لائیو, ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی سے متعلق ایران کا جواب ’ناقابل قبول‘ قرار دیے جانے کے بعد تیل کی قیمتوں میں اضافہ
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی سے متعلق امریکی تجاویز پر ایران کے جواب کو ’مکمل طور پر ناقابل قبول‘ قرار دیے جانے کے بعد ایشیائی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ دوسری جانب چین میں تعینات ایرانی سفیر نے کہا ہے کہ ’کسی بھی ممکنہ معاہدے کے لیے لازم ہے کہ وہ بڑی طاقتوں کی ضمانت کے ساتھ ہو اور اسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھی پیش کیا جائے۔‘
خلاصہ
'امریکہ اور اسرائیل کے لیے جاسوسی' پر عرفان شکور زادہ کو پھانسی دے دی گئی: ایرانی عدلیہ
دشمن کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے: ایرانی صدر مسعود پزشکیان
جنگ بندی سے متعلق امریکی تجاویز پر ’ایران کے نام نہاد نمائندوں کی جانب سے دیا گیا جواب پڑھا، جو مکمل طور پر ناقابل قبول ہے‘: صدر ٹرمپ
ٹرمپ کی جانب سے ایرانی تجاویز مسترد کیے جانے کے بعد ایشیائی منڈیوں میں تیل کی قیمت میں چار فیصد تک اضافہ
کسی بھی ممکنہ معاہدے کے لیے بڑی طاقتوں کی ضمانت ضروری ہے اور اسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھی پیش کیا جائے: چین میں تعینات ایرانی سفیر
لائیو کوریج
معاونت اور رہنمائی سے ایک آئل ٹینکر آبنائے ہرمز عبور کر گیا: ایران
ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ ’متعین
راستے‘ سے ایک آئل ٹینکر آبنائے ہرمز عبور کر گیا ہے۔
خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق ’آگویس
فانوریوس ون‘ نامی یہ انتہائی بڑا آئل ٹینکر گذشتہ روز آبنائے ہرمز سے گزرا۔
رپورٹس کے مطابق یہ ٹینکر عراق کا
خام تیل لے کر اس وقت خلیجِ عمان میں ویتنام کی بندرگاہ نگی سون کی جانب رواں دواں
ہے۔
اس
سے ایک روز قبل بھی یہ اعلان کیا گیا تھا کہ دو آئل ٹینکرز ایران کے ساتھ ہم آہنگی
کے بعد آبنائے ہرمز سے گزرے ہیں۔
اسرائیل کی جنوبی لبنان پر مزید حملوں کی وارننگ، رہائشیوں کو علاقہ خالی کرنے کی ہدایت
اسرائیلی فوج کے عربی زبان کے ترجمان
آویخائی ادرعی نے جنوبی لبنان کے لیے ایک نئی وارننگ جاری کرتے ہوئے نو علاقوں کے
رہائشیوں کو کہا ہے کہ وہ اسرائیلی حملوں سے پہلے یہ علاقے خالی کر دیں۔
اس
سے قبل آج صبح اسرائیل نے جنوبی لبنان میں اپنے ایک فوجی کی ہلاکت کی تصدیق کی
تھی، جبکہ حزب اللہ اور اسرائیل کی جانب سے ایک دوسرے کے ٹھکانوں پر حملوں کی اطلاعات
بھی سامنے آئی ہیں۔
’امریکہ اور اسرائیل کے لیے جاسوسی‘ پر عرفان شکور زادہ کو پھانسی دے دی گئی: ایرانی عدلیہ
،تصویر کا ذریعہUGC
ایرانی عدلیہ کا کہنا ہے کہ ’امریکی
انٹیلی جنس سروس اور موساد کے ساتھ تعاون‘ پر عرفان شکور زادہ کو آج پھانسی دے دی
گئی ہے۔
ایرانی عدلیہ کی
خبر رساں ایجنسی میزان کے مطابق
عرفان شکور زادہ نے ’دشمن کے اداروں‘ کو ’خفیہ‘ معلومات فراہم کیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، 29 سالہ
عرفان شکور زادہ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے طالب علم
تھے اور ’کئی ماہ تک قیدِ تنہائی میں رکھنے اور جبری اعتراف جرم حاصل کرنے‘ کے بعد
