لی گئی اس تصویر میں نام نہاد شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے عسکریت پسندوں کے خلاف جارحانہ کارروائیوں کے دوران جنرل قاسم سلیمانی کو صوبہ صلاح الدین کے قصبے تل قصیبہ میں فرنٹ لائن پر ایک بکتر بند گاڑی کے قریب دیکھا جا سکتا ہے

پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس کے سربراہ کے طور پر سلیمانی مشرقِ وسطیٰ میں اپنے ملک کی سرگرمیوں اور عزائم کے منصوبہ ساز اور جب بات امن یا جنگ کی ہو تو ایران کے اصل وزیرِ خارجہ تھے۔

تصویر

،تصویر کا ذریعہKHAMENEI.IR

،تصویر کا کیپشنآیت اللہ علی خامنہ ای نے اپنے ردعمل میں قاسم سلیمانی کی ہلاکت کا بدلہ لینے کا اعلان کیا ہے۔ 27 مارچ 2015 کو لی گئی اس تصویر میں جنرل قاسم سلیمانی کو آیت اللہ علی خامنہ ای کے ساتھ ایک مجلس میں شریک دیکھا جا سکتا ہے

انھیں شام کے صدر بشارالاسد کی ملک میں باغیوں کے خلاف جنگ، عراق میں ایران نواز شیعہ ملیشیاؤں کے عروج، شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے خلاف جنگ کے علاوہ اور بہت سے کارروائیوں کا ذمہ دار بھی سمجھا جاتا تھا۔

قاسم سلیمانی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنجنرل قاسم سلیمانی 11 فروری 2016 کو تہران میں اسلامی انقلاب کی 37 ویں برسی کی تقریبات کے موقع پر

کرشماتی شخصیت کے مالک سمجھے جانے والے جنرل سلیمانی کو جہاں پسند کرنے والے بہت تھے وہاں ناپسند کرنے والوں کی بھی کمی نہیں تھی اور ان کے شخصیت کے بارے میں کئی کہانیاں گردش کرتی تھیں۔

۔