جنرل قاسم سلیمانی کو مارنے کا فیصلہ جنگ روکنے کے لیے کیا: ٹرمپ

،تصویر کا ذریعہReuters
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انھوں نے قاسم سلیمانی کو مارنے کا فیصلہ ’جنگ روکنے‘ کے لیے کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ میں تمام ضروری اقدامات کرنے کے لیے تیار ہوں خاص طور پر ایران کے حوالے سے۔
خیال رہے کہ ایران نے بغداد میں امریکی حملے کے نتیجے میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کو ایک واضح دہشت گرد کارروائی قرار دیا ہے۔
امریکی صدر نے پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ ’ہمارے اقدامات جنگ شروع کرنے کے لیے نہیں ہوتے۔‘
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ جنرل قاسم سلیمانی ایک بیمار انسان تھے، انھوں نے معصوم لوگوں کو ہلاک کیا اور ان کے حملوں سے دور دور تک لوگ متاثر ہوئے حتیٰ کہ نئی دہلی اور لندن تک۔ ‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا مزید کہنا تھا ’ہم یہ جان کر سکھ کا سانس لے سکتے ہیں کہ ان کی دہشت ختم ہوئی۔‘
صدر ٹرمپ نے جنرل سلیمانی کو ایک ’دہشتگرد‘ قرار دیا جو سینکڑوں امریکی عام شہریوں اور سپاہیوں کی موت کے ذمہ دار تھے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی مختصر نیوز کانفرنس میں امریکہ کے دشمنوں کو تنبیہ کی ہے۔
ان کا کہنا تھا ’ہم آپ کو تلاش کر لیں گے۔ ہم آپ کو تباہ کر دیں گے۔ ہم ہمیشہ امریکیوں کی حفاظت کریں گے۔‘
ایران قانونی کارروائی کرے گا
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق دبئی میں بات کرتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف کا کہنا تھا کہ ’ایران بین الاقوامی سطح پر متعدد قانونی اقدامات کرے گا تاکہ سلیمانی کے قتل کے لیے امریکہ کو سزا دلوائی جاسکے۔‘
اس سے پہلے حملے کے فوراً بعد جواد ظریف نے ایک ٹویٹ میں امریکہ پر ’بین الاقوامی دہشت گردی‘ کا الزام عائد کیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہReuters
اب تک کیا ہوا؟
- امریکہ نے رات گئے ایک فضائی حملے میں ایران کے سب سے طاقتور فوجی کمانڈر قاسم سلیمانی کو ایران کے حمایت یافتہ ملیشیا رہنماؤں کے ہمراہ ہلاک کر دیا۔ اس واقعے کے بعد صورتحال نہایت کشیدہ ہو گئی۔
- امریکہ کا کہنا ہے کہ اس نے یہ ڈرون حملہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر کیا تاکہ ایک ایسے شخص سے بیرون ملک موجود امریکیوں کا تحفظ کیا جا سکے جسے وہ ایک طویل عرصے سے خطرہ قرار دیتے ہیں۔
- یہ اچانک اقدام امریکہ اور ایران کی بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد اٹھایا گیا۔ گذشتہ ماہ ایران کی حمایت یافتہ ملیشیا نے امریکی کنٹریکٹر کو عراق میں قتل کر دیا جس کے بعد مغربی عراق اور مشرقی شام میں كتائب حزب الله ملیشیا کے خلاف امریکی فضائی حملے کیے گئے۔ اس کے بعد بغداد میں امریکی سفارتخانے کے باہر پرتشدد مظاہرے پھوٹ پڑے۔ امریکہ نے اس کا الزام ایران پر عائد کیا۔
- قاسم سلیمانی ایران کی قدس فوج کے قائد تھے۔ وہ ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای کے کافی قریب تھے۔ انھیں ایران میں دوسرا طاقتور ترین فرد تصور کیا جاتا تھا۔
