خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے گرم علاقوں میں برسوں بعد ’غیرمتوقع‘ برفباری: ’میں نے اپنی زندگی میں اِس علاقے میں کبھی برف پڑتی نہیں دیکھی‘

،تصویر کا ذریعہDr Rahim
- مصنف, محمد کاظم، عزیز اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اُردو ڈاٹ کام
پاکستان کے بالائی علاقوں میں بارش اور برفباری کی اطلاعات کے بیچ صوبہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں چند ایسے گرم مرطوب مقامات پر بھی ہلکی برفباری ہوئی ہے جہاں عموماً موسم سرما میں برفباری نہیں ہوتی یا یہ عمل طویل عرصے بعد دیکھنے کو ملا ہے۔
غیرمتوقع برفباری سے متاثرہ خیبرپختونخوا کے علاقوں میں جنڈولہ (ضلع ٹانک) اور صدہ (ضلع کرم) شامل ہیں جبکہ بلوچستان میں خاران اور نوشکی جیسے اضلاع کے بعض مقامات پر بھی برسوں بعد برفباری ہوئی ہے۔ ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ اس غیر متوقع برفباری کی بڑی وجہ موسمیاتی تبدیلی ہے۔
پاکستان میں محکمہ موسمیات کے مطابق ملک میں اب تک سب سے زیادہ برفباری مالم جبہ (38 انچ) میں ہوئی۔ وادی کالام میں اب تک 30 انچ، چترال میں 16 انچ اور پاڑا چنار میں 15 انچ برفباری ریکارڈ کی گئی ہے۔ اسی طرح صوبہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں اب تک ساڑھے 11 انچ برف پڑ چکی ہے جس کے بعد مری جانے والے تمام راستے سیاحوں کے لیے بند کر دیے گئے ہیں۔
محکمہ موسمیات کے مطابق صوبہ بلوچستان کے علاقوں قلات اور کوئٹہ میں بھی بالترتیب 1.6 اور 1.5 انچ برفباری ہوئی ہے۔
یاد رہے کہ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں پیش گوئی کی گئی تھی کہ پاکستان کو رواں برس دہائیوں کے بعد اپنے سخت ترین سرد موسم کا سامنا رہے گا اور اس کی بنیادی وجہ ’لانینا‘ نامی موسمیاتی پیٹرن کو قرار دیا گیا تھا۔
پاکستان میں گذشتہ مون سون سیلاب کے حوالے سے بین الایجنسی کوآرڈینیشن گروپ اور شراکت دار اداروں کی جانب سے مرتب کردہ رپورٹ کے مطابق، لانینا کے باعث پاکستان میں معمول سے زیادہ سرد موسم متوقع ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس غیر معمولی سردی سے وہ گھرانے سب سے زیادہ متاثر ہوں گے جو گذشتہ سال سیلاب سے پہلے ہی مشکلات کا شکار ہیں، خصوصاً خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان کے پہاڑی علاقے، جہاں پہلے ہی محدود وسائل کے ساتھ زندگی گزارنے والے خاندانوں کے لیے سردیوں کا مقابلہ مزید دشوار ہو سکتا ہے۔
جنڈولہ اور صدہ میں غیرمتوقع برفباری

،تصویر کا ذریعہMehmood Khan Baitni
خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع ٹانک کے قریب نیم قبائلی علاقے جنڈولہ میں برفباری کی ابتدا جمعرات کی دوپہر کو ہوئی اور یہ سلسلہ گذشتہ رات کو بھی جاری رہا۔ جنڈولہ سے تعلق رکھنے والے انسانی حقوق کے کارکن پتو لالہ نے بی بی سی اُردو کو بتایا کہ جنڈولہ میں حیران کن طور پر کل دوپہر کو برف گرنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ انھوں نے کہا کہ انھوں نے ’کبھی اپنی زندگی میں اس علاقے میں برفباری ہوتی نہیں دیکھی تھی اور کل جو کچھ ہوا وہ حسین اتفاق تھا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
