’اس جنگ کا مقصد ایرانی عوام کے لیے آزادی یا جمہوریت لانا نہیں ہے‘: تہران میں لوگ کیا کہہ رہے ہیں؟

ایران میں خوشی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنایران میں جنگ سے ہونے والی ہلاکتیں 1000 تک پہنچ گئی ہیں
    • مصنف, کیرولین ہاؤلے
    • عہدہ, بی بی سی نیوز
  • مطالعے کا وقت: 8 منٹ

ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت کو ایک ہفتے سے زیادہ کا وقت گزر چکا ہے اور ان کی جگہ ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو ملک کا نیا سربراہ بنایا جا چکا ہے۔

بی بی سی نے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ ایران پر حملوں اور خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد تہران اور دیگر ایران شہروں میں لوگ کیا سوچ رہے ہیں۔ اس گفتگو کے بعد یہ اندازہ ہوتا ہے کہ جہاں خامنہ ای کی موت پر حکومتی مخالفین خوش ہیں، وہیں ملک میں جنگ سے آنے والی تباہی نے لوگوں کو اس حملے کے مقاصد پر سوالات اُٹھانے پر مجبور کر دیا ہے۔

حمید (فرضی نام) کہتے ہیں کہ جب انھوں نے رہبرِ اعلیٰ کی موت کی خبر سنی تو وہ اپنی بیوی اور بیٹی کے ساتھ گھر کے باہر جشن منانے نکلے۔

پھر آنے والے دنوں میں جب جب امریکی اور اسرائیلی بمباری سے عمارتیں لرزتی رہیں، تو وہ اپنے گھر کی چھت پر جا کر حملے دیکھتے اور ہر بار حکومت کا کوئی ہدف نشانہ بننے پر خوشی مناتے۔

انھوں نے برطانیہ میں مقیم کزن کے ذریعے ایک پیغام میں کہا کہ: ’دنیا میں کہیں اور آپ کو ایسا نہیں ملے گا کہ عوام اپنے ملک پر بیرونی حملے سے خوش ہوں۔ لیکن ہمیں امید ہے کہ یہ حکومت جلد ختم ہو جائے گی۔‘

بی بی سی فارسی کے ساتھیوں کے ساتھ مل کر ہم نے ایران کے اندر اور باہر لوگوں سے بات کی ہے، جو گذشتہ ہفتے کو اپنے ملک اور پورے خطے کے مستقبل کے لیے غیر معمولی قرار دیتے ہیں۔

بی بی سی فارسی ایران کی قومی زبان فارسی زبان کی سروس ہے، جسے دنیا بھر میں دو کروڑ 40 لاکھ افراد پڑھتے اور دیکھتے ہیں، جن میں اکثریت ایران میں ہے باوجود اس کے کہ ایرانی حکام اسے بلاک کرتے رہتے ہیں۔

ایران جیسا ملک، جہاں بمباری جاری ہے اور انٹرنیٹ پر سخت پابندیاں ہیں، 90 ملین کی آبادی کے جذبات کو مکمل طور پر جانچنا ناممکن ہے۔

تہران کے رہائشیوں کو پیغامات موصول ہوئے ہیں جن میں خبردار کیا گیا ہے کہ ’اگر آپ کا انٹرنیٹ کنکشن آنے والے دنوں میں جاری رہا تو آپ کی لائن بلاک کر دی جائے گی اور آپ کو عدالتی حکام کے حوالے کیا جائے گا۔‘

ایران پر حملہ

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

،تصویر کا کیپشنایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت کو ایک ہفتے سے زیادہ کا وقت گزر چکا ہے
مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

حکومت اب بھی مخالفت کرنے والوں کے لیے خوف کی علامت ہے۔ مخالفین اپنے یا اپنے خاندان کے خلاف ممکنہ نتائج کے خوف سے اپنا نام ظاہر کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔

لیکن ایک ہفتے سے زیادہ کا عرصہ گزر جانے کے بعد جہاں کچھ لوگ حکومت پر ہر حملے کا جشن منا رہے ہیں، وہیں دیگر لوگ خوف کا شکار ہیں اور جنگ کے مقاصد اور اس کے انجام پر سوال اٹھا رہے ہیں۔