انھیں سزائے موت سنائی گئی۔
آٹھ مئی کو ایران میں انسانی حقوق
کے مرکز نے رپورٹ کیا کہ سپریم کورٹ نے ’یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں
ایرو سپیس انجینیئرنگ کے ممتاز طالب علم‘ کی سزائے موت کی توثیق کی ہے۔
عرفان شکور زادہ کو فروری 2025 میں
پاسداران انقلاب کی انٹیلی جنس نے ’جاسوسی اور دشمن ممالک کے ساتھ تعاون‘ کے
الزامات پر گرفتار کیا تھا۔
جیل
سے بھیجے گئے ایک تحریری پیغام میں عرفان شکور زادہ نے کہا تھا کہ ’تشدد اور کئی
مہینوں کی قیدِ تنہائی کے دوران انھیں جبری طور پر اعتراف جرم کے لیے مجبور کیا
گیا۔‘
اسرائیلی خفیہ ادارے موساد کے لیے کام کرنے کا الزام، ایران کا سات افراد گرفتار کرنے کا اعلان
ایران کی وزارتِ انٹیلیجنس نے اعلان کیا ہے کہ اس نے چھ صوبوں
میں کارروائیوں کے دوران دو ایسے سیل ختم کیے ہیں جو اسرائیلی خفیہ ادارے موساد کے
لیے کام کر رہے تھے۔
وزارت کے بیان کے مطابق ان
کارروائیوں کے دوران سات افراد گرفتار کیے گئے جبکہ مسلح جھڑپ میں ایک شخص ہلاک
ہوا۔ حکام کا کہنا ہے کہ مغربی آذربائیجان میں چار افراد پر مشتمل ایک سیل صوبے کے
مختلف علاقوں اور تہران میں حساس مراکز اور سرکاری عمارتوں کو نشانہ بنانے کے ساتھ
ساتھ دار الحکومت میں ایک قتل کی تیاری کر رہا تھا۔
اس کے علاوہ حکام نے اعلان کیا کہ کرمان
اور البرز میں علیحدہ علیحدہ کارروائیوں کے دوران مزید تین افراد کو گرفتار کیا
گیا جو ایرانی فوجی دستوں کو نشانہ بنانے کے لیے ریکی کے مرحلے میں تھے۔
وزارت کے مطابق ان سے برآمد ہونے
والے سامان میں چھوٹے ڈرون، سائلنسر لگے ہتھیار، گولہ بارود، مواصلاتی آلات، سٹارلنک
ریسیور اور بُلٹ پروف جیکٹس شامل ہیں۔
صوبہ
قزوین میں بھی حکام نے ایک شخص کو گرفتار کرنے کا اعلان کیا ہے جن کے بارے میں
بتایا جا رہا ہے کہ وہ ملک کی شمالی سرحد کے ذریعے حساس فوجی معلومات سمگل کرنے کی
کوشش کر رہے تھے۔
لبنان کی سرحد کے قریب ایک اسرائیلی فوجی ہلاک
اسرائیلی فوج نے اپنے ایک فوجی کی
ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔
اسرائیل کے مطابق یہ فوجی لبنان کی
سرحد کے قریب ایک جھڑپ کے دوران مارا گیا۔
اسرائیلی
فوج کے بیان میں کہا گیا ہے کہ 47 سالہ الیگزینڈر گلووانیو فوجی گاڑی کا ڈرائیور
تھا اور وہ اتوار کے روز ہلاک ہوا۔
دشمن کے سامنے کبھی سر نہیں جھکائیں گے: مسعود پزشکیان
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا
ہے کہ ’ہم کبھی دشمن کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے۔‘
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر
پوسٹ میں انھوں نے لکھا: ’بات چیت یا مذاکرات کا مطلب شکست تسلیم کرنا یا پسپائی
نہیں ہے، بلکہ اس کا مقصد ایرانی قوم کے حقوق کا حصول اور قومی مفادات کا دفاع ہے۔‘
ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت کی جانب سے پیش
کی گئی تجاویز پر ایران نے اپنا جواب پاکستان کے ذریعے اتوار کے روز بھجوایا تھا۔
ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق تہران
نے آبنائے ہرمز پر ایران کی حاکمیت تسلیم کرنے اور جنگ سے پہنچنے والے نقصانات کا
معاوضہ ادا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی (اسلامک