پتو لالہ کے مطابق ’جیسے ہی برفباری کا آغاز ہوا تو مقامی لوگوں نے اس پر خوشی کا اظہار کیا۔‘ یاد رہے کہ جنڈولہ کا علاقہ ٹانک اور جنوبی وزیرستان کی سرحد پر واقع ہے۔
ڈپٹی کمشنر ٹانک نے بی بی سی کو بتایا کہ ’جنڈولہ سب ڈویژن میں برف پڑی ہے، لیکن یہ بہت زیادہ نہیں ہے۔‘ اس سوال کے جواب میں کہ کیا ان کی اطلاعات کے مطابق ماضی میں اس علاقے میں کبھی برفباری ہوئی؟ ڈپٹی کمشنر ٹانک نے کہا کہ ’مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اُن کی یادداشت میں ایسی کوئی بات نہیں کہ اِس علاقے میں کبھی برف پڑی ہو۔‘
انھوں نے کہا کہ ’یہ ایک پہاڑی علاقہ ہے جو وزیرستان کی سرحد کے ساتھ واقع ہے۔‘
دوسری جانب ضلع کرم میں صدہ اور اس کے قرب و جوار کے علاقوں میں بھی برفباری ہوئی ہے۔ صدہ ہسپتال میں موجود ڈاکٹر رحیم نے دعویٰ کیا کہ اس علاقے میں آخری برفباری 2016 کے موسم سرما میں ہوئی تھی۔ ’2019 میں بھی تھوڑی سے برف پڑی لیکن کل رات سے یہاں کافی برفباری ہوئی ہے۔‘
یاد رہے کہ سینٹرل کرم میں مجوزہ فوجی آپریشن کے وجہ سے نقل مکانی کرنے والے کچھ متاثرین بھی صدہ میں رہائش اختیار کیے ہوئے ہیں جو اس صورتحال کے باعث بُری طرح متاثر ہوئے ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ ضلع خیبر کے علاقے لنڈی کوتل میں برفباری ہوئی ہے۔ مقامی صحافی ہجرت علی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’چند سال پہلے خیبر کے بالائی علاقوں میں برفباری ہوئی تھی لیکن اس مرتبہ فرق یہ ہے کہ لنڈی کوتل شہر میں بھی برفباری ہوئی ہے۔‘
محکمہ موسمیات خیبر پختونخوا کے سربراہ ڈاکٹر محمد فہیم نے بتایا کہ ’لنڈی کوتل میں دہائیوں بعد پہلی بار تھوڑی بہت برفباری سنہ 2022 میں ہوئی تھی۔‘ انھوں نے بتایا کہ ’لنڈی کوتل میں سنہ 2022 میں جو برف باری ہوئی تھی اس کے بارے میں مقامی بزرگ شہریوں کا کہنا تھا کہ اُن کی یاداشت کے مطابق یہ برف باری لگ بھگ 50 سال کے بعد ہوئی تھی۔‘
محکمہ موسمیات خیبر پختونخوا کے سربراہ ڈاکٹر محمد فہیم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ماضی میں پاکستان کے بالائی علاقوں میں برفباری کا سلسلہ نومبر کے مہینے میں شروع ہو جاتا تھا اور یہ سلسلہ دسمبر میں عروج پر پہنچتا تھا لیکن اب گذشتہ چند برسوں سے نومبر اور دسمبر کے بجائے بالائی علاقوں میں برفباری جنوری کے مہینے میں شروع ہوتی ہے۔‘
یاد رہے کہ گذشتہ سال چترال میں اپریل میں بھی برفباری ہوئی تھی۔
جب ڈاکٹر فہیم سے پوچھا گیا کہ خیبر پختونخوا کے علاقے جنڈولہ میں برف کا پڑنا کتنا غیر معمولی ہے تو انھوں نے کہا کہ ’بنیادی طور پر بعض اوقات ایسا سسٹم تخلیق ہو جاتا ہے جو اولوں کی شکل میں ہوتا ہے لیکن اُن ساخت انتہائی نرم ہوتی ہے اور یہ برفباری جیسی محسوس ہو سکتی ہے۔‘
انھوں نے کہا یہ غیرمتوقع موسمیاتی پیٹرن بنیادی طور پر دنیا بھر میں پیش آنے والی موسمیاتی تبدیلیوں کی کڑی ہے۔

،تصویر کا ذریعہHijrat Ali
نوشکی کے ریگستانی علاقے میں برفباری
اسی طرح بلوچستان کے بعض ایسے علاقوں میں بھی گذشتہ روز برفباری ہوئی جن کا شمار گرم علاقوں میں ہوتا ہے اور ان میں نوشکی کے ریگستان کا علاقہ بھی شامل ہے۔
نوشکی سے تعلق رکھنے والے صاحب خان مینگل نے بتایا کہ ڈاک نامی علاقے میں نوشکی کے دیگر علاقوں کی نسبت زیادہ برفباری ہوئی۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ اس علاقے میں آخری بار برفباری 20 سال قبل ہوئی تھی۔
