عراق میں مبینہ اسرائیلی فوجی اڈے کا معمہ اور سکیورٹی فورسز کا آپریشن

،تصویر کا ذریعہPopular Mobilization Authority
عراق میں ایک بار پھر اس معاملے پر بحث شروع ہو گئی ہے کہ کیا ملک میں اسرائیل کا کوئی خفیہ اڈا قائم تھا اور سوال کیا جا رہا ہے کہ عراقی سکیورٹی فورسز کی جنوب مغربی صحرا میں کس سے جھڑپ ہوئی؟
یہ بحث اس وقت تیز ہوئی جب امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل نے نو مئی 2026 کو امریکی حکام سمیت دیگر نا معلوم ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ اسرائیل نے ایران کے خلاف اپنے عسکری آپریشنز میں مدد کے لیے عراق کے صحرائی علاقے میں ایک مبینہ خفیہ لاجسٹک اڈا قائم کیا ہے۔
تاہم عراقی سکیورٹی میڈیا سیل نے کہا ہے کہ انھیں اس علاقے میں کسی غیر ملکی فورس کی موجودگی کے شواہد نہیں ملے۔
عراقی سکیورٹی میڈیا سیل کے سربراہ سعد کے مطابق اس علاقے میں تلاشی کے لیے کارروائیاں کی گئیں، تاہم وہاں کسی غیر ملکی یا غیر مجاز مسلح گروہ کی موجودگی سامنے نہیں آئی۔
انھوں نے کہا کہ یہ کارروائیاں پانچ مارچ کو پیش آنے والے ایک واقعے کے بعد کی گئیں، جب کربلا کے قریب ایک صحرائی علاقے میں عراقی سکیورٹی فورسز کا ایک ’نامعلوم گروہ‘ سے تصادم ہوا تھا، جس میں ایک عراقی اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوئے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ بعد میں کی جانے والی کارروائیوں میں نہ تو اس گروہ کا سراغ ملا اور نہ ہی اس سے منسلک کوئی سازو سامان۔
یہ واقعہ 28 فروری کو ایران کے خلاف شروع ہونے والی امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے چند روز بعد پیش آیا تھا۔
وال سٹریٹ جرنل کے مطابق ایک مقامی چرواہے نے علاقے میں غیر معمولی سرگرمی کی اطلاع دی تھی جس کے بعد عراقی فورسز نے اس مقام کی طرف پیش قدمی کی۔ لیکن اسی موقع پر اسرائیلی فورسز نے ان پر حملہ کر دیا۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ اسرائیل نے امریکہ کے پرچم تلے یہ اڈا قائم کیا تھا، اس میں خصوصی دستے بھی شامل تھے اور یہ اڈا اسرائیلی فضائیہ کے لیے ایک لاجسٹک مرکز کے طور پر کام کرتا تھا۔
عراق کی مشترکہ آپریشنز کمانڈ نے ملک میں کسی بھی غیر مجاز فوجی اڈے یا غیر ملکی فورس کی موجودگی کی تردید کی ہے، خصوصاً کربلا اور نجف کے صحرائی علاقوں میں، اور کہا ہے کہ صحرائی اور سرحدی علاقوں میں سکیورٹی کارروائیاں اور تلاشی کا عمل جاری ہے۔
بیان کے مطابق پانچ مارچ کو عراقی سکیورٹی فورس کا ’نامعلوم غیر مجاز گروہوں‘ سے تصادم ہوا، جنھیں فضائی مدد حاصل تھی۔
عراقی ذرائع ابلاغ اور مقامی رپورٹس کے مطابق رکن پارلیمان محمد الخفاجی نے چار مارچ کو کہا تھا کہ جو چیز کربلا کے انتہائی مغرب میں لینڈ ہوئی، وہ اب تک وہاں موجود دکھائی دیتی ہے۔
انھوں نے کہا کہ عراقی فوج کا ایک دستہ، جو تقریباً 30 گاڑیوں پر مشتمل تھا، اس مقام کا جائزہ لینے کے لیے روانہ ہوا، تاہم اسے فضائی حملے اور فائرنگ کا سامنا کرنا پڑا، جس کے نتیجے میں ایک اہلکار ہلاک، دو زخمی ہوئے اور ایک گاڑی تباہ ہو گئی۔
انھوں نے مزید کہا کہ مشترکہ آپریشنز کمانڈ کے بیان میں کسی فریق کی نشاندہی نہیں کی گئی، جبکہ ان کے بقول ’یہ واضح ہے کہ یہ ایک امریکی فورس تھی جس میں ہیلی کاپٹرز اور فوجی شامل تھے۔‘
انھوں نے حکام سے اس معاملے پر سنجیدہ کارروائی کا مطالبہ کیا۔
رکن پارلیمان ابو تراب التمیمی نے بھی ایک بیان میں کہا کہ مغربی عراقی صحرا میں مبینہ اسرائیلی فوجی اڈے کی موجودگی کی اطلاعات ’سکیورٹی کی سنگین ناکامی‘ ہیں اور انھوں نے معاملے کی فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب قوت الحشد الشعبی اور عراقی سکیورٹی فورسز نے 12 مئی کو نجف اور کربلا کے صحرائی علاقوں میں وسیع سکیورٹی آپریشن شروع کیا ہے۔
واضح رہے کہ قوت الحشد الشعبی عراق کی فوجی طرز پر تربیت یافتہ ایک فورس ہے، جو سکیورٹی کارروائیوں میں فوج کے ساتھ مل کر حصہ لیتی ہے۔ اسے پاپولر موبلائزیشن فورسز (پی ایم ایف) بھی کہا جاتا ہے۔
پی ایم ایف اور عراقی فورسز کی ان کارروائیوں کا مقصد صحرائی علاقوں میں سکیورٹی کو مضبوط بنانا اور کنٹرول بڑھانا بتایا گیا ہے۔
پی ایم ایف کے مطابق سکیورٹی فورسز نے الفاج کے مقام سے نجف کے صحرائی علاقوں کی جانب مختلف سمتوں میں پیش قدمی شروع کی ہے اور آپریشن کے دوران تقریباً 120 کلومیٹر علاقے کا جائزہ لیا جائے گا۔











