محکمہ موسمیات کی بارش اور تیز ہواؤں کی پیش گوئی: کیا ایرانی فضا میں موجود ’خطرناک زہریلے مادے‘ پاکستان میں داخل ہو سکتے ہیں؟

،تصویر کا ذریعہEPA
- مصنف, اسماعیل شیخ
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام
- مطالعے کا وقت: 6 منٹ
پاکستان کے محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ اگلے تین روز تک ملک کے بالائی حصوں میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔
پیر کے روز محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مغربی ہواؤں کا ایک سلسلہ پیر کی شام سے ملک کے مغربی حصوں میں داخل ہونے کا امکان ہے جو 12 مارچ تک برقرار رہے گا۔
محمکمہ موسمیات کے مطابق اس موسمی نظام کے زیر اثر نو مارچ سے 12 مارچ کے دوران چترال، دیر، سوات کوہستان، شانگلہ، بٹگرام، بونیر، ملاکنڈ، مانسہرہ، ایبٹ آباد، ہری پور، گلگت بلتستان اور کشمیر کے اضلاع میں مطلع ابر آلود رہنے کے علاوہ تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ درمیانی درجے کی بارش جبکہ چند مقامات پر موسلا دھار بارش کا امکان ہے۔
اس کے علاوہ خیبر، مہمند، پشاور، صوابی، مردان، چارسدہ، نوشہرہ، باجوڑ، بنوں، وزیرستان، اورکزئی، کرم، کوہاٹ، ہنگو اور میانوالی میں 10 اور 11 مارچ کے دوران تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ ہلکی بارش کی توقع ہے۔
محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ نو مارچ سے 11 مارچ کے دوران اسلام آباد، خطہ پوٹھوہار، مری، گلیات اور گردو نواح میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے جبکہ اس دوران ملک کے بالائی علاقوں اور اسلام آباد میں چند مقامات پر ژالہ باری کا بھی امکان ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
بارشوں کے اس سلسلے کے نتیجے میں ملک کے بالائی علاقوں میں دن کے اوقات میں درجہ حرارت میں تین سے چار ڈگری سینٹی گریڈ کم ہونے کی پیش گوئی کی گئی ہے، جبکہ بالائی خیبر پختونخواہ، گلگت بلتستان اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں چند مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ بھی ہو سکتی ہے۔
جہاں پاکستان میں خشک موسم کے بعد بارشوں کی پیش گوئی خوش آئند تصور کی جا رہی ہے، وہیں محکمہ موسمیات نے اپنی ایڈوائزری میں خبردار کیا ہے کہ ایران میں جاری حالات کے باعث مغرب سے آنے والی ہواؤں کے ساتھ آلودگی کے ذرات پاکستان میں پھیل سکتے ہیں اور اس کے نتیجے میں پاکستان کے مغربی حصوں میں ہوا کا معیار (ایئر کوالٹی) خراب ہو سکتی ہیں۔
ایران میں تیل ڈپوؤں پر حملے کے بعد تیزابی بارش اور آلودہ ہوا
سنیچر اور اتوار کی درمیانی رات اسرائیل نے ایران میں تیل کے کئی ڈپو اور ریفائنریوں کو نشانہ بنایا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان حملوں کے بعد تہران کے بڑے حصوں پر دھواں چھا گیا تھا۔
ماحولیاتی تحفظ کی تنظیم نے ایرانی شہریوں سے تہران میں بڑھتی آلودگی کے پیش نظر غیر ضروری بیرونی سرگرمیوں سے گریز کرنے اور اپنے گھروں میں زیادہ سے زیادہ رہنے کا مشورہ دیا ہے۔
دوسری جانب ایرانی ہلال احمر نے آگ لگنے کے نتیجے میں تیزابی بارش کے امکان کے بارے میں خبردار کیا ہے۔
بی بی سی کے مطابق ایرانی صحافی فاطمہ رجبی اتوار کے روز مقامی وقت کے مطابق صبح نو بجے تہران کے آسمان کی جو تصاویر پوسٹ کیں اس میں آسمان سیاہ نظر آ رہا تھا۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ کچھ علاقوں میں بارش ہوئی ہے۔
