جنرل قاسم سلیمانی ایران کا ابھرتا ہوا ستارہ

وہ شخص جنھیں چند سال پہلے تک بہت سے ایرانی شہری راہ چلتے پہچان نہیں سکتے تھے اب وہ ڈاکومنٹریوں، خبروں اور پاپ گیتوں کا موضوع ہیں

،تصویر کا ذریعہunknown

،تصویر کا کیپشنوہ شخص جنھیں چند سال پہلے تک بہت سے ایرانی شہری راہ چلتے پہچان نہیں سکتے تھے اب وہ ڈاکومنٹریوں، خبروں اور پاپ گیتوں کا موضوع ہیں

آج کل ایران میں ٹیلی وژن آن کیجیے اور ہو سکتا ہے کہ جلد ہی آپ جنرل قاسم سلیمانی کو سکرین پر دیکھ لیں۔

اب لگتا ہے کہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس کے سربراہ جنرل سلیمانی گمنامی سے نکل کر سامنے آ رہے ہیں اور بیرونِ ملک کارروائیوں کے باعث اب انھیں ایران میں نامور شخصیت کا سا درجہ حاصل ہورہا ہے۔

وہ شخص جنھیں چند سال پہلے تک بہت سے ایرانی شہری راہ چلتے پہچان نہیں سکتے تھے اب وہ دستاویزی فلموں، خبروں اور پاپ گیتوں کا موضوع ہیں۔

عراق کے شیعہ ملیشیا جنگجوؤں کی جانب سے تیار کردہ ایک میوزک ویڈیو ایران میں بہت زیادہ پسند کی جارہی ہے۔

اس ویڈیو میں سپاہیوں کو دیوار پر جنرل سلیمانی کی تصویر سپرے سے پینٹ کرتے اور اس کے سامنے پریڈ کرتے دکھایا گیا ہے، جبکہ ان مناظر کے پس پردہ جذباتی موسیقی شامل کی گئی ہے۔

جنرل سلیمانی اس وقت شمالی عراق کے صوبے صلاح الدین ہیں اوردولت اسلامیہ سے تکریت شہر کا قبضہ چھڑوانے کے لیے عراقی اور شیعہ جنگجوؤں کی قیادت کر رہے ہیں۔

ایرانی خبررساں ادارے فارس نے ان کی فوجیوں کے ہمراہ تصاویر شائع کیں ہیں، اور عراق میں جنگجوؤں کے ذرائع نے بی بی سی فارسی کو بتایا کہ یہ کچھ وقت سے یہیں ہیں اور عراقیوں کو کارروائیوں کے لیے تیار کر رہے ہیں۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے جب جنرل سلیمانی جہادیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔

جنرل سلیمانی اس وقت شمالی عراق کے صوبے صلاح الدین ہیں اوردولت اسلامیہ سے تکریت شہر کا قبضہ چھڑوانے کے لیے عراقی اور شیعہ جنگجوؤں کی قیادت کر رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنجنرل سلیمانی اس وقت شمالی عراق کے صوبے صلاح الدین ہیں اوردولت اسلامیہ سے تکریت شہر کا قبضہ چھڑوانے کے لیے عراقی اور شیعہ جنگجوؤں کی قیادت کر رہے ہیں

جنرل سلیمانی اس حوالے سے بھی جانے جاتے ہیں کہ انھوں نے شام کے صدر بشار الاسد کی باغیوں کے خلاف کارروائیوں میں مدد کی اور کئی اہم شہروں اور قصبوں کو باغیوں سے چھڑانے میں کردار ادا کیا۔

ایران نے ہمیشہ اس بات کی تردید کی ہے کہ اس کی فوج شام اور عراق میں موجود ہے، لیکن ان دونوں ملکوں میں ہلاک ہونے والے فوجیوں اور ’فوجی مشیروں‘ کے عوامی جنازوں کا انعقاد گاہے بگاہے کرتا رہتا ہے ۔

قاسم سلیمانی ان میں سے کچھ جنازوں میں شرکت کر چکے ہیں۔

ایران اور امریکہ نظریاتی اعتبار سے ایک دوسرے کے سخت حریف ہو سکتے ہیں لیکن عراق میں دولت اسلامیہ کے خلاف محاذ نے دونوں ممالک میں ایک بالواسطہ اشتراک قائم کر دیا ہے۔

یہ وہ راستہ ہے جس کی جانب جنرل سلیمانی نے پہلے قدم بڑھایا تھا۔

سنہ 2001 میں جب امریکہ نے افغانستان میں طالبان کے خلاف کارروائی شروع کی تو ایران نے امریکہ کو فوجی انٹیلیجنس فراہم کی تھی۔ اسی طرح سنہ 2007 میں واشنگٹن اور تہران نے اپنے نمائندے بغداد بھیجے تاکہ وہاں کی سکیورٹی صورتحال پر مذاکرات کریں۔

