تکریت کی جنگ میں ایران کا اہم کردار

عراقی فوج اور سکیورٹی فورسز کے ساتھ ساتھ شعیہ ملیشیا گروہ تکریت کی جانب سے پیش قدمی کر رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنعراقی فوج اور سکیورٹی فورسز کے ساتھ ساتھ شعیہ ملیشیا گروہ تکریت کی جانب سے پیش قدمی کر رہے ہیں

عراق میں شعیہ ملیشیا کے ذرائع نے ایرانی انقلابی گارڈز کے دستے قدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کی دولت اسلامیہ کے خلاف آپریشن کی قیادت کی تصدیق کی ہے۔

عراقی دارالحکومت سے شمال کی جانب 150 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع تکریت شہر پر آٹھ ماہ قبل دولت اسلامیہ نے قبضہ کر لیا تھا۔ گذشتہ اتوار کو عراقی وزیراعظم حیدر العبادی نے شہر کا قبضہ واپس لینے کے لیے کارروائی کا اعلان کیا تھا۔

عراقی فوج اور سکیورٹی فورسز کے ساتھ ساتھ شعیہ ملیشیا گروہ، جو خود کو ’پاپولر موبلائزیشن‘ یونٹ کہتے ہیں، تکریت میں مختلف جانب سے پیش قدمی کر رہے ہیں۔

موقع پر موجود ذرائع نے بی بی سی فارسی کو بتایا کہ باقاعدہ طور پر آپریشن کے آغاز سے قبل ایرانی انقلابی گارڈز کے متعدد اہلکار کمانڈ لیول پر شامل تھے۔

ایرانی حکام نے تاحال ان دعوئوں کی تصدیق نہیں کی تاہم ایرانی انقلابی گارڈز کے قریب تر سمجھا جانے والے ایرانی خبر رساں ادارے فارس نے جنرل سلیمانی کی آپریشن میں شرکت کے بارے میں اطلاعات دی ہیں۔

اگر تکریت میں دولت اسلامیہ کے خلاف آپریشن کامیاب ہو جاتا ہے تو اسے ایران اور جنرل سلیمانی کی کامیابی تصور کیا جائے گا

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشناگر تکریت میں دولت اسلامیہ کے خلاف آپریشن کامیاب ہو جاتا ہے تو اسے ایران اور جنرل سلیمانی کی کامیابی تصور کیا جائے گا

فارس نے جنرل سلیمانی کی عراقی کمانڈرز اور حکام کے ساتھ تصاویر بھی شائع کی ہیں جن کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ تکریت کے قریب لی گئی ہیں۔

شعیہ ملیشیا گروہ سارایا الخوراسانی (خوراسانی بریگیڈ) کے ایک کمانڈر نے بی بی سی فارسی کو بتایا کہ جنرل سلیمانی کی قیادت میں ایرانی فورسز عراقی شیعہ جنگجوئوں کو تربیت آپریشن شروع ہونے سے خاصا پہلے سے فراہم کر رہی تھیں۔

دیگر کمانڈرز کا کہنا تھا کہ شیعہ جنگجو پہلی مرتبہ 107ایم ایم بندوقیں اور کم فاصلے تک ہدف کو نشانہ بنانے والے میزائلوں کا استعمال کر رہے ہیں، جو ایران کی جانب سے فراہم کیے گئے۔

اگرچہ گذشتہ سال امریکا اور اس کے اتحادیوں کے جانب سے دولت اسلامیہ کے خلاف اتحاد میں ایران کو شامل نہیں کیا گیا تاہم عراق میں دولت اسلامیہ کے جنگجوئوں کے خلاف ایران کی براہ راست شمولیت اس اتحاد کے قیام سے بہت پہلے منظر عام پر آ چکی تھی۔

’ایرانی فورسز عراق میں شیعہ جنگجوئوں کو تربیت آپریشن شروع ہونے کے خاصا پہلے سے فراہم کر رہی تھیں‘

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن’ایرانی فورسز عراق میں شیعہ جنگجوئوں کو تربیت آپریشن شروع ہونے کے خاصا پہلے سے فراہم کر رہی تھیں‘

گذشتہ موسم گرما سے عراق میں متعدد ایسے شعیہ جنگجو گروہ منظر عام پر آئے ہیں جو ایران کے ساتھ اتحاد کو کھل عام ظاہر کرتے ہیں اور خود کو ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ خامنہ ای کا پیروکار کہتے ہیں۔

ایرانی حکام نے ہمیشہ دولت اسلامیہ کے خلاف شعیہ اور کرد جنگجوئوں کی مدد کا اشارہ کیا ہے تاہم گذشتہ سال اگست میں ہونے والوں جھڑپوں میں ایرانی فوج کی براہ راست شمولیت سامنے آئی تھی۔

اس وقت ایرانی فورسز نے امرلی شہر کو دولت اسلامیہ کے قبصے سے چھڑانے کے لیے کرد اور شیعہ جنگجوئوں کے ساتھ مشترکہ آپریشن میں کھلے عام اہم کردار ادا کیا تھا۔

امرلی کے لڑائی کے دوران ہی بی بی سی فارسی کو ایران کی جانب سے ملیشیا جنگجوؤں کو بھیجے گئے ہتھیاروں تک رسائی حاصل ہوئی تھی۔

جب سے دولت اسلامیہ کے خلاف کارروائی کا آغاز ہوا ہے جنرل سلیمانی ایرانی اثرورسوخ اور اس کی عراق میں مداخلت کے حوالے سے جانا پہچانا چہرہ ہے۔

اب اگر تکریت میں آپریشن کامیاب ہو جاتا ہے تو اسے ایران اور میدان میں موجود ان کے کمانڈر کی کامیابی تصور کیا جائے گا اور ہو سکتا ہے کہ انہیں ان کے پرانے حریف سابق عراقی رہنما صدام حسین کے آبائی شہر کے فاتح کا اعزاز بھی ہو جائے۔