علی کہتے ہیں کہ: ’اس جنگ کا مقصد ایرانی عوام کے لیے آزادی یا جمہوریت لانا نہیں ہے۔‘

’یہ جنگ اسرائیل، امریکہ اور خطے کے عرب ممالک کے جغرافیائی سیاسی مفاد کے لیے ہے۔‘

محمد کی عمر 30 کے پیٹے میں ہے اور وہ تہران میں رہتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ وہ امریکہ اور ایران کے درمیان ایسے معاہدے کا خواہش مند تھے جس سے جنگ کے خطرات ٹل جاتے۔

’میں دل سے ہمیشہ امید کرتا تھا کہ کوئی معاہدہ طے پا جائے گا۔‘

وہ سمجھتے تھے کہ خامنہ ای کی موت پر انھیں خوشی ہوشی ہوگی لیکن انھیں ’کچھ محسوس نہیں ہوا۔‘

انآوں نے میرے ساتھی سروش پاکزاد کو بتایا کہ اب وہ مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی کا شکار ہیں اور جب وہ حکومتی چیک پوسٹیں دیکھتے ہیں اور آسمان سے بمباری دیکھتے ہیں تو وہ خوفزدہ ہو جاتے ہیں۔

دیگر ایرانی شہری خوف، دباؤ اور امید کے ملے جلے احساسات کا اظہار کرتے ہیں۔

ایک خاتون نے مجھ سے کہا کہ آپ کو ایران میں چالیس سال گزارنے ہوں گے تاکہ آپ سمجھ سکیں کہ وہ اور دیگر ایرانی اس وقت کس مشکل کا شکار ہیں۔

وہ کہتی ہیں: ’جب حکومت پر حملہ ہوتا ہے تو ہم ہنستے ہیں اور خوش ہوتے ہیں، لیکن جب بچے مرتے ہیں اور ہمارے ملک کا بنیادی ڈھانچہ تباہ ہوتا ہے تو ہمیں اپنے ملک کے مستقبل کی فکر لاحق ہو جاتی ہے۔‘

ایران میں کوئی رائے عامہ کے سروے نہیں کیے جاتے، لیکن ایسا لگتا ہے کہ زیادہ تر ایرانی اس حکومت سے نفرت کرتے ہیں جس نے اُنہیں بے پناہ تکلیفیں پہنچائی ہیں۔

اگرچہ حکومت کے اب بھی بڑی تعداد میں کٹر حامی موجود ہیں، لیکن اس کے بہت سے مخالفین دو حصوں میں بٹے ہوئے ہیں: ایک وہ جو امریکہ اور اسرائیل کی حمایت میں خوشی کا اظہار کر رہے ہیں اور دوسرے وہ جو شدید شکوک و شبہات میں مبتلا ہیں۔

سعید نے ہمیں بتایا کہ: ’ٹرمپ کی حکومت میں اوپر سے نیچے تک سب جھوٹ بول رہے ہیں۔ ان کے پاس ایران پر حملہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں تھی، سوائے اس کے کہ اسرائیل چاہتا تھا کہ وہ ایسا کریں۔‘

حکومت کے اپنے بیانات کے علاوہ ہمیں اس کے حامیوں کی آوازیں بہت کم سنائی دے رہی ہیں۔ نہ ہی ہم نے اُن لوگوں کی آواز سنی ہے جنھوں نے اس جنگ میں سب سے زیادہ تکلیف سہی: اُن بچوں کے والدین کی، جو 28 فروری کو جنوبی قصبے میناب میں ایک اسکول پر حملے میں ہلاک ہوئے تھے۔

لیکن ایران کے کئی شہریوں نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ انقلاب کے 47 سال بعد وہ اس حد تک مایوس ہو چکے ہیں کہ اس سے جان چھوٹنے کی انھیں شدید خواہش میں اور موجودہ جنگ ہی انہیں آزادی کی واحد امید محسوس ہوتی ہے۔