ریپبلک آف ایران براڈکاسٹنگ) نے پیر کی صبح رپورٹ کیا کہ ایران نے امریکہ کی جانب
سے منجمد اثاثوں کی بحالی اور پابندیوں کے خاتمے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
امریکی
صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے جواب کو ’بالکل نا قابل قبول‘ قرار دے کر مسترد کر چکے
ہیں۔
نہ ٹینک تھے، نہ راکٹ لانچر اور نہ ہی بین البر اعظمی بیلسٹک میزائل: اس سال ماسکو میں یومِ فتح کی پریڈ بالکل مختلف محسوس ہوئی, سٹیو روزنبرگ، مدیر برائے روس، ماسکو
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
میں ریڈ سکوائر پر یومِ فتح کی کئی
پریڈز میں شریک ہو چکا ہوں، لیکن اس سال
کی پریڈ بالکل مختلف محسوس ہوئی۔
گذشتہ برسوں میں مجھے سینٹ باسل کے
قریب پارک کی گئی میڈیا بس سے اتر کر دوڑ کر جانا پڑتا تھا تاکہ پریس ایریا میں
کوئی اچھی جگہ حاصل کر سکوں۔
لیکن اس سال دوڑنے کی ضرورت نہیں
تھی۔ تقریب میں صحافیوں کی تعداد کہیں کم تھی اور بہت سے بین الاقوامی میڈیا
اداروں کو رسائی نہیں دی گئی تھی۔
جب میں ریڈ سکوائر میں اپنی جگہ پر
پہنچا تو روسی ٹی وی کی ایک ٹیم میرے پاس آئی اور فلم بندی شروع کر دی۔
رپورٹر مسکراتے ہوئے بولا: ’سٹیو! آپ
کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ غیر ملکی میڈیا کو آنے دیا گیا ہے۔‘
میں نے جواب دیا: ’حقیقت
میں ایسا نہیں ہے۔ مجھے یہاں اور کوئی نظر نہیں آ رہا۔‘
اس کے باوجود میں وہاں اپنے موجود
ہونے پر خوش تھا، تاکہ خود دیکھ سکوں کہ سنہ 2026 کی یومِ فتح کی پریڈ کیسی دکھائی
دیتی ہے۔
صحافیوں کی کم تعداد کے ساتھ ساتھ سٹینڈز
میں مہمان بھی کم تھے، اور عالمی رہنماؤں کی تعداد بھی گذشتہ برسوں کے مقابلے میں
کہیں کم تھی۔
لیکن سب سے نمایاں فرق تب سامنے آیا
جب پریڈ شروع ہوئی۔
نہ ٹینک تھے، نہ راکٹ لانچرز اور نہ ہی
بین البر اعظمی بیلسٹک میزائل۔ یعنی وہ فوجی ساز و سامان نظر نہیں آیا جسے کریملن
عام طور پر یومِ فتح پر روسی عسکری طاقت کے اظہار کے لیے پیش کرتا ہے۔
اس کی وجہ یہ تھی کہ اس سال کی پریڈ
کو محدود سطح پر منعقد کیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں مہمانوں اور صحافیوں کی تعداد
بھی کم رہی۔ حکام نے اس کی وجہ سکیورٹی خدشات قرار دیے، کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ
یوکرین ڈرونز کے ذریعے ریڈ سکوائر کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
صدر ولادیمیر پوتن کے لیے ایسی پریڈ کو محدود کرنا آسان فیصلہ نہیں ہو گا، کیونکہ یہ تقریب ہمیشہ روسی طاقت دکھانے کے لیے ترتیب دی جاتی ہے۔ تاہم یوکرینی حملے کے خدشے نے اس تبدیلی کو لازمی بنا دیا۔
بالآخر پریڈ بغیر کسی واقعے کے اپنے انجام کو پہنچی، کوئی حملہ نہیں ہوا۔ ماسکو اور کیئو کے درمیان، ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی میں ہونے والی آخری لمحے کی جنگ بندی نے خطرے کو کم کر دیا تھا۔
جمعے کے روز یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے ایک حکم نامہ جاری کیا جس میں روس کو پریڈ منعقد کرنے کی ’اجازت‘ دی گئی۔
یوکرین کے اس طنزیہ اقدام کو ماسکو میں پسند نہیں کیا گیا۔
کریملن کے ترجمان نے کہا کہ روس کو یومِ فتح کی پریڈ منعقد کرنے کے لیے کسی کی اجازت درکار نہیں۔
