تکریت: دولتِ اسلامیہ کے ٹھکانوں پر بمباری و گولہ باری

،تصویر کا ذریعہAFP
عراق میں حکومتی افواج اور شیعہ ملیشیا کے جنگجو سابق عراقی صدر صدام کے آبائی شہر تکریت کے گرد جمع ہیں۔
تکریت کی انتظامیہ کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ حکومتی افواج نے شہر کے مرکز کی جانب پیش قدمی تو شروع نہیں کی ہے لیکن دولتِ اسلامیہ کی پوزیشنوں پر گولہ باری اور فضائی حملے جاری ہیں۔
شہر کی بیشتر آبادی نقل مکانی کر چکی ہے اور وہاں تاحال موجود افراد کے رشتہ داروں نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ گولہ باری کا نشانہ شہر کے نواحی علاقے ہیں۔
عراقی وزیرِ اعظم حیدر العبادی نے کارروائی کے دوران شہریوں کی جانوں کے ہر صورت میں تحفظ کا حکم دیا ہے۔
خیال رہے کہ شیعہ ملیشیا کے جنگجوؤں پر ان علاقوں میں قتلِ عام کا الزام عائد کیا جاتا ہے جو انھوں نے دولتِ اسلامیہ کے قبضے سے چھڑوائے ہیں۔
شمالی عراق کو دولت اسلامیہ کے قبضے سے چھڑانے کے لیے اتوار کے روز ہزاروں حکومتی فوجیوں اور شیعہ ملیشیا نےآپریشن شروع کیا تھا۔
آپریشن میں شریک شیعہ ملیشیا کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ایران کے ایک سینیئر فوجی جنرل عراق میں موجود ہیں اور اس آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں۔
پیر کو عراق کی حکومتی افواج نے دعویٰ کیا ہے کہ تکریت کے کئی علاقوں کو دولت اسلامیہ کے قبضے سے چھڑا لیا گیا ہے ۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دولت اسلامیہ کے خلاف آپریشن میں حصہ لینے والے فوجیوں کی تعداد 30 ہزار ہے اور انھیں عراقی فضائیہ کی مدد حاصل ہے۔ تاہم امریکہ نے واضح کیا ہے کہ اس کی فضائیہ عراقی افواج کی اس آپریشن میں کوئی مدد نہیں کر رہی ہے۔
گزشتہ جون میں دولت اسلامیہ نے عراق کے شمالی علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا۔ بغداد کے بعد عراق کا دوسرا بڑا شہر موصل بھی دولت اسلامیہ کے کنٹرول میں ہے۔
تکریت صوبہ صلاح الدین میں واقع ہے اور عراقی کے دوسرے بڑے شہر موصل کے راستے میں آتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ شمالی عراق کو دولت اسلامیہ کے قبضے سے چھڑانے کے لیے تکریت پر دوبارہ قبضہ انتہائی اہم ہے کیونکہ موصل جانے والے تمام راستے تکریت سے گزرتے ہیں۔
عراق کے فوجی اہلکاروں نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ حکومتی افواج نے تکریت کے دو قریبی اضلاع، التین، اور العابد پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ اس سے پہلے الدور اور تکریت کے جنوب مشرق میں العالم اور شہر کے شمالی ضلعے قادسیہ سے لڑائی کی اطلاعات آئی ہیں۔
اس فوجی آپریشن کی زیادہ معلومات سامنے نہیں آئی ہیں۔ البتہ ہسپتال کے ذرائع نے بتایا کہ پانچ فوجی اور گیارہ ملیشیا جنگجو ہلاک ہوئے ہیں۔
ایرانی انقلابی گارڈز کے دستے قدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی عراق میں موجود ہیں اور دولت اسلامیہ کے خلاف آپریشن میں مدد فراہم کر رہے ہیں۔
دولت اسلامیہ کی شمالی عراق میں پیش قدمی کے بعد جنرل قاسم سلیمانی کو بار بغداد کی حفاظت کے لیے کیے انتظامات کی نگرانی کرتے تصاویر سامنے آئی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service







