اسلام آباد پولیس نے وکیل ایمان مزاری اور اُن کے شوہر ہادی چٹھہ کو حراست میں لے لیا

،تصویر کا ذریعہSocial Media
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
اسلام آباد پولیس نے جبری گمشدگیوں سے متعلق مقدمات کی پیروی کرنے والی انسانی حقوق کی وکیل ایمان مزاری اور اُن کے شوہر ہادی علی چھٹہ کو وفاقی دارالحکومت سے حراست میں لے لیا ہے۔
اسلام آباد پولیس کی جانب سے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو حراست میں لینے کی تصدیق کی گئی ہے تاہم تاحال یہ نہیں بتایا گیا کہ انھیں کس مقدمے میں حراست میں لیا گیا ہے۔
ایمان مزاری کی والدہ اور سابق پی ٹی آئی رہنما شیریں مزاری نے ایکس پر دعویٰ کیا ہے کہ ’ایمان اور ہادی کو گرفتار کر کے الگ الگ گاڑیوں میں بیٹھا کر نامعلوم مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے اور گرفتاری سے قبل انھیں کوئی ایف آئی آر نہیں دکھائی گئی، بدقسمتی سے (اسلام آباد) بار کچھ نہ کر سکی۔ یہ فسطائیت کا عروج ہے۔۔۔‘
وکیل ایمان مزاری اور اُن کے شوہر ہادی علی چھٹہ سے منسلک وکلا کے مطابق یہ دونوں متنازع ٹویٹ کے مقدمے میں سییشل جج سینٹرل کی عدالت میں پیش ہونے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی وین میں سوار ہو کر جا رہے تھے جب سرینا ہوٹل کے قریب پولیس نے اُن کی گاڑی کو روکا اور دونوں میاں بیوی کو حراست میں لے لیا۔
جس وقت پولیس نے ملزمان کو گرفتار کیا اُس وقت اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اور سیکریٹری بھی گاڑی میں ایمان اور ہادی کے ساتھ موجود تھے۔
یاد رہے اسلام آباد ہائی کورٹ نے چند روز قبل سپیشل جج سینٹرل کی طرف سے جاری کردہ ایمان اور ہادی کے وارنٹ گرفتاری منسوخ کر دیے تھے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس اعظم خان نے گذشتہ برس جولائی میں تھانہ کوہسار میں درج ہونے والے مقدمے میں ایمان اور ہادی کی ایک دن کی حفاظتی ضمانت منظور کی تھی لیکن اس کے باوجود اسلام آباد پولیس کی بھاری نفری اسلام آباد ہائی کوٹ کے باہر تعینات تھی اور اسی دوران ان کے خلاف ایک اور مقدمے کی تفصیلات سامنے آئی تھیں۔
گرفتاری سے بچنے کے لیے ایمان مزاری اور اُن کے شوہر نے گذشتہ تین راتیں اسلام آباد ہائی کورٹ کی حدود میں ہی گزاریں تاہم جمعہ کی صبح انھیں عدالت کے احاطے سے نکلنے کے کچھ دیر بعد حراست میں لے لیا گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
صدر اسلام آباد ہائیکورٹ بار واجد گیلانی نے ایمان اور ہادی کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے وکلا برادری سے مکمل ہڑتال کی اپیل کی ہے۔
ایمان مزاری اور ان کے شوہر کی گرفتاری کی ویڈیو سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہیں اور ان کی گرفتاری موضوعِ بحث بنی ہوئی ہے۔
صحافی مطیع اللہ جان نے ایکس پر لکھا ’ایڈووکیٹ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی گرفتاری انتہائی قابلِ مذمت ہے۔ اگر بار کے عہدیداران ایڈوکیٹ ایمان مزاری اور ایڈوکیٹ ہادی علی چٹھہ کو اپنی حفاظت میں بینچ اور انصاف تک رسائی نہیں دے سکے تو پھر وکلا برادری کے لیے یہ ایک بہت بڑا لمحہ فکریہ ہے۔‘
صحافی ماریانا بابر نے ایکس پر لکھا ’عدلیہ پھر ناکام ہو گئی۔ اپنے ہی قوانین کو پامال کرتے ہوئے کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی۔‘

