انڈین انفلوئنسر کی کھانا کھانے کی وائرل ویڈیو: ’اس قسم کے رویے کو رومانوی رنگ دینا غلط ہے‘

انڈین انفلوئنسر کی وائرل ویڈیو

،تصویر کا ذریعہScreen Grab

کھانے کی میز اور دسترخوان پر اکثر ماں کا اپنے منھ سے نوالہ نکال کر اپنے بچوں کو دینا یا بچوں کو کھاتا دیکھ کر کھانے سے ہاتھ روک لینا تو سب نے دیکھا لیکن ایک ویڈیو جس میں ایک بیوی کو اپنی پلیٹ سے کھانا اپنے شوہر کی پلیٹ میں منتقل کرتے دکھایا گیا ہے، نے سوشل میڈیا کو تقسیم کر دیا ہے۔

یہ ویڈیو انڈیا کی مقبول انفلوئنسر تمسی جین کے یوٹیوب اور دیگر سوشل میڈیا چینلز پر اپنے شوہر نکو کے ساتھ شیئر کی گئی تھی۔

یہ ویڈیو دراصل ایک مختصر دورانیے کی ریل ہے، جس میں میاں بیوی کھانے کی میز پر بیٹھے تھالیوں میں کھانا کھا رہے ہیں۔ اس دوران ان کے درمیان کوئی مکالمہ تو نہیں ہوتا مگر اپنے فون میں مگن شوہر نظر اٹھائے بغیر اچانک اپنی بیوی کو تھالی میں مزید چاول ڈالنے کا اشارہ کرتے ہیں۔

ان کی اہلیہ فوراً مرتبان میں چاولوں کی مقدار دیکھتی ہیں اور پھر اپنی تھالی سے چاول نکال کر انھیں دے دیتی ہیں اور اس کا انھیں بالکل پتا بھی نہیں چلتا۔

یہ ویڈیو جب ٹوئٹر پر کسی اور صارف کی جانب سے شیئر کی گئی تو اسے یہاں 63 لاکھ افراد اب تک دیکھ چکے ہیں جبکہ یوٹیوب شارٹس پر یہ ویڈیو ایک کروڑ 10 لاکھ افراد نے دیکھی ہے۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

X پوسٹ کا اختتام, 1

اس بارے میں اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر تمسی نے ایک کمنٹ میں یہ بھی کہا کہ انھوں نے ایسی ہی ایک ویڈیو جنوبی انڈیا کے کسی اکاؤنٹ سے شائع ہوتے دیکھی تھی تو انھوں نے سوچا کے یہ شمالی انڈیا سے بھی کسی کو بنا کر شیئر کرنا چاہیے۔

اس ویڈیو کا عنوان ہے کہ ’صرف انڈین بیویاں ہی یہ کر سکتی ہیں‘۔

خیال رہے کہ سوشل میڈیا پر ازدواجی زندگی پر مواد بنانے والے متعدد ایسے اکاؤنٹس موجود ہیں جو متعدد ویڈیوز کے ذریعے روزمرہ کا مواد شیئر کرتے ہیں۔

اس ویڈیو کے بارے میں مختلف قسم کی آرا سامنے آ رہی ہے۔ کچھ صارفین تنقید کر رہے ہیں کہ جب انفلوئنسر اس قسم کا مواد بناتے ہیں جن میں بیویوں اور شوہروں کو ایک مخصوص روشنی میں دکھایا جاتا ہے تو اس سے عام لوگوں میں بھی ایسا ہی رویہ پروان چڑھتا ہے۔

اکثر صارفین ویڈیو میں شوہر کے رویے پر تنقید کر رہے ہیں جبکہ کچھ کا خیال ہے کہ یہ ایک خوبصورت لمحے سے زیادہ کچھ بھی نہیں اور یہ حقیقت بھی نہیں اس لیے اس پر تنقید مناسب نہیں۔

حالانکہ یہ ویڈیو انڈیا کی ہے اور اسے ایک انڈین صارف نے شیئر کیا ہے تاہم اس پر پاکستانی صارفین خصوصاً خواتین تبصرے کر رہی ہیں۔

ایک صارف نے اس بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اس قسم کے رویے کو امیر خواتین (انفلوئنسر) کی جانب سے رومانوی رنگ دینا اس لیے بہت غلط ہے کیونکہ اصل میں معاشی طور پر بدحال خواتین ایسے رویوں کے باعث غذائیت کی کمی کا شکار ہوتی ہیں۔‘

X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

X پوسٹ کا اختتام, 2

اسی طرح پرینکا نامی ایک صارف نے کہا کہ ’اس ویڈیو میں اصل مسئلہ دراصل شوہر کا نظریں اٹھا کر بیوی یا کھانے کی طرف نہ دیکھنا ہے، وہ پورا وقت موبائل پر دیکھ رہے ہیں۔‘

اکثر صارفین یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ حالانکہ یہ ویڈیو فلم بند کی گئی لیکن ایسا انڈیا اور پاکستان کے متعدد گھرانوں میں دیکھنے کو ملتا ہے۔

ایک صارف نے اس بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ پورا دن کام کریں، کھانا بنائیں اور پھر اپنے حصے کا بھی ایک ایسے شخص کو دیں جو اپنے فون میں مصروف ہیں اور وہ ان کے کھانے کی تعریف بھی نہیں کر سکتے اور نہ ہی کھانے کی عزت کر سکتے ہیں۔ یہ ہمیشہ خواتین کے ساتھ ہی کیوں ہوتا ہے؟‘

X پوسٹ نظرانداز کریں, 3
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

X پوسٹ کا اختتام, 3

ایک صارف نے لکھا کہ یہ ایک ماں اور اس کے چالیس سالہ بیٹے کی ویڈیو کیوں معلوم ہو رہی ہے؟

ایک صارف کا کہنا تھا کہ ’یہی وجہ ہے کہ ہمیں ’رومانوی رویے‘ پر تنقید کرنی چاہیے کیونکہ پدرشاہی نظام میں خواتین کو قید میں رکھنا اور ان سے فائدے اٹھانا محبت کے طور پر دکھایا جاتا ہے۔‘

صارف پارومیتا نے خاتون کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ’بہن تم اپنا کھانا کھاؤ، وہ اپنا دیکھ لے گا۔ وہ ویسے بھی آپ کو مکمل طور پر نظر انداز کر رہا ہے۔‘

اسی طرح ایک صارف نے لکھا کہ یہ شخص اپنے سامنے پڑے ہوئے چاول اپنی پلیٹ میں کیوں نہیں ڈال سکتا؟۔۔۔

امت پال نامی صارف نے لکھا کہ یہ وہ انڈین مرد بچے ہیں جو کبھی بڑے نہیں ہوئے۔ جنھوں نے یہ ویڈیو بنائی ہے انھوں نے انڈیا کی پدرشاہی ثقافت کو عیاں کر دیا ہے۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 4
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

X پوسٹ کا اختتام, 4

ایک صارف نے لکھا کہ ’انڈیا میں ایک چوتھائی بالغ خواتین غذائی قلت کا شکار ہوتی ہیں اور ان کا بی ایم آئی 18.5 سے کم ہوتا ہے اور ان میں سے 57 فیصد میں خون کی کمی بتائی جاتی ہے۔ مہذب معاشروں میں انفلوئنسرز کو اس قسم کا پروپیگینڈا کرنے پر سزائیں ملتی ہیں۔‘

کچھ صارفین کا یہ ماننا ہے کہ اس ویڈیو پر ضرورت سے زیادہ تنقید بھی درست نہیں کیونکہ اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