نوشکی شہر کے شمال اور شمال مغرب کا علاقہ ریگستان پر مشتمل ہے اور گزشتہ روز ہونے والی برفباری کی وجہ سے ریگستانی علاقوں نے بھی برف کی چادر اوڑھ لی ہے۔
نوشکی شہر کے مشرق میں واقع کیشنگی سے تعلق رکھنے والے ٹیچر محمد اکرم مینگل نے بتایا کہ نوشکی شہر اور اس کے مشرقی علاقوں میں سنہ 2017 کے بعد برف پڑی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGhulam Rasool
بعض علاقوں میں ہونے والے اس غیر معمولی برفباری کی وجوہات کیا ہیں؟
محکمہ موسمیات پاکستان کے چیف میٹرولوجسٹ ڈاکٹر ظہیر احمد بابر نے بتایا کہ ’گزشتہ چند دنوں کے دوران ایران اور افغانستان سے پاکستان میں داخل ہونے والا سسٹم انتہائی شدید تھا، جس کی وجہ سے مُلک کے چند ایسے علاقوں میں بھی شدید برفباری ہوئی ہے جہاں یا تو برفباری نہیں ہوتی یا کئی دہائیوں کے بعد ہوتی ہے۔‘
(ویڈر سسٹم سے مراد وہ قدرتی نظام ہے جو ہمارے ماحول میں موسم میں تبدیلی کا باعث بنتا ہے۔ یہ نظام ہوا، بادل، بارش، دھوپ اور درجہ حرارت کو کنٹرول کرتا ہے۔)
ظہیر احمد بابر کا مزید کہنا تھا کہ ’شدید برفباری کی دوسری وجہ کلائمٹ چینج یعنی ماحولیاتی تبدیلی ہے، جس کی وجہ سے دُنیا بھر کے موسم میں غیر معمولی تبدیلی ہو رہی ہے اور سردی و گرمی دونوں میں ہی شدت آ رہی ہے۔‘
(کلائمٹ چینج کا مطلب ہے زمین کے موسم اور درجہ حرارت میں لمبے عرصے کے دوران آنے والی بڑی تبدیلیاں۔ یہ تبدیلیاں زیادہ تر انسانوں کی سرگرمیوں کی وجہ سے ہو رہی ہیں، جیسے فیکٹریوں کا دھواں، گاڑیوں کا ایندھن اور جنگلات کا کٹاؤ۔)
محکمہ موسمیات پاکستان کے چیف میٹرولوجسٹ ڈاکٹر ظہیر احمد بابر کے مطابق ’ہمارے موسم ماضی میں جس طرح مقررہ وقت پر تبدیل ہوتے تھے، اب ویسے نہیں ہو رہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ ان میں تبدیلی اور شدت آ رہی ہے۔ یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ غیرمعمولی ویڈر پیٹرنز کی وجہ سے یہ سب ہو رہا ہے، جس کا مطلب ہے وہ موسم جو عام طور پر نہیں ہوتا یا جس کی توقع نہیں کی جاتی۔‘
دوسری جانب محکمہ موسمیات کے سابق ڈی جی غلام رسول کہتے ہیں کہ ’پاکستان کے جن علاقوں میں کئی دہائیوں کے بعد برفباری ہوئی ہے، اُس کی وجہ لا نینا ویڈر پیٹرن ہے۔ یہ ایک قدرتی موسمیاتی نظام ہے جو بحرالکاہل کے پانی کے ٹھنڈا ہونے سے شروع ہوتا ہے اور دنیا بھر میں غیرمعمولی موسمی صورتحال کا باعث بنتا ہے۔ یہ کبھی زیادہ بارش اور کبھی خشک سالی کا باعث بھی بنتا ہے اور اس کے اثرات ہر براعظم پر مختلف انداز میں محسوس کیے جاتے ہیں۔‘
غلام رسول کا کہنا ہے کہ ’اس مرتبہ اس ویڈر پیٹرن کی وجہ سے پاکستان کے پہاڑی علاقوں میں فروری کے مہینے میں بھی ایک سے دو مرتبہ ایسی ہی شدید موسمی صورتحال دیکھنے کو ملے گی، جس میں شدید بارش اور برفباری کا امکان ہے۔‘
ماہرین کے مطابق پاکستان میں اگر موسمی صورتحال پر ایک نظر ڈالیں تو سنہ 2025 میں ہونے والی بارشیں اور پھر سیلابی صورتحال کی وجہ سے ہونے والی تباہی موسمیاتی اور ماحولیاتی تبدیلی ہی کی وجہ سے تھی۔ تاہم ماہرین کے مطابق سال 2026 کے پہلے مہینے میں ہونے والی برفباری مغرب اور مشرق کی جانب سے پاکستان میں داخل ہونے والے ویڈر پیٹرنز کی وجہ سے ہے۔