اور جس فوجی ساز و سامان کا ذکر میں نے پہلے کیا تھا، وہ کہاں تھا؟
ہم اسے ریڈ سکوائر میں تو نہ دیکھ سکے، لیکن وہ سکرین پر ضرور دکھائی دیا۔
ریڈ سکوائر میں نصب بڑی سکرینز پر متعدد راکٹ لانچرز، لڑاکا طیارے، ٹینک، آبدوزیں اور دیگر ہتھیار دکھائے گئے۔
ایسا لگتا ہے کہ کریملن نے یہ طے کیا کہ اگر عوامی طور پر فوجی ساز و سامان کی نمائش ممکن نہیں، تو ویڈیو پیشکش ہی بہترین متبادل ہے۔
صدر پوتن نے اپنی تقریر میں کہا: ’ہم ہمیشہ فاتح رہے ہیں اور ہمیشہ فاتح رہیں گے۔‘
سوویت یونین نے 81 برس قبل فتح حاصل کی تھی۔ سنہ 1945 میں اس نے ایک جارح قوت کو پسپا کیا تھا اور شکست دی تھی۔ اس کامیابی کو روس ’عظیم فتح‘ کہتا ہے، اور اسی کا جشن ریڈ سکوائر میں منایا گیا۔
لیکن یوکرین کی جنگ ایک بالکل مختلف جنگ ہے۔ روس نے چار سال سے زائد عرصہ قبل یوکرین پر حملہ کیا تھا اور اس وقت تک روس کے لیے فتح کی کوئی علامت نظر نہیں آ رہی۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ٹوبہ ٹیک سنگھ میں فائرنگ سے زخمی رکن پنجاب اسمبلی علاج کے لیے لاہور منتقل، پولیس نے ملزموں کی گرفتاری کے لیے ٹیم بنا دی
،تصویر کا ذریعہfb.com/ColSardarAyubKhanGadhi
پنجاب کے ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ میں فائرنگ
سے زخمی رکن صوبائی اسمبلی کرنل ریٹائرڈ ایوب خان گادھی کو علاج کے لیے لاہور
منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ پولیس نے ملزموں کی گرفتاری کے لیے ٹیم بنا دی ہے۔
پولیس کے مطابق سینیئر افسران اور
فرانزک ٹیموں نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کیے ہیں۔
گذشتہ روز نامعلوم مسلح افراد نے تھانہ
رجانہ کی حدود چک 184 گ ب میں مسلم لیگ (ن) کے رکن پنجاب اسمبلی ایوب خان گادھی کے
ڈیرے پر فائرنگ کی تھی، جس کے نتیجے میں مسلم لیگ (ن) کے تین کارکن ہلاک جبکہ کرنل
(ر) ایوب خان گادھی سمیت پانچ افراد زخمی ہوئے۔
زخمیوں کو فوری طور پر ٹوبہ ٹیک سنگھ
میں ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال منتقل کیا گیا، بعد ازاں کرنل (ر) ایوب کو مزید علاج
کے لیے لاہور منتقل کیا گیا۔
کرنل (ر) ایوب خان گادھی پنجاب کے صوبائی وزیر برائے انسداد
دہشت گردی بھی رہ چکے ہیں۔
امریکی تجویز پر تہران کے جواب میں آبنائے ہرمز پر ایران کی حاکمیت تسلیم کرنے اور معاوضے کا مطالبہ شامل: سرکاری میڈیا
ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق جنگ
کے خاتمے کے لیے امریکی تجاویز کے جواب میں تہران نے آبنائے ہرمز پر ایران کی حاکمیت
تسلیم کرنے اور جنگ سے پہنچنے والے نقصانات کا معاوضہ ادا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی
بی (اسلامک ریپبلک آف ایران براڈکاسٹنگ) نے پیر کی صبح رپورٹ کیا کہ ایران نے امریکہ
کی جانب سے منجمد اثاثوں کی بحالی اور پابندیوں کے خاتمے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
امریکی
صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے جواب کو ’بالکل نا قابل قبول‘ قرار دے کر مسترد کر چکے
ہیں۔
ٹرمپ کی جانب سے ایرانی تجاویز مسترد کیے جانے کے بعد تیل کی قیمت میں اضافہ، 105 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی
،تصویر کا ذریعہEPA/Shutterstock
ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ کے خاتمے
کے لیے امریکی تجاویز پر ایران کے ردِ عمل کو ’مکمل طور پر نا قابلِ قبول‘ قرار دیے
جانے کے بعد ایشیا میں پیر کی صبح تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا۔
ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے
تسنیم کے مطابق ایران نے امریکہ کو اپنا جواب پاکستان کے ذریعے بھجوایا تھا۔
امریکی صدر کی جانب سے ایرانی جواب
مسترد کیے جانے کے بعد برینٹ خام تیل کی قیمت 3.8 فیصد اضافے کے ساتھ 105.20 ڈالر تک
پہنچ گئی، جبکہ امریکہ میں فروخت ہونے والے خام تیل کی قیمت چار فیصد بڑھ کر 99.30
ڈالر ہو گئی۔
28
فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے جنگ شروع کیے جانے کے بعد سے اہم آبی گزر گاہ
آبنائے ہرمز عملاً بند ہے، جس کے باعث عالمی سطح پر تیل اور گیس کی فراہمی شدید
متاثر ہوئی ہے۔
کسی بھی ممکنہ معاہدے کے لیے بڑی طاقتوں کی ضمانت ضروری: ایرانی سفیر
چین میں تعینات ایران کے سفیر نے کہا ہے کہ (ایران
اور امریکہ میں) کسی بھی ممکنہ معاہدے کے لیے لازم ہے کہ وہ بڑی طاقتوں کی ضمانت
کے ساتھ ہو اور اسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھی پیش کیا جائے۔
سماجی
رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر پوسٹ میں عبدالرضا رحمانی فضلی نے لکھا: ’چین اور روس
دو بڑی اور با اثر طاقتیں ہیں، اور ایران اور خلیجِ فارس کے خطے کے دیگر ممالک کے
لیے چین کی جو حیثیت ہے، اس کے پیشِ نظر بیجنگ کسی بھی معاہدے کے ضامن کے طور پر
یہ کردار ادا کر سکتا ہے۔‘
ایران کا جواب قابل قبول نہیں: ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے امریکی تجاویز کے جواب کو مسترد کر دیا ہے۔
ٹروتھ سوشل پر اپنے مختصر پیغام میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’ایران کے نام نہاد ’نمائندوں‘ کی جانب سے دیا گیا جواب پڑھا ہے۔‘
انھوں نے لکھا کہ ’یہ مکمل طور پر ناقابلِ قبول‘ ہے۔
یاد رہے کہ امریکہ کی جانب سے جنگ کے خاتمے کی پیشکش پر ایران کی جانب سے دیے گئے جواب کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
یہ جواب پاکستان کے ذریعے بھیجا گیا تھا جو اس تنازع میں ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔
اسی ہفتے کے آغاز میں ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا تھا کہ ایران میں جنگ ’جلد ختم ہو جائے گی‘۔ تاہم اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو ’ختم‘ کیے بغیر ایران کے خلاف جنگ کو ختم شدہ نہیں سمجھا جا سکتا۔
ایران کے پاس موجود افزودہ یورینیم کا ذخیرہ ’جب چاہیں چھین سکتے ہیں‘: ٹرمپ کا دعویٰ
،تصویر کا ذریعہReuters
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کو عسکری طور پر شکست دی جا چکی ہے اور اس کے پاس موجود ’افزودہ یورینیم کا ذخیرہ جب چاہیں چھین سکتے ہیں۔‘
یہ بات انھوں نے امریکی صحافی شَیریل ایٹکِسن کے ساتھ پروگرام دی نیشنل ڈیسک میں گفتگو کے دوران کہی۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’ہم کسی بھی مرحلے پر ایسا کر سکتے ہیں، جب چاہیں۔ امریکی فوج کے ذریعے اس مواد کی نگرانی کر رہی ہے، اور اگر کسی نے اس کے قریب جانے کی کوشش کی تو ہمیں فوراً پتا چل جائے گا اور ہم اسے نشانہ بنائیں گے۔‘