- ایران نے فوری طور پر اس حملے کی مذمت کی اور بعد ازاں اس اقدام کا ’کڑا بدلہ‘ لینے کا عزم کیا۔ ملک بھر میں مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے اور امریکی اور اسرائیلی پرچم نذر آتش کیے۔
- تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹویٹ کیا کہ ’جنرل سلیمانی سے ان کے ملک میں لوگ خوفزدہ بھی تھے اور نفرت بھی کرتے تھے۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ انھیں کئی برس پہلے مار دیا جانا چاہیے تھا۔
- جنرل قاسم سلیمانی کی نماز جنازہ سنیچر کو ادا کی جائے گی۔
- اس واقعے کے بعد بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر عالمی رہنماؤں نے دیگر ممالک سے پر سکون رہنے کی اپیل کی ہے۔ ابتدائی طور پر عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
ردِ عمل
مبصرین مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافے اور ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ جنگ کے بارے میں تبصرے کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ دنیا بھر میں سوشل میڈیا پر اس وقت یہی موضوع زیرِ بحث ہے اور اسی خبر سے جڑے کئی ہیش ٹیگ، مثلاً #Iran #WWIII #Soleimani اور #قاسم_سليماني اس وقت ٹرینڈ کر رہے ہیں۔
اس حملے کے اب تک کئی نتائج سامنے آئے ہیں۔ جنرل سلیمانی کی ہلاکت کی خبر آنے کے چند گھنٹوں بعد ہی عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں چار فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ عموماً مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بڑھنے کی صورت میں ہوتا ہے۔
برطانوی ماہرِ معاشیات جیسن ٹووے کے مطابق ہر چیز کا انحصار ایران کے ردِعمل پر ہوگا۔ ’ہمیں خدشات ہیں کہ اس پیش رفت سے خطے میں تصادم کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔‘
بین الاقوامی ردِ عمل
اس وقت پوری دنیا کی توجہ عراق پر مرکوز ہے اور سب یہ جاننے کے لیے بے چین ہیں کہ جس ملک کی سرزمین پر یہ حملہ ہوا ہے ان کا ردعمل کیا ہو گا۔
عراق کا سرکاری موقف ہے کہ امریکی کارروائی اس کی ’سالمیت کی صریح خلاف ورزی اور ملک کے وقار پر کھلا حملہ ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
دوسری جانب عراقی شیعہ رہنما اور مہدی ملیشیا کے سربراہ مقتدیٰ الصدر نے کہا ہے کہ ’قاسم سلیمانی کو نشانہ بنانا جہاد کو نشانہ بنانے کے مترادف ہے لیکن یہ ہمارے عزم کو کمزور نہیں کرے گا۔‘
انھوں نے اپنے پیروکاروں کو عراق کی حفاظت کرنے کے لیے تیار رہنے کی ہدایت بھی کی۔
تاہم مشرقِ وسطی کے دیگر ممالک جیسے کہ قطر، سعودی عرب اور مصر کی جانب سے بھی ابھی تک کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
لبنانی گروہ حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ جنرل سلیمانی کے قاتلوں کو قرار واقعی سزا دلوانا دنیا بھر میں پھیلے تمام جنگجوؤں کا فرض ہے۔
تاہم شام کی جانب سے سامنے آنے والے ردِ عمل میں اس حملے کو ’بزدلانہ کارروائی‘ قرار دیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہ@realDonladTrump
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واقعے کے بعد اپنا ردعمل دیتے ہوئے ٹویٹ کیا کہ ’جنرل قاسم سلیمانی نے ایک طویل مدت کے دوران ہزاروں امریکیوں کو ہلاک یا بری طرح سے زخمی کیا ہے، اور وہ بہت سے لوگوں کو ہلاک کرنے کی سازشیں کر رہا تھا۔۔۔ لیکن وہ پکڑا گیا۔‘