اس وقت سابق عراقی وزیراعظم نوری المالکی بڑھتی ہوئی فرقہ وارانہ تشدد سے نبرد آزما ہو رہے تھے۔

دو سال قبل بی بی فارسی کی ایک ستاویزی فلم کے لیے ایک انٹرویو میں عراق میں سابق امریکی سفیر رائن کروکر نے بتایا تھا کہ جنرل سلیمانی کا بغداد مذاکرات میں اہم کردار تھا۔

’ان کے سیاسی تجزیات ایران کے روحانی پیشوا یا لبنان میں حزب اللہ کے حسن نصراللہ سے کم نہیں ہیں‘

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشن’ان کے سیاسی تجزیات ایران کے روحانی پیشوا یا لبنان میں حزب اللہ کے حسن نصراللہ سے کم نہیں ہیں‘

رائن کروکر کے مطابق انھوں نے جنرل سلیمانی کے اثرو رسوخ افغانستان میں بھی محسوس کیا تھا جب وہ بطور امریکی سفیر افغانستان میں تعینات تھے۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا ’افغانستان کے حوالے ایران میں میرے باہمی میل جول کے لوگوں نے مجھ پر واضح کیا کہ وہ وزارت خارجہ کو مطلع رکھیں گے، آخرَکار وہ جنرل سلیمانی ہی تھے جنہیں فیصلے لینے تھے۔‘

گذشتہ چند سالوں میں جنرل سلیمانی کا ایران کے خارجہ امور میں کردار مزید ابھر کر سامنے آیا ہے۔ وہ اب فون لائن کی دوسری طرف پائے جانے والے ایک چھپی ہوئی شخصیت نہیں ہیں۔ آج کل وہ ایران میں جانی پہچانی شخصیت ہیں۔

گزشتہ ماہ تہران میں معروف فجر فلم فیسٹیول میں ایک فاتح نے اپنے ایوارڈ جنرل سلیمانی کے نام کیا۔

یہ بھی اعلان کیا گیا کہ ایران میں اس کے پرانے حریف صدام حسین پر بننے والی ایک نئی فلم کی پروڈکشن میں سپروائزر کے طور پر بھی خدمات سرانجام دے سکتے ہیں۔

تاہم جنرل سلیمانی کی اس چمک دھمک سے تمام لوگ خوش نہیں ہیں۔

دسمبر 2014 میں مانامہ ڈائیلاگ سکیورٹی سمٹ کے دوران کینیڈین اور ایرانی شرکا کے درمیان جنرل سلیمانی کے کردار کے حوالے سے تندوتیز جملوں کا تبادلہ بھی ہوا تھا۔

کینیڈا کے اس وقت کے وزیرخارجہ جون بائرڈ نے انھیں دولت اسلامیہ کے خلاف لڑنے والا ’خطے میں ہیرو کے روپ میں دہشت کا ایجنٹ‘ کہا تھا۔

کچھ سیاسی کارکنان صدارتی محل پر پاسدارانِ انقلاب کے قابض ہو جانے کے بارے میں تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنکچھ سیاسی کارکنان صدارتی محل پر پاسدارانِ انقلاب کے قابض ہو جانے کے بارے میں تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔

ایران کے سابق جوہری مذاکرات کار حسن موسوین نے وزیر دفاع کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ وزیر ’محلوں اور عالیشان ہوٹلوں میں وقت گزار رہے ہیں جبکہ جنرل سلیمانی نے دولت اسلامیہ کے دہشت گردوں کے خلاف لڑنے کے لیے اپنی جان خطرے میں ڈالی ہے۔‘

ایران میں دائیں بازو کے بلاگرز نے بھی جنرل سلیمانی کے سیاست میں قدم رکھنے کی مہم کا آغاز کیا ہوا ہے۔ وہ انھیں ایران کا مخلص ترین اور سب سے کم بدترین سیاست دان کے طور پر پیش کر ہے اور ان سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ وردی اتار کر 2017 کے صدارتی انتخابات میں حصہ لیں۔

یہاں تک کہ ایرانی پارلیمنٹ کے ڈپٹی سپیکر اول نے بھی جنرل سلیمانی کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔

تین ماہ قبل محمد رضا باہونر کا کہنا تھا کہ ’ان کے سیاسی تجزیات ایرانی روحانی پیشوا یا لبنان میں حزب اللہ کے حسن نصراللہ سے کم نہیں ہیں۔‘

تاہم تمام ایرانی اس طرح کے جذبات نہیں رکھتے۔

کچھ سیاسی کارکنان صدارتی محل پر پاسدارانِ انقلاب کے قابض ہو جانے کے بارے میں تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔

وہ مصر کی مثال دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ جنرل جو دولت اسلامیہ کے خلاف برسرپیکار ہے ایران کے لیے ’السیسی‘ ثابت ہو۔