’کچرے کی ملکہ‘ جن کے خلاف ملکی تاریخ کا ’سب سے بڑا مقدمہ چلایا جا رہا ہے‘

بیلا نیلسن

،تصویر کا ذریعہAFP

سویڈن میں غیر قانونی طور پر کچرے کے پہاڑوں جتنے ڈھیر کو پھینکنے کے الزام میں ایک ایسی کاروباری خاتون پر مقدمہ چلایا جا رہا ہے جو خود کو ’کچرے کی ملکہ‘ کہلوانا پسند کرتی ہیں۔

خیال کیا جاتا ہے کہ ماحولیاتی جرائم کے حوالے سے یہ سویڈن میں اب تک کا سب سے بڑا مقدمہ ہے۔

بیلا نیلسن ان 11 افراد میں سے ایک ہیں جن پر ماحولیاتی جرائم کا الزام ہے۔

وہ ویسٹ مینجمنٹ کمپنی ’این ایم ٹی تھنک پنک‘ کی چیف ایگزیکٹو تھیں۔ ان پر سنہ 2015 سے 2020 کے درمیان 21 مقامات میں دو لاکھ ٹن کچرا پھینکنے یا دفن کرنے کا الزام ہے۔

نیلسن کے وکلا کے مطابق انھوں نے کچھ بھی غلط کرنے سے انکار کیا ہے۔

سٹاک ہوم کے شمال میں اٹونڈا ڈسٹرکٹ کورٹ میں داخل ہوتے وقت نیلسن نے نامہ نگاروں کے سوالات کا جواب دینے سے انکار کر دیا۔

استغاثہ کا کہنا تھا کہ کمپنی نے جس غلط طریقے سے فضلے کو ٹھکانے لگایا اس کے نتیجے میں کارسنجینک کیمیکلز (کینسر کا سبب بننے والے)، سیسہ، سنکھیا (زہریلا مواد) اور مرکری کی نقصان دہ سطح ہوا، مٹی اور پانی میں شامل ہوئی۔

کچرے کے ڈھیر

،تصویر کا ذریعہAFP

اس حوالے سے رونما ہونے والے واقعات میں سے ایک میں نیچرل ریزیرو کے قریب پھینکے گئے کچرے کے ایک ڈھیر نے آگ پکڑ لی اور دو ماہ تک جلتا رہا۔

اس سے قبل نیلسن نے سویڈش میڈیا کو بتایا تھا کہ ان کی کمپنی نے بالکل قانون کے مطابق کچرے کو ٹھکانے لگایا۔

استغاثہ کا کہنا ہے کہ 2020 میں بیلا نیلسن کی گرفتاری کے بعد این ایم ٹی تھنک پنک دیوالیہ ہو گئی تھی اور کمپنی کا ماحولیاتی قانون سازی کے مطابق کچرے کو ٹھکانے لگانے کا نہ تو کوئی ارادہ تھا اور نہ ہی ان کے پاس ایسی کوئی صلاحیت تھی۔

انھوں نے مزید کہا کہ جس طریقے سے کوڑے کو مختلف جگہوں پر پھینکا گیا اس سے انسانوں، جانوروں اور پودوں کی زندگی کی صحت خطرے میں پڑی۔

یہ بھی پڑھیے

تھنک پنک کو میونسپلٹیز اور پرائیویٹ افراد نے تعمیراتی سامان، الیکٹرانکس، دھاتیں، پلاسٹک، لکڑی، ٹائر اور کھلونوں سے لے کر ہر چیز کو ٹھکانے لگانے کے لیے اجرت پر رکھا ہوا تھا تاہم استغاثہ کے مطابق کمپنی نے کوڑے کے ڈھیروں کو بغیر کسی منصوبہ بندی کے پھینک دیا۔

مقدمے میں نامزد تمام 11 افراد نے کوئی بھی غیر قانونی کام کرنے سے انکار کیا ہے۔

ان میں بیلا نیلسن کے سابق شوہر تھامس نیلسن بھی شامل ہیں، جن کے وکیل کا کہنا ہے کہ وہ سنہ 2015 سے پہلے چیف ایگزیکٹیو تھے لہذا جس دورانیے میں ماحولیاتی جرائم کا ارتکاب کیا گیا اس وقت وہ انچارج نہیں تھے۔

کچرے کے ڈھیر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اس سکینڈل کی ابتدائی تفتیش 445 ہزار صفحات پر مشتمل تھی۔

پراسیکیوٹر اینڈرس گستافسن نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ کچرا پھینکنے کے ساتھ ساتھ، ملزمان نے حکام کو گمراہ کرنے اور پیسے کمانے کے لیے جعلی دستاویزات کا بھی استعمال کیا۔

کئی میونسپلٹیز نے 260 ملین کرونر (سویڈش کرنسی یا 25.4 ملین ڈالر) ہرجانے کا دعویٰ کر رکھا ہے تاکہ ان کے علاقوں میں پھینکے گئے کچرے کے ڈھیروں کی صفائی کے ساتھ ساتھ ان مقامات کو آلودگی سے پاک کروایا جا سکے۔

سٹاک ہوم کے جنوب میں بوٹکرکا کونسل نے ہرجانے کے لیے 125 ملین کرونر مانگے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اس سے کہیں زیادہ رقم صرف فضلے کو ہٹانے پر خرچ کر چکے ہیں۔

ایک اور واقعے میں لگنے والی آگ کے زہریلے دھوئیں کے باعث میلوں تک رہنے والے رہائشی اپنے بچوں کو گھروں کے اندر رکھنے پر مجبور ہوئے۔