،تصویر کا ذریعہ@realDonaldTrump
صدر ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ 'وہ (جنرل سلیمانی) بلواسطہ یا بلاواسطہ بڑی تعداد میں ایرانی مظاہرین کی ہلاکت سمیت لاکھوں افراد کی موت کا ذمہ دار تھا۔ اگرچہ ایران کبھی بھی اس کا صحیح طور پر اعتراف نہیں کر سکے گا، لیکن سلیمانی کو ملک میں نفرت اور خوف کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ ایرانی اتنے غمگین نہیں ہے جتنا قائدین بیرونی دنیا کو یقین دلائیں گے۔ اسے کئی برس پہلے ہی ختم کر دینا چاہئے تھا۔‘
امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ ان کی پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باوجوہ سے قاسم سلیمانی کو اپنے دفاع میں ختم کرنے سے متعلق بات ہوئی ہے۔
امریکی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ایرانی حکمرانوں کے اقدامات کی وجہ سے پورا خطہ عدم استحکام کا شکار ہو رہا ہے اور امریکہ خطے میں اپنے مفادات، عملے ،تنصیبات اور اپنے حریفوں کے تحفظ کے اپنے عزم پر قائم ہے اور وہ اس سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔

،تصویر کا ذریعہwww.twitter.com/@SecPompeo
امریکہ کے وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی جرمنی کے وزیر خارجہ ہیکو ماس سے اپنے دفاع کے لیے اٹھائے گئے صدر ٹرمپ کے اقدام یعنی قاسم سلیمانی کے خاتمے سے متعلق بات ہوئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جرمنی کو بھی ایرانی حکومت کی طرف سے جاری فوجی اشتعال انگیزی پر تشویش لاحق ہے۔ امریکہ اب بھی کشیدگی میں کمی لانے کے لیے پر عزم ہے۔

،تصویر کا ذریعہwww.twitter.com/@SecPompeo
جبکہ پاکستان کے دفتر خارجہ نے مشرقی وسطیٰ کی صورتحال پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو مشرق وسطیٰ میں ہونے والے حالیہ واقعات پر گہری تشویش ہے اور یہ واقعات خطے کے استحکام اور امن کے لیے خطرہ ہیں۔
پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام اقوام متحدہ کے چارٹر کے بنیادی اصولوں میں سے ہیں، جن پر عمل کیا جانا چاہئے۔ اس ضمن میں یکطرفہ اقدامات اور طاقت کے استعمال سے اجتناب کرنا ضروری ہے۔
پاکستان کے دفتر خارجہ کے بیان میں اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے مطابق، تمام فریقوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کریں، صورتحال میں کشیدگی کو تعمیری انداز میں کم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں اور سفارتی ذرائع سے معاملات کا حل تلاش کریں۔
برطانوی دفترِ خارجہ نے ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت پر ردِ عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ 'ہم نے ہمیشہ سے قاسم سلیمانی کی سربراہی میں ایرانی القدس فورس کی جانب سے جارحیت کے خطرے کو مدِ نظر رکھا ہے۔'
ان کی ہلاکت کے بعد ہم تمام فریقوں کو کشیدگی کے ختم کرنے کا مشورہ دیں گے۔ مزید کشیدگی کسی کے مفاد میں نہیں ہے۔

،تصویر کا ذریعہ@BernieSanders
تاہم اس اعلامیہ میں سکائی نیوز کی اس خبر کا ذکر نہیں تھا جس میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ برطانوی ملٹری نے خطے میں اپنی 'سکیورٹی اور تیاری' بڑھا دی ہے۔ وزیرِ دفاع کی جانب سے بھی اس خبر کی تصدیق ہونا باقی ہے۔
دوسری جانب امریکی صدارتی دوڑ میں ڈیموکریٹک امیدوار برنی سینڈرز نے اپنی ساتھی امیدواروں الزبتھ وارن اور جو بائیڈن کی طرح فضائی حملہ کرنے کے فیصلے پر تنقید کی ہے۔
انھوں نے عراق کی جنگ کے خلاف اپنے مؤقف کی جانب اشارہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ یہ حملہ 'ہمیں مشرقِ وسطیٰ میں تباہ کن جنگ کے قریب لے جائے گی جس سے ان گنت جانوں اور کھربوں ڈالرز کا زیاں ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب رپبکلن رہنماؤں نے صدر ٹرمپ کے اس اقدام کا خیر مقدم کیا ہے۔ کیون مکارتھی نے کہا کہ سلیمانی ایک دہشت گرد ہیں۔ صدر ٹرمپ اور ہماری افواج نے ایران اور پوری دنیا کو یاددہانی کرائی ہے کہ ہم امریکہ کے خلاف ہونے والے حملوں کو ہر صورت جواب دیں گے۔