امریکی صدر نے مزید کہا کہ ایران کے خلاف عسکری کارروائیاں ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئیں۔ انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’ہم ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے کیونکہ وہ غیر ذمہ دار ہے۔‘
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انٹرویو کے دوران کہا کہ ’ایران کی قیادت کے اہم حصے ختم ہو چکے ہیں۔ ایران کی اے ٹیم جا چکی ہے، بی ٹیم جا چکی ہے، اور سی ٹیم کا کچھ حصہ بھی ختم ہو چکا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ایران معاہدہ کرتا ہے اور پھر اسے توڑ دیتا ہے، پھر دوبارہ معاہدہ کرتا ہے اور اسے بھی توڑ دیتا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ اگر امریکہ آج وہاں سے نکل بھی جائے تو ایران کو دوبارہ اپنی صلاحیتیں بحال کرنے میں کم از کم 20 سال لگیں گے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر انھوں نے ایران کے جوہری معاہدے کو ختم نہ کیا ہوتا تو ایران کے پاس جوہری ہتھیار آ چکا ہوتا اور وہ اسے اسرائیل اور مشرقِ وسطیٰ میں استعمال کرتا۔
ایک سوال کے جواب میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ کو آبنائے ہرمز کی ضرورت نہیں اور ان کے بقول یہ اقدامات اسرائیل، سعودی عرب، عراق، قطر، متحدہ عرب امارات اور دیگر اتحادیوں کی مدد کے لیے کیے جا رہے تھے۔
ڈونلڈ ٹرمپ مے دعویٰ کیا کہ امریکہ تیل اور گیس کی پیداوار میں روس اور سعودی عرب دونوں سے کہیں زیادہ پیداوار کرتا ہے۔
ایران 47 برسوں سے امریکہ اور دنیا کے دیگر ممالک کے ساتھ کھیل کھیل رہا ہے: صدر ٹرمپ
،تصویر کا ذریعہReuters
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر ’تاخیری حکمتِ عملی‘ اختیار کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران گزشتہ 47 برسوں سے امریکہ اور دنیا کے دیگر ممالک کے ساتھ کھیل کھیل رہا ہے۔
ٹرمپ نےسوشل میڈیا پلیٹ فارم پر یہ بیان اپنی پوسٹ میں جاری کیا اور لکھا کہ ’یہ صورتحال اس وقت تبدیل ہوئی جب سابق امریکی صدر باراک اوباما صدر بنے اور ایران کو بڑا فائدہ ہوا۔‘
ٹرمپ کے بقول باراک اوباما ایران کے ساتھ نہ صرف اچھا رویہ رکھتے تھے بلکہ بہت زیادہ نرم تھے اور انھوں نے اسرائیل اور امریکہ کے دیگر اتحادیوں کو نظر انداز کیا اور ایران کو ایک نئی، مضبوط معاشی مہلت فراہم کی۔‘
امریکی صدر ٹرمپ کے مطابق ایران کو سینکڑوں ارب ڈالر دیے گئے، جن میں 1.7 ارب ڈالر نقد رقم ’’چاندی کی تھالی میں رکھ کر‘ پیش کی گئی۔‘
ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ’واشنگٹن ڈی سی، ورجینیا اور میری لینڈ کے بینکوں سے یہ رقم نکالی گئی اور یہ اتنی زیادہ تھی کہ ایران پہنچنے پر ایرانی حکام کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اس کا کیا کریں۔‘
ٹرمپ کے بیان کے مطابق ’ایرانیوں نے اس سے پہلے کبھی اتنی بڑی رقم نہیں دیکھی تھی۔ یہ پیسے ہوائی جہاز سے بیگوں اور سوٹ کیسوں میں اتارے گئے اور ایرانی اپنی خوش قسمتی پر یقین نہیں کر پا رہے تھے۔‘