،تصویر کا ذریعہgettyimages
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
خیال رہے چند روز قبل اسلام آباد ہائیکورٹ نے وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چھٹہ کے خلاف درج ایک مقدمے میں حفاظتی ضمانت منظور کرتے ہوئے اسلام آباد پولیس کو ملزمان کی گرفتاری سے روک دیا تھا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس اعظم خان نے اس مقدمے کی سماعت کی تھی۔ ملزمان کی طرف سے سینیٹر کامران مرتضیٰ عدالت میں پیش ہوئے اور انھوں نے دلائل دیے کہ ’پہلی مرتبہ کسی خاتون نے ضمانت کے حصول کے لیے پوری رات اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے میں گزاری ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ اگر اسلام آباد پولیس نے ان کے مؤکلین کے خلاف پہلے سے مقدمہ درج کر رکھا تھا تو انھیں چاہیے تھا کہ وہ انھیں پہلے ہی گرفتار کر لیتے۔ انھوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد پولیس کے حکام کو اس مقدمے میں گرفتاری اسی وقت ہی کیوں یاد آئی جب متنازع ٹویٹ کے مقدمے میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے متعلقہ عدالت کی طرف سے ایمان مزاری اور ان کے شوہر کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کو کالعدم قرار دے دیا۔
انھوں نے اس درخواست کی سماعت کرنے والے جج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کو یہ یقینی بنانا چاہیے کہ عدالت کے احاطے سے کسی کو گرفتار نہ کیا جائے۔
انھوں نے استدعا کی تھی کہ ان کے مؤکلین کو اس مقدمے میں حفاظتی ضمانت دی جائے اور پولیس کو یہ ہدایت کی جائے کہ اگر ان کے خلاف کوئی مقدمہ ہے تو جب تک وہ مقدمہ سامنے نہیں آتا اس وقت تک ان کے مؤکلین کو گرفتار نہ کیا جائے۔
جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے سامنے جو مقدمہ ہے وہ اسی کی حد تک ہی احکامات جاری کر سکتے ہیں۔
بعد ازاں عدالت نے ایمان مزاری اور ان کے شوہر کی دس ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض حفاظتی ضمانت منظور کر لی تھی۔
سماعت کے دوران وکلا کی ایک قابل ذکر تعداد کمرۂ عدالت میں موجود تھی۔
متنازع ٹویٹس کیس: ایمان مزاری اور ان کے شوہر پر کیا الزامات ہیں؟

،تصویر کا ذریعہsocial media
واضح رہے کہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن اتھارٹی کے سب انسپیکٹر کی مدعیت میں ایمان مزاری، ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ اور چند دیگر افراد کے خلاف مقدمہ 22 اگست کو درج کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا کہ ملزمان سوشل میڈیا پر ریاستی اداروں کو نشانہ بنا رہے ہیں اور ان کا یہ عمل ریاست مخالف ہے۔
اس مقدمے میں کہا گیا کہ ملزمان سوشل میڈیا پر کالعدم تنظیموں کے بیانیے کی ترویج کر رہے ہیں۔
اس مقدمے میں یہ بھی کہا گیا کہ ملزمان سوشل میڈیا پر منصوبہ بندی کے تحت ریاستی اداروں پر عوام کے اعتماد کو ختم کرنے اور ملک میں بدامنی پیدا کرنا چاہتے ہیں۔
پانچ دسمبر کو ٹرائل کورٹ میں اس کیس کی سماعت کے دوران ایمان مزاری اور اُن کے شوہر ہادی علی چٹھہ نے جج افضل مجوکا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ انھیں معلوم ہے کہ ان کے خلاف مقدمہ یکطرفہ طور پر چلایا جا رہا ہے جس میں انھوں نے نہ صرف پراسیکیوشن پر اعتراض اٹھایا بلکہ انھوں نے عدالت پر عدم اعتماد کرتے ہوئے اس مقدمے کو کسی دوسری عدالت میں منتقل کرنے کی درخواست دی تھی۔
اس دوران ایمان مزاری کا کہنا تھا کہ انھیں معلوم ہے کہ انھیں اس مقدمے میں سزا دی جائے گی اور وہ بھی سات سال ہو گی لیکن وہ یہ سزا بھگتنے کے لیے تیار ہیں۔
اس پر جج افضل مجوکا مسکرا دیے اور پراسیکیوٹر کو کہا کہ وہ اس مقدمے سے متعلق حتمی دلائل دیں۔
ملزم ہادی علی چٹھہ نے اس دوران عدالت کو بتایا تھا کہ انھیں ضابطہ فوجداری کی دفعہ 342 کے تحت بیان داخل کروانے اور اپنی صفائی میں گواہ لانے کی اجازت دی جائے، جس پر عدالت نے پراسیکیوشن کو نوٹس جاری کیا تھا۔
ملزم ہادی چٹھہ نے اپنی درخواست کے حق میں خود ہی دلائل دیے تھے اور کہا تھا کہ 342 کا بیان اصل میں ملزم کا ہوتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ہماری معلومات کے مطابق سٹیٹ کونسل نے 342 کا جواب دیا اور وہ 342 کا جواب سٹیٹ کونسل کا ہے ملزمان کا نہیں۔
ہادی چٹھہ نے کہا کہ جب اس مقدمے کی کارروائی کے دوران گواہان پر جرح ہوئی تو سٹیٹ کونسل کو سوالنامہ دے دیا گیا اور پراسیکیوشن نے سٹیٹ کونسل کو سوالنامہ دیا، جس پر ملزم نے انحصار نہیں کیا۔
انھوں نے عدالت کو بتایا کہ انھیں سوالنامہ نہیں دیا گیا جس پر عدالت نے 33 سوالات پر مشتمل سوالنامہ انھیں دیا۔
ہادی چٹھہ کا کہنا تھا کہ ہم سٹیٹ کونسل کے خلاف عدم اعتماد کی درخواست عدالت کو دے چکے ہیں۔
انھوں نے کہا تھا کہ وہ اپنا 342 کا جواب دینا چاہتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ گواہان کی بھی فہرست ہے اور ان گواہان میں صحافی احمد نورانی کی والدہ، صحافی مدثر نارو کی والدہ، سردار اختر مینگل، شاعر احمد فرہاد، عارفہ نور ودیگر گواہان میں شامل ہیں۔
ہادی چٹھہ نے کہا تھا کہ عدالت اگر چاہے تو گواہان کو سمن بھی کر سکتی ہے۔