،تصویر کا ذریعہ@GOPLeader
ایران کے پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل رمیضان شریف نے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کو قدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی کی ہلاکت پر ایک 'سخت ردِعمل' دیا جائے گا۔
انھوں نے جمعہ کی صبح مقامی ٹیلی ویژن پر بات کرتے ہوئے کہا کہ 'آج اسرائیلیوں اور امریکیوں نے تمام بین الاقوامی قوانین کو پامال کرتے ہوئے ایک جرم کر دیا ہے۔'
خیال رہے کہ ایران اسرائیل کو اپنا روایتی دشمن سمجھتا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ ابھی غم کی حالت میں ہیں لیکن ’غاصب، صیہیونی امریکہ سے بدلہ لینے کا عظم بہت مضبوط ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ 'امریکیوں اور صیہونیوں کی وقتی خوشی بہت جلد غم میں تبدیل ہو جائے گی۔'
ان کا مزید کہنا تھا کہ پاسدارانِ انقلاب سلیمانی کی ہلاکت کے بعد ایک نئے دور کا آغاز کرے گی اور ایسے بہت سے اہلکار ہیں جو ان کی وراثت سنبھالنا چاہتے ہیں۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجامن نتنیاہو یونان سے اپنے دورہ مختصر کر کے وطن واپس لوٹ رہے ہیں۔
اس موقع پر اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے جنرل سلیمانی کی ہلاکت کے حوالے سے رد عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ جیسے اسرائیل کے پاس اپنے دفاع کا حق ہے اسی طرح امریکہ کے پاس بھی اپنے دفاع کا حق موجود ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ قاسم سلیمانی امریکی شہریوں سمیت متعدد بے گناہ افراد کی موت کے ذمہ دار تھے۔ ’وہ (جنرل سلیمانی) اپنے اور حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے اور صدر ٹرمپ کو ان کے خلاف فوری، طاقت ور اور فیصلہ کن کارروائی کرنے کا مکمل کریڈٹ جاتا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل امریکہ کی امن اور اپنے دفاع کی جدوجہد میں اس کے ساتھ کھڑا ہے۔ امریکہ کے حریف چین کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جمعہ کے روز سامنے آنے والے ردِ عمل میں تمام قوّتوں، خاص کر امریکہ کو، تحمل کا مظاہرہ کرنے کا کہا ہے۔
آج کل نتنیاہو ایتھنز میں یونان اور سائپرس کے درمیان ایک گیس پائپ لائن بنانے کے حوالے سے معاہدہ کرنے گئے۔
چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’بین الاقوامی تعلقات میں جارحیت کی مسلسل مخالفت کی ہے۔‘
روس کے دفترِ خارجہ نے جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت پر ردِ عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ 'امریکی حملے کے باعث سلیمانی کی ہلاکت کو ایک غیر محتاط قدم کے طور پر دیکھتے ہیں جس سے پورے خطے میں تناؤ کی کیفیت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔'
'سلیمانی نے ایران سے وفاداری نبھاتے ہوئے قومی مفادات کا دفاع کیا۔ ہم اس موقع پر ایران کے عوام سے بھرپور تعزیت کا اظہار کرتے ہیں۔'
تیسری عالمی جنگ چھڑنے کا خدشہ
ساتھ ہی ماہرین کی جانب سے اس خدشے کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے کہ اگر امریکہ کے یورپی اتحادیوں نے امریکہ کی اس کارروائی پر تنقید کر دی تو پھر کیا ہو گا؟
کالم نگار اور عالمی امور پر گہری نظر رکھنے والے وجاحت علی کہتے ہیں کہ ’اگر ہمارے یورپی اتحادیوں نے امریکہ کے سلیمانی کو قتل کرنے کے فیصلے پر تنقید کی اور ایران کے جوہری معاہدے پر قائم رہے تو ٹرپ کا ردِعمل کیا ہو گا؟‘

