نتن یاہو کے ’خفیہ‘ دورۂ امارات کا اسرائیلی دعویٰ، یو اے ای کی تردید: اسرائیل سے تعاون اور گٹھ جوڑ ناقابل معافی ہے، ایران

،تصویر کا ذریعہEPA/ Getty Images
متحدہ عرب امارات نے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو کے آفس کی جانب سے کیے گئے اِس دعوے کو مسترد کیا ہے کہ ایران جنگ کے دوران انھوں (نیتن یاہو) نے یو اے ای کا خفیہ دورہ کیا تھا۔
اماراتی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جاری جنگ کے دوران نیتن یاہو کے یو اے ای کے دورے سے متعلق رپورٹس درست نہیں ہیں۔‘
متحدہ عرب امارات کی جانب سے یہ تردید آنے سے قبل اسرائیل کے وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کے آفس سے جاری ہونے والے ایک بیان میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ انھوں (نیتن یاہو) نے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران خفیہ طور پر متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا اور وہاں کے صدر سے ملاقات کی۔
نیتن یاہو کے آفس سے جاری کردہ بیان میں مزید دعویٰ کیا گیا کہ اسرائیلی وزیرِاعظم اور اماراتی صدر شیخ محمد بن زاید کے درمیان ہونے والی اس ملاقات سے ایک ’تاریخی پیش رفت‘ حاصل ہوئی ہے۔
تاہم سوشل میڈیا سائٹ ایکس کے آفیشل ہینڈل سے یہ بیان جاری ہونے کے کچھ ہی دیر بعد متحدہ عرب امارات کی وزارتِ خارجہ نے ان دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے انھیں 'بالکل بے بنیاد' قرار دیا اور اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک (اسرائیل، متحدہ عرب امارات) کے درمیان تعلقات کسی ’غیر سرکاری یا غیر شفاف انتظامات‘ پر مبنی نہیں ہیں۔
اسرائیلی وزیر اعظم کے آفس سے دورہ یو اے ای کی خبر کی تصدیق پر ردعمل دیتے ہوئے ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ نیتن یاہو نے ’سرِعام وہ بات ظاہر کر دی ہے جس سے ایران کی سکیورٹی سروسز پہلے ہی ملک کی قیادت کو آگاہ کر چکی تھیں۔‘
عراقچی نے سخت الفاظ میں لکھے گئے ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ’عظیم ایرانی قوم کے ساتھ دشمنی ایک احمقانہ جُوا ہے اور اس راستے میں اسرائیل کے ساتھ تعاون اور گٹھ جوڑ ناقابلِ معافی ہے۔‘
اُن کا اپنے بیان میں مزید کہنا تھا کہ ’جو عناصر اسرائیل کے ساتھ مل کر تفرقہ پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں، انھیں جوابدہ ہونا پڑے گا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
ان کے ان بیانات کو متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک کے لیے ایک واضح پیغام بھی سمجھا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ حالیہ تنازعے کے دوران ایران نے امارات میں متعدد اہداف کو نشانہ بنایا تھا، جبکہ تہران مسلسل اس بات پر امارات پر تنقید کرتا رہا ہے کہ وہ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مضبوط کر رہا ہے۔
اپنے بیان میں اماراتی وزارتِ خارجہ نے نیتن یاہو یا کسی بھی اسرائیلی عسکری وفد کے یو اے ای میں آنے کی خبروں کی سختی سے تردید کی۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ’متحدہ عرب امارات اِس بات کی دوبارہ تصدیق کرتا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ اس کے تعلقات علانیہ ہیں اور سرکاری طور پر اعلان شدہ ابراہم معاہدوں کے فریم ورک کے تحت ہیں۔ یہ (تعلقات) کسی غیر شفاف یا غیر سرکاری انتظام پر مبنی نہیں۔‘
ابراہم معاہدے دراصل معاہدوں کا وہ سلسلہ ہے جن کے ذریعے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت کے دوران اسرائیل اور متعدد عرب ممالک کے درمیان تعلقات کو معمول پر لایا گیا تھا۔
اس سے قبل خبر رساں ادارے روئٹرز نے ایک ذریعے کے حوالے سے بتایا تھا کہ ایران جنگ کے دوران نیتن یاہو اور اماراتی صدر کے درمیان ملاقات 'العین' شہر میں ہوئی تھی، جو عمان کی سرحد کے قریب واقع ایک نخلستانی شہر ہے۔ روئٹرز کے مطابق یہ ملاقات کئی گھنٹوں تک جاری رہی تھی۔