امریکی صدر نے اوباما پر تنقید کرتے ہوئے مزید کہا کہ اس تمام عمل کے دوران ایرانیوں کو ’سب سے بڑا فائدہ‘ ملا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق باراک اوباما امریکہ کے لیے ایک ناکام لیڈر ثابت ہوئے، تاہم وہ صدر جو بائیڈن سے کم خراب تھے۔
انھوں نے مزید کہا کہ پچھلے 47 برسوں کے دوران ایران امریکہ کو انتظار میں رکھتا رہا، سڑک کنارے بموں کے ذریعے امریکیوں کو نشانہ بنایا، احتجاج کو کچلا، اور حال ہی میں 42 ہزار بے گناہ، غیر مسلح مظاہرین کو ہلاک کیا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ’ایران امریکہ پر ہنستا رہا ہے، تاہم امریکہ اب دوبارہ مضبوط ہو چکا ہے اور ایران کوآئندہ ایسا کرنے کا موقع نہیں ملے گا۔‘
لکپاس میں واقع کسٹمز کے ویئر ہاؤس میں آگ بھڑک اٹھی، 35 افراد زخمی, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ
،تصویر کا ذریعہScreen Grab
بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے قریب ضلع مستونگ کے علاقے لکپاس میں واقع کسٹمز کے ویئر ہاؤس میں آگ بھڑک اٹھنے سے بڑے پیمانے پر مالی نقصان ہوا ہے۔
بلوچستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے کے مطابق آگ کی وجہ سے 35 افراد زخمی ہوگئے۔
پی ڈی ایم اے کے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ صبح تقریباً 11 بجے کے قریب آگ کی اطلاع موصول ہونے پر ریلیف کمشنر اور ڈی جی پی ڈی ایم اے بلوچستان کی ہدایات پر فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئیں۔
پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ موقع پر 30 ریسکیورز، 13 ایمبولینسز، چار فائر ٹرکس اور سات واٹر باؤزرز لگا دیے گئے۔
امدادی ٹیموں نے زخمیوں کو فوری طور پر شیخ زید ہسپتال منتقل کیا جہاں ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد شدید زخمیوں کو سول ہسپتال کوئٹہ اور بی ایم سی برن یونٹ منتقل کر دیا گیا۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق فیلڈ اسسمنٹ کے دوران ایک بڑے ایل پی جی باؤزر میں دھماکے کے نتیجے میں ڈی جی پی ڈی ایم اے، ڈپٹی کمشنر مستونگ، ونگ کمانڈر ایف سی اور اسسٹنٹ کمشنر سریاب بھی معمولی زخمی ہو گئے۔
پی ڈی ایم اے کے اعلامیہ کے مطابق ویئر ہاؤس کے اندر بڑی تعداد میں ایل پی جی سلنڈرز، ایندھن اور کیمیکل موجود ہونے کے باعث صورتحال انتہائی خطرناک رہی۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق اس کے پیش نظر ریسکیو ٹیموں نے احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے محدود انداز میں کارروائیاں جاری رکھیں تاکہ مزید جانی نقصان سے بچا جا سکے۔ محکمہ کسٹمز کے مطابق ویئر ہائوس میں اربوں روپے مالیت کی پکڑی جانے والی غیر ملکی گاڑیاں اور قیمتی اشیاء موجود تھیں جو کہ آگ کی وجہ سے جل گئی ہیں۔
امریکی تجاویز پر پاکستان کے ذریعے جواب دے دیا ہے: ایران
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایران نے کہا ہے کہ ان کی جانب سے ’جنگ کے خاتمے سے متعلق امریکہ کی تازہ مجوزہ دستاویز‘ پر اپنا جواب آج پاکستان کے ذریعے بھیج دیا ہے۔‘
دوسری جانب پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے ایک تقریب سے خطاب کے دوران امریکہ کی تجاویز پر ایران کا جواب موصول ہونےکی تصدیق کی ہے۔