،تصویر کا ذریعہ@WajahatAli
سوشل میڈیا پر جہاں اس حملے کے حوالے سے بات کی جا رہی ہے، وہیں یہ بحث بھی ہو رہی ہے کہ کیا اس امریکی اقدام کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں ممکنہ جنگ کے خدشات بڑھ جائیں گے اور کیا یہ کشیدگی تیسری عالمی جنگِ کا پیش خیمہ تو ثابت نہیں ہو گی۔
امریکی سینیٹر ایڈ مارکی نے کہا ہے کہ ٹرمپ کی جانب سے سلیمانی کی ہلاکت 'بڑی، دانستہ اور خطرناک کشیدگی کا پیش خیمہ ثابت ہو گی۔'
'صدر ٹرمپ نے امریکی افواج سمیت خطے میں موجود عام لوگوں کی زندگیاں بھی خطرے میں ڈال دی ہیں۔ ہم اس کشیدگی کو فوراً ختم کرنا ہو گا۔'
اس کے علاوہ مشرق وسطی پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ نگار اور مصنف ولی نصر کے مطابق جنرل سلیمانی خطے میں کافی مقبول تھے اور ان کی ہلاکت کے بعد ایران پر جوابی کارروائی کرنے کے لیے کافی دباؤ ہوگا۔

،تصویر کا ذریعہTwitter/Vali_nasr
دوسری جانب کتاب 'دی شیڈو وار' کے مصنف اور کالم نگار جیمز شیوٹو کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ اور ایران حالیہ کشیدگی کے باعث آمنے سامنے آتے ہیں تو یہ امریکہ کے لیے کسی کسی بھی دوسری جنگ سے مختلف ہو گی
'ایران میں بڑھتی کشدیدگی امریکہ کے لیے کسی بھی دوسری جنگ سے مختلف ہو گی۔ ایران اور اس کے حمایت یافتہ گروہ خطے میں اور اقوام عالم میں سویلین اور خارجہ امور سے تعلق رکھنے والے افراد پر حملوں کے علاوہ بحری جہازوں، پائپ لائنز، دیگر تنصیبات اور سائبر حملوں کی بھی صلاحیت رکھتے ہیں۔'
تاہم ایران کے پاسدارنِ انقلاب کے حوالے سے لکھی گئی مقبول کتاب 'وین گارڈ آف دی امام' کے مصنف افشون اوسٹووار کہتے ہیں کہ 'اب جنگ ہو گی۔'

،تصویر کا ذریعہTwitter/jimsciutto
جہاں تک امریکہ میں اس قدم پر عوامی ردعمل کا تعلق ہے تو جنرل سلیمانی کے کردار اور ان کو ہلاک کرنے کے فیصلے پر رائے منقسم ہے۔

،تصویر کا ذریعہ@giacomonyt
جہاں کچھ مغربی حلقے ان کی موت کو مشرقِ وسطی کےحالات میں ایک اہم پیش رفت مانتے ہیں، زیادہ تر کا خیال ہے کہ صدر ٹرمپ کے اس قدم سے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگا۔
کئی امریکی سیاست دانوں نے ٹرمپ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے یہ فیصلہ پارلیمان کو اعتماد میں لیے بغیر لیا، جس کا خمیازہ انھیں بھگتنا پڑے گا۔

،تصویر کا ذریعہ@ChrisMurphyCT
امریکی سینیٹر کرس مرفی نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ ’سلیمانی امریکہ کا دشمن تھا، سوال یہ نہیں ہے۔ سوال یہ ہے کہ رپورٹس کے مطابق کیا امریکہ نے کسی کنگریشنل منظوری کے بغیر ہی ایران کے دوسرے سب سے مضبوط شخص کی ہلاکت کی اجازت دے دی یہ جانتے ہوئے کہ اس سے خطے میں بڑی جنگ چھڑ سکتی ہے؟