ایک اور ایرانی صارف نے لکھا کہ بارش کے ساتھ سیاہ رنگ کے ذرات بھی زمین پر گرے ہیں۔
بعد ازاں ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ تیل کے ڈپو اور ریفائنریوں پر اسرائیلی حملے کے باعث ’فضا میں خطرناک مواد اور زہریلے مادے پھیل رہے ہیں،‘ جو ’بڑے پیمانے پر جانوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔‘
یہاں یہ سوال اُٹھتا ہے کہ کیا ایران سے آنے والی ہوائیں پاکستان کو بھی نقصان پہنچا سکتی ہیں؟

،تصویر کا ذریعہEPA
کالی یا ایسڈک بارش کیا ہوتی ہے اور یہ کتنی خطرناک ہے؟
بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کراچی میں واقع کلائمٹ ایکشن سینٹر کے ڈائیریکٹر یاسر دریا کہتے ہیں کہ ایران میں بمباری کے باعث بہت بڑی مقدار میں تیل جلا ہے اور اس سے کالے رنگ کا دھواں بھی نکلتا نظر آ رہا ہے۔
وہ بتاتے ہیں کہ جب تیل یا پیٹرول جلتا ہے تو اس سے سلفر ڈائی آکسائیڈ اور نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ اور اس کے دیگر مرکبات نکلتے ہیں۔
’یہ دونوں چیزیں جب پانی سے ملتی ہیں تو ایسڈ (تیزاب) میں تبدیل ہو جاتی ہیں، سلفیورک ایسڈ اور نائٹرک ایسڈ اور یہ ایسڈ جاندار چیزوں کو جلا دیتے ہیں، چاہے انسان ہوں ، جانور یا درخت۔‘
بی بی سی کی نامہ نگار برائے ماحولیات و سائنس ایسمے سٹالرڈ کے مطابق ایران میں فضائی حملوں کے فوری خطرات کے ساتھ ساتھ شہریوں کو اب صحت کے سنگین خدشات لاحق ہیں، کیونکہ تباہ شدہ تیل کے ڈھانچے سے آلودگی خارج ہو رہی ہے۔
اس کے نتیجے میں تیل اور بھاری دھاتیں اردگرد کی مٹی اور پانی میں شامل ہو جائیں گی، جو ماحول اور انسانوں کے لیے طویل مدتی خطرات پیدا کرے گا۔
کیا آلودگی کے یہ ذرات پاکستان تک پہنچ سکتے ہیں؟
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
ایران میں جاری صورتحال کے تناظر میں محکمہ موسمیات نے پاکستان میں ہوا کے معیار کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا ہے۔
محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ مغرب سے چلنے والی ہوائیں ایران کی فضا میں موجود آلودگی کے ذرات کے پاکستان میں داخل ہونے کا امکان ہے اور اس سے خاص طور پر ملک کے مغربی حصوں میں ہوا کے معیار (ایئر کولٹی) کو نمایاں طور متاثر کر سکتی ہیں۔
یاسر دریا سے جب سوال کیا گیا کہ آیا ایران فضا میں موجود آلودگی کے ذرات پاکستان آ سکتے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ نقشے کے مطابق اس وقت سمندر سے ہوائیں سندھ اور بلوچستان میں داخل ہو رہی ہیں جو اوپر شمال کی جانب جا رہی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ تہران میں ہونے والی بمباری کے بعد اس طرف سے ہوائیں پاکستان کی طرف نہیں آ رہی ہیں۔
محکمہ موسمیات کے ڈائیریکٹر محمد عرفان ورک کہتے ہیں کہ ایران میں پیدا ہونے والی آلودگی سے پاکستان کے مغربی حصے متاثر ہو سکتے ہیں۔
تاہم ان کا کہنا ہے کہ ’جس طرح کی کیفیت ایران میں ہے، ویسی صورتحال تو پاکستان میں نہیں ہوگی لیکن ہمارے مغربی حصوں میں تھوڑی بہت آلودگی ہو سکتی ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ چترال اور دیر میں ابھی بارش ہوئی اور وہ بالکل نارمل بارش تھی۔