یہ خبریں بھی حالیہ دنوں میں ذرائع ابلاغ پر شائع ہوتی رہی ہیں کہ ایرانی حملوں سے بچنے کے لیے اسرائیل نے اپنا آئرم ڈوم سسٹم امارات میں نصب کیا جبکہ یہ دعوے بھی سامنے آئے کہ یو اے ای کی جانب سے ایران میں موجود اہداف پر حملے بھی کیے گئے۔
بدھ کے روز اسرائیل میں امریکہ کے سفیر مائیک ہکبی نے آئرم ڈوم سے متعلق خبر کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسرائیل نے اپنے آئرن ڈوم دفاعی نظام کی اینٹی میزائل بیٹریاں امارات کو فراہم کیں تاکہ وہ ایرانی حملوں کا مقابلہ کر سکے۔
آئرن ڈوم ایک جدید اسرائیلی فضائی دفاعی نظام ہے جو مختلف اقسام کے میزائلوں، راکٹوں اور ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
مائیک ہکبی کے مطابق آئرن ڈوم کی یو اے ای میں تعیناتی ابراہم معاہدوں کی بنیاد پر امارات اور اسرائیل کے درمیان ’غیر معمولی تعلقات‘ کا نتیجہ ہے۔
انھوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کے خلاف اسرائیل اور امریکہ کی جنگ نے اِن تعلقات کو مزید مضبوط کیا ہے اور عسکری اتحاد کو بھی فروغ دیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اور اب اسرائیلی وزیر اعظم کے مبینہ دورہ یو اے ای سے متعلق ردعمل بھی سامنے آ رہا ہے۔
امواج میڈیا کے مدیر محمد علی شعبانی نے لکھا کہ ’اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان ایران پر اسرائیل و امریکہ حملے سے قبل، دوران اور بعد میں تعاون سے متعلق حالیہ انکشافات کے بعد اس بات پر کافی بحث کی جا سکتی ہے کہ آیا ایران کی جانب (جنگ کے دوران) اہداف کا انتخاب درست تھا یا نہیں۔‘
انھوں نے مزید لکھا کہ ’تاہم اس سے بھی زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ اب آگے کیا ہو سکتا ہے۔ اگر جنگ دوبارہ شروع ہوتی ہے تو بیانیہ اس انداز میں مرتب ہوتا دکھائی دے رہا ہے جس میں متحدہ عرب امارات کے مرکزی کردار کو نمایاں کیا جا سکتا ہے۔‘
یاد رہے کہ جنگ کے دوران ایران نے امارات پر سینکڑوں میزائل اور ڈرون داغے تھے اور اماراتی حکام کے مطابق ان میں سے بیشتر کو فضا ہی میں تباہ کر دیا گیا جبکہ چند مقامات پر ملبہ گرنے سے کچھ ہلاکتیں بھی ہوئی تھیں۔
تھنک ٹینک کوئنسی انسٹیٹیوٹ کے نائب صدر ٹریٹا پارسی نے ایکس پر لکھا کہ اب ثابت ہو رہا ہے کہ ’متحدہ عرب امارات کی جانب سے ابراہم معاہدوں میں شامل ہونا ایک بہت بڑی غلطی تھی، کیونکہ اس کا بنیادی مقصد ایران کے خلاف ایک عرب، اسرائیلی اتحاد تشکیل دینا تھا۔ اب اسرائیل اور امریکہ کی ایران کے خلاف جنگ کے نتیجے میں اس معاہدے کا یہ بنیادی مقصد بالکل واضح ہو چکا ہے۔‘
انھوں نے وضاحت کرتے ہوئے لکھا کہ ’یہ امارات کی غلطی اس لیے تھی کیونکہ اس کے نتیجے میں اس نے خود کو اسرائیل کی ایران کے ساتھ دشمنی کے ساتھ جوڑ لیا، جو کہ امارات اور تہران کے درمیان کشیدگی کے مقابلے میں کہیں زیادہ گہری ہے، حالانکہ جغرافیائی طور پر امارات ایران کے بالکل قریب ہے جبکہ اسرائیل تقریباً ایک ہزار کلومیٹر دور واقع ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’تاہم ابوظہبی اس صورتحال میں پھنس چکا ہے، اور کسی حد تک ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ کا ایک مقصد خلیجی تعاون کونسل کے ممالک کو مجبور کرنا تھا کہ وہ ایران سے تحفظ حاصل کرنے کے لیے اسرائیل کے مزید قریب ہو جائیں۔‘
’اور شاید اِسی تناظر میں جنگ کے دوران نیتن یاہو نے خفیہ طور پر ابوظہبی کا دورہ کیا اور امارات کو آئرن ڈوم دفاعی نظام کے ذریعے تحفظ فراہم کرنے کی پیشکش کی۔ اسرائیل اس پیشرفت کو اپنے دوطرفہ تعلقات میں ایک بڑی کامیابی قرار دیتا ہے۔حقیقت میں یہ اس جال کا عملی اظہار ہے جس میں ابراہم معاہدے امارات کو جکڑ چکے ہیں۔‘

