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں آپریشن بنیان المرصوص کا ایک سال مکمل ہونے پر تقریب سے خطاب میں شہباز شریف نے کہا کہ انھیں ’فیلڈ مارشل نے آگاہ کیا ہے کہ ایران کا جواب موصول ہوگیا ہے۔‘
تاہم ساتھ ہی انھوں نے واضح کیا کہ اس سے متعلق وہ مزید تفصیلات نہیں بتا سکتے۔
یاد رہے کہ ایرانی وزارت خارجہ کا اس سے قبل یہ بھی کہنا تھا کہ وہ ’مکمل جائزہ اور حتمی مشاورت کے بعد‘ امریکی پیشکش کا جواب دے گی۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق ’مجوزہ منصوبے کے تحت اس مرحلے پر مذاکرات کا محور خطے میں جنگ کے خاتمے کے موضوع پر ہوگا۔‘
واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے امریکہ نے ایران کو ایک نئی تجویز پیش کی تھی، جس کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ متعدد بار کہہ چکے تھے کہ وہ تہران کے جواب کے منتظر ہیں۔
امریکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کی حالیہ تجویز ایک صفحے پر مشتمل 14 نکات پر مبنی تھیں۔
پاکستان پر مسلط کی جانے والی جنگ کا جواب مسلح افواج نے بھر پور انداز میں دیا: وزیر اعظم شہباز شریف
،تصویر کا ذریعہContributor/Getty Images
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں آپریشن بنیان مرصوص کا ایک سال مکمل ہونے پر تقریب سے خطاب کے دوران وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’ہم سجدہ شکر ادا کرتے ہیں کہ جس نے ہمیں اس مُشکل وقت میں کامیابی دی اور مُلک کے تحفظ کے لیے جان دینے والوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔‘
اسلام آباد میں پاکستان مونومنٹ پر خصوصی تقریب میں صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیر اعظم شہباز شریف سمیت فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور مسلح افواج کے سربراہان شریک ہوئے۔
تقریب میں سپیکر قومی اسمبلی، چیئرمین سینیٹ اور وفاقی وزرا بھی شریک ہیں۔ مختلف ممالک کے سفیر، سول اور عسکری حکام، شہدا کے لواحقین بھی تقریب میں موجود تھے۔
وزیر اعظم اپنے خطاب میں کہنا تھا کہ ’انڈیا نے پہلگام واقعے کو بنیاد بناکر الزامات لگائے، ہم نے ہر قسم کی مہم جوئی کے انجام سے آگاہ کیا تھا، ہم نے واقعے کی ہرطرح کی تحقیقات کی پیشکش بھی کی تھی، مگر ہم پر جنگ مسلط کی گئی جو کا افواجِ پاکستان نے تاریخی جواب دیا۔‘
وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’ایک سال گزرنے کے باوجود انڈیا آج تک کوئی ثبوت پیش نہ کرسکا، میں 10 مئی کو یوم ’معرکہ حق‘ کے نام سے منسوب کرنے کا اعلان کرتا ہوں، ’معرکہ حق‘ ہرسال بھرپور جوش وجذبے سے منایا جائےگا۔‘
بعدازاں صدرِ پاکستان آصف علی زرداری نے خطاب میں کہا کہ ’انڈیا نے پاکستان پر بلااشتعال حملہ کیا اور اس کے دوران انڈین فوج کی جانب سے عام شہریوں اور عبادت گاہوں کو نشانہ بنایا۔‘
اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’پاکستان پر انڈین فوج کے اس حملے کا جواب پاکستان کی مسلح افواج نے بھر پور انداز میں دیا۔‘
بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!
بی بی سی کے لائیو پیج میں
خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی
بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