برطانیہ میں مقیم حمید کے کزن، جو جلاوطنی میں رہنے والے لاکھوں ایرانی شہریوں میں سے ایک ہیں، نے گذشتہ ہفتے بی بی سی کو بھیجے گئے ایک واٹس ایپ پیغام میں بہت سے لوگوں کے متضاد جذبات کی ترجمانی کی تھی۔

’مجھے جنگوں سے نفرت ہے، میں نہیں چاہتا کہ کوئی بھی بےگناہ انسان مارا جائے یا زخمی ہو، چاہے وہ کسی کے بھی ساتھ ہو، لیکن آج صبح حملوں کی خبر سن کر میں خوشی سے اُچھل پڑا۔‘

’مجھے معلوم ہے کہ یہ متضاد باتیں ہیں اور پاگل پن لگتا ہے لیکن یہ سچ ہے۔ یہ خیال کہ آیت اللہ سے آزادی کا خواب آخرکار حقیقت میں بدل سکتا ہے، مجھے خوشی سے بےخود کر رہا ہے۔‘

Iran

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنمجتبیٰ خامنہ ای کو ملک کا نیا رہبرِ اعلیٰ مقرر کیا جا چکا ہے

حامد کا دعویٰ ہے کہ ایران میں حملے ’برے لوگوں‘ کے خلاف ہو رہے ہیں لیکن ہمیں عام شہریوں کی بھی بڑھتی ہوئی ہلاکتوں کی خبریں موصول ہو رہی ہیں، جب میں بچے بھی شامل ہیں۔ ایران میں نہ کوئی محفوظ پناہ گاہیں ہیں اور نہ حملوں سے قبل سائرن بجتے ہیں۔

امریکہ میں موجود ہیومن رائٹس ایکٹوسٹس ایجنسی کے مطابق ایران میں اب تک ایک ہزار لوگ ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں تقریباً 200 بچے بھی شامل تھے۔

جب یہ جنگ شروع ہوئی اس وقت رواں برس جنوری کے احتجاجی مظاہروں میں حکومتی کریک ڈاؤن کے دوران ہلاک ہونے والے افراد کی شناخت کا عمل جاری تھا۔

جب حکومت کی سیکیورٹی فورسز نے نہتے مظاہرین پر فائر کھولا تھا، تو ایرانی اس خونریزی کے پیمانے سے آج تک صدمے میں ہیں۔

اصفہان سے تعلق رکھنے والی سمن ان چھ افراد کو جانتے تھے جو کہ شہر میں گولی لگنے سے ہلاک ہوئے تھے اور اب ایران میں فضائی حملوں میں ان کے دو رشتے دار ہلاک ہو چکے ہیں۔

ہفتے کے آخر میں انہوں نے بی بی سی فارسی کے سروش پاکزاد کو پیغام بھیجا کہ اصفہان کی صورتحال ’واقعی خوفناک‘ ہے، ایک ہدف کے اردگرد سڑک پر انسانی جسم کے اعضا بکھرے ہوئے تھے۔

وہ اس وقت صدمے کی حالت میں ہیں اور کہتے ہیں کہ: ’میں نے اپنے برے خوابوں میں بھی کبھی تصور نہیں کیا تھا کہ ہمارا ملک اس قدر جنگ زدہ ہو جائے گا۔‘

میری ساتھی غنچہ حبیبی‌ آزاد، جو ملک کے اندر لوگوں سے بات کر رہی ہیں، کہتی ہیں کہ جنگ کے دوران کچھ افراد کے خیالات بدل گئے ہیں، کیونکہ وہ توقع نہیں کر رہے تھے کہ خامنہ‌ ای کی ہلاکت کے بعد بھی یہ جنگ جاری رہے گی۔

تہران سے تعلق رکھنے والی کی ایک 20 سالہ نوجوان خاتون کہتی ہیں کہ وہ رہبرِ اللہ کی ہلاکت پر ’بے حد خوش‘ تھیں، تاہم اب انھوں نے غنچہ کو بتایا: ’اب میں نہ خوش ہوں نہ اداس — بس تھک گئی ہوں۔‘